میرے پسندیدہ اشعار

سیما علی

لائبریرین
یہ کیا کہ اِک جہاں کو کرو وقفِ اضطراب
‏یہ کیا کہ ایک دل کو شکیبا نہ کر سکو
‏صوفی غلام مصطفٰی تبسم
 

سیما علی

لائبریرین
تو ہے ست رنگی دھنک اور میں گلی کوچوں کی گرد
‏تو کہاں بارش سے.پہلے ، میں کہاں بارش کے بعد

‏عباس تابش
 

سیما علی

لائبریرین
ٹھہری ٹھہری ہوئی طبیعت میں روانی آئی
‏آج پھر یاد محبت کی کہانی آئی

‏آج پھر نیند کو آنکھوں سے بچھڑتے دیکھا
‏آج پھر یاد کوئی چوٹ پرانی آئی

‏مدّتوں بعد چلا اُن پہ ہمارا جادو
‏مدّتوں بعد ہمیں بات بنانی آئی

‏مدّتوں بعد پشیماں ہوا دریا ہم سے
‏مدّتوں بعد ہمیں پیاس چُھپانی آئی
 

سیما علی

لائبریرین
کِسی بَدبخت سے جب دِل کا دِیا بھی نہ جَلے
‏آسمانوں سے اُترتے ہیں اندھیرے کیا کیا

‏احمد ندیم قاسمی
 

سیما علی

لائبریرین
تُجھ پر بھی فسُوں دہر کا چَل جائے گا آخر
‏دُنیا کی طرح تُو بھی بَدل جائے گا آخر

‏پھیلی ہے ہر اِک سمت حَوادث کی کَڑی دُھوپ
‏پتّھر ہی سہی، وہ بھی، پِگھل جائے گا آخر

‏اے میرے بدن، رُوح کی دولت پہ نہ اِترا
‏یہ تِیر بھی ترکَش سے نِکل جائے گا آخر

‏محسن نقوی
 

سیما علی

لائبریرین
اِس مصیبت کا، نہ ہے کوئی مداوا نہ علاج
‏کیا بُرا روگ ہے دل دے کے پریشاں ہونا

‏سیماب اکبرآبادی
 

سیما علی

لائبریرین
پُھول گوُندھے جائیں گے اِن غُبار زُلفوں میں
‏ان اُداس چہروں پر اب جمال جاگیں گے

‏احمد ندیم قاسمی
 

سیما علی

لائبریرین
جس کی جانب سے زمانہ ہوا نامہ نہ پیام
‏یہ غزل بھی اُسی زود فراموش کے نام

‏اُس کی قربت کے سمے اُس کی محبت کے نشے
‏اِتنے شیریں بھی نہ تھے جتنی ہے یادِ ایام
‏احمد فراز
 

سیما علی

لائبریرین
یہ ترے حسن سے لپٹی ہوئی آلام کی گرد
‏اپنی دو روزہ جوانی کی شکستوں کا شمار

‏چاندنی راتوں کا بے کار دہکتا ہوا درد
‏دل کی بے سود تڑپ، جسم کی مایوس پکار

‏فیض احمد فیض
 

سیما علی

لائبریرین
اس رستے میں پیچھے سے اتنی آوازیں آئیں جمال
‏ایک جگہ تو گھوم کے رہ گئی ایڑھی سیدھے پاؤں کی
‏جمال احسانی
 

سیما علی

لائبریرین
عشق میں غیرتِ جذبات نے رونے نہ دیا
‏ورنہ کیا بات تھی کس بات نے رونے نہ دیا

‏آپ کہتے تھے کہ رونے سے نہ بدلیں گے نصیب
‏عُمر بھر آپ کی اس بات نے رونے نہ دیا

‏رونے والوں سے کہو اُن کا بھی رونا رو لیں
‏جن کو مجبورئ حالات نے رونے نہ دیا

‏سدھرشن فاکر
 
Top