1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

معرکہ مذہب وسائنس

عبد المعز نے 'اِسلامی تعلیمات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 25, 2013

  1. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    6,766
    موڈ:
    Asleep
    اسی لئے محفل پر میں کوئی سنجیدہ گفتگو نہیں کرتا کیونکہ جزباتی حضرات کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ لیکن پھر بھی میں تھوڑی وضاحت کر دوں شائد آپ کو سمجھ آ جائے کہ میرا مدعا کیا ہے۔

    سائنس ایک ان گوئنگ پراسیس ضرور ہے لیکن یہ مکمل غلط کبھی نہیں ہوتا اس میں بہتری کی گنجائش ضرور ہوتی ہے۔ نیوٹن کی مثال میں نے دی، نیوٹن کے لاز آج بھی کار آمد ہیں لیکن جب رفتار بڑھ جاتی ہے تو یہ کارآمد نہیں رہتے اور آئنسٹائن کی تھیوری کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ آئنسٹائن کی سمجھ نے نیوٹن کی سمجھ کو ردی کی ٹوکری میں ضرور پھینکا لیکن نیوٹن کی ایکویشنز کو کوئی بھی ردی کی ٹوکری میں نہیں پھینک سکا۔ آئنسٹائن کو اس کو ثابت کرنے میں کافی وقت لگا کہ جب رفتار بہت کم ہو تو آئنسٹائن کی اور نیوٹن کی ایکویشنز ایک ہی ہوتی ہیں۔
    سائنس دراصل observations کو سمجھنا اور ان سے پیشن گوئی کرنے کا نام ہے۔ نیوٹن نے اپنے مشاہدات کے ذریعے کچھ ایکویشنز بنائیں جو کہ اس نے شمسی نظام پر لگائیں اور وہ بھی ان کے تابع تھا۔ اسی طرح آئنسٹائن کی ایکویشنز نے کچھ پیشن گوئیاں کیں اور وہ بھی صحیح ثابت ہوئی ہیں۔
    اسی طرح ڈارون نے ایک نظریہ پیش کیا جو کہ جانداروں کے آپس میں ایک رشتے، یعنی observations ، کی وضاحت کرتا ہے۔ اور اب اس نظریے کے اتنے ثبوت مل چکے ہیں کہ کوئی بھی سنجیدہ سائنسدان اس سے انکار نہیں کر سکتا۔
    یہ ہے سائنس۔ آپ کا مفروضہ یہ تھا کہ اسلام اور سائنس ایک دوسرے کے خلاف نہیں جا سکتے۔ یا تو آپ کو سائنس کو رد کرنا ہو گا یا پھر اسلام کو۔ یا پھر تیسرا طریقہ بھی ہے کہ قرآن کی آیتوں کی علماء نے جو تفسیریں کی ہیں تو وہ ان کی سمجھ بوجھ کے مطابق تھیں۔ اب انسان کی سمجھ بوجھ میں کافی ترقی کر چکی ہے۔ اور ضروری نہیں کہ قرآن کی آیات سے مراد وہی ہو جو کہ علماء ہمیں بتاتے ہیں۔ آخرکار اللہ نے قرآن میں سچائی بیان کی ہے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ مشاہدات کے بالکل ہی خلاف ہو۔
    قرآن سائنس کی کتاب نہیں ہے تو ہمیں اس سے سائنس اخذ نہیں کرنا چاہیے، تو جہاں پر ایسے معاملات کی بات ہوتی ہے جو پچھلی تفاسیر کے مطابق خلاف عقل ہو اس پر ہمیں پھر سے غور کرنا پڑے گا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  2. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    6,766
    موڈ:
    Asleep

    اس آیت پر اگر غور کریں تو اس میں جنس کی بات کہاں پر کی گئی ہے؟ علم تو اور بھی قسم کا ہو سکتا ہے مثلاً یہ کہ جو رحم مادر میں ہے کیا یہ نیک انسان ہوگا یا بد؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • متفق متفق × 2
  3. سعادت

    سعادت محفلین

    مراسلے:
    1,081
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Sleepy
    سائنسی تناظر میں تھیوری (نظریہ) اور لاء (قانون) کے معانی عام بول چال سے مختلف ہیں:

    "سائنسی قانون" دی گئی حالتوں اور شرائط کے تناظر میں کسی فطری عمل کو بیان کرتا ہے۔

    جب کہ

    "سائنسی نظریہ" فطری دنیا کے عوامل کی وضاحت کرتا ہے۔

    مثال کے طور پر، کلاسیکی میکانِکس کے قوانین (جو نیوٹن نے بیان کیے) اجسام کی حرکت اور ان کے مابین موجود ثقالت (gravitation) کے بارے میں بتلاتے ہیں۔ لیکن یہ قوانین اس بات کی وضاحت نہیں کرتے کہ حرکت اور ثقالت کے یہ قوانین "کیسے" کام کرتے ہیں۔ یہ وضاحت ہمیں آئنسٹائن کے نظریۂ اضافت میں ملتی ہے۔

    سادہ الفاظ میں، سائنسی لاء "کیا" کو بیان کرتا ہے، اور سائنسی تھیوری "کیسے/کیوں" کو بیان کرتی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ دونوں اپنے اپنے بیانات کے لیے ثبوت (مشاہدات، تجربات وغیرہ) بھی فراہم کرتے ہیں۔ عام زندگی میں "تھیوری" کے معانی "اندازہ، قیاس، یا خیال" کے لیے جاتے ہیں، لیکن سائنس کی رُو سے ایک "تھیوری" کسی بھی hypothesis کی وضاحت بمع ثبوت ہوتی ہے۔ فطری دنیا کے تمام عوامل اور حقائق کی تشریح انہی سائنسی تھیوریز کی مدد سے کی جاتی ہے۔

    یہ کہنا کہ "الف ب ج ایک تھیوری ہے اور اگر اس کو ثابت کر لیا جائے تو یہ لاء بن جائے گا" اس لحاظ سے غلط ہے کہ سائنسی تھیوریز اور سائنسی لاز دونوں کو اپنے اپنے دعووں کے لیے مشاہدات او ر ثبوت درکار ہوتے ہیں۔ ثبوت کے بغیر کوئی بھی سائنسی بیان -- چاہے وہ تھیوری ہو یا لاء -- سائنسدانوں کی توجہ نہیں پا سکے گا۔ نیز، ایک تھیوری کبھی لاء نہیں بنے گی، اور ایک لاء کبھی تھیوری نہیں بنے گا، کیونکہ دونوں کا دائرہ کار مختلف ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  4. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    7,149
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    یہ ایک عمومی اور بدیہی امر ہے کہ پہلےنظریات -concieve- پیش کیے جاتے ہیں اس ان ہی نظریات کے بطن سے مشاہدات اور تجربات کی تصدیق کے بعد حقائق ترتیب دیے جاتے ہیں اور انہیں قانون کی شکل دی جاتی ہے۔۔۔۔ نظریات کی تاریخی حیثیت برقرار رہتی ہے ۔جس طرح پھول پولینیشن کے ذریعے اور اعضاء کی ترقی کے بعد پھل بن جاتا ہے ۔۔۔:)
     
    • غیر متفق غیر متفق × 1
  5. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    اب یہاں مزید کنفیوژن پیدا ہو گئی ہے۔ اگر بریکٹ والے الفاظ ختم کر دیئے جائیں تو یہ زیادہ یونیورسل لگتی ہے۔ یعنی زندگی زمین کے علاوہ بھی کہیں ہو سکتی ہے۔ لیکن ہمارے علماء نے ترجمہ کرتے ہوئے اس آفاقی بیان کو محض زمین تک محدود کر دیا۔ رہے نام اللہ کا :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    اگر فرضی اور hypothetical باتوں کی بجائے سیدھی طرح ان امور کو اور پوائنٹس کو بیان کردیا جائے جس سے کسی کو یہ لگتا ہے کہ قرآن اور سائنس یا نظریہ ارتقاء ایک دوسرے کے نقیض ہیں اور contradictکرتے ہیں تو شائد ہم جیسے کم علم لوگوں کے بھی اصل بحث کو سمجھنے میں آسانی ہوجائے۔۔۔۔
     
  7. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    7,149
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    یہاں ایک بات واضح ہو گئی ہے کہ سائنس کے نظریات تبدیلی اور بہتری کو ہمیشہ قبول کرتے رہتے ہیں۔آج کی فکشن کو کل کی سائنس ہوتے دیکھے جانے کو ثابت کر نے کی ضرورت نھیں۔ میرا مفروضہ یہ نہیں تھا کہ اسلام اور سائنس مخالف نہیں ہو سکتے۔بلکہ میں نےتو ظفری کی پوسٹ پر یہ عرض کرنا چاہا تھا کہ اسلام کا براہ راست موضوع اگرچہ سائنس نہیں بلکہ بالواسطہ اسلام کا نظامحیات سائنس اور ٹیکنالوجی کا احاطہ کرتا ہے۔جبکہ دوسرے مذاہب میں عام طور پر اس سے سروکار نہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. شعبان نظامی

    شعبان نظامی محفلین

    مراسلے:
    499
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    ترجمہ صرف سمجھنے کے لیے پیش کیا وگرنہ آیت اپنے مضمون کے اعتبار سے جامع ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. شعبان نظامی

    شعبان نظامی محفلین

    مراسلے:
    499
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    درست فرمایا آپ نے لیکن میرے مراسلے میں ایسی بات نہیں کی گئی جس میں ، میں نے آیت کے مضمون کو جنس کے ساتھ خاص کیا ہو!
     

اس صفحے کی تشہیر