میری ڈائری کا پہلا صفحہ - منیب الف

منیب الف

محفلین
رات کے دس بج رہے ہیں اور میرا بڑا دل کر رہا ہے کہ کچھ لکھوں۔
ویسے تو میں نے آج تک کچھ کم نہیں لکھا۔
کئی دفتر سیاہ کیے ہیں شاعری اور زباندانی کے شوق میں۔
لیکن پھر بھی دل نہیں بھرا۔
جی چاہتا ہے مزید کھل کر لکھوں۔
بغیر ردیف اور قافیے کی پابندی کے۔
بغیر بحروں کی قید کے۔
آزادانہ!
بےباکانہ!
لیکن لکھوں کس بارے؟
میں کس بارے میں جانتا ہوں؟
شاعری؟ زبان و ادب؟ فلسفہ؟ زندگی؟ موت؟
نہیں!
ضروری تو نہیں اسی بارے میں لکھوں جسے میں جانتا ہوں۔
کیوں نہ اس بارے میں لکھوں جسے میں نہیں جانتا۔
ایسا کیا ہے جسے میں نہیں جانتا؟
میں اپنے آپ کو نہیں جانتا!
چلو، پھر اپنے بارے میں ہی لکھتا ہوں۔
لیکن اپنے بارے میں کس بارے لکھوں؟
میری سوچ، میری عادتیں، میرے خیالات، میرا گھربار ۔۔
نہیں!
اتنا میرا میرا میں نہیں کرنا چاہتا۔
مجھے میرے میں دلچسپی نہیں، نہ تیرے میں ہے۔
میرے تیرے کے پار کہیں جانے کا دل کرتا ہے۔
جہاں نہ میں، نہ تو!
نہ آج، نہ کل!
نہ رات، نہ دن!
نہ دھوپ، نہ چھاؤں!
ایسی جگہ کون سی ہے؟
کون جانے؟
میں یہیں ٹھیک ہوں۔
اپنے کمرے میں۔
کہنے کو میرا کمرہ ہے، لیکن ہے بیٹھک۔
میں گھر کی بیٹھک میں ہی سارا دن گزارتا ہوں۔
یہیں کام کرتا ہوں۔
یہاں روشنی زیادہ ہوتی ہے دوسرے کمروں کی نسبت۔
اور میں روشنی چاہتا ہوں۔
سورج کی بھی اور قلب و نظر کی بھی!
اس کے علاوہ بیٹھک میں اس لیے بھی بیٹھتا ہوں کہ دوسرے کمروں کی طرح اس پہ کوئی مالکیت کا دعوی نہیں کرتا۔
ایک مہمان خانہ ہے۔
مہمان آتے ہیں، جاتے ہیں۔
بیٹھک بیٹھک ہی رہتی ہے۔
کسی بیٹھنے والے کی ہو نہیں جاتی۔
ایسی جگہ مجھے پسند ہے۔
شاید یہی وہ جگہ ہو جسے میں اوپر کی سطروں میں ڈھونڈ رہا تھا۔
لو، مجھے تو گھر بیٹھے ہی من چاہی جگہ مل گئی۔
آب در کوزہ و تشنہ لبان می گردیم
یار در خانہ و ما گرد جھان می گردیم
آج یہاں رکتا ہوں!
باتیں تو بہت سی ہیں۔
نہ ختم ہونے والی!
لیکن میرے لیپ ٹاپ کی چارجنگ ختم ہونے والی ہے۔
شوق اور سروسامان۔
شاید ان کی رقابت کبھی ختم نہیں ہو سکتی!
 
آخری تدوین:

نور وجدان

لائبریرین
بیٹھک کا انتخاب اور من و تو کا جھگڑا!

بیٹھے ہیں رہگزر میں ہم، کوئی ہمیں اٹھائے کیوں!


آپ کو جب بیٹھک سے اٹھنے کو کہا جائے گا تو کیسا جواب دیِبگے، غالب والا؟
 

اکمل زیدی

محفلین
مہمان آتے ہیں، جاتے ہیں۔
بیٹھک بیٹھک ہی رہتی ہے۔
کسی بیٹھنے والے کی ہو نہیں جاتی۔
خوب خود کلامی ہے۔۔۔اور حق ہے بیٹھک بیٹھک ہی رہتی ہے لوگ اسے مستقل سکونت سمجھ لیتے ہیں بس بیٹھک کو بیٹھک ہی سمجھنا چاہیے۔۔۔مگر اس بیٹھک کو بیٹھنے کے لیے نہیں "قیام "کےلیے استعمال کریں۔ ۔ ۔
 

منیب الف

محفلین
آپ کو جب بیٹھک سے اٹھنے کو کہا جائے گا تو کیسا جواب دیں گے؟
کہا گیا تھا۔
میں نے جواب دیا کہ اچھا! تم اپنا کمرہ خالی کر دو، میں وہاں چلا جاتا ہوں۔
نہ سائل نے کمرہ خالی کیا، نہ میں بیٹھک سے اٹھا۔ گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے! :victory:
 

نور وجدان

لائبریرین
کہا گیا تھا۔
میں نے جواب دیا کہ اچھا! تم اپنا کمرہ خالی کر دو، میں وہاں چلا جاتا ہوں۔
نہ سائل نے کمرہ خالی کیا، نہ میں بیٹھک سے اٹھا۔ گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے! :victory:
یہ کیا دلیل ہوئی اک بیٹھک کا مکین مستقل رہائش والا کمرہ مانگے
 
Top