مہنگائی کی سونامی یوٹیلیٹی سٹوروں میں فوٹو سیشنز سے کم نہیں ہو گی

زیرک

محفلین
مہنگائی کی سونامی یوٹیلیٹی سٹوروں میں فوٹو سیشنز سے کم نہیں ہو گی
اگر حکومتی یا موجودہ پاکستانی نظام کے حامی یہ سمجھتے ہیں کہ اگر پارلیمنٹ نے تینوں مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق سروسز ایکٹ منظور کر لیا ہے، اس لیے اب پاکستان میں ٹماٹر 50 روپے کلو، پیٹرول 55 روپے لیٹر ملے گا اور ڈالر بھی 90 روپے کا ہو جائے گا، اس کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت دباؤ سے نکل آئے گی تو آج اپنا علاج کروانا شروع کر دیں، آپ لاعلاج مرض میں مبتلا ہیں۔ وزیراعظم کو ان کے افسر نہیں بتاتے ہوں گے کہ مہنگائی کی وجہ سے ملک میں جرائم اور کرپشن میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے اور اگر اس کے اسباب کے آگے بند نہ باندھے گئے تو کرپشن میں اضافہ ہوتا ہی رہے گا۔ کبھی آپ نے سوچا کہ کوئی اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ڈاکہ کیوں مارتا ہے؟ مہنگائی اور بے روزگاری سے ستائی عوام کیا کرے، دیہاڑی نہیں لگے گی تو بھوکا کیا کرے گا؟ ڈاکے نہیں مارے گا تو کدھر جائے گا؟ جب ہمارا حکمران طبقہ اپنی کرپشن جائز کروانے کے لیے ملکی قوانین بدل لیتا ہے تو بھوکے کو چوری ڈاکے سے روکنا کس قانون کے تحت جائز ہو گا؟ آئینی ترمیم ہو گئی، آرڈی ننس آ گیا، بوٹ اور ووٹ کو عزت مل گئی ناں؟ چلو آپ سب کا رانجھا راضی ہو گیا اب تو غریب عوام کو بھی جینے کا حق دو اسے بھی مہنگائی سے نجات دلانے کا ایک عدد این آر او دو۔ یاد ہے طیب اردووان نے کیا کہا تھا "شرح سود تمام شیطانی کاموں کی جڑ ہے، سود بڑھنے سے مہنگائی بڑھتی ہے جبکہ سود کم ہونے سے مہنگائی میں کمی ہوتی ہے، میرا حکومتی تجربہ اور تھیسز یہی ہے"۔ اس لیے اب حکومت کو شرح سود میں کمی کرنے پر سنجیدگی سے سوچنا ہو گا، شرح سود سے محض سٹاک ایکسچینج کے انویسٹرز کو فائدے کے اور کوئی بہتری ہوئی ہے تو اسے جاری رکھیئے وگرنہ اسے کم کرنے کا سوچیں۔ عمران خان ڈیڑھ سالہ حکومت میں کرپٹ مافیا سے کچھ نہیں نکلوا سکے، اپنے دوستوں کے حلق پر ہاتھ پڑا تو قانون بدل لیا، مگر مہنگائی سے غریب عوام کا خون چوسنے میں موصوف ڈریکولا کو بھی مات دے گئے، ارے جس کے پیٹ سے کچھ نکالا ہے اس پر تو کچھ رحم کرو، غریب طبقہ اب وہ مزید قربانی دینے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ یوٹیلیٹی سٹوروں میں وزیراعظم کے فوٹو سیشن کی بجائے ملک کے طول عرض میں عام بازاروں میں ضلعی افسران کی ڈیوٹی لگائی جائے وگرنہ مہنگائی کی سونامی قابو سے باہر ہو گئی تو کسی طرح سے قابو میں نہیں آئے گی۔ اگر اسے قابو نہ کیا گیا اور مہنگائی کا یہی حال رہا تو جب عمران خان حکومت اپنی مدت پوری کر لے گی تو میرے منہ میں خاک سوائے دولت مند طبقے گے سارا پاکستان اپنے بال بچوں سمیت شیلٹر ہوم میں بس رہا ہو گا اور کھانا لنگر سے کھا رہا ہو گا۔
 

زیرک

محفلین
اللہ اللہ کر کے جمعہ 10 جنوری 2020 کو قومی اسمبلی میں پانچ بلز کی منظوری دے دی گئی، منظور کیے جانے والے بلز میں وراثتی سرٹیفکیٹ بل، قانونی معاونت و انصاف، اعلیٰ عدلیہ میں لباس اور خواتین کے جائیداد کی کثرت رائے سے فوری منظوری دی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ مشاورت کے بعد قومی احتساب آرڈیننس اور بے نامی لین دین سمیت 6 آرڈیننس واپس لے کر متعلقہ قائمہ کمیٹی کو واپس بھجوا دیئے گئے ہیں۔
 

جاسم محمد

محفلین
اگر حکومتی یا موجودہ پاکستانی نظام کے حامی یہ سمجھتے ہیں کہ اگر پارلیمنٹ نے تینوں مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق سروسز ایکٹ منظور کر لیا ہے، اس لیے اب پاکستان میں ٹماٹر 50 روپے کلو، پیٹرول 55 روپے لیٹر ملے گا اور ڈالر بھی 90 روپے کا ہو جائے گا
پچھلی حکومت میں ڈالر 104 روپے کا تھا۔ ہر طرف کاروبار کی ریل پیل تھی۔ مہنگائی کا نا م و نشان نہیں تھا۔ تو کیا اس کا یہ مطلب نکلتا ہے کہ اس وقت معیشت مضبوط تھی؟ کیا اس وقت قومی خزانہ ریکارڈ خساروں اور قرضوں کا شکار نہیں ہو رہا تھا؟ اشیاء خوردنوش کا سستا ہونا مضبوط معیشت کی علامت ہرگز نہیں ہے۔ اس لئے اپنا یہ مہنگائی کا چورن کہیں اور جا کر بیچیں۔
 

جاسم محمد

محفلین
وزیراعظم کو ان کے افسر نہیں بتاتے ہوں گے کہ مہنگائی کی وجہ سے ملک میں جرائم اور کرپشن میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے
یہ مہنگائی عمران خان کی وجہ سے نہیں ہے۔ بلکہ اس سابقہ حکومت کی وجہ سے ہے جو قومی خزانہ کو ریکارڈ قرضوں اور خساروں میں ڈبو کر گئی ہے۔ جس نے ملک کو تباہ کیا ہے ا س سے یہ سوال جا کر پوچھیں۔
 

جاسم محمد

محفلین
چلو آپ سب کا رانجھا راضی ہو گیا اب تو غریب عوام کو بھی جینے کا حق دو اسے بھی مہنگائی سے نجات دلانے کا ایک عدد این آر او دو۔
کہاں سے دو؟ کیا قومی خزانہ میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ آدھے سے زیادہ بجٹ تو پچھلی حکومتوں کے چھوڑے ہوئے قرضوں اور خساروں کی قسطوں میں نکل جاتا ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
اس لیے اب حکومت کو شرح سود میں کمی کرنے پر سنجیدگی سے سوچنا ہو گا، شرح سود سے محض سٹاک ایکسچینج کے انویسٹرز کو فائدے کے اور کوئی بہتری ہوئی ہے تو اسے جاری رکھیئے وگرنہ اسے کم کرنے کا سوچیں۔
طیب اردغان ماہر معیشت کب سے ہو گیا؟ وہ تو سیاست میں آنے سے قبل پروفیشنل فٹبالر تھا۔ نیز شرح سود افراط زر جو کہ 12 فیصد ہے سے ایک فیصد ہی اوپر رکھی گئی ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
گر مہنگائی سے غریب عوام کا خون چوسنے میں موصوف ڈریکولا کو بھی مات دے گئے، ارے جس کے پیٹ سے کچھ نکالا ہے اس پر تو کچھ رحم کرو، غریب طبقہ اب وہ مزید قربانی دینے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
تو پھر ایسا کریں کہ پاکستان کے غریبوں کو سبسڈی آپ اپنی جیب سے دے دیں کیونکہ قومی خزانہ تو خالی ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
اگر اسے قابو نہ کیا گیا اور مہنگائی کا یہی حال رہا تو جب عمران خان حکومت اپنی مدت پوری کر لے گی تو میرے منہ میں خاک سوائے دولت مند طبقے گے سارا پاکستان اپنے بال بچوں سمیت شیلٹر ہوم میں بس رہا ہو گا اور کھانا لنگر سے کھا رہا ہو گا۔
بالکل یہی ہونا بھی چاہئے۔ تاکہ سب کو پتا لگ سکے کہ پاکستان میں کس طرح مصنوعی طور پر دولت کی تقسیم ہوئی ہے اور معیشت کو عارضی بنیادوں پر چلایا گیا ہے۔
 
Top