میں کہ ممنونِ بتاں بھی نہ ہوا

معظم علی کاظمی نے 'آپ کی شاعری (پابندِ بحور شاعری)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 31, 2018

  1. معظم علی کاظمی

    معظم علی کاظمی محفلین

    مراسلے:
    148
    (اردو محفل کی جیل سے آزاد ہونے کی خوشی میں ؛))

    اب تو جاتے ہیں عدم میں خوش باش
    کیا جو عالم وہی واں بھی نہ ہوا
    دستِ قاتل نے کیا کام اپنا
    میرے چہرے سے عیاں بھی نہ ہوا
    عشق خود سے کیا تجھ سے نہ سہی
    میں کہ ممنونِ بتاں بھی نہ ہوا
    خاک اس دنیا میں ہوگا برپا
    جو تماشہ کہ یہاں بھی نہ ہوا
    یاد ہے چاک گریباں کرنا
    آج منتِ کشِ جاں بھی نہ ہوا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • زبردست زبردست × 1
  2. معظم علی کاظمی

    معظم علی کاظمی محفلین

    مراسلے:
    148
    پوسٹ کر کے غلطی کی۔ مجھے تو سمجھ نہیں آتی تم لوگ میرے بے عزتی کرتے ہو اور مجھے وہ عزت نہیں دیتے جس کا میں حقدار ہوں۔ کیا مسئلہ ہو سکتا ہے؟ میرے "پچھلے جنم" کے گناہ ہیں یا کچھ اور؟
     
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,290
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    غزل تو ماشاء اللہ اچھی ہے
    دوسری باتیں میری سمجھ سے باہر ہیں کہ میں ہر زمرے میں گھستا ہی نہیں
     
  4. معظم علی کاظمی

    معظم علی کاظمی محفلین

    مراسلے:
    148
    شکریہ جناب۔ یہی تو بات ہے کہ غزل بھی اتنی گئی گزری نہیں مگر کسی ایک شخص نے مجھے اس قابل نہیں سمجھا کہ اسے "پسند" کرے۔ مجھے وجہ سمجھ نہیں آتی، کیا میں سید یا شیعہ یا سرائیکی ہوں یا میری غیر پسندیدہ شخصیت انٹرنیٹ کے پردے سے بھی پار ہو جاتی ہے؟
     
  5. منیب الف

    منیب الف محفلین

    مراسلے:
    453
    جھنڈا:
    Pakistan
    کیا کہنے، معظم بھائی!
    شاندار اشعار ہیں۔
    خاک اس دنیا میں ہوگا برپا
    جو تماشہ کہ یہاں بھی نہ ہوا
    کچھ فلسفیانہ اپروچ ہے آپ کی۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر