مٹ چکا ہے سب یہاں اور سب یہاں مٹ جائے گا:: میر احمد نوید

منہاج علی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 8, 2021

  1. منہاج علی

    منہاج علی محفلین

    مراسلے:
    127
    مٹ چکا ہے سب یہاں اور سب یہاں مٹ جائے گا
    مٹ رہا ہے سب یہاں ہائے یہاں میں بھی تو ہُوں

    سب کی بے سمتی ہے میرا قہقہہ ہے اور سفر
    بھول بیٹھا ہوں مَیں یہ شاید رواں میں بھی تو ہوں

    بنتے مٹتے رکتے چلتے دیکھتا تھا میں حباب
    یک بہ یک مجھ کو خیال آیا کہ ہاں میں بھی تو ہوں

    لگ گئی ہے چُپ مجھے بھی رازداں کے ساتھ ساتھ
    اُس کے لب کی خامشی کا رازداں میں بھی تو ہوں

    میر احمد نوید
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر