نئی غزل نمبر 16 برائے تبصرہ و اصلاح شاعر امین شارؔق

امین شارق

محفلین
محترم اساتذہ کرام جناب الف عین،
سید عاطف علی
محمد خلیل الرحمٰن

محمد احسن سمیع: راحل

ہر فیصلہ خلاف بھی اچھا نہیں ہوتا
منصف سے اب انصاف بھی اچھا نہیں ہوتا

میری ہر ایک بات کی کرتے ہو تم نفی
اس درجے اختلاف بھی اچھا نہیں ہوتا

محبوب کا کوچہ مجھے پیارا لگے جتنا
اتنا تو کوہِ قاف بھی اچھا نہیں ہوتا

جس سے کسی مجبور کی عزت خراب ہو
پھر ایسا انکشاف بھی اچھا نہیں ہوتا

جو دین کی باتوں کو سمجھتا ہو کوئی بوجھ
وہ صاحب اوصاف بھی اچھا نہیں ہوتا

دل میں نبی سے بغض اور ہو ورد اللہ ہُو
پھر کعبے کا طواف بھی اچھا نہیں ہوتا

اک بار نظر سے گرے اس شخص کے لئے
جتنا کریں دل صاف بھی اچھا نہیں ہوتا

معلوم ہو اگر نہ ملے گی فلاح تو اُس
الفت کا اعتراف بھی اچھا نہیں ہوتا

شارؔق کبھی کبھار مزاحیہ رہا کرو
ہر وقت موڈ آف بھی اچھا نہیں ہوتا

شارؔق کبھی تو مان جاؤ پیار سے باتیں
اس قدر انحراف بھی اچھا نہیں ہوتا
 
ہر فیصلہ خلاف بھی اچھا نہیں ہوتا
منصف سے اب انصاف بھی اچھا نہیں ہوتا
کس کے خلاف؟؟؟ اچھا انصاف کیا ہوتا ہے؟
دونوں مصرعے بحر سے خارج ہیں۔ پہلے بحر کا تعین کریں کہ کس بحر میں غزل کہنا چاہتے ہیں ۔۔۔ ویسے جو زمین آپ نے چنی ہے، اس کے حساب سے مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن ہی استعمال کی جا سکتی ہے۔

میری ہر ایک بات کی کرتے ہو تم نفی
اس درجے اختلاف بھی اچھا نہیں ہوتا
بحر کا مسئلہ تو تقریباً پوری غزل میں ہی درپیش ہے۔ اس لیے میں ہر شعر کے ذیل میں انفرادی نشاندہی نہیں کروں گا۔
نفی کا تلفظ ٹھیک نہیں کیا گیا۔ یہ نَ+فِی نہیں بلکہ نَفْ+یْ ہے۔
اس درجے اختلاف نہیں اس درجہ اختلاف

جس سے کسی مجبور کی عزت خراب ہو
پھر ایسا انکشاف بھی اچھا نہیں ہوتا
دوسرے مصرعے میں پھر کی کیا معنویت ہے؟ پہلے مصرعے میں مجبور کے بجائے کمزور، غریب، نادار وغیرہ جیسے الفاظ زیادہ مناسب رہتے۔

جو دین کی باتوں کو سمجھتا ہو کوئی بوجھ
وہ صاحب اوصاف بھی اچھا نہیں ہوتا
لوگوں پر دین کے احکام بوجھ ہوا کرتے ہیں، صرف دین کی باتیں نہیں۔ پھر مطلقاً صاحب اوصاف کہنے سے تو بات نہیں بنے گی۔ یا تو یہ کہا جائے کہ جس کو دینی احکام بوجھ محسوس ہوتے ہوں، وہ ویسے صاحبِ اوصاف ہو بھی تو اچھا نہیں ہوتا ۔۔۔ مگر آپ کے الفاظ میں یہ مفہوم ادا نہیں ہو رہا۔

دل میں نبی سے بغض اور ہو ورد اللہ ہُو
پھر کعبے کا طواف بھی اچھا نہیں ہوتا
یہاں بھی کسی معنویت کے بغیر ’’پھر‘‘ گھسایا گیا ہے۔

اک بار نظر سے گرے اس شخص کے لئے
جتنا کریں دل صاف بھی اچھا نہیں ہوتا
عروضی سقم سے صرف نظر کرکے محض شعر کے مفہوم کی بات کریں تو بھی اس زمین میں یہ بات درست اور بامحاورہ طور پر نہیں کی جاسکتی کیونکہ کہنا آپ یہ چاہتے ہیں کہ ایک بار نظروں سے گرجانے والے شخص کے بارے میں دل جنتا بھی صاف کرلیں، اس کا تاثر اچھا نہیں ہوتا ۔۔۔ تاہم آپ کی زمین میں ’’بھی‘‘ ردیف کا حصہ ہے!

اگلے دونوں اشعار میرے خیال میں تو قلم زد کردینے چاہئیں ۔۔۔ ان پر مزید محنت یا تبصرے کی ضرورت نہیں۔

شارؔق کبھی تو مان جاؤ پیار سے باتیں
اس قدر انحراف بھی اچھا نہیں ہوتا
انحراف کو انکار کے معنی میں نہیں لیا جاسکتا۔
 

الف عین

لائبریرین
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن اگر بحر منتخب کی جائے تو قافیہ شاید ہی کوئی فٹ ہو سکے اس بحر میں۔ پہلا نصف مفعول فاعلات ہے۔ اور یہی چوں چوں کا مربہ بحر امین شارق کی پسندیدہ بحر ہے اور میں کہہ چکا ہوں کہ یا تو ان دونوں بحروں کے فرق پر غور کرنا سیکھیں اور تب تک اس بحر کے علاوہ دوسری بحور میں شاعری کریں ۔ اس غزل کی بحر ہی درست نہیں تو اصلاح کی زحمت ہی کیوں اٹھائی جائے!
 

امین شارق

محفلین
محمّد احسن سمیع :راحل صاحب بہت شکریہ آپکی رہنمائی اور تبصرے کے لئے یقین کریں دل کو بہت اچھا لگتا ہے جب آپ لوگوں کی طرف سے جواب ملتا ہے چاہے تنقید ہو یا تعریف کی صورت میں ہو
کس کے خلاف؟؟؟ اچھا انصاف کیا ہوتا ہے؟
دونوں مصرعے بحر سے خارج ہیں۔ پہلے بحر کا تعین کریں کہ کس بحر میں غزل کہنا چاہتے ہیں ۔۔۔ ویسے جو زمین آپ نے چنی ہے، اس کے حساب سے مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن ہی استعمال کی جا سکتی ہے۔
فیصلہ تو کسی کے بھی خلاف ہوسکتا ہےضروری تو نہیں جس کے خلاف ہو اسکا ذکر کیا جائے شعر میں اور اچھا انصاف سے مراد وہ انصاف جو عدل سے کیا جائے اس شعر میں بے ایمان منصف کو بے نقاب کیا گیا ہے

بحر کا مسئلہ تو تقریباً پوری غزل میں ہی درپیش ہے۔ اس لیے میں ہر شعر کے ذیل میں انفرادی نشاندہی نہیں کروں گا۔
نفی کا تلفظ ٹھیک نہیں کیا گیا۔ یہ نَ+فِی نہیں بلکہ نَفْ+یْ ہے۔
اس درجے اختلاف نہیں اس درجہ اختلاف
بحر کا مسئلہ ہے میں سیکھنے کی کوشش کررہا ہوں نفی کو کس طرح لکھوں اس درجہ اختلاف یہ میں ٹھیک کرلیتا ہوں

دوسرے مصرعے میں پھر کی کیا معنویت ہے؟ پہلے مصرعے میں مجبور کے بجائے کمزور، غریب، نادار وغیرہ جیسے الفاظ زیادہ مناسب رہتے۔

پھر کی جگہ کیا لفظ استعمال کروں رہنمائی فرمائیں غریب مناسب رہے گا
لوگوں پر دین کے احکام بوجھ ہوا کرتے ہیں، صرف دین کی باتیں نہیں۔ پھر مطلقاً صاحب اوصاف کہنے سے تو بات نہیں بنے گی۔ یا تو یہ کہا جائے کہ جس کو دینی احکام بوجھ محسوس ہوتے ہوں، وہ ویسے صاحبِ اوصاف ہو بھی تو اچھا نہیں ہوتا ۔۔۔ مگر آپ کے الفاظ میں یہ مفہوم ادا نہیں ہو رہا۔
اس شعر سے مراد یہ ہے کوئی کتنا بھی دنیا کی نظر میں اچھا ہو عبادت گزار ہو لیکن اگر دین کے احکام میں اچھی رائے نہ رکھتا ہو وہ اچھا نہیں ہوسکتا

یہاں بھی کسی معنویت کے بغیر ’’پھر‘‘ گھسایا گیا ہے۔

میں پھر یہ پوچھنا چاہوں گا کہ’’پھر‘‘ کی جگہ کیا متبادل لفظ ہوسکتا ہے
عروضی سقم سے صرف نظر کرکے محض شعر کے مفہوم کی بات کریں تو بھی اس زمین میں یہ بات درست اور بامحاورہ طور پر نہیں کی جاسکتی کیونکہ کہنا آپ یہ چاہتے ہیں کہ ایک بار نظروں سے گرجانے والے شخص کے بارے میں دل جنتا بھی صاف کرلیں، اس کا تاثر اچھا نہیں ہوتا ۔۔۔ تاہم آپ کی زمین میں ’’بھی‘‘ ردیف کا حصہ ہے!
جتنا کریں دل صاف بھی اچھا نہیں ہوتا
مطلب اس شخص کے لئے جتنا بھی دل کو مطمئن کریں دل اسے اچھا نہیں مانتا خیر میری اپنی سوچ ہے غلط بھی ہوسکتی ہے

اگلے دونوں اشعار میرے خیال میں تو قلم زد کردینے چاہئیں ۔۔۔ ان پر مزید محنت یا تبصرے کی ضرورت نہیں۔
معلوم ہو اگر نہ ملے گی فلاح تو اُس
الفت کا اعتراف بھی اچھا نہیں ہوتا
قلم زد کردینے چاہئیں
کیوں
انحراف کو انکار کے معنی میں نہیں لیا جاسکتا۔
انحراف یعنی خلاف ورزی تو انکار کے معنی میں نہیں لیا جاسکتا لیکن پہلے مصرعے کی مناسبت سے بہتر لگتا ہےمجھے
 

امین شارق

محفلین
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن اگر بحر منتخب کی جائے تو قافیہ شاید ہی کوئی فٹ ہو سکے اس بحر میں۔ پہلا نصف مفعول فاعلات ہے۔ اور یہی چوں چوں کا مربہ بحر امین شارق کی پسندیدہ بحر ہے اور میں کہہ چکا ہوں کہ یا تو ان دونوں بحروں کے فرق پر غور کرنا سیکھیں اور تب تک اس بحر کے علاوہ دوسری بحور میں شاعری کریں ۔ اس غزل کی بحر ہی درست نہیں تو اصلاح کی زحمت ہی کیوں اٹھائی جائے!
محترم استاد میں جب غزل لکھنے کی کوشش کرتا ہوں تو بحر منتخب نہیں کرتا شاعری از خود میرے ذہن میں آتی رہتی ہے اشعار سوچ میں آتے رہتے ہیں جو لکھ لئے سو لکھ لئے کئی اشعار تو میں بھول جاتا ہوں میں شاعری کو وقت نہیں دے پاتا فکر معاش کے سبب اور دل کی تسکین کے لئے اشعار کہہ دیتا ہوں بحروں کے فرق پر غور کرنے کی کوشش کروں گا آپ چاہے اصلاح نہ کریں آپ کا تبصرہ ہی کافی ہے میری رہنمائی کے لئے
چوں چوں کا مربہ بناتے بناتے کیا پتہ کسی دن اچھا اچار میرا مطلب ہے اچھے اشعار بھی بنانا سیکھ جاؤں
 
Top