مولانا فضل الرحمان

مولانا فضل الرحمان کو موقع دینا چاہیے

  • ہاں

    Votes: 6 26.1%
  • نہیں

    Votes: 16 69.6%
  • پتہ نہیں

    Votes: 1 4.3%

  • Total voters
    23

علی خان

محفلین
مولانا صاحب کے بارے میں میں اتنا کہنا چاہتا ہوں۔ کہ یہ بندہ ہر حکومت میں شامل رہتا ہے۔ کیا آپ لوگوں نے کبھی سوچا ہے، کہ یہ بندہ اپنے لئے حکومت میں رہتا ہے، یہ دین اسلام کی خدمت میں حکومت میں رہتا ہے۔۔ اور باقی عمران خان جیسا بھی ہے۔ ہے ایک نڈر بندہ جو کم از کم اپنے الفاظ اور کردار میں یکتا ہے۔ نہ کہ دوسروں کی طرح کرسی کے لئے سب کچھ کرنے کو تیار۔ کبھی مولانا صاحب کے علاقے میں چکر لگاو۔ تو اپکو پتہ چلے۔ کہ کسطرح کے محلات ان لوگوں نے بنائیں ہیں۔ میں تو خیران پریشان ہوکر آیا تھا۔ کہ ایک مولانا جسکی نہ اپنی زمین تھی اور نہ ہی کچھ خاص بینک بیلنس۔ تو پھر کسطرح سے اس نے اتنی ترقی کر لی۔ میرے خیال سے کچھ تو ہے جسکی پردہ داری ہے۔ باقی آپ لوگ سمجھ دار ہیں۔ خود ہی سمجھ لیں۔
 
مولانا صاحب کے بارے میں میں اتنا کہنا چاہتا ہوں۔ کہ یہ بندہ ہر حکومت میں شامل رہتا ہے۔
مجھے ذرا یاد نہیں پڑتا کہ مولانا ہر حکومت میں شامل رہے ہیں کہ نہیں۔
کیامولانا بھٹو حکومت میں شامل تھے (مفتی محمود)
کیا مولانا ضیا حکومت میں شامل تھے؟
کیا مولانا جونیجو حکومت میں شامل تھے؟
کیا مولانا مشرف حکومت میں شامل تھے؟
میرے علم کے مطابق مولانا زیادہ تر جہموری حکومتوں میں شامل تھے ۔ جمعیت بھٹو حکومت میں اپوزیشن میں تھی۔
لہذا یہ کہنا مبالغہ ہوگا کہ وہ ھر حکومت مٰیں شامل تھے۔
کیا آپ لوگوں نے کبھی سوچا ہے، کہ یہ بندہ اپنے لئے حکومت میں رہتا ہے، یہ دین اسلام کی خدمت میں حکومت میں رہتا ہے۔
چونکہ اپکا پہلا ارگومنٹ ہی غلط ہے لہذا اس سے اخذ کردہ دوسرا جملہ بھی غلط ہی ہے۔

۔ اور باقی عمران خان جیسا بھی ہے۔ ہے ایک نڈر بندہ جو کم از کم اپنے الفاظ اور کردار میں یکتا ہے۔
کردار میں یکتا؟ ہاں درست ہے۔ اس جیسا پلے بوائے کے کردار والا دوسرا کہاں؟ اپنے الفاظ میں یکتا؟ ہاں یہ بھی درست۔ اس کا پتہ تو سب سے زیادہ سیتا وائٹ کو ہونا چاہیے۔

نہ کہ دوسروں کی طرح کرسی کے لئے سب کچھ کرنے کو تیار

درست۔ کرسی کی خاطر مشرف کے کتے سنبھالتا رہا اور اب کرسی کی خاطر کیانی کی جی حضوری۔

۔ کبھی مولانا صاحب کے علاقے میں چکر لگاو۔ تو اپکو پتہ چلے۔ کہ کسطرح کے محلات ان لوگوں نے بنائیں ہیں۔ میں تو خیران پریشان ہوکر آیا تھا۔ کہ ایک مولانا جسکی نہ اپنی زمین تھی اور نہ ہی کچھ خاص بینک بیلنس۔ تو پھر کسطرح سے اس نے اتنی ترقی کر لی۔ میرے خیال سے کچھ تو ہے جسکی پردہ داری ہے۔ باقی آپ لوگ سمجھ دار ہیں۔ خود ہی سمجھ لیں۔
یہ سب پروپیگنڈا ہے۔ اگر کچھ زمیں بنالی تو کیا برا ہے۔ ملک تو نہیں بیچ کھایا۔
 

علی خان

محفلین
ہمت صاحب یہی تو مسلہ ہے، وہ پشتو میں ایک کہاوت ہے، ملہ بل تہ مسلے کا وی او پخپلہ پہ حملہ کوی۔ مطلب: ملہ دوسرے کو نصیحت کرتے ہیں اورجس سے دوسروں کو روکتے ہیں وہی کام خود کرتے ہیں۔ اور باقی پروپیگنڈا کی بات نہیں ہےیہ۔ میں خود دیکھ کر آیا ہوں۔اور رہی ملک کی بات تو وہ تو ذرداری ، مشرف اور انکے حواری لوگوں نے بیچا ہے، ان میں عمران کا نام تو کہیں بھی نہیں ہے۔ ہاں البتہ اپکے مولانا صاحب کے ہاتھ ان لوگوں کا خون بھی ہے۔ جو اسلام آباد میں مدرسہ میں شہید ہوئے۔ جنکی عزت تار تار ہوئی، اور ان لوگوں کی بددعائیں بھی ان کے کھاتے میں آتی ہیں جوابھی تک غائب ہیں۔
اور اپکی بات کہ اگر اس نے کچھ زمین بنائی ہے۔ تو خیر ہے کوئی بات نہیں۔ تو کیسے کوئی بات نہیں۔ کیا وہ زمین اسکے باپ دادا کی جاگیر ہے ۔نہیں جناب یہ زمین پاکستانی عوام کی ہے۔ نہ کہ ان ملاوں کی۔ یہ ملک اور اسکا نظام ہمارے ٹیکس ادا کرنے سے چل رہا ہے۔ یہ ہماری خون پسینے کی کمائی ہے۔ ہم جو ٹیکس دیتے ہیں، تو ان لوگوں کے پیٹ بھرنے کے لئے نہیں ،یہ ہم اس ملک کو چلانے کے لئے دیتے ہیں۔ اسطرح کے الفاظ ادا کرنے سے پہلے برائے مہربانی 100 دفعہ سوچ لیا کریں۔ اگر اپکو مولانا سے اتنی محبت ہے۔ تو برائے مہربانی اپنی کمائی اُن پر نچاور کریں۔ ہمارے ملک کا پیسہ کیوں ایک چور پر خرچ ہوں۔ جو ہے توایک آمیر لیکن کام چوروں والا کرتا ہے۔ اور اپ بھی ایک چور کی حمایت میں اس حد تک نیچے آگئے ہیں۔

اپکی وضاحت کے لئے کچھ شئیر کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

 
مولانا ڈیزل سے لاکھ اختلاف سہی مگر (حیران کن طورپر) مولانا کا کراچی والا جلسہ کپتان خان کے کراچی والے کنسرٹ نما جلسے سے بڑا تھا ۔۔۔۔ اس کہ باوجود میڈیا نے جلسے کو "ٹوٹا ٹوٹا" کوریج دی۔
 
ایکسپریس
1101444003-1.gif

صیہونی نواز اس میڈیا کی مخالفت سمجھ میں اتی ہے
 

علی خان

محفلین
ان عباسیز کے متعلق پہلے ہی کہہ چکا ہوں ی
یہ لوگ فوج کے ایجنٹز ہیں اور ان کی بات کا کوئی اعتبار نہیں
اپکو کیسے پتہ چلا کہ وہ فوج کے ایجنٹ ہیں۔ کیا یہ بات اپکو فوج نے بتائی ہے۔ یا پھر اپکے پاس کوئی ناقابِل تردید ثبوت ہے۔ کہ ہاں یہ بندہ فوج کا ایجنٹ ہے۔میرے خیال سے یہ فوج ہی ہے۔ جو ہمارے پیارے پاکستان کا امیج دنیا میں قائم رکھے ہوئے ہے۔ورنہ ان سیاسدانوں نے تو ہمیں کہیں کانہیں چھوڑا۔ اپکو یہ الفاظ زیب نہیں دیتے۔ انہوں نے بمعہ ثبوت، رجسٹری اور انتقال کے کاغذات کی اوریجنل کاپی کے ساتھ یہ بات کی ہے۔ اور بات تو صیحح اس لئے ہے۔ کہ آپکے مولانہ صاحب کے پارٹی کے ترجمان بھی وہاں بیٹھے ہیں، وہ بھی اسکے بعد چپ ہو کر بیٹھ گئے ہیں۔ حالانکہ وہ پارٹی کے چند بڑے مہروں میں سے ہیں۔ اور آپ ٹھہرے ایک معمولی مہرہ۔
ہمت صاحب کیوں بیکار میں اپنی اور ہماری انرجی ان حرافات لوگوں پر ضائع کر رہیں ہیں۔ انکے بارے میں اپکی صفات اور ہماری یہ بے ادبی انکو اپنے مقصد سے روک نہیں سکتی۔ تو پھر کیوں آپ اور ہم اپنا قیمتی وقت ان 2 نمبر لوگوں پر ضائع کریں۔
 
کسی حد تک بات اپ کی ٹھیک ہے
میرا مقصد صرف یہ تھا کہ لوگ جن بے کردار لوگوں کے پیچھے چل پڑے ہیں یہ دو نمبر لوگ ان سے کہیں بہتر ہیں
 

علی خان

محفلین
کسی حد تک بات اپ کی ٹھیک ہے
میرا مقصد صرف یہ تھا کہ لوگ جن بے کردار لوگوں کے پیچھے چل پڑے ہیں یہ دو نمبر لوگ ان سے کہیں بہتر ہیں
میرے خیال سے 2 نمبر 2 نمبر ہوتا ہے۔ اور بے کردار 2 نمبر بندہ ہی ہوتا ہے۔ باقی آپ سمجھدار ہیں۔
 

راشد احمد

محفلین
پاکستان میں انتخاب قریب ہیں اور اس میں تمام پاکستانیوں کو سوچ سمجھ کر ووٹ ڈالنا چاہیے۔
اس مرتبہ پیپلز پارٹی کوئی چوائس نہیں ہے
نواز شریف اور پارٹی صرف پنجاب بلکہ لاہور تک محدود ہے
عمران ایک متبادل ہے مگر جس طرح اس نے چور اچکے جمع کرلیے ہیں اس سے یہی پتہ چلتا ہے کہ عمران ایک بری چوائس ہوگا۔
اس صورت میں مولانا فضل الرحمان ایک اچھی چوائس نظر اتا ہے۔ ان کو بھی ایک موقع دینا چاہیے۔ میرا ووٹ مولانا کی پارٹی کے لیے ہوگا۔

جب عمران خان کے پاس کوئی نہیں تھا تو تب کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس تو کوئی ٹیم نہیں ہے، اب ٹیم آگئی ہے کہ کہا جاتا ہے کہ عمران خان لوٹوں کو ساتھ لیکر انقلاب لارہا ہے۔ یہ صورتحال دیکھ کرمجھے پانچویں جماعت میں پڑھی گئی وہ کہانی یاد آگئی کہ ایک گاﺅں کے رہنے والے باپ بیٹا ایک روز شہر کی طرف چلے جا رہے تھے۔ بیٹے کو گدھے پر بٹھا کر باپ خود گدھے کی لگام تھامے آگے آگے چل رہا تھا۔ لوگوں نے یہ دیکھا تو طعنہ زن ہوئے کہ کیا زمانہ آگیا ہے جوان بیٹا گدھے پر سوار ہے اور بوڑھا باپ ساتھ پیدل چل رہا ہے، تو یہ سن کر دونوں باپ بیٹا شرمسار ہوئے اور پھر یہ کیا کہ باپ گدھے پر سوار ہوگیا اور بیٹا آگے لگام پکڑے چلنے لگا۔ لوگوں نے یہ منظر دیکھا تو پھبتی کسی کہ کیا سنگدل باپ ہے کہ خود تو گدھے پر سوار ہے، بیٹے کو پیدل چلا رکھا ہے تو یہ سن کر باپ نے بیٹے کو بھی اپنے ساتھ گدھے پر سوار کر لیا اور گدھے کو مارتے پیٹتے آگے روانہ ہوگئے تو جن لوگوں نے یہ سین دیکھا تو کہنے لگے کیا گدھے کی کمر توڑنا مقصود ہے کہ اس ناتواں جسم پر بیک وقت دو ہٹے کٹے اشخاص سوار ہو؟ آخر گدھا بھی جاندار ہے اسے بھی اپنی سلامتی کےلئے آرام درکار ہے، اس کو آرام نہیں پہنچا سکتے تو اتنا ظلم بھی نہ کرو۔ یہ سنا تو باپ بیٹا شرم سے پانی پانی ہوگئے اور یوں گدھے کو ”آرام“ پہنچانے کےلئے دونوں باپ بیٹے نے مل کر اسے اپنے کندھوں پہ اٹھا لیا تو ان کی اس حرکت پر گدھا اس قدر مشتعل ہوا کہ لگا دولتیاں جھاڑنے اور یوں دولتیاں مار مار کر دونوں کا حشر نشر کر دیا۔

میں بھی شروع میں عمران خان سے مایوس ہوا تھا کہ کون کون سے لوگ شامل کرلئے لیکن ٹریک ریکارڈ کے حوالے سے کرپٹ لوگ کم ہیں زیادہ تر نے مشرف کا ساتھ دیا ہے۔ خورشید محمود قصوری، سکندر بوسن، جہانگیر ترین، شاہ محمودقریشی، انعام اللہ نیازی، اسحاق خاکوانی، جاوید ہاشمی، غیاث الدین جانباز،خالد کھرل وغیرہ پر کرپشن کا تو کوئی الزام نہیں ہے۔ہاں! ان میں سے کچھ نے مشرف کا ساتھ ضرور دیا ہے۔

لیکن اگر دیکھا جائے تو عمران خان کے پاس جو لوگ تھے ان میں سے زیادہ تر میں الیکشن جیتنے کی اہلیت نہیں تھی۔ ماضی میں عمران خان کافی بڑی بڑی غلطیاں کرتا آتا ہے۔ جاوید ہاشمی، اسحاق خاکوانی، خالد کھرل، غیاث الدین وغیرہ کے پاس سیاسی تجربہ عمران خان سے زیادہ ہے۔

میرا تعلق لاہور سے ہے اور لاہور کی سیاست میں دن بدن ڈرامائی تبدیلی آتی جارہی ہے اگرچہ لاہور سے زیادہ بڑے نام شامل نہیں ہوئے لیکن اس کے باوجود لاہور کے کچھ حلقوں کے بارے میں تو یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ تحریک انصاف کے پاس چلے جائیں گے۔ باقی جنوبی پنجاب میں تحریک انصاف بہت مضبوط ہے۔ خیبر پختونخواہ کے بارے میں توکہا جاتا ہے کہ تحریک انصاف بہت زیادہ مضبوط ہے اورخیبرپختونخواہ میں مولانا صاحب کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہی عمران خان ہیں۔ ملتان میں شاہ محمود قریشی، جاوید ہاشمی، طاہررشید، سکندربوسن، خالد خاکوانی اور دیوان حیدر کی وجہ سے وہاں پیپلزپارٹی اور ن لیگ کو بہت نقصان ہوگا۔
 

راشد احمد

محفلین
یہ اتنی بڑی باتیں نہیں ہیں۔ زرداری ، نواز اور عمران کے جرائم کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ اگر صرف یہ ہے تو مولانا کو داد دینی چاہیے کہ یہ جھوٹے عباسیز کچھ پکڑ نہ سکے نہ سیتا وائٹ نہ سوئزرلینڈ نہ گانوں کے کنسرٹز۔ کچھ بھی نہیں
اب میرا خیال ہے کہ مولانا ان سب سیاست دانوں سے بہتر ہی ہیں۔
مولانا مذہبی ووٹ تو لے لیں گے لیکن کیا مولانا صاحب کے پاس کوئی معیشت، تعلیم، صحت، کامرس، ٹیکنالوجی کے میدان میں ٹیم ہے؟ مولانا کا اصل ووٹ خیبر پختونخواہ میں ہے اور وہاں تحریک انصاف بہت مضبوط ہوگئی ہے اور دوسری طرف مولانا کو جماعت اسلامی، ن لیگ، پیپلزپارٹی، اے این پی وغیرہ سے لڑنا پڑے گا۔ مولانا اپنی سیٹ جیت جائیں تو بڑی بات ہے اب تو مسرت شاہین دوبارہ سیاست میں آگئی ہے۔
 
کرپٹ لیڈرز کی چمچہ گیری کرتے رہے اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ان پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں۔ یہ سب داغ دار ہیں۔
مسرت شاہین کے انے پر اپ کو اتنی مسرت کیوں ہورہی ہے؟
کیا اس سے نہیں لگتا کہ ایجنسیاں کیا کھیل کھیل رہی ہیں؟
ہوسکتا ہے کہ ن اور پی پی کو نقصان ہو مگر عمران جن لوگوں کے لے جیتے گا وہ کچھ تبدیلی نہیں لانے والے بلکہ یہ تو زرداری کو بھی پیچھے چھوڑ جائیں گے
پاکستان کا المیہ ہے کہ یہاں کی بے وقوف عوام بے نظیر کوہٹاتی ہے تو اس سے برا نواز اجاتا ہے۔ اس کے ہٹنے پر خوشی مناتے ہیں تو اس سے برا مشرف اجاتا ہے۔ وہ جاتا ہے تو اس سے برا زرداری اجاتا ہے ۔ وہ اگر گیا اور عمران ایا تو لگتا ہے یہ زرداری سے بھی برا ہوگا۔
بہتر ہے کہ جو لوگ موجود ہیں ان میں سے ہی اچھے لوگ چنیں جائیں۔ میری رائےمیں مولانا بہتر ہیں
 

ساجد

محفلین
ہمت بھیا نے لکھا؛
یہ اتنی بڑی باتیں نہیں ہیں۔ زرداری ، نواز اور عمران کے جرائم کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ اگر صرف یہ ہے تو مولانا کو داد دینی چاہیے کہ یہ جھوٹے عباسیز کچھ پکڑ نہ سکے نہ سیتا وائٹ نہ سوئزرلینڈ نہ گانوں کے کنسرٹز۔ کچھ بھی نہیں
اب میرا خیال ہے کہ مولانا ان سب سیاست دانوں سے بہتر ہی ہیں۔

ہمت بھیا ، یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ، المملکۃ العربیہ السعودیہ نہیں۔ یہاں فرد آئین کے تابع ہے آئین فرد کے نہیں ۔ مولانا موصوف جو کہ پاکستان کے آئین کے منکرین طالبان کے کھلم کھلا حامی ہیں کس منہ سے اسی آئین کے تحت چلنے والے نظام کا حصہ ہیں ؟ ۔ منافقت اسی کو نہیں کہتے؟۔ "رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی"۔
مولانا کے اس انداز سیاست پر اپ کیا فرمائیں گے۔
 
بات پاکستان تک رکھیں تو اچھا ہے کہ برائی پاکستان میں ہے اور لوگ پاکستان کے تنگ ہیں۔

مولانا جہموری ادمی ہیں اور ائین کی بات کرتے ہیں۔ البتہ وہ افغانستان کے طالبان کی حمایت کرتے ہیں جو ہر غیرت مند ادمی کا فرض ہے کہ جارح کے مقابل مظلوم کی حمایت کرے
 

ساجد

محفلین
بات پاکستان تک رکھیں تو اچھا ہے کہ برائی پاکستان میں ہے اور لوگ پاکستان کے تنگ ہیں۔

مولانا جہموری ادمی ہیں اور ائین کی بات کرتے ہیں۔ البتہ وہ افغانستان کے طالبان کی حمایت کرتے ہیں جو ہر غیرت مند ادمی کا فرض ہے کہ جارح کے مقابل مظلوم کی حمایت کرے
اجی حضرت ، آپ ناراض نہ ہوں ہم نے پاکستان پر ہی فوکس کیا ہوا ہے البتہ آپ کو سوچنا چاہئیے کہ سیتا وائٹ پاکستانی ہے نہ آپ کے بیان کردہ میوزک کنسرٹز پاکستان میں منعقد ہوئے ۔
"آئینہ ان کو دکھایا تو برا مان گئے"۔
مولانا کا آئینی احترام صرف ان کے تکیہ کلام "آئین کے تناظر میں" تک ہی محدود ہے۔ طالبان کی حمایت اور آئین کے احترام سے متعلق ان کے کردار کو دیکھنا ہے تو یہاں کلک کریں۔
 

راشد احمد

محفلین
کچھ دن پہلے ڈاکٹر اجمل نیازی نے مولانا فضل الرحمان پرایک مزاحیہ کالم لکھا یہ حسب ذیل ہے۔

کامیاب اداکارہ مسرت شاہین نے بڑے دھڑلے سے اعلان کیا ہے کہ میں مولانا فضل الرحمن کے مقابلے میں الیکشن لڑوں گی اور جیت کے دکھاوں گی۔ میرے خیال میں پچھلے چار برسوں کی سیاست میں یہ سب سے بڑا بیان ہے۔ بھارتی میڈیا فیم فنکارہ وینا ملک اگر یہ اعلان کر دیں کہ وہ رحمن ملک کے خلاف الیکشن لڑیں گی تو اور بھی بہت سی بہادر خواتین سیاستدان نکل آئیں گی جو اس سیاسی بغاوت کی نئی تاریخ لکھیں گی۔ شیری رحمن نے بھی رحمن ملک کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دیا تھا کہ وہ میری وزارت میں مداخلت کرتے ہیں۔ وہ امریکہ میں سفیر نہ بنائی جاتی تو وہ یقینا رحمن ملک کے خلاف الیکشن لڑتی اور جیت جاتی۔ کسی آدمی سے پوچھا گیا کہ رحمن ملک اور وینا ملک کے درمیان اصلی ملک کون ہے۔ اس نے کہا کہ وینا ملک کے بارے میں تو مجھے یقین نہیں ہے البتہ رحمن ملک واقعی ملک صاحب ہیں کہ وہ میرے سامنے ملک بنے ہیں۔ مسرت شاہین بڑی زندہ دل اور دلچسپ خاتون ہیں۔ ملکہ¿ ترنم نورجہاں کے بعد جس عورت کی محفل مزیدار ہوتی ہے وہ مسرت شاہین ہیں۔ وہ مردانہ انداز میں زندگی گزارتی ہیں۔ مولانا صاحب کو ڈر اس کی مردانگی سے لگتا ہے۔ وہ ایسی عورتوں کی دیوانگی سے بھی ڈرتے ہیں۔ مولانا تو ان پٹھان مولویوں میں سے ہیں جو عورتوں کو ووٹ دینے کا حق بھی دینے کیلئے تیار نہیں۔ انہیں خطرہ ہے کہ اگر سب عورتوں نے یہ فتویٰ لے لیا کہ وہ کسی عورت امیدوار کو ووٹ ڈال سکتی ہیں تو مسرت کی جیت یقینی ہے۔ مسرت شاہین نے مفتی صاحب سے بھی رابطہ کر لیا ہے۔ یہ چیلنج عمران کیلئے بھی ہے کہ نوجوان لڑکیوں کیلئے ایک منصوبہ مسرت شاہین نے تیار کر لیا ہے۔ مسرت شاہین کی ایک محفل میں مجھے ٹی وی اینکر برادرم ڈاکٹر محمود لے گئے تھے۔ بہت اچھی گپ شپ بلکہ کھپ شپ رہی مگر ڈاکٹر محمود نے مجھے مسرت شاہین کا انٹرویو کرنے سے منع کر دیا۔ اس کی وجہ وہی جانتے ہیں۔ ڈاکٹر محمود دوستوں کا دوست ہے اور وہ دوستوں کے ارادوں اور منصوبوں سے بھی واقف ہوتا ہے کیونکہ وہ بڑا ماہر ہومیوپیتھک ڈاکٹر بھی ہے۔ تب بھی مسرت شاہین بہت سرگرم اور مستعد تھی۔ وہ ضمنی الیکشن لڑنا چاہتی تھی۔ اس کی شرط صرف یہ تھی کہ وہ کسی مرد کے مقابلے میں الیکشن لڑیں گی اور یہ بھی چاہتی تھی کہ وہ مولانا ہی ہوں۔

مرحوم بھائی اور بہت عظیم فنکار دلدار بھٹی مسرت شاہین کا بہت قائل تھا اور اس کی رنگا رنگ صلاحیتوں سے بڑا متاثر تھا۔ ایک محفل میں جہاں مستقل وزیر اطلاعات شیخ رشید مہمان خصوصی تھا۔ وہاں مسرت شاہین نے خاص طور پر میری سفارش کرائی کہ دلدار بھٹی میرے بارے میں کوئی ایسا جملہ نہ کہہ دے جس سے شرمندگی اٹھانا پڑے کیونکہ میں ایک سیاستدان بھی ہوں اور مولانا فضل الرحمن کو شکست دینا چاہتی ہوں۔ دلدار نے بڑے ادب سے مسرت شاہین کو بلایا۔ اتنا احترام دیکھ کر ہال میں کسی نے تالی بھی نہ بجائی۔ مگر مسرت مطمئن ہوئی کہ بچت ہو گئی۔ جب وہ ایوارڈ لے کر جانے لگی تو دلدار بھٹی نے کہا یہ تھی مشہور اداکارہ اور سیاستدان مسرت شاہین جو آتے ہوئے اچھی لگ رہی تھی اور جاتے ہوئے تو اور بھی اچھی لگ رہی تھی۔ سارا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔

مولانا فضل الرحمن واقعی مسرت شاہین سے ڈرتے ہیں۔ ایک تو وہ اسلئے پریشان ہیں کہ اب عورتوں نے بھی اپنا نام شاہین رکھنا شروع کر دیا ہے اور یہ علامہ اقبال کی توہین ہے۔ مسرت شاہین کے اعلان کے بعد انہوں نے کہا کہ سیاست میں سے شائستگی ختم ہو چکی ہے۔ عوام کے منتخب نمائندوں کو چور اور ڈاکو کہا جاتا ہے۔ مولانا یہ تو دیکھیں کہ یہ کون کہتا ہے وہی لوگ جن کی چوری ہوتی ہے۔ جن کے گھروں میں ڈاکہ پڑتا ہے۔ ان کیلئے تحریک انصاف کے چیئرمین اور محبوب سیاستدان عمران خان نے کہا کہ نوازشریف نظام اور مولانا فضل الرحمن اسلام کا نعرہ لگا کر صدر زرداری کو سپورٹ کرتے رہے۔ بیسویں ترمیم پر پھر ”مُک مُکا“ ہو رہا ہے۔ یہ ”مُک مُکا“ مولانا نے اور نوازشریف نے اٹھارویں ترمیم پر بھی کیا تھا۔ کرپشن کے سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔ میمو گیٹ پر بڑی سازش ہوئی ہے۔ نوازشریف کالا کوٹ پہن کر وکیل بن کر سپریم کورٹ گئے پھر نجانے کہاں چلے گئے۔ اب امریکہ کے ساتھ صلح صفائی ہو رہی ہے مگر ملک کا صفایا ہو رہا ہے۔

فضل الرحمن نے اسلام بیچ کر جتنا مال بنایا ہے کسی اور نے نہیں بنایا۔ یہ باتیں پہلے عمران نے مولانا کے بارے میں نہیں کہی تھیں۔ یقیناً مسرت شاہین کے اعلان انتخاب کے بعد یہ موقع عمران کو ملا ہے۔ جس طرح جاوید ہاشمی کے آنے کے بعد عمران کی جان میں جان آئی تھی۔ مسرت شاہین کے اس اعلان کے بعد کہ وہ تحریک انصاف میں تحریک مساوات ضم کرنا چاہتی ہے۔ ایک بڑا سنہری موقع ہے۔ یہ اصغر خان کی تحریک استقلال سے بڑا سیاسی واقعہ ہو گا۔ ماں کا انصاف تو یہ ہے کہ جس بچے کے پاس زیادہ ہے۔ اس سے لے لیا جائے اور اسے دے دیا جائے جس کے پاس کم ہے۔ ہمارے ہاں تو الٹا ہو رہا ہے۔ یہاں ان کو دیا جا رہا ہے جن کے پاس بہت زیادہ ہے اور ان سے چھینا جا رہا ہے جن کے پاس کچھ نہیں ہے۔ یاد رہے کہ میں نے مسرت شاہین کو خاں نہیں کہا۔ ایک بات بڑے پتے کی مسرت نے کہی ہے جو عمران سے زیادہ ہارون الرشید کے غور کرنے کی ہے کہ جب تک ملک میں مسادات نہیں ہو گی انصاف نہیں ہو گا۔ عمران انصاف لانا چاہتے ہیں تو مساوات لانا ہو گی اور اس کیلئے تحریک مساوات کی چیئرمین مسرت شاہین کو خوش آمدید کہنا ہو گا۔

اس حوالے سے میری گزارش حفیظ اللہ خان سے بھی ہے کہ وہ جاوید ہاشمی کی طرح مسرت شاہین کیلئے بھی کوشش کریں۔ مسرت نے کہا کہ وہ سو فیصد سیاست کے راز نہیں سیکھ سکیں۔ ننانوے فیصد تو سیکھ چکی ہیں اور ان کا پتہ مولانا فضل الرحمن اور عبدالغفور حیدری کو چل گیا ہے۔ مسرت نے کہا کہ عمران سے میرا الائنس ہو سکتا ہے ورنہ ان کے خلاف بھی مجھے الیکشن لڑنا پڑے گا۔ یہ دھمکی نہیں بلکہ دھماکہ ہے۔ برادرم ہارون الرشید نے چونکہ داڑھی رکھی ہوئی ہے اسلئے انہیں خاص طور پر احتیاط کرنا چاہئے۔

مولانا آج کل بڑے چلے کر رہے ہیں اور اس حرکت کو آج کل عمران کا مقابلہ سمجھا جاتا ہے۔ مولانا کے حواری کہہ رہے ہیں کہ کراچی میں ہمارا جلسہ عمران کے جلسے سے بڑا تھا۔ اگر مسرت شاہین ڈیرہ اسماعیل خاں میں جلسہ کرنے کا اعلان کریں اور عمران خان اس کی صرف تائید کر دیں تو اس کے مقابلے میں مولانا جلسہ نہیں کر سکیں گے بلکہ کریں گے بھی نہیں۔

آخر میں ایک بات یاد آئی جو پنجاب یونیورسٹی کے دانشور بہادر وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران کے اعزاز میں ایک استقبالیہ اکرم چودھری نے دیا تھا۔ ناصر اقبال خاں نے اس کیلئے بہت تعاون کیا۔ وہاں مذہبی پروگرام کے اینکر رفیق احمد بھی تھے۔ مسرت شاہین اور مولانا کا ذکر ہوا تو اوریا مقبول جان نے ایک واقعہ سنایا جو خود انہوں نے مجاہد ملت مولانا عبدالستار خان نیازی سے سنا ہے۔ مولانا نیازی مفتی محمود سے ملنے گئے۔ ایک نوجوان بار بار کمرے میں داخل ہوتا اور مفتی صاحب اسے بھگا دیتے۔ مولانا نیازی نے پوچھ لیا کہ مفتی صاحب یہ نوجوان کون ہے۔ انہوں نے فرمایا یہ میرا بیٹا فضل الرحمن ہے اور یہ پیسے لے کر میرے خلاف مخبری کرتا ہے۔

حوالہ روزنامہ نوائے وقت
 
اجی حضرت ، آپ ناراض نہ ہوں ہم نے پاکستان پر ہی فوکس کیا ہوا ہے البتہ آپ کو سوچنا چاہئیے کہ سیتا وائٹ پاکستانی ہے نہ آپ کے بیان کردہ میوزک کنسرٹز پاکستان میں منعقد ہوئے ۔
"آئینہ ان کو دکھایا تو برا مان گئے"۔
مولانا کا آئینی احترام صرف ان کے تکیہ کلام "آئین کے تناظر میں" تک ہی محدود ہے۔ طالبان کی حمایت اور آئین کے احترام سے متعلق ان کے کردار کو دیکھنا ہے تو یہاں کلک کریں۔
سیتا وائٹ پاکستانی نہ سہی مگر اسکا یہ کلیم تو درست ہے کہ اسکی بچی کا باپ پاکستانی ہے
اور کنسرٹ کی صدرات تو موصوف عمران خان خود پاکستان کے اندر ہر جلسے میں کرتے ہیں
 
Top