مہنگائی کی سونامی یوٹیلیٹی سٹوروں میں فوٹو سیشنز سے کم نہیں ہو گی

زیرک نے 'آپ کے کالم' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 8, 2020

  1. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    مہنگائی کی سونامی یوٹیلیٹی سٹوروں میں فوٹو سیشنز سے کم نہیں ہو گی
    اگر حکومتی یا موجودہ پاکستانی نظام کے حامی یہ سمجھتے ہیں کہ اگر پارلیمنٹ نے تینوں مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق سروسز ایکٹ منظور کر لیا ہے، اس لیے اب پاکستان میں ٹماٹر 50 روپے کلو، پیٹرول 55 روپے لیٹر ملے گا اور ڈالر بھی 90 روپے کا ہو جائے گا، اس کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت دباؤ سے نکل آئے گی تو آج اپنا علاج کروانا شروع کر دیں، آپ لاعلاج مرض میں مبتلا ہیں۔ وزیراعظم کو ان کے افسر نہیں بتاتے ہوں گے کہ مہنگائی کی وجہ سے ملک میں جرائم اور کرپشن میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے اور اگر اس کے اسباب کے آگے بند نہ باندھے گئے تو کرپشن میں اضافہ ہوتا ہی رہے گا۔ کبھی آپ نے سوچا کہ کوئی اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ڈاکہ کیوں مارتا ہے؟ مہنگائی اور بے روزگاری سے ستائی عوام کیا کرے، دیہاڑی نہیں لگے گی تو بھوکا کیا کرے گا؟ ڈاکے نہیں مارے گا تو کدھر جائے گا؟ جب ہمارا حکمران طبقہ اپنی کرپشن جائز کروانے کے لیے ملکی قوانین بدل لیتا ہے تو بھوکے کو چوری ڈاکے سے روکنا کس قانون کے تحت جائز ہو گا؟ آئینی ترمیم ہو گئی، آرڈی ننس آ گیا، بوٹ اور ووٹ کو عزت مل گئی ناں؟ چلو آپ سب کا رانجھا راضی ہو گیا اب تو غریب عوام کو بھی جینے کا حق دو اسے بھی مہنگائی سے نجات دلانے کا ایک عدد این آر او دو۔ یاد ہے طیب اردووان نے کیا کہا تھا "شرح سود تمام شیطانی کاموں کی جڑ ہے، سود بڑھنے سے مہنگائی بڑھتی ہے جبکہ سود کم ہونے سے مہنگائی میں کمی ہوتی ہے، میرا حکومتی تجربہ اور تھیسز یہی ہے"۔ اس لیے اب حکومت کو شرح سود میں کمی کرنے پر سنجیدگی سے سوچنا ہو گا، شرح سود سے محض سٹاک ایکسچینج کے انویسٹرز کو فائدے کے اور کوئی بہتری ہوئی ہے تو اسے جاری رکھیئے وگرنہ اسے کم کرنے کا سوچیں۔ عمران خان ڈیڑھ سالہ حکومت میں کرپٹ مافیا سے کچھ نہیں نکلوا سکے، اپنے دوستوں کے حلق پر ہاتھ پڑا تو قانون بدل لیا، مگر مہنگائی سے غریب عوام کا خون چوسنے میں موصوف ڈریکولا کو بھی مات دے گئے، ارے جس کے پیٹ سے کچھ نکالا ہے اس پر تو کچھ رحم کرو، غریب طبقہ اب وہ مزید قربانی دینے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ یوٹیلیٹی سٹوروں میں وزیراعظم کے فوٹو سیشن کی بجائے ملک کے طول عرض میں عام بازاروں میں ضلعی افسران کی ڈیوٹی لگائی جائے وگرنہ مہنگائی کی سونامی قابو سے باہر ہو گئی تو کسی طرح سے قابو میں نہیں آئے گی۔ اگر اسے قابو نہ کیا گیا اور مہنگائی کا یہی حال رہا تو جب عمران خان حکومت اپنی مدت پوری کر لے گی تو میرے منہ میں خاک سوائے دولت مند طبقے گے سارا پاکستان اپنے بال بچوں سمیت شیلٹر ہوم میں بس رہا ہو گا اور کھانا لنگر سے کھا رہا ہو گا۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  2. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    اللہ اللہ کر کے جمعہ 10 جنوری 2020 کو قومی اسمبلی میں پانچ بلز کی منظوری دے دی گئی، منظور کیے جانے والے بلز میں وراثتی سرٹیفکیٹ بل، قانونی معاونت و انصاف، اعلیٰ عدلیہ میں لباس اور خواتین کے جائیداد کی کثرت رائے سے فوری منظوری دی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ مشاورت کے بعد قومی احتساب آرڈیننس اور بے نامی لین دین سمیت 6 آرڈیننس واپس لے کر متعلقہ قائمہ کمیٹی کو واپس بھجوا دیئے گئے ہیں۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  3. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    24,687
    پچھلی حکومت میں ڈالر 104 روپے کا تھا۔ ہر طرف کاروبار کی ریل پیل تھی۔ مہنگائی کا نا م و نشان نہیں تھا۔ تو کیا اس کا یہ مطلب نکلتا ہے کہ اس وقت معیشت مضبوط تھی؟ کیا اس وقت قومی خزانہ ریکارڈ خساروں اور قرضوں کا شکار نہیں ہو رہا تھا؟ اشیاء خوردنوش کا سستا ہونا مضبوط معیشت کی علامت ہرگز نہیں ہے۔ اس لئے اپنا یہ مہنگائی کا چورن کہیں اور جا کر بیچیں۔
     
  4. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    24,687
    یہ مہنگائی عمران خان کی وجہ سے نہیں ہے۔ بلکہ اس سابقہ حکومت کی وجہ سے ہے جو قومی خزانہ کو ریکارڈ قرضوں اور خساروں میں ڈبو کر گئی ہے۔ جس نے ملک کو تباہ کیا ہے ا س سے یہ سوال جا کر پوچھیں۔
     
  5. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    24,687
    کہاں سے دو؟ کیا قومی خزانہ میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ آدھے سے زیادہ بجٹ تو پچھلی حکومتوں کے چھوڑے ہوئے قرضوں اور خساروں کی قسطوں میں نکل جاتا ہے۔
     
  6. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    24,687
    طیب اردغان ماہر معیشت کب سے ہو گیا؟ وہ تو سیاست میں آنے سے قبل پروفیشنل فٹبالر تھا۔ نیز شرح سود افراط زر جو کہ 12 فیصد ہے سے ایک فیصد ہی اوپر رکھی گئی ہے۔
     
  7. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    24,687
    تو پھر ایسا کریں کہ پاکستان کے غریبوں کو سبسڈی آپ اپنی جیب سے دے دیں کیونکہ قومی خزانہ تو خالی ہے۔
     
  8. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    24,687
    بالکل یہی ہونا بھی چاہئے۔ تاکہ سب کو پتا لگ سکے کہ پاکستان میں کس طرح مصنوعی طور پر دولت کی تقسیم ہوئی ہے اور معیشت کو عارضی بنیادوں پر چلایا گیا ہے۔
     

اس صفحے کی تشہیر