رئیس امروہوی نظم : مرزا غالب - رئیس امروہوی

مرزا غالبؔ
مرزا غالبؔ سے باز دید اپنی
عالمِ خواب میں ہوئی کل رات
اسد اللہ خان غالبِؔ وقت
اللہ اللہ وہ رندِ خوش اوقات
وہ بقا کو فنا کا تحفۂ شوق
وہ عدم کو وجود کی سوغات
جس کے ہر لفظ میں نہاں اک رمز
جس کی ہر بات میں نہاں اک بات
مو بہ مو وہ صفات کا محرم
دُو بدو وہ حریفِ جلوۂ ذات
دیکھتا کیا ہوں حوضِ کوثر پر
شاعروں کے وہ قبلۂ حاجات
غرق دریائے کیف ہیں بلکہ
غرق دریائے کیف و کیفیّات

فکر افروز جس کی صنعتِ فن
صانعِ فکر جس کی مصنوعات
وہ خود اپنے خیال کی مخلوق
خالقِ ذہن جس کی تخلیقات
وحی و الہام و آیہ و القا
جس کے اعجازِ شعر میں اک بات
کشف و وجدان و خرق عادت و سحر
جس کے افسونِ فن کے نیر نجات
وہ تماشا جہاں تماشائی
مرزا نوشہ تو اہلِ ذوق برات
دل تھا مغلوبِ غالبِؔ مرحوم
میں نے بعد از ادائے تسلیمات
اسد اللہ خان غالب سے
اس طرح کی گزارشِ حالات

شوقِ بے تاب کھینچ لایا ہے
کعبۂ شوق و قبلۂ حاجات
کہیئے باغِ بہشت میں کیا ہیں
آپ کے صبح و شام معمولات
کہیئے کس طرح گزرتے ہیں
خلدِ رضواں میں آپ کے دن رات
موت کے بعد بھی ہے کرب افزا
بندِ غم اور زنجِ قیدِ حیات
کیا یہ سچ ہے کہ جان و دل کے لیے
موت ہے بند دو جہاں سے نجات
کوئی اجرِ کشاکشِ ہستی ؟
کوئی شکلِ تلافیِ مافات ؟
کیا یہی ہے حقیقتِ شبِ مرگ ؟
صبح تازہ سے حاملہ اک رات
کیا یہی ہے وجودِ خوابِ عدم
ایک بیداریِ لطیفِ حیات

پیر و مرشد! مریدِ کہنہ سے
کچھ تو ارشاد ، بلکہ ارشادات
سُن کے مہمل سی گفتگو میری
ہنس دیئے غالبِؔ ستودہ صفات
بادۂ سلسبیل و کوثر سے
مست و مخمور تھا وہ عارفِ ذات
مرزا نوشہ نے مجھ سے فرمایا
ہم نے سن لیں تمہاری معروضات
حال و ماضی میں کوئی فرق نہیں
مختصر ہے یہ صورتِ حالات
وہی ذوقِ دوام و خوفِ حدوث
پوچھتے کیا ہو میرے احساسات

وہی شامِ فراق و صبح وصال
یہی دن رات تھے یہی دن رات
وہی قیدِ حیات و بندشِ غم
وہی فکرِ مآل و ذکرِ نجات
اُفقِ زندگی پہ طاری ہے
ابدیت کی جاودانہ رات
کیا ہے یہ کائناتِ کن فیکوں؟
قطرۂ از محیطِ موجودات ؟
کیا ہے یہ عالمِ وجود و بقا ؟
ذرۂ از جہانِ مخلوقات !
موت ؟ اک ثانیئے کی خاموشی
یا اچانک سُکونِ ادراکات
خلوتِ قبر سے نکلتی ہے
اس طرح بن سنور کے روحِ حیات


جس طرح بطنِ شب سے جلوۂ صبح
جس طرح بادلوں سے چاندنی رات
حسن ہی حسن ہے در دنِ حجاب
نور ہی نور ہے پسِ ظلمات
لیکن اس عالمِ عجیب میں بھی
طرفہ تر ہیں عجائباتِ حیات
ہم کو اب تک نہیں یہ علم کے ہم
کون ہیں ، کیا ہیں اور کیوں؟ ہیہات
کون کیوں اور کیا ؟ یہ تینوں لفظ
جو سمجھ میں نہ آ سکے وہ بات
نہ کوئی چیز بالقوٰی حادث
نہ کوئی شے قدیم تر بالذات
مختصر یہ کہ ہم وہاں ہیں جہاں
نہ زمان و مکاں نہ سمت و جہات

نہ ظہورِ بدایت و آغاز
نہ حدودِ نہایت و غایات
روح کے بھی وہی مسائل ہیں
جسم کا جن سے واسطہ دن رات
کبھی اک منزلِ ہبوط و زوال
کبھی اک درجۂ عروج و ثبات
حرکتِ ، مادہ ، توانائی
آفرینش ، عدم ، شعور ، حیات
کچھ نہیں اک جمالِ ذات پہ ہیں
صد حجاباتِ رنگ رنگ صفات

اور یہ بھی تمام وہم و گماں
اور یہ بھی تمام مضروضات
رئیس امروہوی
 
Top