میں جب سے اب تک وہیں کھڑا ہوں

میں اپنے لہجے کی تلخیوں سے
تمھارے نازک ذہن پہ نشتر لگا رہا تھا
میں اپنے لفظوں کے روکھے پن سے
تمھارے اجڑے چمن کو ابتر بنا رہا تھا
میں اپنے اندر کی ہر تھکن کو
تمھارے بوجھل بدن کی زینت بنا رہا تھا
میں اپنے دامن میں خوشیاں بھر کے
تمھارے دل میں دکھوں کا میلہ سجا رہا تھا
برا نہیں میں بہت برا ہوں
وفا کے دامن پہ داغ کہہ لو
جو سب سے گندا لقب تمھارے خیال میں ہے
میں اس لقب سے بھی آگے خود کو سمجھ رہا ہوں
جو تم نے سوچا مجھے بھی اس پہ گماں نہیں ہے
میں جب سے اب تک وہیں کھڑا ہوں
جو فاصلہ ہے تمھارے قدموں کا طے شدہ ہے
ذرا رکو تم سنو یہ عادت بہت بری ہے
جو تم کہو گے وہی چلے گا
تمھارے نقش قدم پہ چل کے
میں پھر سے خود کو منانے آیا
میں تم سے تم کو ملانے آیا
۔۔۔۔۔۔
عابی مکھنوی
 
Top