اقبال نظم : دیارِ عشق : : دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر : از : علامہ محمد اقبال ؔ

مہ جبین نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 11, 2012

  1. مہ جبین

    مہ جبین محفلین

    مراسلے:
    6,246
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    دیارِ عشق​
    دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر !​
    نیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کر​
    خدا اگر دلِ فطرت شناس دے تجھ کو​
    سکوتِ لالہ و گل سے کلام پیدا کر​
    اٹھا نہ شیشہ گرانِ فرنگ کے احساں​
    سفالِ ہند سے مینا و جام پیدا کر​
    میں شاخِ تاک ہوں، میری غزل ہے میرا ثمر​
    مرے ثمر سے مئے لالہ فام پیدا کر​
    مِرا طریق امیری نہیں فقیری ہے​
    خودی نہ بیچ ، غریبی میں نام پیدا کر​
    علامہ اقبال​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • زبردست زبردست × 3
  2. امیداورمحبت

    امیداورمحبت محفلین

    مراسلے:
    3,074
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    بہت خوب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔:zabardast1:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. مہ جبین

    مہ جبین محفلین

    مراسلے:
    6,246
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    بہت شکریہ امید
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    بارے چند / شانِ نزول :
    ہماری چھوٹی بہن سنبل کی تقریر سے اقتباس ::)

    حضرت علامہ اقبال کا زیر نظر شعر یوں تو اپنے بیٹے ” جاویداقبال کے نام “ ہے لیکن اس میں پنہاں پیغام پوری ملت کیلئے ہے۔ وہ جس طرح اپنے صاحبزادے کو دیکھنے کے خواہاں تھے، اسی طرح بلکہ اس سے بھی بڑھ کر امّہ کے بیٹوں کو ارفع مقام پر فائز دیکھنے کے متمنی تھے۔ علامہ کے لافانی، لاثانی و آفاقی کلام کے جہتوں تک رسائی ہم جیسے کم فہم و کج سخن طالب علموں کے بس کی بات نہیں اور نہ ہی اس دشت کی سیاہی ہر ایرے غیرے کیلئے روا ہے کہ علامہ کا کلام و مقام تقدیس کے اوج پر ہے، لیکن علامہ کے مخاطب چونکہ ہم ہی ہیں لہٰذا ” ہمارے نام کیا ہے “ یہ جاننے کی جستجو اس رشتے کا حق ہے جو علامہ کا ہم سے ہے اور اگر جستجو ذوق و شوق سے عاری نہ ہو تو نہ جانتے ہوئے بھی بہت سی باتوں کی سمجھ آ ہی جاتی ہے۔ علامہ کا مذکورہ شعر بھی دیو مالائی تصور رکھنے کے باوجود قلب و نظر کے وضو سے بہت اجلا و سادا دکھائی دیتا ہے۔ پھر بھی جو جتنا صاحب علم ہے وہ اس قدر اس شعر سے گوہر نایاب پا سکتا ہے، ہم جیسوں کی جتنی بے تول اڑان ہے اس قدر پہنچ کافی و شافی ہے۔
    حضرت علامہ اقبال کا اپنے فرزند جاوید اقبال کے نام خط در حقیقت ہندوستان کی مسلمان نوجوان نسل کے نام پیغام تھا۔علامہ اپنے اکلوتے فرزند جاوید میں نئی نسل کا اقبال دیکھنا چاہتے تھے۔ برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک الگ آزاد ریاست کے خواب کی طرح علامہ کا یہ خواب بھی تعبیر بن سکا یا نہیں،اس کا جواب علامہ کے فرزند ڈاکٹر جاوید اقبال بہتر طور پردے سکتے ہیں مگر علامہ کا جاوید اقبال کے نام پیغام آج بھی نوجوان نسل کے لئے مشعل راہ ہے۔ڈاکٹر جاوید اقبال اپنی تصنیف ”زندہ رود“ میں لکھتے ہیں کہ ”1932 میں جب گول میز کانفرنس میں شرکت کے لئے ابا جان انگلستان گئے تواس وقت میری عمر کوئی سات سال کے لگ بھگ تھی۔میں نے ایک اوٹ پٹانگ سا خط لکھا اور خواہش ظاہر کی کہ جب وہ واپس تشریف لائیں تو میرے لئے ایک گرامو فون لیتے آئیں۔گرامو فون تو وہ لے کر نہ آئے لیکن میرا انہیں انگلستان میں لکھا ہوا خط ان کی نظم ”دیار عشق میں۔۔۔کی شان نزول کا باعث ضرور بنا“
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. سجاد حسین

    سجاد حسین محفلین

    مراسلے:
    47
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    خدا اگر دلِ فطرت شناس دے تجھ کو
    سکوتِ لالہ و گل سے کلام پیدا کر
     

اس صفحے کی تشہیر