میری رائے

سید فصیح احمد

لائبریرین
لغوی حیثیت و مقام کے برعکس، معنوی ضوابط سے کہیں بعید، اپنی ہی ایک ڈگر پر عام عوام کے مابین کسی قول یا فعل کا تاثراتی، ساختی یا علامتی طور رواج پا جانا ایک ایسی اہم بات ہے جس کا ادبی نشستوں سے مطعلق ہر صحابِ مکرم کو خیال رکھنا چاہیئے۔ خاص طور لکھنے والوں کو کیوں کہ وہی اصل تجزیہ نگار ہوتے ہیں اور تجزیہ فنون لطیفہ کا سب سے پہلا اور اہم قدم ہے۔

مثلاً:

کُتا ایک جانور ہے اور بہت وفادار جانور ہے۔ لیکن ہم کوشش کے باوجود اس کی وفاداری کو تشبیہی طور یوں نہیں لکھ سکتے۔ (لکھنے کو کیا نہیں لکھا جا سکتا مگر حاصل عبارت حسب منشأ نہیں ہوتا)

" میرا فلاں دوست بہت کُتا آدمی ہے "

اور یہی بات زندگی کے بہت سے کراہیت دار پہلوؤں پر بات کرتے لاگو ہوتی ہے۔ زندگی کی بہت سی حقیقتوں کو درج کرنے سے پہلے ایک "مخصوص ترتیِب" میں ڈھال کر بہتر نتائج حاصِل کیئے جا سکتے ہیں۔

جزاک اللہ خیرا!
 
آخری تدوین:

قیصرانی

لائبریرین

سید فصیح احمد

لائبریرین
بالکل درست کہا۔ اسی فقرے کو ویپن آف ماس ڈسٹرکشن بنانا ہو تو ایسے بھی کہہ سکتے ہیں کہ:

میرا فلاں دوست بہت کُتی خصلت والا ہے

یا

وہ ہمیشہ میرے ساتھ کُتے والی کرتا ہے :)

ویپن آف ماس ڈسٹرکشن کی اصطلاح بہت بھلی معلوم ہوئی ۔۔۔۔۔ حق ادا کر رہی ہے مقصدِ عبارت کا :) :)

اور میں نے ابھی بات بہت سطحی مقام پر بین السطور باندھ کر چھوڑ دی کہ باقی صاحب لوگ اپنی اپنی طاقت سے معنی حاصل کریں تو بہتر، ورنہ تو روداد بڑی لمبی اور تلخ ہو جاتی ہے بھائی جان! :) :)
 

قیصرانی

لائبریرین
ویپن آف ماس ڈسٹرکشن کی اصطلاح بہت بھلی معلوم ہوئی ۔۔۔۔۔ حق ادا کر رہی ہے مقصدِ عبارت کا :) :)

اور میں نے ابھی بات بہت سطحی مقام پر بین السطور باندھ کر چھوڑ دی کہ باقی صاحب لوگ اپنی اپنی طاقت سے معنی حاصل کریں تو بہتر، ورنہ تو روداد بڑی لمبی اور تلخ ہو جاتی ہے بھائی جان! :) :)
متفق :)
 
Top