رئیس امروہوی نظم : جبر مشیت - رئیس امروہوی

فرحان محمد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 3, 2018

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,112
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    جبر مشیت
    فکر و تدبیر کی طاقت پہ نہ اِترا اے دوست!
    زندگی جبر مشیّت کے سوا کچھ بھی نہیں
    تو سمجھتا ہے جسے حریتِ جہد و عمل
    غیر مشروط اطاعت کے سوا کچھ بھی نہیں
    وہ حوادث کہ زمانے کو ہلا دیتے ہیں
    بھوک اور بھوک کی شدت کے سوا کچھ بھی نہیں
    باش ! اے اشرفِ مخلوق کہ تیرے اندر
    گرگُ و روباہ کی سیرت کے سوا کچھ بھی نہیں
    فکرِ انجام کہاں تک کہ یہ فکرِ انجام !
    دیدہ و دل کی عقوبت کے سوا کچھ بھی نہیں
    مختصر یہ ہے کہ ہم سب کی حیاتِ فانی
    زندہ رہنے کی مشقت کے سوا کچھ بھی نہیں​
    رئیس امروہوی
     

اس صفحے کی تشہیر