فرقان احمد

محفلین
بیشتر معاملات معیشت سے جڑے ہوئے ہیں۔ اور یہ معاملہ ایسی آسانی سے حل ہونے والا نہ ہے۔ حکومتِ وقت اس مسئلے سے نکلے گی تو مزید کمزور ہو چکی ہو گی۔ عوام کا غیض و غضب بڑھتا جائے گا۔ بالآخر یہ حکومت گر جائے گی، جلد یا بدیر۔ تاہم، جو نئی حکومت آئے گی، وہ بھی معاملات کو احسن انداز میں شاید ہی حل کر پائے۔ اس لیے، جو منتخب حکومت ہے، اُسے چلتے رہنا چاہیے تاہم، اپوزیشن کو آن بورڈ لینا چاہیے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اہم ملکی معاملات میں شامل کرنا چاہیے۔ صرف این آر او نہ دینے کی باتیں کرنا اور نیب کو انتقامی کاروائیوں کے لیے استعمال کرنا اور سب سے بڑھ کر بلا امتیاز احتساب کی طرف نہ بڑھنا ملک میں انارکی اور افراتفری کو پیدا کرنے کا باعث ہے اور دھرنا تو محض اس کی ایک جھلک ہے۔ یقینی طور پر، جس طرح سے ملک کو چلایا جا رہا ہے، وہ اس ملک کی بقا کے لیے مزید خطرات کا باعث بن رہا ہے۔ باجوہ ڈاکٹرائن نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ذہن اس قابل نہیں کہ ملکی معاملات کو سمجھ سکیں اور ان کے حل کی تدابیر کر سکیں۔ معاملہ صرف بدعنوانی کا نہیں ہے، نااہلی کا بھی ہے؛ بدزبانی کا بھی ہے اور اسٹیک ہولڈرز کی مسلسل بے توقیری کا بھی ہے۔ تاہم، مسئلے کی اصل جڑ بے سمت معیشتی نظام ہے۔
 

الف نظامی

لائبریرین
  • اپوزیشن کو آن بورڈ لینا چاہیے
  • تمام اسٹیک ہولڈرز کو اہم ملکی معاملات میں شامل کرنا چاہیے۔
صرف این آر او نہ دینے کی باتیں کرنا اور نیب کو انتقامی کاروائیوں کے لیے استعمال کرنا اور سب سے بڑھ کر بلا امتیاز احتساب کی طرف نہ بڑھنا ملک میں انارکی اور افراتفری کو پیدا کرنے کا باعث ہے
بہت خوب!
 

جاسم محمد

محفلین
جیسے حکومت والے پاکستانی ہیں اسی طرح دھرنے والے بھی پاکستانی ہیں۔ دونوں کے مابین صلح ہونی چاہیے اور مولانا فضل الرحمن کو چئیرمین کشمیر کمیٹی اور ان کے بھائی کو مشیر مذہبی امور بنا دینا چاہیے۔ باقی تمام اپوزیشن لیڈران کو بھی کسی طرح اکاموڈیٹ کر لیا جائے۔ یوں سب خوش اور پاکستان بھی خوشحال!
کم دھرنے ، خوشحال پاکستان
اگر نواز شریف، زرداری جیسی مفاہمت کی سیاست ہی کرنی تھی تو 22 سال بعد عمران خان کو لانے کی کیا ضرورت تھی؟
 

الف نظامی

لائبریرین
اگر نواز شریف، زرداری جیسی مفاہمت کی سیاست ہی کرنی تھی تو 22 سال بعد عمران خان کو لانے کی کیا ضرورت تھی؟
میثاق معیشت کر لیتے تو پیسے مل جاتے اب تو وہ دونوں ویسے ہی قریب المرگ ہیں اور قید بھی کافی کاٹ لی ، پیسے بھی بیرون ملک سے نہیں مل سکتے۔ اب بھی میثاق معیشت کریں اور آئندہ الیکشن سے انتخابی اصلاحات پر عمل کیا جائے۔
جمہوری تسلسل میں یہ تیسری حکومت ہے یہ بھی پانچ سال مکمل کر جائے تو بہت اچھی بات ہوگی اور ان پانچ سال میں سارا زور نظام سازی اور نظام کی بہتری میں لگایا جائے۔ یک دم تبدیلی نہیں آتی بلکہ بتدریج تبدیلی وقوع پذیر ہوتی ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
تاہم، مسئلے کی اصل جڑ بے سمت معیشتی نظام ہے۔
بے سمت معیشتی نظام سے کیا مراد ہے؟ کیا پچھلی حکومتوں کے چھوڑے گئے ریکارڈ خسارے اس حکومت نے کم نہیں کئے؟ ملک کو بزنس فرینڈلی بنانے کی کوشش نہیں کر رہی؟ ایکسپورٹس نہیں بڑھ رہی؟ اگر یہ سب ہو رہا ہے تو ملک کی معاشی سمت بالکل درست ہے۔
IMF hails Pakistan for primary budget surplus
Fitch lauds improvements in business climate - Newspaper - DAWN.COM
 

جاسم محمد

محفلین
میثاق معیشت کر لیتے تو پیسے مل جاتے اب تو وہ دونوں ویسے ہی قریب المرگ ہیں اور قید بھی کافی کاٹ لی ، پیسے بھی بیرون ملک سے نہیں مل سکتے۔ اب بھی میثاق معیشت کریں
حکومت نے آتے ساتھ ان قومی چوروں کے ساتھ میثاق معیشت کی پیشکش کی تھی۔ یعنی ریاست سے پلی بارگین کریں، لوٹا ہوا پیسا واپس کریں، اپنے جرائم کا اعتراف کریں، جس کےبعد وہ سیاسی میدان میں مکمل آزاد ہوں گے۔ لیکن انہوں نے اس کی بجائے سیاسی شہید بننے والا راستہ اپنایا۔
 

الف نظامی

لائبریرین
حکومت نے آتے ساتھ ان قومی چوروں کے ساتھ میثاق معیشت کی پیشکش کی تھی۔ یعنی ریاست سے پلی بارگین کریں، لوٹا ہوا پیسا واپس کریں، اپنے جرائم کا اعتراف کریں، جس کےبعد وہ سیاسی میدان میں مکمل آزاد ہوں گے۔ لیکن انہوں نے اس کی بجائے سیاسی شہید بننے والا راستہ اپنایا۔
پلی بارگین تو وہ کر چکے ہیں انڈر دی ٹیبل۔ صرف ڈیل منظور کرو تحریک کے ڈرامے میں رنگ بھرنے کے لیے دھرنا ہو رہا ہے۔
حکومت و اپوزیشن مشترکہ پیج
 

جاسم محمد

محفلین
جیسے حکومت والے پاکستانی ہیں اسی طرح دھرنے والے بھی پاکستانی ہیں۔ دونوں کے مابین صلح ہونی چاہیے اور مولانا فضل الرحمن کو چئیرمین کشمیر کمیٹی اور ان کے بھائی کو مشیر مذہبی امور بنا دینا چاہیے۔ باقی تمام اپوزیشن لیڈران کو بھی کسی طرح اکاموڈیٹ کر لیا جائے۔ یوں سب خوش اور پاکستان بھی خوشحال!
کم دھرنے ، خوشحال پاکستان

اپوزیشن کو این آر او دینے کا مطلب ملک سے غداری ہوگا، وزیراعظم
ویب ڈیسک ایک گھنٹہ پہلے
1867050-imran-1572772549-799-640x480.jpg

اپوزیشن میرے منہ سے 3 الفاظ این آر او سننا چاہتی ہے، وزیراعظم عمران خان۔ فوٹو: فائل۔ فوٹو : فائل


اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن میرے منہ سے 3 الفاظ این آر او سننا چاہتی ہے تاہم ان کو این آر او دینے کا مطلب ملک سے غداری ہوگا۔

وزیراعظم عمران خان نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اپوزیشن میرے منہ سے تین الفاظ سننا چاہتے ہیں اور وہ این آر او ہے تاہم میں ان کو کبھی این آر او نہیں دوں گا، ان کو این آر او دینے کا مطلب ملک سے غداری ہوگا، جب تک ان کو زمہ دار نہ ٹھہرایا جائے ملک ترقی کی راہ پرنہیں آسکتا۔
 

الف نظامی

لائبریرین
اپوزیشن کو این آر او دینے کا مطلب ملک سے غداری ہوگا، وزیراعظم
ویب ڈیسک ایک گھنٹہ پہلے
1867050-imran-1572772549-799-640x480.jpg

اپوزیشن میرے منہ سے 3 الفاظ این آر او سننا چاہتی ہے، وزیراعظم عمران خان۔ فوٹو: فائل۔ فوٹو : فائل


اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن میرے منہ سے 3 الفاظ این آر او سننا چاہتی ہے تاہم ان کو این آر او دینے کا مطلب ملک سے غداری ہوگا۔

وزیراعظم عمران خان نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اپوزیشن میرے منہ سے تین الفاظ سننا چاہتے ہیں اور وہ این آر او ہے تاہم میں ان کو کبھی این آر او نہیں دوں گا، ان کو این آر او دینے کا مطلب ملک سے غداری ہوگا، جب تک ان کو زمہ دار نہ ٹھہرایا جائے ملک ترقی کی راہ پرنہیں آسکتا۔
پہلے اینہاں کولوں پیسے پھڑ لے فیر جو مرضی کر۔
 

جاسم محمد

محفلین
ویسے یہ دھرنا استعفے کی مانگ کیوں کر رہا ہے؟
کیونکہ دھرنے والوں کے لیڈر الیکشن ہار گئے تھے۔ اب یہ چاہتے ہیں کہ جو جیتے وہ بھی استعفیٰ دیں اور فی الفور نئے الیکشن کروائے جائیں :)
یعنی نہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے۔
EIYr-Mtf-X0-AAmi-JB.jpg
 

جاسم محمد

محفلین
فضل الرحمن کا حکومت کے خلاف سخت فیصلہ کرنے کا اعلان
ویب ڈیسک ہفتہ 2 نومبر 2019
1866173-fazlulrehmandharnapic-1572709705-875-640x480.jpg

مارچ کے شرکا ہمارے آئندہ کے لائحہ عمل کا انتظار کریں اور اس وقت تک یہیں پر قیام کریں، سربراہ جے یو آئی (فوٹو: اسکرین گریب)

اسلام آباد: مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ہم حالات بگاڑنا نہیں چاہتے لیکن دو روز بعد حکومت کے خلاف سخت فیصلے کریں گے۔

دھرنے کے دوسرے دن شرکا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 126 کا دھرنا ہمارے لیے آئیڈیل نہیں، ہماری تحریک بڑی ہے، ہمیں کل فیصلہ کرنا ہے کہ آئندہ دنوں میں کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے اور اس حکومت کے خلاف تحریک کا تسلسل برقرار رہے، دو روز بعد اس سے بھی سخت فیصلے کریں گے، ہم حالات کو بگاڑنا نہیں چاہتے یہ پرامن اور منظم مارچ اس گواہی کے لیے کافی ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم نے خواتین کو جلسے میں آنے سے نہیں روکا، ہماری خواتین گھروں میں بیٹھ کر جلسے میں شریک ہیں، ہماری کامیابی کے لیے روزے رکھ رہی ہیں، دعائیں کررہی ہیں اور اللہ کے سامنے گڑگڑا رہیں ہیں، ہماری خواتین قومی و صوبائی اسمبلیوں میں ہماری نمائندگی کررہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی ارکان1947ء میں گھوم رہے ہیں لیکن ہم 72 سال آگے جاچکے ہیں، ہم سے آج کے پاکستان کی بات کی جائے، ہم اقبال و قائد اعظم کے نظریے کے مطابق پاکستان کو استوار کرنا چاہتے ہیں لیکن حکومت کی حماقتوں اور کمزور خارجہ پالیسی کی وجہ سے پاکستان تنہا ہوچکا، پڑوسی ممالک آپ سے ناراض ہیں، کشمیر پر ممالک آپ کا ساتھ نہیں دے رہے کس منہ سے آپ کشمیر کی نمائندگی کی بات کرتے ہیں؟ کشمیر کے نمائندے آپ نہیں ہم ہیں۔

قائد جے یو آئی نے کہا کہ حکومت جلسے کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے کچھ چیزیں ڈھونڈ رہی ہے، انتظامیہ یہاں بگاڑ پیدا کرنا چاہتی ہے لیکن ہم انہیں موقع نہیں دے رہے۔ انہوں نے شرکا کو مخاطب کیا کہ جے یو آئی کی قیادت آپ کو جو حکم دے گی آپ اس پر لبیک کہیں، ہمیں مل کر آگے بڑھنا ہے شرکا ہمارے آئندہ کے لائحہ عمل کا انتظار کریں اور اس وقت تک مارچ کے شرکا یہیں پر قیام کریں۔
 

الف نظامی

لائبریرین
پاکستان قائم ہونے کے بعد قائدم اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کا جھنڈا مولانا شبیر احمد عثمانی کو لہرانے کے لیے دیا اور جمعیت علمائے اسلام کی بنیاد مولانا شبیر احمد عثمانی نے قائد اعظم کے کہنے پر رکھی تھی۔ جمعیت علمائے اسلام محب وطن جماعت ہے اس کو پاکستان کا مخالف کہنے والے تاریخ سے بے بہرہ ہیں۔ قیام پاکستان کی مخالف جماعت کا نام جمعیت علمائے ہند تھا جب کہ جمعیت علمائے اسلام قائداعظم کی ایماء پر قائم کی گئی تھی۔

متحدہ قومیت One Nation theory کی حمایت کے حوالے سے 1942 میں جمعیت علماء ہند میں شدید اختلاف پیدا ہو گیا اور مولانا شبیر احمد عثمانی جمیعت علماء ہند سے علیحدہ ہوگئے۔
1946 میں مسلم لیگ کے تعاون سے قائد اعظم کی سوچ کے مطابق کلکتہ میں ایک نئی جماعت کی بنیاد ڈالی گئی جس کا نام جمعیت علماء اسلام تھا ، جے یو آئی کے قیام میں قائد اعظم کا بنیادی کردار تھا اور اس کے قیام کو قائد محترم کی مکمل حمایت حاصل تھا۔ اس کے قیام کا مقصد دو قومی نظریہ کی حمایت اور متحدہ قومیت کی مخالفت تھی۔
اس کے پہلے صدر مولانا شبیر احمد عثمانی اور جنرل سیکرٹری اہلسنت کے معروف سیاسی و دینی راہنما مجاہد ملت مولانا عبدالستار خان نیازی تھے جنہوں نے قائد اعظم کی خواہش کے مطابق جے یو آئی میں شمولیت اختیار کی
(پاکستان کے دینی مسالک از ثاقب اکبر، صفحہ 16)
 

الف نظامی

لائبریرین
عملا ن لیگ اور پیپلز پارٹی دھرنے سے لاتعلق ہیں۔ مولانا ڈٹے ہوئے ہیں اس لیے این آر او کا تعلق مولانا سے بنتا ہی نہیں۔ این آر او جنہیں چاہیے وہ تو محض فیس سیونگ کے لیے جلسے میں آئے ،تقریر کی اور اب سکون سے بیٹھے ہیں کیوں کہ ان کے ساتھ حکومت کی ڈیل ہو چکی ہے۔ مولانا جس وجہ سے یہاں تشریف رکھتے ہیں وہ کچھ اور ہے ۔
 
Top