نئی کوشش

نالہ بے کیف، بے نوا ٹھہرا
کیوں مرا درد لا دوا ٹھہرا
ساری تعزیر میرے نام آئی
اور زمانہ تو پارسا ٹھہرا
گھوم پھر کر تمام دنیا میں
دل تری زلف پر ہی جا ٹھہرا
بات مبہم تو اس کی بھی ہوگی
پر ، مرا فہم نا رسا ٹھہرا
اس کو چاہا شکیلؔ، سب نے ہی
میرا انداز نا روا ٹھہرا
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
نالہ بے کیف، بے نوا ٹھہرا
کیوں مرا درد لا دوا ٹھہرا
۔۔۔ بے کیف و بے نوا کر لیجئے۔ اب یہ ترکیب درست ہے یا نہیں جناب @الف عین بتا سکتے ہیں۔

ساری تعزیر میرے نام آئی
اور زمانہ تو پارسا ٹھہرا
۔۔۔ اور زمانہ ۔۔۔ "یہ زمانہ تو پارسا ٹھہرا "بھی کرسکتے ہیں۔ کیونکہ اور "ار" ہو رہا ہے۔

گھوم پھر کر تمام دنیا میں
دل تری زلف پر ہی جا ٹھہرا
۔۔ ۔درست

بات مبہم تو اس کی بھی ہوگی
پر ، مرا فہم نا رسا ٹھہرا
۔۔۔ پہلا مصرع کسی قدر بہتر ہوسکے تو کرلیجئے۔۔

اس کو چاہا شکیلؔ، سب نے ہی
میرا انداز نا روا ٹھہرا
۔۔۔ "ہی" کسی مصرعے کے آخر میں لانا شاذو نادر ہی درست ہوسکتا ہے۔ اس نے یہاں مصرع کمزور کردیا۔۔۔
 
تفصیلی اصلاح کا بہت بہت شکریہ
یہ زمانہ تو پارسا ٹھہرا، ۔۔۔۔۔ اس طرح بہت بہتر لگ رہا ہے
آخری مصرع کو اگر یوں کرلوں تو
"اس کو چاہا شکیل سب ہی نے"
کیا یہ بہتر رہے گا؟
 

الف عین

لائبریرین
مطلع اور اگلے شعر میں شاہد نے اچھا مشورہ دیا ہے
پر ، مرا فہم نا رسا ٹھہرا
یہاں ابتدا میں پر، بمعنی مگر، اچھا نہیں لگ رہا۔ ویسے نا رسا کا مطلب یہان درست نہیں۔
اس کو چاہا شکیلؔ، سب نے ہی
میرا انداز نا روا ٹھہرا
بہتر ہے پہلے مصرع کو بدل دیں
چاہتے ہیں اسے شکیل سبھی
یا
چاہتے ہیں اسے سبھی، پہ شکیل
تو بہتر ہو گا
 
مطلع اور اگلے شعر میں شاہد نے اچھا مشورہ دیا ہے
پر ، مرا فہم نا رسا ٹھہرا
یہاں ابتدا میں پر، بمعنی مگر، اچھا نہیں لگ رہا۔ ویسے نا رسا کا مطلب یہان درست نہیں۔
اس کو چاہا شکیلؔ، سب نے ہی
میرا انداز نا روا ٹھہرا
بہتر ہے پہلے مصرع کو بدل دیں
چاہتے ہیں اسے شکیل سبھی
یا
چاہتے ہیں اسے سبھی، پہ شکیل
تو بہتر ہو گا
رہنمائی کا شکریہ
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
تفصیلی اصلاح کا بہت بہت شکریہ
یہ زمانہ تو پارسا ٹھہرا، ۔۔۔۔۔ اس طرح بہت بہتر لگ رہا ہے
آخری مصرع کو اگر یوں کرلوں تو
"اس کو چاہا شکیل سب ہی نے"
کیا یہ بہتر رہے گا؟
چاہتے ہیں اسے شکیل سبھی ۔۔۔
یہ سب سے بہتر ہے ، میری نظر میں ۔۔۔
۔
 
Top