فیض میرے ملنے والے ۔ فیض احمد فیض

فرخ منظور

لائبریرین
میرے ملنے والے​

وہ در کھلا میرے غمکدے کا​
وہ آ گئے میرے ملنے والے​
وہ آگئی شام، اپنی راہوں میں​
فرشِ افسردگی بچھانے​
وہ آگئی رات چاند تاروں کو​
اپنی آزردگی سنانے​
وہ صبح آئی دمکتے نشتر سے​
یاد کے زخم کو منانے​
وہ دوپہر آئی آستیں میں​
چھپائے شعلوں کے تازیانے​
یہ آئے سب میرے ملنے والے​
کہ جن سے دن رات واسطا ہے​
پہ کون کب آیا، کب گیا ہے​
نگاہ و دل کو خبر کہاں ہے​
خیال سوئے وطن رواں ہے​
سمندروں کی ایال تھامے​
ہزار وہم وگماں سنبھالے​
کئی طرح کے سوال تھامے​
بیروت 80 ؁​

(فیض احمد فیض)
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top