میں ساری عمر عہد وفا میں لگا رہا ٭ عمران بدایونی

محمد عدنان اکبری نقیبی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 7, 2019

  1. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    17,887
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    میں ساری عمر عہد وفا میں لگا رہا
    انجام کہہ رہا ہے خطا میں لگا رہا

    سارے پرانے زخم نئے زخم نے بھرے
    بے کار اتنے دن میں دوا میں لگا رہا

    ایسا نہیں کہ چاند نہ اترا ہو بام پر
    میں ہی تمام رات حیا میں لگا رہا

    اے عقل اور ہوگا کوئی اس کی شکل کا
    دل کیسے مان لے وہ جفا میں لگا رہا

    گھر کر لیا اداس فضاؤں نے دل میں
    باہر کی خوش گوار فضا میں لگا رہا

    کیا ہے یہ زندگی وہ بتائے گا کس طرح
    جو شخص ساری عمر قضا میں لگا رہا

    سورج تو جا کے چین سے بستر پہ سو گیا
    شب بھر مگر چراغ ہوا میں لگا رہا

    مجھ سے نماز عشق مکمل نہیں ہوئی
    کس منہ سے میں کہوں کہ خدا میں لگا رہا

    بہرا نہ مجھ کو کر دے یہ خاموشیوں کا شور
    کیول اسی لیے میں صدا میں لگا رہا

    کیوں میرے حق میں فیصلہ اترا نہیں کبھی
    میں بھی تو اس کے ساتھ دعا میں لگا رہا

    وہ چاہتا ہے کیا یہ مجھے تھی خبر مگر
    میں اس کے ساتھ ساتھ دعا میں لگا رہا

    عمران بدایونی
     

اس صفحے کی تشہیر