منگنی کو جو ہم پہنچے!

زبیر مرزا

محفلین
اچھی آزمودہ ترکیب کے لیے شکریہ - آپ کے پاس مزید ترکبیں ہوں مچھروں کو بھگانے ، آلوگوشت پکانے اور شادی سے خود کو بچانے کی
تو عنایت فرمائیں -
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
مہدی نقوی حجاز بھائی بہت عمدہ۔۔۔ اب ہم کیا کریں۔۔۔ دو سال تاخیر سے پڑھنے کو ملا یہ آزمودہ نسخہ۔۔۔ ہم تو مانند بکرا سر ہی ہلاتے رہ گئے تھے۔۔۔ بہت عمدہ۔۔۔

اچھی آزمودہ ترکیب کے لیے شکریہ - آپ کے پاس مزید ترکبیں ہوں مچھروں کو بھگانے ، آلوگوشت پکانے اور شادی سے خود کو بچانے کی
تو عنایت فرمائیں -

آپ کو ابھی ضرورت ہے نسخوں کی میاں۔۔۔ لگتا ہے ابھی تک زبیر عاشق والا مراسلہ نہیں پڑھا۔۔۔ :p
 

باباجی

محفلین
زبردست جناب بہت خوب لکھا
اور کہیں سے inspiration تولی ہوگی
یار ایسا میں نے ایک بار کیا تھاایسا کہ میں سگریٹ بھی پیتا ہوں اور جو ملے پی لیتا ہوں
جیسے کہ "کوک، پیپسی، اسٹنگ" وغیرہ وغیرہ :cool:
اور موڈی انسان ہوں ہوسکتا ہے سردیوں میں رات کو ٹھنڈا ٹھار روح افزا بنانے کا آرڈر دیدوں
یا
شدید گرمیوں کی دوپہر میں گرم گرم چائے کی فرمائش کردوں
ایسی ہی کچھ الٹی سیدھی باتیں کی جان چھڑانے کے لیئے
لیکن :(
وہ مان گئی اور مجھے مجبوراً ایک بہت بڑی قسم کھانی پڑی اس کا دل توڑنے کے لیئے اور اپنی آزادی کے لیئے
جب میری امی کو پتا چلا تو انہوں نے اصل میں مجھے بہت گالیاں دیں
اور کہنے لگیں کے
یار وہ کیا ہوتا قسم پوری کرنے کے لیئے یا ختم کرنے لیئے جو ہوتا فدیہ وغیرہ یا پتا نہیں کیا
وہ کروں گی اور اسی سے تمہاری شادی کرواؤںگی
تو جناب میں تو ایسا بھاگا کہ جب تک اس کی کہیں اور شادی نہ ہوگئی گھر نہیں آیا
:)
نوکری ہی ایسی ڈھونڈی کہ گھر سےدور ہی رہا
 
بہت عمدہ جناب مہدی نقوی حجاز صاحب
کچھ الفاظ کی تراکیب نئے انداز سے آپ نے کی ہے تو مزا آیا
افراد کی توجہ جو ہماری جانب جلب (جلب مطلب بلانا ،طرد کا مترادف ہوتا ہے) ہوئی تو کچھ آواز کو بلند کر کے ہم نے کہا:
ہم نے "لگی ان لگی" کر دی۔ سنی ان سنی کا تو سنا تھا لیکن لگی ان ان لگی کی یہ ترکیب پہلی بار آپ کے قلم سے لطف دے رہی ہے۔
(اس سے پہلے ان کی نظریں ہماری مخالف سمت کی دیوار پر میخ کوب تھیں۔) نظریں جمائی یا گاڑی ہونا کا اچھا مترادف ہے۔
ائیں تو آدھ گھنٹے بعد چائے کے ساتھ ایش ٹرے تبدیل کرواتا ہوں۔ امی جان کا چلانا پسند نہیں ہے کہ ہماری طبع میں سے روانی کی کیفیت جاتی رہتی ہے۔۔۔ ۔ ادھر طبع کے ساتھ نازک کا سابقہ ضروری تھا کیونکہ شاعر لوگ طبع زیادہ تر نازک ہی رکھتے ہیں
+ دیکھیے ۔۔ میں اس سے زیادہ نہیں سننا چاہتی آپ کی باتیں! آپ جلد تشریف لے جائیے اور رفع زحمت کیجے۔ جناب عالی انہوں دفع ہوجائیں کہا ہوگا جس کو آپ نے رفع زحمت بنادیا چلیں جناب ٹھیک ہے چلتا ہے شاعر لوگ پتھر کو بھی پھول بنا لیتے ہیں
 
اچھی آزمودہ ترکیب کے لیے شکریہ - آپ کے پاس مزید ترکبیں ہوں مچھروں کو بھگانے ، آلوگوشت پکانے اور شادی سے خود کو بچانے کی
تو عنایت فرمائیں -

ہاں شادی سے بھاگنے کے لیے فالحال یہی ایک آزمودہ ہے، البتہ غیر آزمودہ بہت سی ہیں۔ لیکن اس میں ہماری اور بیئیسبال کے بلے بنانے والی کمپنیوں کی کوئی گارنٹی نہیں جناب!
 
مہدی نقوی حجاز بھائی بہت عمدہ۔۔۔ اب ہم کیا کریں۔۔۔ دو سال تاخیر سے پڑھنے کو ملا یہ آزمودہ نسخہ۔۔۔ ہم تو مانند بکرا سر ہی ہلاتے رہ گئے تھے۔۔۔ بہت عمدہ۔۔۔



آپ کو ابھی ضرورت ہے نسخوں کی میاں۔۔۔ لگتا ہے ابھی تک زبیر عاشق والا مراسلہ نہیں پڑھا۔۔۔ :p

جناب دیر کبھی نہیں ہوتی چلیے آپ کے لیے آگے بڑے مواقع ہیں اور اب تو "باہر والوں" کے لیے یہ نسخہ آپکے بڑے کام آئے گا۔ اور آپ سے زیادہ "ان" کے
 
زبردست جناب بہت خوب لکھا
اور کہیں سے inspiration تولی ہوگی
یار ایسا میں نے ایک بار کیا تھاایسا کہ میں سگریٹ بھی پیتا ہوں اور جو ملے پی لیتا ہوں
جیسے کہ "کوک، پیپسی، اسٹنگ" وغیرہ وغیرہ :cool:
اور موڈی انسان ہوں ہوسکتا ہے سردیوں میں رات کو ٹھنڈا ٹھار روح افزا بنانے کا آرڈر دیدوں
یا
شدید گرمیوں کی دوپہر میں گرم گرم چائے کی فرمائش کردوں
ایسی ہی کچھ الٹی سیدھی باتیں کی جان چھڑانے کے لیئے
لیکن :(
وہ مان گئی اور مجھے مجبوراً ایک بہت بڑی قسم کھانی پڑی اس کا دل توڑنے کے لیئے اور اپنی آزادی کے لیئے
جب میری امی کو پتا چلا تو انہوں نے اصل میں مجھے بہت گالیاں دیں
اور کہنے لگیں کے
یار وہ کیا ہوتا قسم پوری کرنے کے لیئے یا ختم کرنے لیئے جو ہوتا فدیہ وغیرہ یا پتا نہیں کیا
وہ کروں گی اور اسی سے تمہاری شادی کرواؤںگی
تو جناب میں تو ایسا بھاگا کہ جب تک اس کی کہیں اور شادی نہ ہوگئی گھر نہیں آیا
:)
نوکری ہی ایسی ڈھونڈی کہ گھر سےدور ہی رہا

جناب حضرتِ جوشؔ نے ایسے ستم پیشوں کے لیے کہا ہے کہ:
مجھے آزاد کر کے پر کشائی کیوں نہیں کرتیں
جو دل کو توڑ دے وہ کج ادائی کیوں نہیں کرتیں

سو یہی حال اپنا ہے!
 
بہت عمدہ جناب مہدی نقوی حجاز صاحب
کچھ الفاظ کی تراکیب نئے انداز سے آپ نے کی ہے تو مزا آیا
افراد کی توجہ جو ہماری جانب جلب (جلب مطلب بلانا ،طرد کا مترادف ہوتا ہے) ہوئی تو کچھ آواز کو بلند کر کے ہم نے کہا:
ہم نے "لگی ان لگی" کر دی۔ سنی ان سنی کا تو سنا تھا لیکن لگی ان ان لگی کی یہ ترکیب پہلی بار آپ کے قلم سے لطف دے رہی ہے۔
ہم نے اپنی جانب سے کچھ تلمیح فرما دی ہے محاورے میں محض برائے لطف!
(اس سے پہلے ان کی نظریں ہماری مخالف سمت کی دیوار پر میخ کوب تھیں۔) نظریں جمائی یا گاڑی ہونا کا اچھا مترادف ہے۔
ہاں لیکن اگر زیادہ زور سے جمی ہوں تو آپ کیا کہیں گے!؟
ائیں تو آدھ گھنٹے بعد چائے کے ساتھ ایش ٹرے تبدیل کرواتا ہوں۔ امی جان کا چلانا پسند نہیں ہے کہ ہماری طبع میں سے روانی کی کیفیت جاتی رہتی ہے۔۔۔ ۔ ادھر طبع کے ساتھ نازک کا سابقہ ضروری تھا کیونکہ شاعر لوگ طبع زیادہ تر نازک ہی رکھتے ہیں
ہمیں اپنی طبع سے زیادہ امید نہیں!
+ دیکھیے ۔۔ میں اس سے زیادہ نہیں سننا چاہتی آپ کی باتیں! آپ جلد تشریف لے جائیے اور رفع زحمت کیجے۔ جناب عالی انہوں دفع ہوجائیں کہا ہوگا جس کو آپ نے رفع زحمت بنادیا چلیں جناب ٹھیک ہے چلتا ہے شاعر لوگ پتھر کو بھی پھول بنا لیتے ہیں
اب آپ اندر کی باتیں یوں بھی فاش نہ کیجے ناں!

بہت شکریہ حضرت!
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
مہدی بھائی آپ کی تحاریر اور شاعری کے تو ہم پہلے ہی اچھے خاصے قتیل ہیں۔ آپ ہر بار تازہ ہوا کا جھونکا لاتے ہیں۔ بہت مزہ آ رہا تھا پڑھتے ہوئے بلکہ آپ ہی کہ الفاظ میں ہم تو یہ سوچ رہے تھے کہ
ختم ہو جائے فسانہ تو جگانا جاناں
حافظ و غالب کے ساتھ صرف بیدل کی کمی محسوس ہوئی۔ ویسے اگر آپ ان استادانِ فن کی جگہ جناب وصی شاہ کا مبارک نام لیتے تو غالب امکان تھا کہ امید بھی بر آتی، صورت بھی نظر آ جاتی اور دوائے دردِ ددل بھی مل جاتی۔ بہر کیف اس وقت تو
پیوستہ رہ، شجر سے امیدِ بہار رکھ

حضور بات یہ ہے کہ ہماری امی جان کو ہماری بہت فکر رہا کرتی ہے۔ مختلف ادوار میں مختلف، سیع و سرنوشت ساز ابواب پر اہلِ خانہ کے قہوہ خواری کے اوقات میں، بحث و مباحثہ جاری کرواتی ہیں اور صدارت کی کرسی اپنے ہی ہاتھ میں رکھتی ہیں!
اب جو ان پر ہماری جوانی کے بارے مختلف اوہام و خیالات کے الہام (شاید خواب میں) کا سلسلہ جاری ہوا تو ہماری راتوں کے ساتھ دن بھی کالے ہونے لگے۔ روز کسی پاک دامن دوشیزہ سے بحث کا موسلادھار آغاز ہوتا اور انہیں کے اوباش بھائی اور کبھی کبھی تو باپ دادا وغیرہ کی کوتاہیوں پر ہمارے پرشور اعتراض کے ساتھ تھمتا۔
آخر ایک دن ہماری جو شامت آئی تو ہاتھ پکڑ کر ہمیں کسی خوبرو (بقول ان کے) کے گھر گھسیٹ لے چلیں۔
پہنچے تو ہمیں منہ سے ایک لفظ نکالنے کیا بلکہ چائے پینے کی خاطر بھی (بہ لحاظ ادب) منہ کھولنے کی اجازت نہ ملی۔ جب ان کی باتیں (روایتی) ہمارے (جس میں راقم الحروف اور وہ "خوبرو" شامل ہیں) روشن مستقبل کی فلاح و بہبود کے لیے جرح کے عنوان میں شمار کی جانے لگیں تو ہم نے اپنی بے شرمی کا اظہار مناسب جانا اور کچھ بڑبڑانے لگے۔ افراد کی توجہ جو ہماری جانب جلب ہوئی تو کچھ آواز کو بلند کر کے ہم نے کہا:
-اجی سنیے! یہ مناسب نہیں کہ آپ میری رائے لیے بغیر ہی خورد و برد کا سلسلہ جاری رکھیں۔ دیکھیے میں جب تک ابھی آپ کی نورِ چشم سے تنہائی میں مذاکرات نہیں کروں گا، اس وقت تک کوئی مثبت جواب میری طرف سے آپ نہیں سنیں گے۔
یہ بات کہنے پر ہمیں دائیں جانب سے بازو پر ایک ضرب محسوس ہوئی (یاد ہے کہ امی جان دائیں جانب ہی تشریف فرما تھیں میرے، انکا کہنا ہے کہ بائیں جانب شیطان ہوتا ہے!)۔ ہم نے "لگی ان لگی" کر دی۔ دوشیزہ محترمہ کے اہلِ خانہ میں بھنبھنانے کا سلسہ ہماری توقع کے مطابق شروع ہو گیا۔ لیکن انہوں نے غیر متوقع طور پر ہمیں "ان" کے پاس اکیلے میں چھوڑ آنے کی اجازت دے دی۔
جو موصوفہ کے حجرے میں داخل ہوئے تو ماحول ہی معطر پایا۔ ہمیں تو یونہی چکر آرہے تھے اب مدہوشی بھی طاری ہونے لگی۔ جب اس بات کا احساس اچھے سے ہو گیا کہ اب ہم بات کرنے کی کیفیت پر پورے اتر رہے ہیں تو لب کشائی کی:
-سنیے گا!
وہ ہماری طرف ہوئیں۔ (اس سے پہلے ان کی نظریں ہماری مخالف سمت کی دیوار پر میخ کوب تھیں۔)
- آپ جانتی ہیں کہ اس کمرے سے باہر ہمارے ازدواج کی باتیں ہو رہی ہیں۔ میں کچھ ضروری باتیں کہنا چاہتا ہوں۔
+ جی کہیے ناں!
- میں شاعر ہوں۔ سگرٹ پیتا ہوں لیکن حرام چیز نہیں پیتا۔ رات کو خراٹے نہیں لے تا مگر سوتا نہیں ہوں۔ دن میں کسی کی اذیت کا ساماں نہیں بنتا کہ مغرب سے کچھ پہلے جاگنے کا عادی ہوں۔ رات کے وقت ہمسائے اذیت میں رہتے ہیں۔ جوشؔ اور حافظؔ کو با آوازِ بلند تلاوت کرتا ہوں۔ غالبؔ کو قرآن کے ساتھ صرف اس لیے رکھتا ہوں کہ دونوں کو سمجھنے کے لیے تفسیر کی حاجت ہوتی ہے۔ طبیعت میں سریلا پن ہے لیکن اپنے نجی کمرے اور اپنی غزل کے علاوہ کہیں نہیں گاتا اور کچھ نہیں گاتا۔ احباب جب چاہیں قدم رنجہ کر لیتے ہیں، مجھ سے اجازت لینے کی زحمت کوئی نہیں کرتا۔ احباب آجائیں تو آدھ گھنٹے بعد چائے کے ساتھ ایش ٹرے تبدیل کرواتا ہوں۔ امی جان کا چلانا پسند نہیں ہے کہ ہماری طبع میں سے روانی کی کیفیت جاتی رہتی ہے۔۔۔ ۔
+ دیکھیے ۔۔ میں اس سے زیادہ نہیں سننا چاہتی آپ کی باتیں! آپ جلد تشریف لے جائیے اور رفع زحمت کیجے۔ ابھی میری عمر شادی کی نہیں ہے۔
ہم خوش ہو گئے۔ اٹھلاتے ہوئے حجرے سے باہر آئے اور دھڑلے سے امی جان سے کہا:
- لڑکی ہمیں پسند نہیں کرتی۔ ہم اب ایک لحظہ بھی یہاں نہ ٹھہریں گے۔ چلیے!
+ ارے بیٹے! رکو تو۔ ۔۔ آخر ہوا کیا۔ گھوڑے پر کیوں سوار ہو؟! رکو ارے۔۔۔
- امی جان ہمیں ایسی گل رخی کا کیا کرنا جس میں ہماری انا تڑپ جائے۔ نہیں کرنا میں نے یہاں رشتہ۔ چلیے۔

بس وہ دن اور آج کا دن۔ ہماری والدہ نے اب تک دوبارہ کسی حسین دوشیزہ کی بات مطرح نہ کی۔!
 
مہدی بھائی آپ کی تحاریر اور شاعری کے تو ہم پہلے ہی اچھے خاصے قتیل ہیں۔ آپ ہر بار تازہ ہوا کا جھونکا لاتے ہیں۔ بہت مزہ آ رہا تھا پڑھتے ہوئے بلکہ آپ ہی کہ الفاظ میں ہم تو یہ سوچ رہے تھے کہ
ختم ہو جائے فسانہ تو جگانا جاناں
حافظ و غالب کے ساتھ صرف بیدل کی کمی محسوس ہوئی۔ ویسے اگر آپ ان استادانِ فن کی جگہ جناب وصی شاہ کا مبارک نام لیتے تو غالب امکان تھا کہ امید بھی بر آتی، صورت بھی نظر آ جاتی اور دوائے دردِ ددل بھی مل جاتی۔ بہر کیف اس وقت تو
پیوستہ رہ، شجر سے امیدِ بہار رکھ

بھائی تم سے ہزار بار کہا ہے کہ ہمیں اسطرح بے وجہ چونکانے کی عادت ختم نہیں کر سکتے نہ کرو کم از کم میرے دھاگوں سے باہر رکھو!
اتنی تعریف مجھ سے برداشت نہیں ہوتی۔
میاں بیدل اور ولی دکنی کے بارے ہم اپنے خیالات کا اظہار ڈنکے کی چوٹ پر نہیں کرتے، گو کہ لوگ جوتے بھی مار دیا کرتے تھے اگلے زمانے میں!
آخرالذکر حضرت (شاید شاعر) کو اگر ہم وہاں جوڑ دیتے تو ہمیں عزت نہ صرف "رفع زحمت" کا نہ کہا جاتا بلکہ دھکوں سے بھی نوازا جاتا کہ وہ خانوادہ ہمارے خیال میں صاحبانِ ذوق کا تھا!
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
مہدی بھائی
یہ چونکانے کی بھی خوب کہی کہ کل سے بار بار یہی بازگشت ہو رہی ہے۔
ویسے بھی جب تک آپ ہمیں زبانِ حافظ و بیدل سکھانے پہ کمر بستہ نہیں ہوں گے، آپ کو شاید اسی طرح چونکنا پڑے گا۔
اور موخر الذکر ہمارے متشاعر (اوہ معذرت۔۔۔شاید شاعر) کی تو، اس میں پھر بھی آپ ہی کا فائدہ تھا، آپ جون کی طرح یہ دعویٰ کر سکتے تھے کہ
چاہ میں تیری طمانچے کھائے ہیں
دیکھ لو سرخی میرے رخسار کی
:)

بھائی تم سے ہزار بار کہا ہے کہ ہمیں اسطرح بے وجہ چونکانے کی عادت ختم نہیں کر سکتے نہ کرو کم از کم میرے دھاگوں سے باہر رکھو!
اتنی تعریف مجھ سے برداشت نہیں ہوتی۔
میاں بیدل اور ولی دکنی کے بارے ہم اپنے خیالات کا اظہار ڈنکے کی چوٹ پر نہیں کرتے، گو کہ لوگ جوتے بھی مار دیا کرتے تھے اگلے زمانے میں!
آخرالذکر حضرت (شاید شاعر) کو اگر ہم وہاں جوڑ دیتے تو ہمیں عزت نہ صرف "رفع زحمت" کا نہ کہا جاتا بلکہ دھکوں سے بھی نوازا جاتا کہ وہ خانوادہ ہمارے خیال میں صاحبانِ ذوق کا تھا!
 
میاں نقوی! راوی پر کیا گزری اور وہ اس سے کس صورت نمٹے یہ سب کچھ اپنی جگہ پر تحریر کا لطف ایسا تھا کہ ہم نے خود کو کوسنے دیے کہ اس شگفتہ بیانی سے خود کو اتنا عرصہ محروم کیوں کہ رکھا۔ :) :) :)
 
مہدی بھائی
یہ چونکانے کی بھی خوب کہی کہ کل سے بار بار یہی بازگشت ہو رہی ہے۔
ویسے بھی جب تک آپ ہمیں زبانِ حافظ و بیدل سکھانے پہ کمر بستہ نہیں ہوں گے، آپ کو شاید اسی طرح چونکنا پڑے گا۔
اور موخر الذکر ہمارے متشاعر (اوہ معذرت۔۔۔ شاید شاعر) کی تو، اس میں پھر بھی آپ ہی کا فائدہ تھا، آپ جون کی طرح یہ دعویٰ کر سکتے تھے کہ
چاہ میں تیری طمانچے کھائے ہیں
دیکھ لو سرخی میرے رخسار کی
:)

بھائی میرے زبان بیدل و حافظ کے لیے جو کھکھیڑ اٹھانی پڑتی ہے وہ ایران جا کر ہمیں موصول ہوئی ہے۔ آپ بھی چلے چلیے۔
ساز یہ چارہ ساز کیا جانیں؟!
 
میاں نقوی! راوی پر کیا گزری اور وہ اس سے کس صورت نمٹے یہ سب کچھ اپنی جگہ پر تحریر کا لطف ایسا تھا کہ ہم نے خود کو کوسنے دیے کہ اس شگفتہ بیانی سے خود کو اتنا عرصہ محروم کیوں کہ رکھا۔ :) :) :)

"راوی"؟؟! میاں یہ ہرگز کوئی روایت نہیں۔ باعث صد مسرت ہے کہ آپ کو پسند آئی تحریر۔ خوش رہیے۔
 
Top