میرا اس دلبرِ بے مہر پہ قرباں ہونا

الف نظامی

لائبریرین
میرا اس دلبرِ بے مہر پہ قرباں ہونا
یاس و امید کا ہے دست و گریباں ہونا

کاٹ کر سر کو مرے ساتھ ہی اف اف کرنا
"ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا"

مجھ کو ڈر ہے کہ کہیں جرم نہ ثابت کر دے
تیری چوکھٹ سے عیاں خونِ شہیداں ہونا

گرچہ دشوار ہوا درد کا سہنا اے دوست
لیکن آسان نہیں منت کشِ درباں ہونا

دوستو مصحفِ رخ کی جو تلاوت ہو نصیب
سب کو باور ہو میرا صاحبِ ایماں ہونا

صبر کر کاتبِ قدرت نے لکھا تھا انور
زلفِ جاناں کی طرح تیرا پریشاں ہونا

از مولوی نور الدین انور (استاذ گرامی چوہدری خوشی محمد ناظر)
 

الف نظامی

لائبریرین
چودھری خوشی محمد ناظر (پ 1869 م 1944 گگری بل سرینگر)
اردو شاعری کا ایک عظیم نام جن کی ایک نظم "جوگی" اردو کی کلاسیکی نظموں میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ مولوی نور الدین انور ، ناظر کے لیے وہی مقام رکھتے تھے جو اقبال کے لئے مولوی میر حسن کا تھا۔ ناظر آپ کے گاوں اور محلہ کے رہنے والے تھے۔ وہ ہریہ والا کے پرائمری سکول میں پڑھتے تھے۔ شام کو مولوی صاحب کی بیٹھک میں تعلیم پاتے رہے اور شاعری میں مولوی صاحب سے ہی اصلاح لیتے رہے۔ ناظر نے شاعری کی ابتدا فارسی شاعری سے کی تھی۔ وہ خود اپنے مجموعہ کلام نغمہ فردوس میں کے دیباچے میں لکھتے ہیں:
"میں نے پہلی نظم جناب غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی مدح میں 1881 میں‌لکھی اس کا صرف ایک مصرع یاد رہ گیا ہے
بلبلِ طبعم بہ باغِ وصف تو پرواز کرد
استادِ اولیں مولوی نور الدین انور منشی فاضل نے اس کو یوں بنا دیا
بلبلِ طبعم بہ باغِ وصف تو رنگیں نواست
میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے زمانے میں اوقات مدرسہ کے بعد اپنے گاوں کے فارسی مکتب میں بھی تعلیم پاتا رہا اور ابتدائی دور میں چند فارسی غزلیں بھی کہیں"
چوہدری خوشی محمد ناظر کی شاہکار نظم "جوگی" کی تخلیق میں بھی مولوی صاحب کی تعلیم کار فرما تھی۔ کیسے؟ ان کے ایک اور نامور شاگرد جناب راز گجراتی سے سنیے
"مولوی صاحب فرمانے لگے خوشی محمد میرا شاگرد ہے۔ قریب ہی اس کا گھر ہے۔ اس کی سب سے مزیدار نظم "جوگی" پر میں نے نظر ثانی کی ہے۔ خوشی محمد نے اردو فارسی مجھ سے پڑھے ہیں۔ خصوصا شیخ سعدی!
جوگی بھی دراصل شیخ سعدی کی ایک حکایت سے ماخوذ ہے۔ مگر خوشی محمد نے اسے اس خوبی سے بیان کیا ہے کہ شاہکار بنا دیا ہے۔ اس دل پذیر نظم کی وجہ سے خوشی محمد کا شمار بڑے شعراء میں ہونے لگا ہے۔ شیخ سعدی کی وہ حکایت جسے خوشی محمد نے جوگی نے نظم کیا ہے۔ یوں ہے:

بزرگے دیدم اندر کوہسارے
قناعت کرد از دنیا بغارے
چرا گفتم بشہر اندر نیای
کہ بارے بندے از دل کشای
بگفت آنجا پری رویاں نغزند
چو گِل بسیار شد، پیلاں بلغزند


مولوی صاحب کی شاعری میں قوم کی اصلاح کا مقصد بہت نمایاں ہے اور یہی وصف ہمیں ناظر کی شاعری میں بھی خصوصیت سے ملتا ہے۔ آگے چل کر ناظر کو شاعری میں مولانا حالی جیسا استاد ملا ، ان کی شاعری کا بھی یہی مقصد تھا۔ چناچہ دونوں استادوں کی وجہ سے ناظر کی شاعری میں یہ خصوصیت بہت نمایاں نظر آتی ہے۔

از احوال کلام مولوی نور الدین انور مرتبہ ڈاکٹر محمد منیر احمد سلَیچ
 

محمد وارث

لائبریرین
نمی دانَم نشانِ منزلِ دوست
مگر محوِ سرودِ ساربانم

زمین و آسماں جولانگہِ من
مہ و خورشید و انجم ہمرہانم

ز داغِ دل دَرُونَم لالہ زاریست
بیا، بنگر بہارِ بوستانم

دریں وادی مَنِ سرگشتہ ناظر
صدائے بازگشتِ رفتگانم

(خوشی محمد ناظر - نغمۂ فردوس)
 

فرخ منظور

لائبریرین
بہت شکریہ نظامی صاحب لیکن میری مراد نہیں بر آئی وہ نظم جوگی بھی پوسٹ کر دیجیے - بہت شکریہ! :)
 
Top