معاشرہ اور تاریخ ( از شہید ڈاکٹر مرتضی مھطری )

صرف علی

محفلین
لیکن مارکسٹی جبر تاریخ جسے معاشی جبر بھی کہا جاتا ہے۔ فلسفی ضرورت کی ایک خاص تعبیر ہے۔ یہ نظریہ دو اور نظریوں سے مل کر بنا ہے۔ جن میں سے ایک فلسفی ضرورت ہی ہے جس کے مطابق کوئی واقعہ بغیر ضرورت (یعنی ضروری ہونے) کے وقوع پذیر نہیں ہوتا۔ وقوع میں آنے والا ہر واقعہ اپنے خاص پیدائشی اسباب کی بنیاد پر حتمی اور ناقابل اجتناب امر ہے اور اگر وہ علل نہ ہوتیں‘ تو محال اور ممتنع ہوتا۔ دوسرا نظریہ معاشرے کی مادی بنیاد کا دیگر بنیادوں پر مقدم ہونا ہے‘ جس کی ہم وضاحت کر چکے ہیں۔ ان دو نظریوں کا لازمہ تاریخ کا مادی جبر ہے یعنی ناگزیر ہے کہ عمارت بنیاد کے مطابق ہو‘ بنیاد بدل جائے تو عمارت کا بدلنا قطعی و حتمی ہے‘ اگر بنیاد تبدیل نہ ہو تو ناممکن ہے کہ عمارت بدل جائے‘ مارکسزم کے دعوے کے مطابق وہ چیز جو مارکسزمی سوشلزم کو سائنسی بنا دیتی ہے اور عالم طبیعت کے دیگر قوانین کی طرح کا ایک طبیعی قانون بنا دیتی ہے‘ وہ یہی اصول ہے کیوں کہ اس اصول کے مطابق پیداواری آلات جو معاشرے کی معاشی ساخت کا سب سے اہم حصہ ہیں‘ طبیعی قوانین کے مطابق اپنی ترقی اور پیش رفت کو جاری رکھتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح مختلف پودوں اور حیوانات نے کئی سو کروڑ ملین سال کے تاریخی تسلسل کے دوران اپنی تدریجی ترقی کو جاری رکھا اور خاص مراحل میں نئی نوع میں داخل ہوئے اور جس طرح پودوں اور جانوروں میں رشد و کمال اور نوعی تبدیلی کا عمل کسی کے ارادے‘ خواہش اور آرزو سے آزاد ہے‘ اسی طرح پیداواری آلات کے رشد و تکامل کی بھی یہی صورت ہے۔
پیداواری آلات اپنی تدریجی ترقی کے ساتھ کچھ مراحل طے کرتے ہیں اور جس مرحلے پر بھی پہنچتے ہیں جبراً اپنے ساتھ معاشرے کے تمام امور کو بھی بدل دیتے ہیں اور کوئی ان کا راستہ نہیں روک سکتا اور قبل اس کے کہ وہ اپنی ترقی کے خاص مرحلے تک پہنچیں‘ سماجی ڈھانچے میں تبدیلی یا انقلاب ممکن نہیں تمام سوشلسٹ بلکہ کلی طور پر ہر وہ انصاف پسند انسان جو ان امکانات کو مدنظر رکھے بغیر جو پیداواری آلات کی ترقی سے پیدا ہوتے ہیں‘ صرف انصاف کے قیام‘ جو سوشلزم اور معاشرے کو اجتماعی شکل دینے کے جذبے اور آرزو کو لے کر کوششوں میں مصروف ہے‘ عبث کام انجام دیتا ہے۔ کارل مارکس ”سرمایہ“ نامی کتاب کے مقدمے میں لکھتا ہے:
”وہ ملک جس نے صنعت کے اعتبار سے سب سے زیادہ پیش رفت کی ہے‘ ان ملکوں کے مستقبل کے لئے ایک نمونہ ہے‘ جو صنعت کے میدان میں اس سے پیچھے ہوں۔(۱)
حتیٰ اگر کوئی معاشرہ اس مرحلے تک پہنچ جائے کہ وہ اپنی حرکت پر حکمرانی کرنے والے قانون طبیعت کی راہ بھانپ لے تو جب بھی وہ نہ تو اپنی طبیعی پیش رفت سے متعلق مراحل کو پھلانگ سکے گا اور نہ ہی صدور فرامین کے ذریعے انہیں ختم کر سکے گا‘ لیکن وہ حاملگی کے دور اور پیدائش کی اذیت کو کم تر اور خفیف کر سکتا ہے۔“
مارکس اپنی گفتگو کے آخری حصے میں ایک ایسے نکتے کو پیش کرتا ہے‘ جس کی طرف یا توجہ نہیں کی گئی یا بہت کم لوگوں نے اسے سمجھنے کی کوشش کی ہے‘ وہ دراصل ایک مفروضہ‘ سوال یا اعتراض کا جواب دینا چاہتا ہے۔
ممکن ہے کوئی یہ کہے طبیعت کی منظم اور مرحلہ وار پیش رفت کے زیراثر معاشرے کی درجہ بدرجہ پیش رفت اس وقت تک جبری اور تخلف ناپذیر ہے جب تک انسان اسے نہ پہچانے اور قانون طبیعی کے راستے کو کشف نہ کرے لیکن جونہی انسان کو اس کا علم ہو گیا‘ یہ انسان کے قابو میں آ جائے گی اور انسان کو اس پر حکومت حاصل ہو جائے گی‘ لہٰذا کہتے ہیں: طبیعت جب تک سمجھ میں نہ آئے انسان پر حاکم ہے اور جس قدر اس کی شناخت ہو جائے اسی قدر انسان کی خدمت گذار بن جاتی ہے۔ مثلاً کوئی وبائی بیماری جب تک مشخص نہ ہو اور یہ معلوم نہ ہو کہ کن چیزوں سے وجود میں آتی ہے اور کن چیزوں سے اسے ختم کیا جا سکتا ہے‘ اس وقت تک انسان کی زندگی پر حکم علی الاطلاق ہوتی ہے‘ لیکن جونہی اس کی شناخت عمل میں آئی جیسا کہ آج کل پہچانی جاتی ہے‘ وہیں اس پر قابو پا لیا جاتا ہے‘ ایسی بیماریوں کے نقصانات سے بچا جا سکتا ہے۔ یہی صورت سیلاب اور طوفان وغیرہ کی بھی ہے۔
مارکس یہ کہنا چاہتا ہے کہ معاشرے کی منظم اور مرحلہ وار پیش رفت ڈائنامیکی تغیرات اور حرکات کی طرح ہے‘ یعنی جو اشیاء میں اندرونی طور پر خود بخود پیدا ہونے والی حرکات ہیں۔ جیسے پودوں اور جانوروں کی منظم نشوونما‘ یہ میکانیاتی حرکات و تغیرات میں سے نہیں ہیں جو بیرونی عوامل کے تحت اشیاء میں پیدا ہوتی ہیں‘ جیسے عالم طبیعت میں تمام فنی اور صنعتی تغیرات ہیں۔ کیڑے مار دواؤں کے ذریعے کیڑوں کا خاتمہ یا دوا کے ذریعے بیماری کے جراثیم کا خاتمہ اسی طرح کی چیز ہے۔ وہ مقام جہاں طبیعی قانون کی دریافت طبیعت کو کنٹرول کرنے کا سبب بنتی ہے اور انسان کے اختیار میں آتی ہے۔ میکانیاتی روابط اور قوانین ہوتے ہیں لیکن ڈائنامیکل تبدیلیوں اور اشیاء کی اندرونی اور ذاتی حرکات کے بارے میں انسان کے علم و آگاہی کا کردار زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو ان قوانین سے ہم آہنگ کر کے ان سے استفادہ کرے۔
انسان پودوں کے اگنے‘ جانوروں کے تکامل اور رحم میں جین پر حکم فرما قوانین کو دریافت کرنے کے بعد ایسے جبری اور ناقابل انحراف قوانین کو اخذ کر لیتا ہے‘ جن کے سامنے گردن جھکانے اور جنہیں تسلیم کرنے پر وہ مجبور ہے۔ مارکس کہنا چاہتا ہے کہ انسان کی معاشرتی پیش رفت جس کا انحصار پیداواری آلات کی ترقی اور تکامل پر ہے۔ ایک طرح کی ڈائنامک اندرونی‘ ذاتی اور خود بخود ہونے والی ترقی ہے‘ جسے علم و آگاہی کے ذریعے نہیں بدلا جا سکتا اور جسے اپنی مرضی کی شکل نہیں دی جا سکتی۔ انسان کو جبراً سماجی تکامل کے خاص مراحل سے اسی طرح گذرنا پڑتا ہے جس طرح نطفہ رحم مادر میں مقرر اور معین مراحل سے گذرتا ہے۔ اس خیال کو ذہن سے نکالنا پڑے گا کہ ہم معاشرے کو وسطی مراحل سے نکال کر ایک دم آخری مرحلے تک لے جا سکیں گے یا یہ کہ اسے تاریخ کے بتائے ہوئے معین راستے سے ہٹا کر دوسری راہوں سے منزل مقصود تک پہنچا سکیں گے۔ مارکسزم سماجی تکاملی رفتار کو ایک ناآگہانہ طبیعی اور جبری رفتار جاننے کے باعث ایسی بات کرتا ہے‘ جیسی سقراط نے ذہن بشر اور اس کی تخلیق فطری کے بارے میں کی تھی۔ سقراط اپنی تعلیمات میں استفہامی روش سے استفادہ کرتا تھا اور اس بات کا معتقد تھا کہ اگر سوالات مرحلہ بمرحلہ منظم اور ذہنی عمل کی مکمل شناخت کے ساتھ ہو تو ذہن اپنی فطری اور قہری حرکت کے ذریعے خود ہی اس کا جواب فراہم کرتا ہے اور باہر سے تعلیم کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ سقراط ایک دایہ کا بیٹا تھا‘ وہ کہتا تھا: میں انسان کے ساتھ وہی کچھ کرتا ہوں‘ جو میری ماں حاملہ عورتوں کے بارے میں انجام دیتی تھی۔ دایہ بچے کو نہیں جناتی ماں کی طبیعت خود اپنے وقت پر بچے کو جنم دیتی ہے۔ اس کے باوجود دایہ کا وجود ضروری ہے۔ دایہ خیال رکھتی ہے کہ کوئی غیر طبیعی واقعہ رونما نہ ہو‘ جو ماں یا بچے کی تکلیف کا باعث بنے۔
مارکسزم کے اعتبار سے اگرچہ عمرانیات کے قوانین کی دریافت اور فلسفہ و تاریخ دونوں کا معاشرت کی تبدیلی پر کوئی اثر نہیں‘ پھر بھی انہیں اہمیت دینی چاہئے۔ سائنٹفک سوشلزم انہی قوانین کی دریافت کا نام ہے۔ کم سے کم جو اثر ان سے رونما ہوتا ہے‘ وہ یہ ہے کہ یہ تخیلی سوشلزم اور خواہشاتی عدل پرستی سے نجات دیتا ہے‘ کیوں کہ ڈائنامک قوانین اس خصوصیت کے باوجود کہ ان سے تبدیلی ناممکن ہے‘ ایک امتیاز کے حامل ہیں اور وہ امتیاز پیش گوئی ہے۔ سائنٹفک عمرانیات اور سوشلزم کے پرتو میں ہر معاشرے کی وضعیت کو پرکھا جا سکتا ہے کہ وہ کس مرحلے میں ہے اور اس کے بارے میں پیش گوئی کی جا سکتی ہے اور نتیجتاً یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ سوشلزم کا نطفہ ہر معاشرے کے رحم میں کس مرحلے میں ہے اور ہر مرحلہ میں وہی توقع کی جانی چاہئے‘ جو اس کا تقاضا ہے اور بے جا توقعات نہیں کرنا چاہئے۔ ایک ایسی سوسائٹی جو ابھی جاگیردارانہ نظام کے مرحلے میں ہے اس سے یہ توقع نہیں رکھنا چاہئے کہ وہ سوشلزم میں منتقل ہو جائے‘ بالکل اسی طرح جس طرح چار مہینے کے جین کی پیدائش کے انتظار میں نہیں بیٹھا جاتا۔
مارکسزم کی یہ کوشش ہے کہ وہ معاشروں کی قدرتی مخفی توانائی کے مراحل کو سمجھے اور ان کا تعارف کروائے اور معاشروں کو ایک دور سے دوسرے دور میں بدلنے کے جبری قوانین دریافت کرے۔
مارکسزم کے نظریے کے مطابق معاشروں کو چار مراحل سے گذر کر سوشلزم تک پہنچنا پڑتا ہے۔ ابتدائی اشتراکی دور‘ دور غلامی‘ دور سرمایہ داری اور دور سوشلزم بعض اوقات چار کے بجائے‘ پانچ‘ چھ یا سات دور بھی ذکر کئے جاتے ہیں‘ یعنی دور غلامی‘ دور سرمایہ داری اور دور سوشلزم میں سے ہر دور مزید دو ادوار میں تقسیم ہو سکتا ہے۔
۳۔ ہر تاریخی دور دوسرے دور سے بااعتبار ماہیت و نوعیت مختلف ہے‘ جس طرح بیالوجی کے اعتبار سے جانور ایک نوع سے دوسری نوع میں بدل جاتے ہیں اور ان کی ماہیت تبدیل ہو جاتی ہے۔ ادوار تاریخی بھی یہی کیفیت لئے ہوئے ہیں۔ اس رو سے ہر تاریخی دور اپنے سے متعلق مخصوص قوانین کا حامل ہے۔ کسی دور کے لئے اس سے قبل کے دور یا اس کے بعد کے دور کے قوانین کو اس کے مناسب حال نہیں جاننا چاہئے۔ جیسے پانی جب تک پانی ہے‘ مائعات سے متعلق خاص قوانین کے تابع ہے‘ لیکن جونہی وہ بھاپ میں تبدیل ہوا‘ وہ گذشتہ قوانین کے تابع نہیں رہتا بلکہ اب وہ گیسوں سے متعلق مخصوص قوانین کے تابع ہو جاتا ہے۔ معاشرہ بھی مثلاً جب تک فیوڈلزم کے مرحلے میں ہوتا ہے‘ خاص قوانین سے اس کی وابستگی ہوتی ہے اور جب اس مرحلے سے گذر کر سرمایہ داری کے مرحلے میں قدم رکھتا ہے تو پھر جاگیردارانہ نظام کے دور کے قوانین کو اس کے لئے باقی رکھنے کی کوشش کرنا فعل عبث ہے۔
اس اعتبار سے معاشرہ ایک ہی طرح کے ابدی اور جاودانی قوانین کا حامل نہیں ہو سکتا۔ تاریخی میٹریالزم اور معاشرے کی بنیاد اقتصادی ہونے کی بناء پر جاودانیت کا دعویٰ کرنے والا ہر قانون ناقابل قبول ہے اور یہی وہ جگہ ہے‘ جہاں تاریخی مادیت اور مذہب کی آپس میں نہیں بنتی‘ خاص طور پر اسلام سے جو بعض جاودانی قوانین کا قائل ہے۔
کتاب ”تجدید نظر طلبی“ میں ”سرمایہ“ کے دوسرے ایڈیشن کے ملحقات سے نقل کیا گیا ہے کہ
”ہر تاریخی دور‘ اپنے سے متعلق خاص قوانین کا حامل ہوتا ہے۔ جونہی زندگی ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں پہنچتی ہے‘ دوسرے قوانین اس پر لاگو ہوتے ہیں۔ معاشی زندگی اپنی تاریخی پیش رفت میں وہی صورت اختیار کرتی ہے‘ جیسے ہم بیالوجی کی دیگر شاخوں میں پاتے ہیں… معاشرتی آرگنزم اسی طرح ایک دوسرے سے مختلف و ممتاز ہوتے ہیں‘ جس طرح حیوانی اور نباتاتی آرگنزم۔“
(تجدید نظر طلبی از مارکس تا ماؤ‘ ۱:۲۲۵)
۴۔ پیداواری آلات کی پیش رفت اس بات کا باعث بنی کہ آغاز تاریخ میں اختصاصی مالکیت وجود میں آئی اور معاشرہ استحصال کرنے والے اور ہونے والے دو طبقوں میں منقسم ہو گیا اور یہ دو طبقے ابتدائی تاریخ سے اب تک معاشرے کے دو بنیادی قطب (Pole) بنے ہوئے ہیں۔ ان دو طبقوں کے درمیان تضاد و کشمکش کا ایک دائمی سلسلہ جاری ہے۔ البتہ معاشرے کے دو قطبی ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ تمام کے تمام گروہ لازماً یا استحصال کرنے والے یا ہونے والے ہیں‘ ممکن ہے ان میں ایسے گروہ بھی ہوں‘ جو نہ استحصال کنندہ ہوں نہ استحصال یافتہ۔ مقصد یہ ہے کہ معاشروں کی تقدیر میں موثر واقع ہونے والے یہی وہ دو گروہ ہیں‘ جو دو اصلی قطب ہیں۔ باقی تمام گروہ ان دو اصلی گروہوں میں سے ایک کی پیروی کرتے ہیں۔
”تجدید نظر طلبی“ میں ہے:
”مارکس اور اینجلز کے پاس معاشرے میں طبقات کی تقسیم اور ان کی آویزش سے متعلق ہمیں دو طرح کے نمونے ملتے ہیں‘ ایک دو قطبی اور دوسرا کئی قطبی۔ طبقے کی تعریف ان دونوں نمونوں میں مختلف ہے۔ پہلے نمونے میں طبقہ مجازی اور دوسرے میں حقیقی۔“(۱)
طبقہ کے پیدائشی ضوابط بھی مختلف ہیں۔ اینجلز ”جرمنی کے کاشتکاروں کی جنگ“ کے مقدمے میں ان دونوں نمونوں کی آپس میں دوستی کروانے اور ان سے ایک ہم جنس نمونہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ معاشرہ میں متعدد طبقات اور ان طبقات میں مختلف گروہوں کی تشخیص کرتا ہے‘ لیکن اس کے عقیدہ کے مطابق ان طبقوں میں سے فقط دو طبقے قطعی تاریخی ذمہ داری کو پورا کر سکتے ہیں۔ ایک ”بورژوائی“ (سرمایہ دارانہ نظام) اور دوسرا ”پرولتاریائی“ (مزدورانہ نظام) کیوں کہ یہ دونوں طبقے حقیقتاً معاشرے کے متضاد قطب ہیں۔ (تجدید نظر طلبی‘ ص ۳۴۵)
مارکسزم کے فلسفہ کے مطابق جس طرح یہ بات محال ہے کہ معاشرے کی عمارت اس کی بنیاد پر مقدم ہو‘ اسی طرح یہ بات بھی محال ہے کہ معاشرہ کی بنیاد (یعنی معاشی‘ معاشرتی اور مالکیت سے متعلق تعلقات) کے اعتبار سے استحصال گر اور استحصال شدہ دو طبقوں میں تقسیم ہو اور عمارت کے اعتبار سے اس میں وحدت باقی رہے۔ معاشرتی وجدان بھی اپنی جگہ دو حصوں میں تقسیم ہو گا‘ ایک استحصال گر وجدان اور دوسرا استحصال شدہ اور اس اعتبار سے معاشرے میں دو تصور کائنات دو آئیڈیالوجیز‘ دو اخلاقی نظام اور دو قسم کا فلسفہ وجود میں آئے گا۔
کوئی طبقہ‘ وجدان‘ ذوق اور طرز فکر کے اعتبار سے اپنے معاشی موقف پر سبقت نہیں لے جا سکتا۔ صرف جو چیز دو قطبی نہیں ہو گی‘ وہ استحصال گر طبقے کے مختصات میں سے ہے۔ وہ ایک ”دین“ اور دوسری ”حکومت“ ہے۔ دین اور حکومت استحصال شدہ طبقہ پر تسلط جمانے کے لئے استحصال گر طبقہ کی خاص ایجادات ہیں۔ استحصال گر طبقہ معاشرے کے مادی ذرائع کا مالک ہونے کے اعتبار سے اپنے کلچر کو جس میں مذہب بھی شامل ہے۔‘ استحصال شدہ طبقے پر ٹھونستا ہے۔ اس رو سے ہمیشہ حاکم ثقافت یعنی حاکم تصور کائنات‘ حاکم آئیڈیالوجی‘ حاکم اخلاق‘ حاکم ذوق و احساس اور سب سے بڑھ کر حاکم مذہب استحصال گر طبقے ہی کی ثقافت ہوا کرتا ہے۔ استحصال شدہ طبقے کی ثقافت اسی کی طرح ہمیشہ محکوم ہوتی ہے‘ اس کی ترقی اور راہوں کو روک دیا جاتا ہے۔
مارکس ”جرمن آئیڈیالوجی“ میں کہتا ہے:
”حکمران طبقہ کے افکار ہر دور میں اس دور کے حاکم افکار ہوا کرتے ہیں‘ یعنی وہ طبقہ جو معاشرے میں حاکم مادی طاقت ہو‘ وہ ساتھ ساتھ حاکم معنوی طاقت بھی ہو گا‘ وہ طبقہ جس کے اختیار میں مادی پیداواری وسائل ہوں گے۔
حاکم افکار‘ حاکم مادی تعلقات کے دانش مندانہ بیان سے ہٹ کر کوئی شے نہیں‘ یعنی مادی تعلقات بزبان افکار‘ یعنی وہی روابط جنہوں نے اس طبقے کو حاکم بنایا ہے۔ اس کی حاکمیت کے افکار‘ وہ افراد جو حکمران طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ دیگر چیزوں کے علاوہ ان کے پاس آگاہی بھی ہوتی ہے‘ لہٰذا وہ سوچتے بھی ہیں جب تک ان کی حکومت ہے‘ وہ عصر تاریخ کا تعین بھی کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ کام وہ تمام سطحوں پر انجام دیتے ہیں‘ یعنی علاوہ دیگر چیزوں کے چونکہ سوچنے والے اور افکار کی تخلیق کرنے والے حکومت کر رہے ہوتے ہیں اور ان کے افکار وقت کے حاکم افکار ہوتے ہیں۔“(ایدتولوژی آلمانی‘ فارسی ترجمہ‘ ۱:۶۱)
حاکم اور استحصال گر طبقہ بالذات‘ رجعت پسند‘ قدامت پسند اور روایت پرست ہوتا ہے اور اس کا کلچر بھی حاکم اور ٹھونسا ہوا کلچر ہوتا ہے‘ جو ایک رجعت پسندانہ اور روایت پرستانہ کلچر ہوتا ہے‘ لیکن استحصال شدہ طبقہ بالذات انقلابی‘ جمود شکن‘ پیش قدم اور مستقبل پر نظر رکھنے والا ہوتا ہے اور اس کا کلچر بھی محکوم ہوتا ہے جو ایک انقلابی‘ روایت شکن اور مستقبل پر نظر رکھنے والا کلچر ہوتا ہے۔ انقلابی ہونے کی لازمی شرط استعمار شدگی ہے یعنی صرف یہی طبقہ ہے جو انقلابی بننے کی استعداد رکھتا ہے۔
”تجدید نظر طلبی“ میں اینجلز کی اس عبارت کے بعد جو ”جرمن میں کاشت کاروں کی جنگ“ کے مقدمہ سے منقول ہے‘ لکھتا ہے:
”اس کے مقدمہ کے چھپنے کے ایک سال بعد جرمن سوشلسٹوں کی انجمن نے گواہ میں اپنے ایک پروگرام میں لکھا کہ مزدور طبقہ کے مقابل تمام طبقے ایک رجعت پسند گروہ ہیں۔
مارکس نے اس جملے پر بڑی شدت سے تنقید کی‘ لیکن اگر ہم حقیقت پسندی سے کام لیں تو ہمیں یہ اعتراف کرنا ہو گا کہ مارکس نے جو کچھ اپنے قول میں کہا تھا‘ یہ بیچارے سوشلسٹ چونکہ اس کے دو قطبی اور کئی قطبی نمونے کے درمیان فرق کو سمجھنے سے قاصر تھے‘ اس لئے وہی کچھ کہہ سکتے تھے‘ جو انہوں نے کہا ہے اور اس کے علاوہ کوئی اور فیصلہ نہیں کر سکتے تھے‘ مارکس نے (کمیونسٹ پارٹی کے منشور سے متعلق) بیان میں طبقات کی موجودہ جنگ کو پرولتاریائی اور بورژوائی طبقات کی آپس میں جنگ سے مماثلت دی تھی اور کہا تھا کہ ان طبقات کے درمیان جو بورژوائی کے مخالف ہیں‘ صرف پرولتاریائی ایسا طبقہ ہے‘ جو حقیقتاً انقلابی ہے۔“(تجدید نظر طلبی‘ ص ۳۴۷)
مارکس نے بعض مقامات پر کہا کہ صرف پرولتاری طبقہ ایسا ہے جو اپنے اندر انقلابی ہونے کی تمام شرائط اور خصوصیات رکھتا ہے اور وہ شرائط و خصوصیات یہ ہیں:
(i استحصال شدگی جس کے لئے ضروری ہے کہ وہ طبقہ پیداوار دینے والا بھی ہو۔
(ii مالکیت نہ رکھنا (یہ اور پہلی خصوصیت کسانوں کے بھی شامل حال ہے)۔
(iii تنظیم جس کا لازمہ ایک مرکزیت ہے (یہ خصوصیت پرولتاری طبقہ کے لئے مخصوص ہے‘ جو ایک کارخانے میں باہمی تعاون سے کام کرتا ہے‘ لیکن کسان اس خصوصیت میں شامل نہیں ہیں‘ کیوں کہ وہ زمین کے مختلف حصوں میں بٹے اور بکھرے ہوئے ہیں)۔
مارکس نے دوسری خصوصیت کے بارے میں کہا ہے‘ مزدور دو اعتبار سے آزاد ہے:
”ایک قوت کار بیچنے کے اعتبار سے اور دوسرے ہر طرح کی مالکیت سے آزاد ہے۔“
پھر تیسری خصوصیت کے بارے میں اپنے ایک بیان میں کہتا ہے:
”صنعت کی ترقی یہی نہیں کہ پرولتاریاؤں کی تعداد کو بڑھاتی ہے بلکہ انہیں قابل توجہ عوامی گروہ کی صورت میں متمرکز بھی کرتی ہے‘ ان کی طاقت کو بڑھاتی ہے اور وہ خود بھی اپنی طاقت کو سمجھنے لگتے ہیں۔“
(تجدید نظر طلبی‘ ص ۳۵۷)
مذکورہ بالا اصول کو ”آئیڈیالوجی کی بنیاد اور طبقاتی و اجتماعی بنیاد کے درمیان اصول مطابقت“ کا نام دیا جا سکتا ہے اور اصول کی بنیاد پر ہر طبقہ ایک خاص طرح کی سوچ‘ فکر‘ اخلاق‘ فن اور شعر و ادب وغیرہ کی تخلیق کرتا ہے‘ جو اس کی زندگی‘ معاش اور اس کے مفادات کی کیفیت کا تقاضا کرتی ہے۔ اسی طرح ہم اس اصول کو ”ہر فکر و نظر کی آرزو اور اس فکر و نظر کی سمت کے درمیان اصول مطابقت“ کا نام بھی دے سکتے ہیں‘ یعنی ہر فکر و نظر اور ہر اخلاقی یا مذہبی سسٹم جو کسی بھی طبقے سے ابھرتا ہے‘ اسی طبقے کے مفاد میں ہوتا ہے‘ محال ہے کہ کسی طبقے کا کوئی فکری سسٹم کسی دوسرے طبقے کی خیر و صلاح اور فائدے میں یا پھر کسی طبقے سے انسانیت کی خیر و صلاح میں کوئی فکری نظام ابھرے اور کوئی خاص طبقاتی رجحان اس میں نہ ہو‘ فکر و نظر میں اس وقت انسانیت کا پہلو اور طبقات سے ماورائیت ہو سکتی ہے‘ جب پیداواری آلات کا تکامل سب طبقات کی نفی کا متقاضی ہو‘ یعنی طبقاتی بنیاد کے تضاد کی نفی سے ہی آئیڈیالوجیز کے تضاد کی نفی ہو گی اور فکری مطمع نظر کے تضاد کی نفی سے ہی فکری سمتوں کے تضاد کی نفی ہو گی۔
مارکس اپنی جوانی کے زمانے کی بعض تحریروں (مثلاً ہیگل کے ”فلسفہ قانون پر انتقاد“ کے مقدمے) میں طبقات کے معاشی پہلو (منافع طلبی اور منافع دہی) سے زیادہ ان کے سیاسی پہلو (فرمانروائی اور فرمانبرداری) کا زیادہ قائل تھا اور اسی لئے اس نے طبقاتی کشمکشوں کی ماہیت کو آزادی اور ظلم سے نجات کی جنگ سے تعبیر کیا ہے۔ اس جنگ کے لئے اس نے دو مرحلوں کا ذکر کیا ہے:
ایک جزوی اور سیاسی مرحلہ اور دوسرا کلی اور انسانی مرحلہ۔ وہ کہتا ہے کہ پرولتاریائی انقلاب جو ”تاریخ کے قیدیوں“ کا آخری مرحلہ انقلاب ہے‘ بنیادی اہمیت کا حامل ہے‘ یعنی یہ وہ انقلاب ہے‘ جو انسان کو مکمل آزادی بخشنے‘ فرمانروائی اور غلامی کی تمام شکلوں کو مٹانے کے لئے وجود میں آتا ہے۔ مارکس اس مفہوم کی توجیہ میں کہ کس طرح ایک طبقہ اپنے اجتماعی موقف میں اپنے طبقاتی موقف سے آگے بڑھتا ہے اور اس کا مقصد کلی اور انسانی بن جاتا ہے‘ جو تاریخی میٹریالزم کے مطابق بھی درست ہے‘ اس طرح بیان کرتا ہے کہ چونکہ اس طبقے کی قید اور غلامی بنیادی ہے‘ لہٰذا اس کا انقلاب بھی بنیادی ہے۔ اس طبقے پر بطور خاص ناانصافی نہیں ہوئی بلکہ ناانصافی اس پر مسلط ہوئی ہے۔
اس رو سے وہ بھی صرف انصاف اور انسان کی نجات کا خواستار ہے‘ یہ بیان اولاً ”شاعری“ ہے‘ سائنسی نہیں۔ ”بس ناانصافی اس پر مسلط ہوئی ہے“ کا مفہوم کیا ہے؟ کیا استحصال گر طبقہ قبلاً اپنے طبقے سے کسی طرح آگے بڑھ گیا اور اس نے ظلم کو حصول مفاد کے لئے نہیں بلکہ ظلم کی خاطر اور ناانصافی کو استحصال کے لئے نہیں بلکہ ناانصافی کی خاطر چاہا کہ پرولتاریائی طبقہ اس کے ردعمل میں صرف انصاف کا خواہاں ہو؟
مزید برآں بالفرض استحصال گر طبقہ‘ سرمایہ داری کے دور میں ایک ایسی صورت اختیار کر لیتا ہے‘ جو تاریخی میٹریالزم سے ٹکراتی ہے اور یہ ایک طرح کا مثالیت پسندانہ (Idealistic) نظریہ ہے۔ ”مکتبی اور طبقاتی بنیاد کے درمیان مطابقت“ کا اصول اس بات کا متقاضی ہے کہ کسی فکر کے مطمع نظر اور اس کی سمت کے درمیان مطابقت ہو‘ نیز یہ بھی کہ کسی فرد کا کسی عقیدے کی طرف جھکاؤ اس فرد کے طبقاتی میلانات کے ساتھ مطابقت رکھتا ہو‘ یعنی ہر فرد کا طبیعی میلان اسی مکتب فکر کی جانب ہوتا ہے‘ جو اس کے اپنے طبقے سے ابھرتا ہے اور اس مکتب کو اپنانا اس کے اپنے طبقے کے مفاد میں ہے۔
مارکسسی منطق کے مطابق یہ اصول معاشرتی شناخت میں یعنی آئیڈیالوجی کی ماہیت کی شناخت اور میلانات کے اعتبار سے سماجی طبقات کی شناخت میں غیر معمولی طور پر مفید اور رہنما ہے۔
۵۔ تاریخی میٹریالزم کا پانچواں نتیجہ یہ ہے کہ آئیڈیالوجی‘ دعوت و تبلیغ اور پند و نصائح جیسے امور کا کردار معاشرے یا طبقاتی سماج کو کوئی جہت دینے میں بہت محدود ہے‘ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ مکتب‘ دعوت‘ برہان‘ استدلال‘ تعلیم و تربیت‘ تبلیغ‘ موعظہ اور نصیحت انسان کے وجدان کو مرضی کے مطابق ڈھال سکتے ہیں۔ یہ بات سامنے رکھتے ہوئے کہ ہر فرد‘ ہر گروہ اور ہر طبقے کا وجدان سماجی اور طبقاتی موقف کا بنایا ہوا ہے اور درحقیقت اس کے طبقاتی موقف کا جبری اور لازمی انعکاس ہے اور اس سے آگے یا پیچھے نہیں ہو سکتا‘ یہ سوچ کہ بنیاد کے اوپر کی عمارت سے متعلق مسائل جن کا ابھی تذکرہ ہو چکا ہے‘ سماجی انقلاب کا مبداء بن سکتے ہیں‘ معاشرے اور تاریخ کے بارے میں ایک آئیڈیالسٹک تصور ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ کہا جائے کہ ”روشن فکری“، ”اصلاح طلبی“ اور ”انقلابی ہونا“، ”خود انگیختی“ کا پہلو رکھتا ہے‘ یعنی طبقاتی محرومیت خود بخود روشن فکری‘ اصلاح طلبی اور انقلابی ہونا ہے اور بیرونی تعلیم و تربیت وغیرہ کا اس میں کوئی دخل نہیں ہوتا‘ کم از کم یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ ان امور کی حقیقی داغ بیل طبقاتی موقف سے خود بخود پڑتی ہے۔ آئیڈیالوجی‘ رہنمائی اور باقی تمام روشن فکرانہ باتوں کا زیادہ سے زیادہ کردار یہ ہے کہ وہ طبقاتی تضاد اور درحقیقت محروم طبقے کے طبقاتی موقف کو ان سے متعارف کروائے اور بس۔ بتعبیر دیگر ان کی اپنی اصطلاح میں ”طبقہ فی نفسہ“ کو یعنی اس طبقے کو جو اپنی ذات میں خاص طبقہ ہے۔ ”طبقہ لنفسہ“ میں تبدیل کرے یعنی اس طبقے میں تبدیل کرے‘ جو اس کے علاوہ طبقاتی آگاہی بھی رکھتا ہو۔ بہرحال وہ تنہا فکری لیور (Lever) جو طبقاتی معاشرے میں کسی طبقے کو انقلاب کے لئے ابھار سکتا ہے‘ طبقہ کے اپنے موقف اور اپنے استحصال کے بارے میں آگاہی ہے لیکن ان طبقاتی معاشروں میں جہاں انسان استحصال گر اور استحصال شدہ گروہوں میں بٹا ہوا ہے اور ہر گروہ ایک طرح سے اپنے آپ سے بیگانہ بنا بیٹھا ہے اور معاشرتی وجدان دو حصوں میں بٹ گیا ہے‘ عدالت پسندی اور انسان دوستی جیسے انسانی اصول کوئی کردار ادا نہیں کر سکتے۔
ہاں البتہ جس دم پیداواری آلات کا تکامل جبراً پرولتاریائی حکومت کو جنم دے‘ طبقات معدوم ہو جائیں‘ انسان خود اپنی حقیقت کو طبقاتی سرحدوں سے الگ ہو کر پا لے اور مالکیت سے دو حصوں میں تقسیم ہونے والا وجدان اپنی وحدت کو حاصل کر لے‘ تب انسان دوستی کے فکری اصول جو پیداواری آلات کی اشتراکی صورت کے آئینہ دار ہیں‘ اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں‘ پس جس طرح تاریخی ادوار کے اعتبار سے سوشلزم کو جو ایک خاص تاریخی دور سے ابھرنے والی حقیقت ہے‘ اپنی مرضی کے مطابق آگے یا پیچھے کے دور میں نہیں لایا جا سکتا (جیسا کہ خیالی پلاؤ پکانے والے سوشلسٹ اس امر کے خواہاں تھے) اسی طرح ایک خاص تاریخی دور میں بھی جہاں معاشرہ دو طبقوں میں تقسیم ہے‘ کسی طبقے کی مخصوص آگاہی کو دوسرے طبقے پر نہیں ٹھونسا جا سکتا اور مشترک انسانی آگاہی کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔
لہٰذا طبقاتی معاشرے میں وہ عام اور کلی آئیڈیالوجی نہیں ابھر سکتی جو طبقاتی موقف کی حامل نہ ہو‘ ہر وہ آئیڈیالوجی جو طبقاتی معاشرے میں ظہور پذیر ہوتی ہے‘ بہرحال کوئی نہ کوئی طبقاتی رنگ ضرور رکھتی ہے اور نہ بفرض محال اگر وجود پذیر ہو تو عملاً کوئی کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس اعتبار سے مذاہب و ادیان کی تبلیغات یا کم از کم وہ باتیں جو ادیان و مذاہب کے نام پر بصورت ہدایت و تبلیغ یا پند و نصیحت کی جاتی ہیں اور جن میں انصاف پسندی‘ عدل خواہی‘ انصاف طلبی اور انسانی مساوات کا پیغام ہوتا ہے‘ اگر فریب نہیں تو کم از کم خیالی اور تصوراتی ضرور ہیں۔
۶۔ ایک اور نتیجہ جسے ترتیب کے ساتھ آنا چاہئے‘ یہ ہے کہ لیڈروں‘ مجاہدوں اور انقلابی رہنماؤں کا مرکز آرزو جبراً اور لازماً استحصال شدہ طبقہ ہے۔
اب جب کہ یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچی کہ صرف استحصال شدہ طبقہ ہی وہ طبقہ ہے‘ جو روشن فکری‘ اصلاح طلبی اور انقلاب کے لئے آمادگی رکھتا ہے اور یہ سب چیزیں استحصال شدگی اور محرومیت سے وجود میں آتی ہیں اور بنیاد سے اوپر کے عوامل زیادہ سے زیادہ خود آگاہی میں طبقاتی تضاد کو داخل کرنے کے لئے ہوتے ہیں‘ تو بطریق اولیٰ ان ممتاز شخصیتوں کو جو اس روشن فکری کو استحصال شدہ طبقے کی خود آگاہی میں داخل کرتی ہیں ان کا اور اس طبقے کا درد ہونا چاہئے اور ان سب کو ایک زنجیر کے حلقے میں ہونا چاہئے‘ تاکہ اس طرح کی خود آگاہی ان میں پیدا ہو سکے‘ جیسے کسی معاشرے کی عمارت کا تاریخی دور کے اعتبار سے اپنی بنیاد پر سبقت حاصل کرنا محال ہے اور جس طرح یہ محال ہے کہ ایک طبقے کا سماجی وجدان اپنے سماجی موقف پر مقدم ہو‘ اسی طرح یہ بھی محال ہے کہ ایک شخص رہنما کی حیثیت سے اپنے طبقے پر مقدم ہو اور اپنے طبقے کے تقاضوں سے بڑھ کر تقاضے پیش کرے‘ اس اعتبار سے محال ہے کہ استحصال پسند طبقوں میں سے کوئی فرد اگرچہ استثنائی طور پر سہی‘ اپنے طبقے کے خلاف اور استحصال شدہ طبقے کے حق میں قیام کرے۔
کتاب ”تجدید نظر طلبی“ میں ہے:
”کتاب ”جرمن آئیڈیالوجی کی ایک جدت“، طبقاتی آگاہی پر ایک نیا تجزیہ ہے۔ اس کتاب میں مارکس اپنے گذشتہ تمام آثار(دیکھئے کتاب ”تجدید نظر طلبی“ صفحہ ۳۰۸‘ ۳۰۹‘ یہاں مذہب کے بارے میں مارکس اور اینجلز کے مختلف نظریات نقل کئے گئے ہیں) کے برخلاف طبقاتی آگاہی کو طبقے کی اپنی پیداوار جانتا ہے‘ نہ یہ کہ باہر سے یہ چیز اس پر وارد ہوئی ہے۔ حقیقی آگاہی ایک آئیڈیالوجی کے سوا کچھ نہیں کیوں کہ حتمی طور پر طبقے کے مفادات کو ایک عمومی شکل دینے کی ضرورت ہوتی ہے‘ لیکن یہ امر اس بات کو نہیں روکتا کہ یہ آگاہی طبقے کے اپنے اندر سے پیدا ہونے والی آگاہی کی بنیاد پر اس کے مفادات پر استوار ہو‘ بہرحال طبقہ اس وقت تک پختگی حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ اپنی مخصوص آگاہی کو پا نہ لے۔“
”یہ امر مارکس کی نظر میں‘ طبقہ کے اندر فکری کام (نظریاتی کام اور رہنمائی کا کام) اور مادی کام کی تقسیم کرتا ہے۔ بعض افراد اس طبقے کے مفکر اور دانشور بن جاتے ہیں جب کہ دیگر افراد ان افکار اور ان اوہام کے مقابل زیادہ خود سپردگی رکھتے ہیں اور انہیں زیادہ مقبول کرتے ہیں۔“(تجدید نظر طلبی از مارکس تا ماؤ‘ ۳۱۹:۳۲۰)
کتاب ”فقر فلسفہ“ اور ایک بیان میں مارکس کے مذکورہ نظریے کا تجزیہ کرتے ہوئے اسی کتاب میں مرقوم ہے:
”اس طرح طبقاتی آگاہی کا حصول اور ایک ”طبقہ لنفسہ“ کی صورت اختیار کرنا پرولتاریا کا اپنا کام ہے۔ اقتصادی کشمکش کا خود انگیز نتیجہ ہے۔ اس انقلاب کو نہ تو وہ نظریاتی ماہرین لے کر آئے ہیں‘ جو مزدور تحریک سے باہر ہوتے ہیں اور باہر سے یہ نظریات لاتے ہیں اور نہ سیاسی پارٹیاں۔ مارکس خیال پردازی کرنے والے سوشلسٹوں کی مذمت کرتا ہے کہ وہ اپنی پرولتاریائی خصلت کے باوجود ”پرولتاریا“ کی تاریخی خود انگیختگی اور اس کی خاص سیاسی تحریک کو نہیں دیکھتے اور اپنے خیالی تانوں بانوں کو پرولتاریا کی خود انگیختہ اور تدریجی تنظیم کی جگہ بصورت طبقہ دیکھنا چاہتے ہیں۔“(تجدید نظر طلبی از مارکس تا ماؤ‘ ص ۳۱۹‘ ۳۲۰)
یہ اصول بھی معاشرے‘ اس کے میلانات اور افراد کی شناخت میں کہ ان کا میلان کیا ہے؟ اور خاص طور پر قیادت اور معاشرے کی اصلاح کے دعویداروں کی شناخت میں مارکسسٹی منطق کے حوالے سے خاص اہمیت کا حامل ہے اور اسے ایک رہنما اصول قرار پانا چاہئے۔
اس گفتگو سے یہ بات سامنے آئی کہ مارکس اور اینجلز کسی ایسے روشن فکر گروہ کے قائل نہیں جو اپنے طبقے سے جدا اور بالاتر ہو اور نہ ہی ایسے گروہ کے قائل ہو سکتے ہیں‘ یعنی مارکسزم کے اصول انہیں اس کی اجازت نہیں دیتے اور اگر کہیں مارکس نے اپنے بعض آثار میں اس کے خلاف کچھ کہا ہے تو یہ ان موارد میں سے ہے‘ جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مارکس وہاں پر مارکسسٹ نہیں رہنا چاہتا۔ ہم بعد میں یہ بتائیں گے کہ ایسے موارد کچھ کم نہیں‘ فی الحال یہ سوال سامنے آتا ہے کہ مارکس اور اینجلز مارکسزم کے اصول کو سامنے رکھتے ہوئے‘ اپنے روشن فکرانہ موقف کی کس طرح توجیہ کریں گے۔ ان میں سے کوئی بھی پرولتاریا طبقے سے تعلق نہیں رکھتا‘ یہ دونوں فلسفی ہیں‘ مزدور نہیں۔ پھر بھی انہوں نے محنت کشوں کے لئے ایک عظیم نظریے کو وجود بخشا‘ اس سلسلے میں مارکس کا جواب سننے سے تعلق رکھتا ہے۔ ”تجدید نظر طلبی“ میں ہے:
”مارکس نے بہت کم روشن فکروں کے بارے میں گفتگو کی ہے‘ ظاہراً وہ انہیں کسی خاص طبقہ میں شمار نہیں کرتا بلکہ دیگر طبقات کا ایک حصہ جانتا ہے۔ خاص طور پر انہیں بورژوائی طبقے سے نسبت دیتا ہے۔
کتاب ”۱۸ برومر“ میں مارکس خبر نگاروں‘ پروفیسروں‘ عدالت کے قاضیوں اور اکیڈمی کے ارکان کو بھی پادریوں اور فوجی افسروں کی طرح بورژوائی طبقے میں سے قرار دیتا ہے‘ اپنے بیان میں جب وہ محنت کش طبقے کے لئے کام کرنے والے نظریاتی ماہرین کا نام لینا چاہتا ہے‘ جن میں وہ خود اور اینجلز شامل ہیں اور جو پرولتاری بنیاد نہیں رکھتے‘ ان کا ذکر روشن فکروں کی حیثیت سے نہیں کرتا بلکہ وہ انہیں فرمانروا گروہ کا ایک طبقہ جو پرولتاریوں میں آ گیا ہے اور ان کی تعلیم و تربیت کے لئے بہت سے عناصر لایا ہے‘ قرار دیتا ہے۔“(تجدید نظر طلبی‘ ص ۳۴۰)
مارکس ایسی کوئی توضیح پیش نہیں کرتا کہ آخر وہ اور اینجلز کس طرح حکمران طبقے کے آسمان سے لڑھکے اور محکوم طبقے کی زمین پر ہبوط کر گئے اور قیمتی تحفے ان کی تعلیم و تربیت کے لئے آکاش سے دھرتی پر گرے اور وہ بہ تعبیر قرآن ”ذامتربہ“(جلد ۱۶) اپنے ساتھ لائے‘ حق یہ ہے کہ جو کچھ مارکس‘ اینجلز اور ان کے وسیلے سے خاص افتادہ نچلے طبقے پرولتر کے نصیب میں آیا ہے‘ ابوالبشر آدم کے نصیب میں نہیں آیا‘ مذہبی روایات کے مطابق جنہوں نے آسمان سے زمین پر ہبوط کیا‘ وہ آدم اپنے ساتھ اس طرح کا تحفہ نہیں لائے۔
مارکس اس بات کی وضاحت نہیں کرتا کہ آخر کیونکر پرولتر طبقے کا آزادی بخش نظریہ حیات فرمانروا طبقہ میں پروان چڑھا‘ اس کے علاوہ وہ اس کی وضاحت بھی نہیں کرتا کہ ”ہبوط“ اور یہ نیچے اتر آنا ان دو حضرات کے لئے استثنائی طور پر امکان پذیر ہوا ہے یا دوسروں کے لئے بھی یہ بات ممکن ہے اور نیز وہ یہ بھی نہیں بتاتا کہ اب جب یہ بات معلوم ہو گئی کہ آسمان اور زمین کے دروازے بعض اوقات ایک دوسرے پر کھلتے ہیں‘ تو کیا اس سے صرف ”ہبوط“ کا عمل ہوتا ہے اور لوگ عرش و آسمان سے فرش و زمین کی طرف آتے ہیں یا کبھی ”معراج“ کی صورت رونما ہوتی ہے اور کیا بعض افراد زمین سے آسمان کی طرف بھی ”عروج“ پاتے ہیں؟
اور ایسا عروج عمل میں آئے تو آسمان والوں کے شایان شان ایسا کوئی تحفہ نہیں ہو گا‘ جسے اوپر جانے والے لوگ اپنے ساتھ لے جائیں۔ بنیادی طور پر زمین سے آسمان کو تحفہ لے جانے کی بات بے معنی ہے‘ بلکہ اگر معراج کی توفیق حاصل ہو اور آسمان میں جذب ہو کر نہ رہ جائیں اور پھر انہیں دوبارہ زمین کی طرف لوٹنا پڑے تو وہ بھی مارکس اور اینجلز کی طرح آسمان سے تحفے اپنے ساتھ لائیں گے۔
 

صرف علی

محفلین
انتقادات
اب جب کہ نظریات مادیت تاریخ کے ”اصول“ اور ”نتائج“ پر سیر حاصل گفتگو ہو چکی تو ضرورت اس بات کی ہے کہ اس پر تنقید اور تبصرہ ہو جائے۔
سب سے پہلے ہمیں اس نکتے کی وضاحت کرنا ہو گی کہ ہم یہاں نہ تو مارکس کی تمام کتب میں اس کے نظریات پر تنقید کے درپے ہیں اور نہ ہی کلی طور پر مارکسزم پر کوئی تنقید کرنا چاہتے ہیں‘ اس وقت ہم ”مادیت تاریخ“ یا باصطلاح دیگر ”تاریخی میٹریالزم“ پر تنقید کرنا چاہتے ہیں‘ جو مارکسزم کا ایک ستون ہے اور بنیادی اعتبار سے مارکس کے نظریات پر مطلق تنقید کچھ اور چیز ہے اور ”مادیت تاریخ“ کی طرح مارکسزم کے کسی اصول پر تنقید اور چیز ہے۔
مارکس کے نظریات پر تنقید یعنی اس کے ان مجموعی نظریات کا جائزہ جسے اس نے زندگی کے مختلف ادوار میں مختلف کتابوں اور مختلف تحریروں میں قلم بند کیا ہے اور جس میں بے شمار تناقضات ہیں‘ اہل مغرب نے اس پر بڑی محنت سے کام کیا ہے۔ ایران میں جہاں تک مجھے معلوم ہے‘ ”تجدید نظر طلبی“ اس موضوع پر سب سے اچھی تحریر ہے‘ جس کے حوالے ہم نے اپنی کتاب میں جابجا پیش کئے ہیں۔(۱)
لیکن مارکسزم یا اس کے اصولوں میں سے کسی ایک پر تنقید یا بالفاظ دیگر اس کے ایک اصول یا ان کئی اصولوں جو مارکسزم کی اساس سمجھے جاتے ہیں اور خود مارکس کی نظر میں بھی ناقابل تامل ہیں‘ یا پھر ایک یا چند ایسے اصولوں پر تنقید جو ہرچند خود اس کی نظر میں قطعی نہیں ہیں اور خود اس نے اپنے بعض آثار میں ان کے خلاف بھی کچھ کہا ہے‘ لیکن ان کا قطعی لازمہ مارکسزم کے اصول ہیں اور مارکس کا ان کے خلاف کچھ کہنا گویا مارکس کی مارکسزم سے ایک طرح کی علیحدگی ہے‘ مارکس کے نظریہ تاریخی مادیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم نے اس کتاب میں یہی کام کیا ہے‘ ہم نے یہاں پر مارکس کے قطعی اور مسلمہ اصولوں یا ان سے حاصل ہونے والے قطعی نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے تنقید و تحقیق کی ہے۔
یہ بات تاریخ کے عجائبات میں سے ہے کہ مارکس جو اپنی فلسفی‘ معاشرتی اور معاشیاتی کتابوں میں کم و بیش ہر جگہ تاریخی میٹریالزم کا دم بھرتا تھا‘ اپنے زمانے کے بعض تاریخی واقعات کی تحلیل و تعلیل میں بہت کم نظریہ مادیت تاریخ کی طرف متوجہ ہوا‘ ایسا کیوں ہے؟ اس سوال کے مختلف جوابات دیئے گئے ہیں۔ بات صرف مذکورہ موضوع پر ختم نہیں ہوتی‘ مارکسزم کے بہت سے مسائل میں مارکس کی روش متناقص ہے‘ یعنی نظریاتی اور عملی طور پر مارکسزم سے ایک طرح کی برگشتگی خود مارکس کی طرف سے مشاہدے میں آتی ہے‘ پس اس کے لئے کسی زیادہ جامع جواب کی ضرورت ہے۔
بعض افراد نے اس کا سبب اس کی زندگی کے مختلف ادوار کی خامی اور ناپختگی کو قرار دیا ہے لیکن یہ توجیہ کم از کم مارکسزم کے نقطہ نظر سے قابل قبول نہیں ہے۔ اس لئے آج مارکسزم کے جو کچھ اصول ہمارے سامنے ہیں‘ ان میں سے بہت سے مارکس کی جوانی یا درمیانی عمر کے دور سے متعلق ہیں جب کہ بہت سی وہ باتیں جو انحرافی سمجھی جاتی ہیں‘ جن میں سے اس کے اپنے زمانے کے بعض واقعات کی تحلیل بھی شامل ہے‘ اس کی زندگی کے آخری دور سے متعلق ہیں۔
بعض افراد نے اس اختلاف کو اس کی دوہری شخصیت پر محمول کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ایک طرف سے ایک فلسفی‘ صاحب نظر اور صاحب مکتب شخص تھا‘ جسے طبیعی طور پر ایک یقین کا حامل ہونا چاہئے تھا‘ تاکہ وہ اصولوں کو قطعی اور ناقابل تردید گردانے اور پوری قوت سے واقعات کو اپنے ذہن میں اترتے ہوئے افکار کے مطابق ڈھالے۔ دوسری طرف وہ ایک علمی شخصیت اور علمی باطن کا حامل تھا اور اس کا علمی باطن اس بات کا متقاضی تھا کہ وہ ہمیشہ حقائق کے سامنے سرتسلیم خم کر دے اور کسی یقینی اصول کا پابند نہ ہو۔
بعض نے مارکس اور مارکسزم میں فرق روا رکھا ہے‘ ان کا دعویٰ ہے کہ مارکس اور مارکس کی فکر‘ مارکسزم کا ایک مرحلہ ہیں‘ مارکسزم اپنے جوہر میں ایک ترقی پذیر مکتب ہے۔ پس اگر مارکسزم نے مارکس کو پیچھے چھوڑ دیا ہو‘ تو اس میں مضائقہ کی کون سی بات ہے؟
بعبارت دیگر اگر مارکس کا مارکسزم جو مارکسزم کا دور طفلی ہونے کے باعث قابل تردید ہے تو یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ مارکسزم قابل تردید ہے‘ لیکن اس عقیدے کے حامل افراد اس بات کی وضاحت نہیں کرتے کہ مارکسزم کا اصلی جوہر کیا ہے؟ کسی مکتب کے ارتقاء پذیر ہونے کی شرط یہ ہے کہ اس کے اولین بنیادی اصول مستقل اور ناقابل تغیر ہوں اور جو کچھ اعتراض ہو‘ فروع میں ہو‘ اصول اپنی جگہ ثابت رہیں وگرنہ کسی نظریہ کی تنسیخ اور اس کے کمال پذیر ہونے میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا‘ اگر ہم کسی ثابت اور باقی رہنے والے اصول کو شرط تکامل نہ جانیں تو پھر بات کیا رہ جاتی ہے‘ پھر کیوں نہ ہم ہیگل ازم‘ سن سیمون‘ پروڈون یا ان جیسی دیگر ماقبل مارکس شخصیتوں سے اپنی گفتگو کا آغاز کریں اور ہیگل‘ سن سیمونزم یا پروڈنزم کو ایک تکامل پذیر مکتب جانیں؟ اور مارکسزم کو ان مکاتب کے مراحل میں سے ایک مرحلہ قرار دیں؟
ہمارے خیال میں مارکس کے تناقصات کا سبب یہ ہے کہ مارکس بیش تر مارکسٹوں کی نسبت کم تر مارکسٹ ہے‘ کہتے ہیں کہ اس نے مارکسٹوں کے ایک مجمع میں جہاں وہ اپنے پچھلے نظریہ کے برخلاف نئے نظریہ کی حمایت میں بول رہا تھا اور سننے والے اس کی گفتگو برداشت نہیں کر رہے تھے‘ کہا: ”میں اس پائے کا مارکسٹ نہیں ہوں جس پائے کے مارکسٹ آپ لوگ ہیں“ نیز یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنی عمر کے آخری حصے میں کہا: ”میں قطعاً مارکسٹ نہیں ہوں۔“
اپنے بعض نظریات میں مارکسزم سے مارکس کی جدائی کا سبب یہ تھا کہ مارکس کی ہوش مندی اور اس کے فکر و فہم کی بلندی سے یہ بات دور تھی کہ وہ سو فی صد مارکسٹ بن جائے۔ مکمل مارکسٹ بننا کسی قدر حماقت کا متقاضی ہے‘ تاریخی میٹریالزم جو مارکسزم کا ایک حصہ ہے اور جس پر ہماری گفتگو جاری ہے۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے‘ کچھ ”اصول“ اور ”نتائج“ کا حامل ہے اور صرف مارکس کا ”عالم ہونا“ ہی نہیں بلکہ اس کا فلسفی ہونا اور اس کا مفکر ہونا‘ اسے اس بات کی اجازت نہیں دیتا تھا کہ وہ ان اصولوں اور نتائج کا ہمیشہ پابند رہے‘ اب ہم تنقیدات کی طرف آتے ہیں:
۱۔ بے دلیل ہونا
سب سے پہلے تنقید یہ ہے کہ یہ نظریہ ایک بلادلیل تھیوری کی حد سے آگے نہیں بڑھتا۔ ہونا یوں چاہئے کہ ایک تاریخی فلسفی نظریہ یا تو اپنے زمانے کے عینی تاریخی حقائق کے تجربے پر مبنی ہو اور اسے دوسرے ادوار پر عمومیت دی جائے یا پھر اس کی بنیاد گذشتہ حقیقتوں کے تاریخی شواہد پر ہو اور اسے حال اور آئندہ کے زمانوں پر عمومیت دی جائے یا پھر یہ نظریہ ایسا ہو‘ جو ثابت اور مسلمہ فلسفی‘ منطقی اور علمی اصولوں کی بنیاد پر علم منطق کے قیاس و استدلال کے انداز پر ثابت ہو سکے۔
تاریخی میٹریالزم کی تھیوری ان میں سے کسی روش پر مبنی نہیں۔ اس راستے سے نہ تو ان حقائق کی توضیح ہوتی ہے‘ جو مارکس اور اینجلز کے زمانے سے متعلق ہیں‘ یہاں تک کہ اینجلز خود اس بات کی تصریح کرتا ہے کہ میں نے اور مارکس نے اہمیت معاشیات کے بارے میں اپنی بعض کتابوں میں وہاں غلطی کا ارتکاب کیا ہے‘ جہاں ہم نے اپنے زمانے کے حقائق کا تجزیہ کیا ہے‘ چونکہ ہم خود حقائق کا سامنا کر رہے ہیں‘ ان غلطیوں سے مبرا ہیں‘ چند ہزار سالہ انسانی تاریخ بھی ان کی تائید نہیں کرتی‘ یہاں تک کہ انسان جب فلسفی فرمودات کی کتب کا مطالعہ کرتا ہے‘ جن میں گذشتہ تاریخ کی مادیت تاریخ کے حوالے سے توجیہ ٹھونسی گئی ہے‘ تو ان لوگوں کی توجیہ و تاویل پر سخت حیرت ہوتی ہے‘ مثلاً کتاب تاریخ جہان میں…(۱)
۲۔ بانیان مکتب کی تجدید نظر
جیسا کہ ہم بار بار عرض کر چکے ہیں‘ مارکس معاشرے کی معاشی بنیاد کو اصلی اور باقی پہلوؤں کو اس بنیاد پر تعمیرات سے تعبیر کرتا ہے اور اس تعبیر سے معاشی بنیاد پر تمام بنیادوں کی یکجانبہ وابستگی کا پتہ چلتا ہے‘ علاوہ بریں مارکس اپنے متعدد مذکورہ بیانات میں اس بات کی تصریح کرتا ہے کہ تاثیر اور وابستگی یک جانبہ ہے‘ یعنی معاشی عوامل تاثیر مرتب کرنے والے عوامل ہیں اور باقی تمام شعبے تاثیر لینے والے ہیں۔ معاشی عوامل خود سے آزادانہ طور پر عمل کرتے ہیں اور دیگر عوامل وابستہ عوامل ہیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ مارکس نے یہ تصریح کی ہو یا نہ کی ہو‘ مادے کی روح پر‘ مادی ضروریات کی معنوی ضروریات پر‘ سوشیالوجی کی نفسیات پر اور کام کرنے کی فکر پر برتری سے متعلق مارکس کے خاص نظریات اسی نقطہ نظر کا تقاضا کرتے ہیں۔ لیکن مارکس نے اپنی بہت سی تحریروں میں جدلیاتی منطق کی بنیاد پر ایک اور مسئلے کو پیش کیا ہے‘ جسے ایک طرح کا تجدید نظر اور کسی حد تک تاریخ کی مطلق مادیت سے انحراف کہا جا سکتا ہے اور وہ ہے مسئلہ تاثیر متقابل‘ تاثیر متقابل کے اصول کی رو سے علیت کے رابطے کو یک طرفہ سمجھنا چاہئے‘ جس طرح ”الف“، ”ب“ کی علت اور اس میں موثر ہے۔ اسی طرح ”ب“ بھی اپنی جگہ ”الف“ کی علت اور اس کا موثر ہے بلکہ اس اصول کی بنیاد پر عالم طبیعت اور معاشرے کے تمام اجزاء کے درمیان ایک طرح کی وابستگی اور ایک طرح کی متقابل تاثیر پائی جاتی ہے۔ مجھے فی الحال اس سے کوئی بحث نہیں کہ اس صورت میں پیش کیا جانے والا جدلیاتی قانون درست بھی ہے کہ نہیں لیکن میں یہ کہوں گا کہ اس قانون کی بنیاد پر مادہ و روح‘ کام اور فکر یا معاشی پہلو اور دیگر پہلوؤں میں سے ایک کی دوسرے پر ترجیح کی بحث ہی بے معنی ہو جاتی ہے‘ کیوں کہ اگر دو چیزیں ایک دوسرے سے وابستہ رہیں اور ایک وجود دوسرے کے لئے ضروری ہو اور دونوں کا رہنا شرط وجود بن جائے تو پھر کسی کی ترجیح و تقدم رکھنے اور بنیاد ہونے کی بات بے معنی ہے۔
مارکس نے اپنے بعض بیانات میں اصلی اور غیر اصلی تمام امور کو معاشی بنیاد کے حوالے کیا ہے اور بنیاد اور عمارت کا ہرگز تذکرہ نہیں کیا‘ جیسا کہ ہم پہلے عرض کر چکے ہیں‘ وہ اپنے بعض بیانات میں بنیاد اور اس پر عمارت دونوں کی ایک دوسرے پر تاثیر کا قائل ہوا ہے‘ تاہم اس نے اصلی اور آخری کردار انبیاء کے حوالے کیا ہے‘ ”تجدید نظر طلبی“ میں مارکس کی دو کتابوں ”سرمایہ“ اور ”علم اقتصاد پر تنقید“ کے درمیان موازنہ کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ کتاب ”سرمایہ“ میں کتاب ”علم اقتصاد پر تنقید“ کی طرح یک طرفہ طور پر اقتصاد کی فیصلہ کن حیثیت کا ذکر کیا گیا ہے۔ مصنف لکھتا ہے:
”اس کے باوجود مارکس نے شعوری یا غیر شعوری طور پر اس تعریف پر اضافہ کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ بنیاد پر عمارت بنیاد کی ترجیح کے باوجود معاشرے میں اس کے لئے بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے۔“
(تجدید نظر طلبی‘ ۱:۲۲۲)
مولف مزید لکھتا ہے کہ آخر حاکم اور فیصلہ کن کردار کی حامل ہونے کی حیثیت سے اقتصادی بنیاد ہمیشہ جو کردار ادا کرتی ہے اور اس بنیادی کردار میں کہ جو عمارت ادا کرتی ہے‘ فرق کی نوعیت کیا ہے؟ یعنی اگر عمارت کبھی بنیادی کردار ادا کرتی ہے‘ تو ایسی حالت میں وہ حکم فرما اور فیصلہ کن حیثیت کی بھی حامل ہو گی بلکہ پھر جسے ہم عمارت کہتے ہیں‘ وہ عمارت نہیں رہتی بلکہ بنیاد بن جاتی ہے اور بنیاد عمارت کی جگہ لے لیتی ہے۔ اینجلز نے اپنی عمر کے آخری حصے میں جوزف بلاک نامی ایک شخص کے نام جو خط لکھا ہے‘ اس میں وہ اس طرح گویا ہے:
”تاریخ کے مادی نظریے کے مطابق آخری مرحلے میں تاریخ کی فیصلہ کن عامل پیداوار اور زندگی کی حقیقی تجدید ہے۔“(۱)
 

صرف علی

محفلین
”میں نے اور مارکس نے اس سے زیادہ کچھ نہیں کہا ہے‘ اب اگر کوئی مارکس کے بعد اس گفتگو کو مسخ کر کے اس سے یہ مطلب نکالتا ہے کہ معاشی عامل ہی بطور مطلق فیصلہ کن عامل ہے‘ تو وہ اس عبارت کو ایک مجرد‘ پھیکی اور بے ہودہ عبارت بناتا ہے۔ اقتصادی حالت بنیاد ہے جب کہ دیگر عناصر عمارت میں طبقاتی کشمکش کی سیاسی شکل اور اس کے نتائج یعنی کائناتی غلبے کے بعد کے حالات قانونی صورتیں‘ یہاں تک کہ شرکت کرنے والوں کے ذہن میں حقیقی کشمکشوں کے انعکاس‘ سیاسی‘ قانونی اور فلسفی نظریات‘ مذہبی اعتقادات اور اس سے رونما ہونے والے انقلابات‘ تاریخی واقعات پر اثرانداز ہوتے ہیں اور اکثر حالات میں حقیقی طور پر اس کی صورت گری کرتے ہیں۔ یہ تمام عوامل آپس میں عمل اور ردعمل کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کے درمیان محروم عوام کی اقتصادی تحریک اپنی راہ کے تضادات کو لازماً دور کر لیتی ہے۔“(تجدید نظر طلبی‘ ص ۲۸۱۔۲۸۲)
اس سے زیادہ تعجب خیز بات یہ ہے کہ اینجلز نے اپنے اسی خط میں اس غلطی اور بقول خود اس کے اس مسخ کو ایک حد تک اپنی اور مارکس کی ذمہ داری قرار دیا ہے۔ کہتا ہے:
”مجھے اور مارکس کو اس امر کے کچھ حصے کی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے کہ جو بعض اوقات اس عامل اقتصادی کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ ہم نے اپنے حریفوں کے مقابل بحالت مجبوری اس اقتصادی عامل کی تاکید کی پھر ہمارے پاس اتنا وقت تھا اور نہ موقع کہ ہم ان تمام عوامل کا حق ادا کر سکیں‘ جو متقابل عمل میں ان کے حصہ دار تھے۔“(مارکس و مارکسزم‘ ص ۲۴۵‘ یہ عذر گناہ بدتر از گناہ کے مصداق پر ایک طرح کی ڈھٹائی ہے یا کم از کم مصلحت پر حقیقت کو قربان کرنا ہے)
لیکن دوسرے لوگوں نے مارکس اور اینجلز کے اقتصادی عوامل پر انتہا پسندانہ تاکید کو اینجلز کے اظہار خیال کے بالکل برعکس پیش کیا ہے‘ وہ کہتے ہیں کہ یہ انتہا پسندانہ تاکید مخالف حریفوں کے سامنے نہیں بلکہ اس نظریہ کے طرف دار رقیبوں کے سامنے ان سے ان کے اسلحہ کو ہتھیانے کے لئے کی گئی ہے۔ تجدید نظر طلبی میں ”علم اقتصاد پر تنقید“ کی وجہ نگارش بیان کی گئی ہے‘ اس کتاب میں ہر دوسری کتاب سے زیادہ عوامل اقتصادی کے یکطرفہ کردار پر زور دیا گیا ہے‘ ہم اس کتاب کے مقدمے کی معروف عبارت قبل ازیں نقل کر چکے ہیں‘ بہرحال تجدید نظر طلبی میں ہے:
”علم اقتصاد پر تنقید“ کی تحریر کا دوسرا سبب پروڈون کی ہنڈی سے متعلق بنیادی قوانین پر مبنی کتاب تھی‘ اس کے علاوہ ڈاریمون پیٹر اور پروڈون کی ایک اور کتاب بھی مذکورہ کتاب کی اشاعت کا سبب بنی۔ مارکس نے جس وقت دیکھا کہ ایک طرف سے اس کے رقیب یعنی پروڈون کے حامی افراد اور دوسری طرف سے لاسال کے معتقدین اقتصادی عوامل پر (انقلابانہ انداز میں نہیں بلکہ) اصلاح طلبانہ ڈھب سے زور دے رہے ہیں‘ تو اس نے چاہا کہ اس اسلحہ کو ان کے ہاتھوں سے چھین کر اسے انقلابی صورت میں بروئے کار لائے۔ اس کا لازمہ اس کے عقائد کی ”خشک شدگی“ اور ان کا عوام پسند ہونا تھا۔“
(تجدید نظر طلبی از مارکس تا ماؤ‘ ص ۲۱۸‘ ۲۱۹)
ماؤ نے تاریخی مادیت کے مفہوم میں تجدید نظر اور اقتصاد کے اصل بنیاد ہونے کو چین کے حالات کی صورت اور اس کردار کی توجیہ کے لئے جو انقلاب چین اور اس کی اپنی قیادت نے عملاً انجام دیا ہے‘ یہاں تک پہنچایا ہے کہ اب یہ کہنا پڑتا ہے کہ تاریخی میٹریالزم اور اقتصاد کی اصل بنیاد ہونے کا مفہوم اور اس کے نتیجے میں گویا سائنسی سوشلزم جو تاریخی میٹریالزم پر مبنی ہے‘ سوائے لفظ اور جملہ بندیوں کے اور کچھ نہیں رہا ہے۔
ماؤ رسالہ تضاد میں ”اصلی تضاد اور اس کی حقیقی سمت“ کے عنوان سے لکھتا ہے:
”… کسی تضاد کی اصلی اور غیر اصلی سمتیں ایک دوسرے کی جگہ لے لیتی ہیں اور اس تبدیلی کے ساتھ واقعات اور اشیاء کی خصلتوں میں بھی تبدیلی آ جاتی ہے‘ کسی تضاد سے متعلق پراسیس (Process) یا اس کے تکامل سے متعلق کسی معین مرحلے میں A اس کی اصلی سمت اور B غیر اصلی سمت کو تشکیل دیتی ہے۔ پراسیس کے دوسرے مرحلے یا دوسرے حصے میں کسی شے یا کسی واقعہ کے تکامل کے عمل میں جب کوئی سمت تضاد دوسری سمت سے ٹکر لیتے ہوئے کمزور یا طاقت ور ہو جاتی ہے‘ تو اس کے نتیجے میں ان دونوں سمتوں کے مقررہ مقامات ایک دوسرے سے بدل جاتے ہیں۔“(چہار رسالہ فلسفی‘ ص ۵۴:۵۵)
اس کے بعد وہ لکھتا ہے:
”… بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ نظریہ (اصلی جہت کا بدل جانا) بعض تضادات کے سلسلے میں درست نہیں۔ مثلاً وہ کہتے ہیں کہ پیداواری قوتیں (پیداواری قوتوں اور پیداواری روابط کے درمیان تضاد میں) کام (تھیوری اور پریکٹیکل کے مابین تضاد میں) اور اقتصادی بنیاد (اقتصادی بنیاد اور عمارت کے تضاد میں) تضاد کی اہم اور اصلی جہت کی تشکیل کرتے ہیں۔ گو تضاد کی دو سمتیں ایک دوسری سے اپنی جگہ نہیں بدلتیں۔ یہ فکر صرف میکانیاتی مادیت سے مختص ہے کہ جو جدلیاتی مادیت کے ساتھ کسی قسم کی قربت نہیں رکھتی‘ ظاہر ہے کہ پیداواری طاقتیں‘ کام اور اقتصادی بنیاد کلی طور پر اہم اور فیصلہ کن کردار کی حامل ہیں اور اس حقیقت کا منکر شخص میٹریالسٹ نہیں ہے۔ تاہم ہمیں اس طرح ماننا ہو گا کہ پیداواری تعلقات‘ تھیوری اور عمارت معین شرائط کے تحت اپنے مقام پر ”اصلی اور فیصلہ کن کردار“ کے حامل ہو سکتے ہیں۔ اگر پیداواری قوتیں تعلقات میں تبدیلی کے بغیر رشد و تکامل تک نہیں پہنچ سکتے‘ تو پھر پیداواری تعلقات کی تبدیلی ازلی اور فیصلہ کن کردار کی حامل ہو سکتی ہے۔ اگر لینن کی اس گفتگو کو کہ ”انقلابی تھیوری کے بغیر کسی انقلابی تحریک کا وجود ناممکن ہے۔“ آج کے دستور میں شامل کر لیا جائے‘ تو انقلابی نظریے کی تخلیق اور اشاعت بنیادی اور فیصلہ کن کردار حاصل کر لے گی۔ اگر عمارت (سیاست اور کلچر وغیرہ) اقتصادی بنیاد کی رشد و تکامل میں رکاوٹ بن جائے تو اس منزل پر سیاسی اور ثقافتی تحولات اصلی اور فیصلہ کن کردار کے حامل ہو جائیں گے‘ کیا ہم نے اس اصول کے تحت میٹریالزم کی تنقیض و نفی کر دی ہے؟ ہرگز نہیں‘ اس لئے کہ ہم اس بات کو مانتے ہیں کہ تاریخ کی پیش رفت کے عمومی راستے میں مادہ‘ روح کے لئے فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے اور وجود اجتماعی‘ اجتماعی شعور کو معین کرتا ہے‘ لیکن ساتھ ہی ہم اس بات کو بھی مانتے ہیں اور ماننا بھی چاہئے کہ روح‘ مادہ پر‘ اجتماعی شعور‘ اجتماعی وجود پر‘ اقتصادی بنیاد‘ عمارت پر متقابل اثرات کے حامل ہیں‘ اس طرح نہ صرف یہ کہ ہم میٹریالزم کی تنقیض و نفی نہیں کرتے‘ بلکہ میکانیاتی مادیت کو رد کر کے جدلیاتی مادیت کی حمایت کرتے ہیں۔“
(چہار رسالہ فلسفی‘ ص ۵۴‘ ۵۵)
جناب ماؤ نے اپنی گفتگو میں تاریخی میٹریالزم کی مکمل تنقیض کی ہے۔ جناب ماؤ کہتے ہیں:
”اگر پیداواری تعلقات پیداواری قوتوں کے رشد و تکامل کے آڑے آتے ہیں۔“ یا پھر ان کی یہ بات: ”جس دم انقلابی تحریک انقلابی نظریے کی محتاج ہو“، یا یہ گفتگو کہ ”اگر عمارت بنیاد کی ترقی و تکامل کی راہ میں حائل ہو“ یہ تمام باتیں وہ ہیں جو ہمیشہ سے ہوتی چلی آئی ہیں اور انہیں ہونا بھی چاہئے لیکن تاریخی میٹریالزم کے مطابق پیداواری قوتوں کا ارتقاء لازمی طور پر پیداواری تعلقات میں تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ انقلابی تبدیلی جبراً ازخود پیدا ہو جاتی ہے اور عمارت جبراً بنیاد کی پیروی میں دگرگوں ہو جاتی ہے۔“
کیا مارکس نے کمال صراحت کے ساتھ ”انتقاد بر اقتصاد“ کے مقدمہ میں یہ نہیں کہا:
”معاشرے کی پیداواری طاقتیں‘ ترقی و تکامل کے ایک خاص مرحلے میں موجود پیداواری روابط یا روابط مالکیت جو پیداواری قانونی اصطلاح ہے اور پیداواری قوتیں اب تک جن تعلقات میں اپنا عمل جاری رکھے ہوئے تھیں‘ سے ٹکرا جاتے ہیں۔ یہ تعلقات جو ماضی میں تولیدی طاقتوں کی ترقی کا ذریعہ تھے‘ اب ان کی راہ میں حائل ہو جاتے ہیں اور پھر معاشرتی انقلاب کا دور شروع ہو جاتا ہے اور معاشی یا اقتصادی اساس میں تبدیلی ساری عمارت کو کسی قدر سرعت کے ساتھ تباہ کر دیتی ہے۔“(مارکس و مارکسزم‘ ۱:۲۴۳)
پیداواری طاقتوں کی ترقی کی راہ کھولنے کے لئے پیداواری روابط کی تبدیلی کا پیداواری قوتوں میں رشد کا تقدم‘ انقلابی فکر کو انقلابی عمل میں بدلنے کے لئے انقلابی تھیوری کی تدوین کا تقدم‘ بنیاد میں تبدیلی لانے کے لئے عمارت میں تبدیلی‘ کام پر فکر اور مادہ پر روح کے تقدم کے معنی سے واضح ہوتا ہے کہ اقتصادی شعبے کے مقابلے میں سیاسی اور فکری شعبے کو اصالت اور استقلال حاصل ہے اور اس سے مادیت تاریخ کی نفی ہوتی ہے۔
ماؤ کا یہ کہنا کہ
”تاثیر کو یک طرفہ جاننے کا مطلب جدلیاتی مادیت کی تنقیض ہے۔“
درست ہے لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ سوشلزم کی اساس اسی کی ضد پر قائم ہے‘ لہٰذا مجبوراً یا تو علمی سوشلزم کو ماننا اور جدلیاتی منطق کی تردید کرنا ہو گی یا پھر جلدیاتی منطق کو ماننا اور علمی سوشلزم کو رد کرنا ہو گا۔
علاوہ بریں جناب ماؤ کہتے ہیں:
”ہم جانتے ہیں کہ تاریخ کی پیش رفت کے عمومی عمل میں مادہ روح کے لئے معاشرتی وجود‘ معاشرتی شعور کے لئے فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں‘ اس سے وہ کیا کہنا چاہتے ہیں! جب یہ بات تسلیم کر لی گئی کہ اصلی تضادات کی سمتیں آپس میں بدلتی رہتی ہیں‘ تو پھر کبھی پیداواری طاقتیں پیداواری تعلقات کو معین کرتی ہیں اور کبھی اس کے برعکس‘ کبھی سیاست‘ کلچر‘ طاقت‘ مذہب اور ان جیسی چیزیں معاشرے کی اقتصادی بنیاد کو تبدیل کرتی ہیں اور کبھی اس کے برعکس‘ پس کبھی مادہ‘ روح کو معین کرتا ہے اور کبھی اس کے برعکس‘ کبھی سماجی وجود‘ سماجی شعور کا خلق ہے اور کبھی برعکس۔“
حقیقت تو یہ ہے کہ جناب ماؤ نے جو کچھ تضادات کی بنیادی سمتوں کے تبدیل ہونے کے بارے میں کہا ہے‘ وہ دراصل ماؤازم کی توجیہ ہے کہ جو مارکسزم کے تاریخی میٹریالزم کی توجیہ کے بجائے عملاً اس کی ضد بن گئی ہے۔ ہرچند کہ وہ اسے بظاہر توجیہ ہی کی صورت دیتے ہیں‘ ماؤ نے عملاً یہ ثابت کیا ہے کہ وہ بھی مارکس کی طرح اس سے زیادہ سمجھ دار ہے کہ ہمیشہ مارکسٹ رہے‘ ماؤ کی قیادت میں آنے والے انقلاب چین نے عملی طور پر سائنٹفک سوشلزم اور تاریخی میٹریالزم اور بالآخر مارکسزم کی نفی کر دی ہے۔
چین نے ماؤ کی قیادت میں کسانوں کے انقلاب کے ذریعے چین کے قدیم جاگیردارانہ نظام کو الٹ دیا اور اس کی جگہ سوشلزم کو رائج کیا‘ حالانکہ سائنٹفک سوشلزم اور تاریخی میٹریالزم کی رو سے اس ملک کو جو جاگیردارانہ نظام کے مرحلے سے گذر رہا ہو‘ بااعتبار ترتیب کیپٹل ازم اور صنعتی مرحلے میں داخل ہونا چاہئے اور اس مرحلے میں ترقی کی معراج پر پہنچنے کے بعد سوشلزم کی طرف بڑھنا چاہئے۔ تاریخی میٹریالزم کی رو سے جس طرح نطفہ ماں کے رحم میں دو مرحلے ایک ساتھ طے نہیں کر سکتا‘ معاشرہ بھی منظم اور سلسلہ وار مراحل سے گذرے بغیر آخری مرحلے تک نہیں پہنچ سکتا‘ لیکن ماؤ نے عملاً دکھا دیا کہ وہ ایسی دایہ ہے‘ جو چار مہینے کے جین کو صحیح و سالم مکمل اور بے عیب دنیا میں لا سکتی ہے۔ اس نے دکھا دیا کہ مارکس کے دعوے کے برخلاف‘ قیادت‘ جماعتی تربیت‘ سیاسی سرگرمیاں‘ انقلابی تھیوری‘ معاشرتی معلومات گویا وہ تمام چیزیں جنہیں مارکس شعوری نوعیت دیتا ہے‘ وجودی نہیں‘ عمارت سمجھتا ہے‘ بنیاد نہیں اور جن کے لئے وہ اصالت کا قائل نہیں پیداواری تعلقات کو بدل سکتی ہیں اور ملک کو صنعتی بنا سکتی ہیں اور اس طرح عملاً سائنٹفک سوشلزم کو نظرانداز کر سکتی ہیں۔
ماؤ نے ایک اور طرح سے بھی تاریخ کے مارکسی نظریے کی تنقیض کی ہے:
” مارکسی نظریے یا کم از کم خود مارکس کے اعتبار سے‘ کسان طبقے کے پاس اگرچہ انقلابی ہونے کی پہلی اور دوسری شرط جو استحصال یافتہ ہونے اور مالکیت نہ رکھنے سے عبارت ہے‘ موجود ہے لیکن اس میں تمرکز‘ تعاون‘ تفاہم اور اپنی طاقت سے آگاہی پر مبنی تیسری شرط موجود نہیں‘ لہٰذا کسان طبقہ کبھی بھی کسی انقلابی جدوجہد کو اپنے ذمہ نہیں لے سکتا‘ زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ کسی نیم زرعی اور نیم صنعتی معاشرے میں کسان طبقہ پرولتاریا کے انقلابی طبقے کا پیروکار بن جائے‘ بلکہ مارکس کی نظر میں کسان طبقہ ذاتاً پست‘ رجعت پسند اور ہر طرح کی انقلابی تخلیق سے خالی ہے۔
(تجدید نظر طلبی‘ ص ۲۶۸‘ از آثار برگزیدہ)
 

صرف علی

محفلین
مارکس اینجلز کے نام اپنے ایک خط میں پولینڈ کے انقلاب سے متعلق موضوع میں دیہاتیوں کے بارے میں لکھتا ہے:
”دیہاتیوں‘ ذاتاً رجعت پسند‘ ان پست لوگوں کو… کبھی جنگ میں نہیں بلانا چاہئے۔“(تجدید نظر طلبی‘ ص ۳۴۸)
لیکن ماؤ نے اسی بالذات رجعت پسند طبقے اور انہیں پست فطرتوں کو جنہیں جنگ اور پیکار میں نہیں بلانا چاہئے‘ ایک انقلابی طبقہ بنایا اور ایک قدیم حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ مارکس کی نگاہ میں کسان صرف یہی نہیں کہ کسی ملک کو سوشلزم کی طرف نہیں لے جا سکتے بلکہ جاگیردارانہ نظام کی کیپٹل ازم میں منتقلی میں بھی ان کا کوئی حصہ نہیں‘ وہ طبقہ جو معاشرے کو فیوڈالزم سے کیپٹل ازم میں منتقل کرتا ہے اور اس تاریخی لمحے میں انقلابی خصلت کا حامل ہوتا ہے‘ بورژوائی طبقہ ہے نہ کہ کسان‘ لیکن ماؤ نے اسی پست اور بذاتہ رجعت پسند طبقے کے ذریعے دو منزلوں کو ایک ساتھ طے کر لیا اور فیوڈالزم سے ایک دم سوشلزم میں آ پہنچا۔
پس ماؤ کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ مارکسزم سے اتنی دوری اختیار کرنے کے ساتھ ماؤازم کی توجیہ کے لئے تضادات کی اصلی سمتوں کے تبدیل ہونے کی بات کرے اور زبان پر لائے بغیر اس طرح ظاہر کرے کہ گویا وہ مارکسزم‘ تاریخی میٹریالزم اور سائنٹفک سوشلزم کی عالمانہ تفسیر کر رہا ہے۔
ماؤ نے اس درس کو کہ ”ایک مارکسٹ کے لئے ضروری ہے وہ بوقت ضرورت عملاً مارکسزم سے علیحدہ ہو جائے‘ اپنے معتبر پیش رو ”لینن“ سے سیکھا۔ لینن نے ماؤ سے پہلے روس میں انقلاب بپا کیا اور یہ وہ وقت تھا جب روس ایک نیم صنعتی اور نیم زرعی ملک تھا‘ اس نے پہلی بار ایک سوشلسٹ ملک کی بنیاد ڈالی۔ لینن نے دیکھا کہ اس کی عمر اس بات کے لئے کافی نہیں ہے کہ وہ اتنا صبر کرے کہ روس ایک مکمل صنعتی ملک بن جائے اور کیپٹل ازم اور محنت کشوں کا استحصال آخری مرحلہ تک پہنچ جائے اور شعور کو بیدار کرنے والی تحریک بطور خود ایک انقلاب برپا کر دے اور ایک مکمل تبدیلی سامنے آئے‘ اس نے دیکھا کہ اگر وہ اس انتظار میں بیٹھا رہے کہ اس حاملہ عورت کی حاملگی کا دور ختم ہو‘ اسے دردزہ رونما ہو اور پھر وہ دایہ کے فرائض انجام دے تو اسے دیر ہو جائے گی لہٰذا اس نے عمارت سے اپنا کام شروع کیا‘ اس نے پارٹی‘ سیاست‘ انقلابی نظریے‘ جنگ اور طاقت سے کام لے کر روس کے نیم صنعتی ملک کو آج کا ایک سوشلسٹ ملک بنا دیا۔
لینن نے عملی طور پر اس ضرب المثل کو سچ کر دکھایا کہ ”ایک گرہ سینگ ایک گز لمبی دم سے بدرجہا بہتر ہے“ وہ مارکس کی ایک گز لمبی دم کے انتظار میں نہیں بیٹھا کہ روسی معاشرے کی اقتصادی بنیاد اپنے آپ ڈائنامک تحریک سے کبھی کوئی شورش بپا کرے اور انقلاب رونما ہو‘ اس نے اپنی زرد سیاست‘ جماعتی تعلیمات اور سیاسی آگاہی پر مبنی ایک گرہ والی ”سینگ“ سے استفادہ کیا اور کامیاب رہا۔
۳۔ بنیاد اور عمارت کے جبری تطابق کا بطلان
تاریخی مادیت کے نظریے کی رو سے معاشروں میں ہمیشہ یہ ضروری ہے کہ عمارت اور بنیاد کے درمیان ایک طرح کی مطابقت پائی جائے اور وہ اس طرح ہو کہ عمارت سے بنیاد اور بنیاد سے عمارت کی شناخت ہو سکے۔(جیسے علم منطق میں برہان انی ہوتی ہے‘ جس سے حاصل ہونیوالی معرفت نیم کامل ہوتی ہے اور برہان لمی سے حاصل ہونیوالی معرفت کامل ہوتی ہے) اگر بنیاد دگرگوں ہو اور عمارت و بنیاد کا تطابق بگڑ جائے تو لازماً معاشرے کا توازن بھی بگڑ جائے گا اور ایک بحران رونما ہو گا جس کے نتیجے میں بہرحال عمارت کم و بیش تیزی کے ساتھ تباہی سے دوچار ہو گی‘ مگر جب تک بنیاد اپنی پہلی حالت پر باقی رہے گی۔ عمارت بھی لازمی طور پر اپنی جگہ پر مستحکم رہے گی‘ دور حاضر کے تاریخی واقعات نے عملاً اس کے اُلٹ ثابت کیا ہے‘ مارکس اور اینجلز نے اقتصادی بحرانات جو ۱۸۲۷ء سے ۱۸۴۷ء کے دوران رہے‘ کے بعد سیاسی اور اجتماعی انقلابات دیکھے اور یہ سمجھے کہ معاشرتی انقلابات اقتصادی بحرانوں کا ضروری اور لاینفک نتیجہ ہوتے ہیں۔
لیکن مولف ”تجدید نظر طلبی“ کہتا ہے کہ
”تاریخ کا مذاق دیکھئے کہ ۱۸۴۷ء سے آج تک صنعتی ممالک میں ہمیں کوئی ایسا اقتصادی بحران نظر نہیں آیا‘ جو انقلاب ساتھ لایا ہو‘ اسی مارکس کے زمانے میں اور اس کی موت سے پہلے چار مرتبہ پیداواری طاقتیں پیداواری تعلقات سے ٹکرائیں اور کوئی انقلاب نہیں آیا اور بعد میں جے شویسٹر جیسے بعض ماہرین معاشیات اس نتیجے پر پہنچے کہ انہوں نے ان بحرانات کو ”تعمیری تباہی“ کہا اور معاشی توازن اور ترقی کو واپس پلٹانے کے لئے انہیں ایک قابل اطمینان دریچہ قرار دیا۔“
انگلینڈ‘ جرمنی‘ فرانس اور امریکہ جیسے ملکوں نے عظیم صنعتی ترقیاں حاصل کیں اور سرمایہ داری کو اپنی انتہائی بلندی تک پہنچایا۔
مارکس کا خیال تھا کہ یہ وہ ممالک ہوں گے‘ جن میں سب سے پہلے مزدور رہنما انقلاب رونما ہو گا اور یہ سب سوشلسٹ بن جائیں گے‘ مگر اس کے برعکس ان کے سیاسی‘ قانونی اور مذہبی نظام اور وہ کچھ کہ جسے وہ عمارت کہتا تھا‘ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی‘ جس بچے کی پیدائش کا مارکس کو انتظار تھا اس نے اپنے نو ماہ پورے کر لئے اور نو سال بھی گذار دیئے بلکہ ۹۰ سال بھی بیت گئے‘ مگر ابھی تک پیدا نہیں ہوا اور اب آئندہ بھی اس کے پیدا ہونے کی امید نہیں ہے۔
البتہ یہ حکومتیں جلد یا بدیر ختم ہونے والی ہیں‘ لیکن ان ملکوں میں جس انقلاب کی امید کی جا رہی ہے‘ وہ قطعاً مزدور انقلاب نہیں ہو گا اور تاریخ کا مارکسی نظریہ کسی طرح بھی درست ثابت نہیں ہو گا اور یہی حال سوشلسٹ ممالک اور ان پر حکومت کرنے والوں کا بھی ہو گا‘ یہ بھی اپنے اس حال میں باقی نہیں رہیں گے‘ لیکن آئندہ آنے والی حکومت ہرگز سرمایہ دارانہ حکومت نہیں ہو گی۔
ان کے مقابلے میں ہم دیکھتے ہیں کہ مشرقی یورپ‘ ایشیاء اور جنوبی امریکہ میں بعض ممالک سوشلزم تک آ پہنچے ہیں‘ جب کہ ابھی ان کے جننے کا موقع نہیں آیا تھا‘ آج ایسے ممالک بھی ہمارے سامنے ہیں‘ جو بنیاد‘ کے اعتبار سے ایک دوسرے کے مشابہ اور برابر ہیں‘ لیکن عمارت کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں‘ اس کی بہترین مثال امریکہ اور روس ہیں‘ امریکہ اور جاپان بھی ایک جیسی حکومت (سرمایہ دارانہ نظام) کے حامل ہیں‘ لیکن سیاست‘ مذہب‘ اخلاق‘ آداب اور فنون میں یہ دونوں ایک دوسرے سے مختلف ہیں‘ لیکن ان کے مقابل ایسے ممالک بھی ہیں جو مکمل طور پر معاشی حالات کے ساتھ مذہبی اور سیاسی نظام کے اعتبار سے یکساں اور مشابہ عمارت کے حامل ہیں۔ یہ باتیں ہمیں بتاتی ہیں کہ بنیاد اور اس پر قائم عمارت کے درمیان وہ ضروری تطابق جو تاریخی میٹریالزم کا لازمہ ہے‘ سوائے تو ہم کے اور کچھ نہیں۔
۴۔ آئیڈیالوجی کی اپنے دور سے عدم مطابقت
جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں‘ تاریخی مادیت کی رو سے تاریخ کے کسی بھی دور میں عمارت‘ بنیاد پر سبقت نہیں لی جا سکتی۔ لہٰذا ہر دور کی معلومات لازماً اسی دور سے وابستہ ہوتی ہیں اور جب وہ دور ختم ہو جاتا ہے‘ تو وہ معلومات بھی کہنہ اور منسوخ ہو جاتی ہیں اور تاریخ کے ریکارڈ میں محفوظ کر لی جاتی ہیں۔ معلومات‘ فلسفے‘ منصوبے‘ پیش گوئیاں اور مذاہب سب اسی دور کے تقاضوں کی جبری پیداوار ہیں‘ جس میں وہ ظہور پذیر ہوئی ہیں اور دوسرے دور کے تقاضوں کے ساتھ میل نہیں کھاتیں‘ لیکن عملاً اس کے برعکس ثابت ہوا ہے‘ ادیان و مذاہب کا ذکر کیا! بہت سے فلسفے‘ بہت سی شخصیتیں‘ بہت سے افکار اور کتنے ہی ایسے افکار ہیں‘ جنہوں نے وقت کے مادی تقاضوں کو وجود بخشا‘ لیکن وہ آج بھی تاریخ بشریت کے افق پر تابندہ ہیں‘ عجیب بات یہ ہے کہ مارکس یہاں بھی اپنی بعض باتوں میں مارکسزم سے علیحدہ ہو گیا ہے‘ وہ اپنی معروف کتاب ”جرمن آئیڈیالوجی“ میں لکھتا ہے:
”کبھی کبھار یوں لگتا ہے کہ آگاہی اپنے ہم عصر تجربی تعلقات پر مقدم ہو گئی ہے۔ اس طرح ایک زمانہ بعد کی کشمکشوں میں دور ماقبل کے مفکرین کی باتوں سے حجت کی حیثیت سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔“(تجدید نظر طلبی‘ ۱۷۲)
۵۔ ثقافتی ترقی کا استقلال
تاریخی مادیت کی رو سے معاشرے کی علمی و ثقافتی بنیاد‘ سیاست‘ قضاوت اور مذہب کی طرح اقتصادی بنیاد سے وابستہ ہے اور اس سے ہٹ کر بطور جداگانہ اور مستقل حیثیت سے اس کی ترقی کا امکان نہیں۔ معاشرے کے پیداواری آلات اور اقتصادی بنیاد کی ترقی ہی علم کو آگے بڑھاتی ہے۔ اولاً ہمیں معلوم ہے کہ پیداواری آلات انسانی وجود کے بغیر ہرگز از خود ترقی نہیں کرتے۔ انسانی عالم طبیعت اور انسان کی محنت طلب جستجو مل جل کر پیداواری آلات کو ترقی اور تکامل سے ہمکنار کرتے ہیں۔ پیداواری آلات اور انسان کی ترقی و تکامل باہم مربوط ہیں‘ لیکن یہاں موضوع گفتگو یہ ہے کہ ان میں کون کس پر مقدم ہے؟ کیا انسان پہلے کچھ دریافت کرتا ہے اور پھر اسے عمل کی منزل میں لا کر صنعت کو وجود عطا کرتا ہے یا پہلے صنعت وجود میں آتی ہے اور پھر انسان کچھ دریافت کرتا ہے؟ بلاشبہ دوسری بات درست ہے۔
ظاہر ہے کہ فنی اصولوں اور سائنسی قوانین کی دریافت انسان کے تجربہ اور تجسس سے ہوتی ہے‘ اگر انسان عالم طبیعت کو سمجھنے کی کوشش نہ کرے‘ تجسس اور تجربے سے کام نہ لے تو وہ فطرت کے قوانین میں سے کسی سائنسی قانون کو دریافت نہیں کر سکتا اور کوئی فنی اصول اس کے ہاتھ نہیں لگ سکتا‘ بات یہ نہیں ہے‘ گفتگو اس امر میں ہے کہ کیا تجسس اور تجربے کے بعد انسان کے اپنے اندر عملی نشوونما ہوتی ہے اور پھر وہ اپنے وجود کے باہر فنی آلات کی تخلیق کرتا ہے یا معاملہ اس کے برعکس ہے؟ بلاشبہ پہلی صورت درست ہے۔ علاوہ بریں ”رشد“ یا ”تکامل“ کی تعبیر انسان کے لئے ”حقیقی“ ہے اور فنی اور پیداواری آلات کے لئے ایک ”مجازی“ تعبیر ہے۔ حقیقی رشد و تکامل وہ ہے‘ جس میں ایک عینی حقیقت ادنیٰ سے اعلیٰ مرحلے میں آئے اور مجازی رشد وہ ہوتا ہے‘ جہاں ایک عینی حقیقت اپنے آپ کو تبدیل نہ کرے‘ ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں نہ جائے بلکہ معدوم و منسوخ ہو جائے اور اس سے مختلف حقیقت اس کی جگہ لے لے۔
مثلاً بچے کا بڑا ہونا درحقیقت ایک حقیقی رشد و تکامل ہے‘ لیکن جب کوئی استاد کسی کلاس کو پڑھا رہا ہو اور بعد میں اس سے زیادہ فاضل اور زیادہ تجربہ کار استاد اس کی جگہ لے لے‘ تو کلاس کی تدریسی حالت میں ترقی ہو گی اور جماعت تکامل پائے گی‘ لیکن یہ تکامل ایک مجازی تکامل ہو گا‘ اوزار سازی کے دوران انسانی تکامل ایک حقیقی تکامل ہے۔ واقعاً انسان روحانی طور پر نشوونما پاتا ہے اور تکامل سے ہمکنار ہوتا ہے‘ لیکن صنعتی تکامل موٹرکاروں کے تکامل کی طرح جس میں ہر سال ایک نیا کامل ماڈل نئی ٹیکنیک کے ساتھ بازار میں آ جاتا ہے۔ ایک مجازی تکامل ہے یعنی اس میں ایک عینی حقیقت ادنیٰ سے اعلیٰ مرحلے میں نہیں پہنچتی‘ گذشتہ سال کی موٹر موجودہ سال میں زیادہ آسائشات کی حامل نہیں ہوتی‘ بلکہ معدوم و منسوخ ہو جاتی ہے اور میدان سے نکل جاتی ہے اور اس کی جگہ دوسری گاڑیاں لے لیتی ہیں۔
بعبارت دیگر ایک ”ناقص“ چیز کا خاتمہ ہوتا ہے اور دوسری ”کامل“ چیز اس کی جگہ لے لیتی ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ ایک چیز دو ادوار میں نقص سے کمال کی طرف آئے‘ وہاں جہاں حقیقی اور مجازی تکامل ایک دوسرے کے دوش بدوش ہوں‘ ظاہر ہے کہ حقیقی تکامل اور مجازی فروغ ہو گا۔ مزید یہ کہ یہ امر صرف فنی علوم کے سلسلے میں ہے۔ طب‘ نفسیات‘ عمرانیات‘ منطق‘ فلسفہ‘ ریاضی اور ان جیسے علوم میں ہرگز اس طرح کی یکطرفہ وابستگی کی تائید نہیں ہو سکتی‘ علوم کی پیش رفت کی اقتصادی اور مادی حالات سے وابستگی ایسی ہی ہے‘ جیسی اقتصادی اور مالی حالت کی علوم کی پیش رفت سے وابستگی جیسا کہ کشملر‘ مارکسزم کے خلاف لکھتے ہوئے کہتا ہے:
”یقیناً مادی اور معاشی حالت کلچر کے عالی شان مظاہر کی لازمی شرط ہے‘ لیکن اتنی ہی یہ بات بھی مسلم ہے کہ روحانی اور اخلاقی زندگی بذات خود بھی ایک پیش رفت کی حامل ہے۔“(تجدید نظر طلبی‘ ص ۲۳۹)
فرانس کا اگسٹ کانٹ انسان اور انسانیت کا خلاصہ ”ذہن“ کو قرار دیتا ہے جو انسان کی انسانی صلاحیتوں کا ایک حصہ ہے اور انسان کی روحانیت کا نصف ہے۔ اگر اس کے اس بیان کا نقص دور کر دیا جائے تو اجتماعی تکامل میں اس کا نظریہ مارکس کے نظریے سے بدرجہا بہتر اور برتر ہے۔ ۱اگسٹ کانٹ کہتا ہے:
”تاریخ کی اجتماعی اور معاشرتیں صورتیں ایک ایسے دقیق علمی جبر کے تابع ہیں جو انسانی معاشروں کے ناقابل اجتناب انقلاب کی صورت میں انسانی ذہن کے ترقیاتی فرمان کے تحت ظاہر ہوتے ہیں۔“(عمرانیات میں فکر کے اساسی مراحل‘ ص ۱۰۲)
۶۔ تاریخی میٹریالزم خود اپنی تنسیخ کرتا ہے
تاریخی مادیت کی رو سے ہر فکر‘ ہر سوچ‘ ہر علمی یا فلسفی نظریہ اور ہر اخلاقی نظام چونکہ ایک خاص مادی اور معاشی شرائط کا نتیجہ ہے اور اپنی مخصوص عینی شرائط سے وابستہ ہے‘ لہٰذا اس کی اپنی کوئی مطلق حیثیت اور ساکھ نہیں ہو سکتی بلکہ اس کا تعلق اس کے اپنے خاص زمانے سے ہے اور جب وہ زمانہ بیت جاتا ہے اور مادی اور معاشی شرائط میں تبدیلی آ جاتی ہے‘ جو جبری اور ناگزیر ہوتی ہے‘ تو وہ فکر‘ وہ سوچ‘ وہ فلسفی یا علمی نظریہ اور وہ اخلاقی نظام بھی اپنی صحت اور اپنی افادیت کھو دیتا ہے اور اس کی جگہ دوسری فکر اور دوسرا نظریہ لے لیتا ہے۔
اس بناء پر تاریخی میٹریالزم بھی جو فلسفیوں اور بعض ماہرین عمرانیات کی طرف سے پیش کیا گیا ہے‘ اسی کلی قانون کے دائرے میں آتا ہے‘ کیوں کہ یہ قانون اگر اس کے شامل حال نہ ہو تو پھر استثناء واقع ہو جاتا ہے۔ لہٰذا ایسا سائنسی اور فلسفی قانون یا قوانین موجود ہیں‘ جو اصالت رکھتے ہیں اور کسی معاشی بنیاد کے تابع نہیں ہیں اور اگر خود اس قانون کے تابع ہے‘ تو پھر تاریخی میٹریالزم قدر و قیمت‘ صحت اور افادیت کی رو سے فقط اس خاص اور محدود دور میں صادق آتا ہے‘ جس میں اس نے جنم لیا ہے‘ نہ اس سے پہلے کا دور اس کا ہوتا ہے اور نہ بعد کا۔ یہ تاریخی میٹریالزم بہرحال نقص شدہ ہے‘ یعنی تاریخی میٹریالزم ایک تھیوری‘ ایک فلسفی نظریے اور بنیاد کی بالائی تعمیر کے عنوان سے یا تو اپنے غیر میں شامل ہے اور اپنے آپ میں شامل نہیں کہ جس کی رو سے وہ خود اپنی تنقیض کرنے والا ہے یا پھر خود اپنے ساتھ اپنے غیر میں بھی شامل ہے‘ لیکن ایک محدود دور کی قید کے ساتھ‘ دوسرے ادوار میں وہ نہ تو خود اپنے میں شامل ہے اور نہ غیر میں۔ عین یہی اعتراض جدلیاتی پر بھی وارد ہے‘ جو اصول حرکت اور اصول پیوستگی متقابل ہر چیز میں حتیٰ کہ علمی اور فلسفی اصولوں میں بھی شامل جانتا ہے اور ہم نے ”اصول فلسفہ اور روش ریالزم“ کی پہلی اور دوسری جلد میں اس پر اچھی خاصی گفتگو کی ہے۔
یہاں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ دنیا جدلیاتی مادیت اور معاشرہ تاریخی مادیت کی نمائش گاہ ہے‘ کس قدر بے بنیاد ہے‘ تاریخی مادیت پر دوسرے اعتراضات بھی عائد ہوتے ہیں۔ ہم فی الحال اس سے صرف نظر کرتے ہیں‘ میں حقیقتاً اظہار تعجب کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ کوئی نظریہ اس حد تک بے اساس‘ بے بنیاد اور غیر سائنسی ہو اور اسی قدر اس کے سائنسی ہونے کا چرچا ہو‘ یہ سب پبلسٹی کے آرٹ کی کارفرمائی ہے۔
 

صرف علی

محفلین
اسلام اور تاریخی مادیت
کیا اسلام تاریخی مادیت کا حامی ہے؟ کیا ان تاریخی واقعات کی توجیہ و تحلیل میں جو قرآن میں آئے ہیں‘ قرآن کی منطق تاریخی مادیت پر مبنی ہے؟ بعض لوگوں کا خیال یہی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مارکس سے کم از کم ہزار سال پہلے قرآن محمدی میں تاریخ کی توجیہ و تحلیل اسی بنیاد پر ہوئی ہے۔ عراق کے شیعہ اساتید میں ڈاکٹر علی الوردی جنہوں نے کئی ہنگامہ خیز کتابیں لکھی ہیں‘ جن میں مشہور کتاب ”منزل العقل البشری“ بھی شامل ہے‘ انہی لوگوں میں سے ہیں اور شاید یہ وہ پہلے شخص ہیں‘ جنہوں نے اس مسئلے کو چھیڑا ہے‘ آج کل بعض مسلمان صاحبان قلم کے نزدیک زبان اسلام سے اس طرح کا تاریخی جائزہ ایک طرح کی روشن فکری سمجھی جاتی ہے اور یہ اس دور کا ایک مشن ہو گیا ہے۔
ہماری نگاہ میں جو لوگ اس طرح سوچتے ہیں‘ وہ اسلام کو صحیح طرح سے سمجھ نہیں پائے یا تاریخی مادیت صحیح طور پر ان کے مطالعے سے نہیں گذری یا پھر دونوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔
تاریخی میٹریالزم کے جن ”پانچ مبانی“ اور ”چھ نتائج“ کی ہم پہلے تشریح کر چکے ہیں‘ وہ اسلامی منطق سے واقف افراد کو یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ اسلامی منطق اور تاریخی مادیت دو بالکل مختلف اور متضاد چیزیں ہیں۔
معاشرے اور تاریخ کے بارے میں یہ طرز تفکر‘ خاص طور پر اس وقت جب اس پر جھوٹا اسلامی رنگ چڑھ جائے اور اسلام کی مہر تائید اس پر ثبت ہو جائے‘ اسلامی کلچر‘ معارف اور نظریے کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ ہم یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ جن مسائل نے اس توہم کو پیدا کیا ہے یا ممکن ہے‘ جن کی وجہ سے لوگ اس توہم کا شکار ہو کر یہ سمجھ بیٹھیں کہ اسلام اقتصاد کو معاشرے کی بنیاد سمجھتا ہے اور تاریخ کی ہویت کو مادی گردانتا ہے‘ انہیں سامنے لائیں اور ان کا جائزہ لیں۔
یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ جن مسائل کو ابھی ہم پیش کریں گے‘ وہ ان سے کہیں زیادہ ہمہ گیر ہیں‘ جنہیں خود انہوں نے پیش کیا ہے۔ ان افراد نے دو تین آیتوں اور دو تین حدیثوں کا سہارا لیا ہے‘ لیکن ہم ان مسائل کو بھی پیش کریں گے‘ جنہیں ان لوگوں نے پیش نہیں کیا اور ممکن ہے بعد میں کبھی انہیں دلیل بنایا جائے۔ اس طرح ہم اپنی بحث ایک جامع اور کامل صورت میں آپ کے سامنے پیش کریں گے:
۱۔ قرآن نے بہت سے معاشرتی یا اجتماعی مسائل پیش کئے ہیں۔ معاشرتی بحثوں میں ہم نے قرآن کے وہ الفاظ جو اجتماعی مفہوم رکھتے ہیں‘ تقریباً پچاس ذکر کئے تھے۔ قرآن کی ان آیات کے مطالعے سے جن میں یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں‘ معاشرہ کچھ دو طبقاتی نوعیت کا دکھائی دیتا ہے۔ قرآن ایک طرف سے معاشرے میں دو طبقاتی کیفیت کو مادی اساس پر یعنی مادی استفادہ اور مادی محرومیوں کی بنیاد پر پیش کرتا ہے اور ان میں سے ایک طبقے کو ”ملا“ (صاحب جاہ و جلال و تمکنت) ”مستکبر“، ”مسرف“ اور ”مترف“ اور دوسرے طبقے کو ”مستضعف“ (ضعیف و کمزور قرار دیئے جانے والا‘ ”ناس“، عوام‘ ”ذریہ“ (چھوٹے‘ ناقابل وجہ اور ”ملا“ کے مقابل قرار پانے والے)‘ ”اراذل“ اور ”ارذلون“ (پست اور بے سر و پا لوگ)(بہ تعبیر قرآن اپنی زبان سے نہیں بلکہ مخالفین کی زبان سے نقل کرتا ہے) کے عناوین سے یاد کرتا ہے اور ان دو طبقوں کو ایک دوسرے کے مقابل قرار دیتا ہے اور دوسری طرف معاشرے کی دو طبقاتی کیفیت کو معنوی مفاہیم کی بنیاد پر پیش کرتا ہے‘ ان میں سے ایک طبقہ کافروں‘ مشرکوں‘ منافقوں‘ فاسقوں اور مفسدوں کا ہے اور دوسرے طبقے میں مومنین‘ موحدین‘ متقین‘ صالحین‘ مجاہدین اور شہداء شامل ہیں۔ اگر ہم قرآن مجید کی ان آیتوں پر غور کریں‘ جن میں دو مادی اور دو معنوی طبقات کو پیش کیا گیا ہے‘ تو ہم دیکھیں گے کہ پہلے مادی طبقے‘ پہلے معنوی طبقے اور اسی طرح دوسرے مادی طبقے‘ دوسرے معنوی طبقے کے درمیان ایک طرح کا تطابق پایا جاتا ہے‘ یعنی کافروں‘ مشرکوں‘ منافقوں کا گروہ‘ مستکبروں‘ مسرفوں‘ مترفوں‘ طاغوتوں اور ملاء کے مفہوم میں آنے والے لوگوں کا گروہ ہے‘ کوئی اور نہیں اور نہ یہ ہے کہ کوئی الگ گروہ ہو‘ ان سے اور ان کے علاوہ دوسرے لوگوں سے مرکب ہو اور مومنین‘ موحدین‘ صالحین اور مجاہدین کا گروہ فقراء‘ مساکین‘ خدمت گار‘ مظلوم‘ محروم اور مستضعف لوگوں کا گروہ ہی ہے‘ کوئی اور نہیں اور نہ ان سے اور ان کے علاوہ دوسرے لوگوں سے تشکیل پانے والا کوئی گرو ہے۔
پس مجموعی طور پر معاشرہ سے زیادہ طبقات کا حامل نہیں‘ ایک بہرہ مند‘ ظالم اور استعمار گر طبقہ‘ جس میں تمام کافرین آتے ہیں اور دوسرا مستضعف گروہ جو مومنین سے مرکب ہے اور اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ معاشرہ استضعاف گر اور استضعاف شدہ طبقوں میں منقسم ہے اور اسی سے کافر اور مومنین گروہوں کی تشکیل ہوئی ہے۔ مستضعف بنانے کا عمل شرک‘ کفر‘ نفاق اور فسق و فجور سے ابھرتا ہے اور استضعاف شدگی ایمان‘ توحید‘ صلاح‘ اصلاح اور تقویٰ سے ظہور پذیر ہوتی ہے‘ اس تطابق کی وضاحت کے لئے کافی ہے کہ ہم سورئہ اعراف کی ان چالیس آیتوں کا مطالعہ کریں‘ جو انسٹھویں آیت ”لقد ارسلنا نوحا الی قومہ“ سے شروع ہو کر ۱۳۷ ویں آیت ”ودمرنا ماکان یصنع فرعون و قومہ وما کانوا یعرشون“ پر ختم ہوتی ہیں‘ ان چالیس آیتوں میں حضرات نوح‘ ہود‘ صالح‘ لوط‘ شعیب اور موسیٰ علیہم السلام کے واقعات کا تذکرہ ہے۔ ان تمام واقعات میں (سوائے لوط کے واقعے کے) یہ بات دیکھنے میں آتی ہے کہ ان تمام پیغمبروں پر ایمان لانے والے لوگ مستضعف طبقے سے تعلق رکھنے والے ہیں‘ جب کہ جنہوں نے ان کی مخالفت کی ہے اور کفر اختیار کیا ہے۔ ان کا تعلق ملاء و مستکبر طبقہ سے ہے۔(۱) اس تطابق کی سوائے طبقاتی وجدان کے جو تاریخی مادیت کا لازمہ اور اس کا مستلزم ہے‘ دوسری کوئی دلیل و توجیہ نہیں‘ پس درحقیقت قرآن کی رو سے ایمان اور کفر کی ایک دوسرے کے مقابل محاذ آرائی دراصل اس محاذ آرائی کا پرتو ہے‘ جو استضعاف شدگی اور استضعاف گری کے درمیان واقع ہے۔
قرآن اس بات کی تصریح کرتا ہے کہ مالکیت جسے وہ لفظ ”غنا“ سے تعبیر کرتا ہے‘ طغیان اور سرکشی کا باعث ہے‘ یعنی یہ چیز تواضع‘ فروتنی اور ”سلم“ کی ضد ہے‘ جسے قرآن یوں بیان کرتا ہے:
ان الانسان لیطغی ان راہ استغنی
(سورئہ علق‘ آیت ۷)
”اور جب انسان اپنے آپ کو بے نیاز اور دولت مند محسوس کرنے لگتا ہے‘ تو باغی ہو جاتا ہے۔“
پھر ہم کہتے ہیں کہ قرآن ”مالکیت“ کے بارے اثرات کو واضح کرنے کے لئے قارون کی داستان ذکر کرتا ہے:
” قارون قبطی نہیں سبطی تھا‘ یعنی اس کا تعلق موسیٰ کی قوم سے تھا اور انہی میں سے تھا‘ جنہیں فرعون نے مستضعف بنایا ہوا تھا‘ لیکن یہی استضعاف شدہ شخص جب کسی نہ کسی طرح بہت زیادہ دولت کا مالک بن گیا‘ تو اسی مستضعف قوم کے خلاف کام کرنے لگا‘ جس میں کل تک وہ خود تھا۔“
قرآن کہتا ہے:
ان قارون کان من قوم موسیٰ فبغی علیہم
”قارون‘ موسیٰ۱۱کی قوم کا ایک فرد تھا‘ جس نے بنی اسرائیل کی اپنی مستضعف قوم کے خلاف ظلم کیا۔“
کیا یہ بات خود وضاحت نہیں کرتی کہ ظلم کے خلاف پیغمبروں کا قیام خود مالکیت‘ سرمایہ داری اور سرمایہ داری کے خلاف قیام تھا۔ قرآن اپنی بعض آیتوں میں اس بات کی تصریح کرتا ہے کہ پیغمبروں کے مخالف لیڈروں کا تعلق ”مترفین“ کے طبقے سے تھا‘ یعنی اس طبقے سے جو ناز و نعمت میں غرق تھا۔ ۴۳ ویں آیت میں اس مفہوم کو ایک کلی اور بنیادی قانون کی صورت میں پیش کیا گیا ہے:
وما ارسلنا فی قریة من نذیر الاقال مترفوہا انا بما ارسلتم بہ کافرون
”ہم نے کسی گروہ میں کوئی ایسا ڈرانے والا نہیں بھیجا کہ وہاں کے مترفین نے جس کی مخالفت نہ کی ہو اور یہ نہ کہا ہو کہ ہم تمہاری رسالت اور تمہارے پیغام کے سرے سے مخالف اور انکاری ہیں۔“
یہ تمام باتیں اس چیز کو ظاہر کرتی ہیں کہ انبیاء۱اور ان کے مخالفین کی آپس میں محاذ آرائی اور کفر و ایمان کی ایک دوسرے کے خلاف صف آرائی تھی‘ جو دراصل دو سماجی طبقوں استضعاف شدہ اور استضعاف گر کی جنگ تھی۔
۲۔ قرآن نے اپنے مخاطبین کو ”ناس“ قرار دیا ہے اور ”ناس“ سے مراد عام اور محروم لوگ ہیں۔ قرآن کا یہ طریقہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن طبقاتی فکر کا قائل ہے اور دعوت اسلام کی قبولیت کا حامل‘ فقط محروم طبقے کو جانتا ہے اور اسلامی آئیڈیالوجی صرف اور صرف محروم طبقے کو مخاطب کرتی ہے۔ یہ ایک اور دلیل ہے کہ اسلام کی نظر میں اقتصاد معاشرے کی بنیاد ہے اور تاریخ‘ مادی ہویت کی حامل ہے۔
۳۔ قرآن نے اس کی تصریح کی ہے کہ تمام مصلحین‘ تمام مجاہدین‘ تمام شہداء حتیٰ کہ تمام انبیاء۱ ۱عوام الناس کے درمیان سے ابھرے ہیں‘ نہ کہ نعمتوں میں غرق اور خوشحال طبقے سے۔ قرآن مجید جناب رسول اکرم کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:
ھوالذی بعث فی الامیین رسولا…(سورئہ جمعہ‘ آیت ۲)
”اسی نے لوگوں کے درمیان جنہیں امت سے منسوب کیا گیا ہے‘ ایک رسول بھیجا۔ امت بجز محروم طبقے کے اور کوئی نہیں۔“
اور اسی طرح شہداء راہ حق کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:
ونزعنا من کل امة شہیداً فقلنا ھاتوا برھانکم(سورئہ القصص‘ آیت ۷۵)
”یعنی ہر امت میں سے جو عوام الناس کا محروم طبقہ ہی ہے‘ ہم ایک شہید کو اٹھائیں گے اور ان سے کہیں گے کہ اپنی دلیل اور اپنے گواہ ساتھ لاؤ۔“
اقتصادی اور طبقاتی مقام کے ساتھ اعتقادی اور اجتماعی مقام کے تطابق کی ضرورت دراصل تحریکات اور انقلابات کے قائدین کو محروم طبقے میں سے ابھارتی ہے اور یہ ضرورت صرف ہویت تاریخ کو مادیت اور اقتصاد کو بنیاد قرار دینے کی صورت میں ہی قابل توجیہ ہے۔
۴۔ قرآن کے مطابق انبیاء۱ کے قیام کی ماہیت اور معاشرے کے لئے ان کی راہ متعین کرنا عمارت نہیں بلکہ خود بنیاد ہے۔
قرآن سے استنباط ہوتا ہے کہ انبیاء۱ کی رسالت اور بعثت کا مقصد معاشرے میں عدل‘ قسط‘ برابری اور مساوات قائم کرنا اور طبقاتی فاصلوں اور ان کے درمیان حائل دیواروں کو توڑنا ہے۔ تمام انبیاء۱ ہمیشہ بنیاد سے چل کر‘ جو ان کی بعثت کا مقصد رہا ہے۔ عمارت تک پہنچے ہیں‘ عمارت یعنی عقائد‘ ایمان‘ اخلاقی اصلاحات اور راہ و روش‘ انبیاء۱ کا دوسرا مقصد رہے ہیں‘ جس کے لئے وہ بنیاد کی اصلاح کے بعد جستجو کرتے ہیں۔ جناب رسالت مآب نے فرمایا:
من لا معاش لہ لا معادلہ
”جس کے پاس معاش اور مادی زندگی نہیں ہے‘ اس کے پاس معنوی زندگی کا سرمایہ معاد بھی نہیں۔“
یہ جملہ معاد و آخرت پر معاش اور معنوی زندگی پر مادی زندگی کے تقدم کو ظاہر کرتا ہے اور معنوی زندگی کو عمارت اور مادی زندگی کو بنیاد کے عنوان سے پیش کرتا ہے۔ جناب رسالت مآب کی ایک اور حدیث یہ بھی ہے:
اللھم بارک لنافی الخبز‘ لو لا الخبز ماتصد قنا ولا اصلینا
”خداوندا! ہماری روٹی میں برکت دے کہ اگر روٹی نہیں‘ تو زکوٰة ہے‘ نہ نماز۔“
یہ جملہ بھی معنویت کی مادیت سے وابستگی اور اس کی ثانویت کو ظاہر کرتا ہے۔
آج اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ انبیاء۱ کی کوششیں صرف عمارت کی حد تک رہی ہیں۔ وہ لوگوں کے عقیدہ‘ اخلاق اور رفتار و کردار کو سنوارنا چاہتے تھے اور انہیں مومن بنانا چاہتے تھے۔ بنیاد سے انہیں کوئی غرض نہ تھی اور یا بنیادی امور کی حیثیت ان کے نزدیک ثانوی تھی یا پھر وہ یہ چاہتے تھے کہ لوگ مومن اور معتقد بنیں۔ ان کا خیال تھا کہ جب لوگ ایمان اور اعتقاد میں پختہ ہو جائیں گے تو پھر تمام کام خود بخود سنورنے لگیں گے۔ عدالت اور مساوات کا بول بالا ہو گا‘ استحصال پسند لوگ درست ہو جائیں گے اور محروموں اور مستضعفوں کے حقوق خود اپنے ہاتھ سے انہیں دیں گے۔ غرض یہ کہ انبیاء۱ نے اپنے ایمان اور عقیدے کے زور سے تمام مقاصد میں کامیابی حاصل کی ہے اور ان کے پیروکاروں کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ ان کی راہ اختیار کریں۔ یہ خیال اور سوچ ایک فریب اور دھوکا ہے‘ جسے استحصال پسند افراد اور ان سے وابستہ علماء نے انبیاء۱ کی تعلیمات کو بے اثر کرنے کے لئے گھڑ کر اس معاشرے پر ٹھونسا ہے کہ اب لوگوں کی اکثریت ان باتوں پر یقین کرنے لگی ہے۔ بقول مارکس:
”جو لوگ مادی مصنوعات برآمد کرتے ہیں‘ وہ معاشرے کے لئے فکری مصنوعات برآمد کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں‘ جن کے ہاتھ میں معاشرے کی باگ ڈور ہوتی ہے‘ وہ معاشرے کی سوچ پر بھی حکومت کرتے ہیں اور معنوی فرمانروائی بھی ان کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔“(جرمن آئیڈیالوجی)
انبیاء۱ کا طریقہ کار اور ان کا میتھڈ (Method) اکثریت کی موجودہ سوچ کے بالکل برعکس رہا ہے۔ انبیاء۱ نے پہلے معاشرے کو اجتماعی شرک‘ بے جا امتیازات‘ استحصال اور استضعاف شدگی جیسے اخلاقی‘ عملی اور اعتقادی شرک سے نجات دلائی اور اس کے بعد اعتقادی توحید اور اخلاقی اور عملی تقویٰ تک پہنچے۔
 

صرف علی

محفلین
۵۔ قرآن انبیاء۱ کے مخالفین کی منطق کو پوری تاریخ میں انبیاء۱ اور ان کے پیروکاروں کی منطق کے مقابل قرار دیتا ہے۔ وہ بڑی وضاحت سے اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مخالفین کی منطق ہمیشہ سے قدامت پرستانہ‘ روایت پسندانہ اور رجعت پسندانہ رہی ہے‘ جب کہ انبیاء۱ اور ان کے پیروکار مخالفین کے برعکس ہمیشہ تجدد پسند‘ روایت شکن اور مستقبل پر نظر رکھنے والے رہے ہیں۔
قرآن واضح کرتا ہے کہ پہلے گروہ نے ہمیشہ وہی منطق استعمال کی ہے جسے عمرانیات کی رو سے استحصال گر اور استحصال شدہ طبقوں میں بٹے ہوئے معاشرے میں استحصال گر طبقہ اپنے مفاد کے پیش نظر استعمال کرتا ہے‘ لیکن انبیاء۱ اور ان کے ماننے والوں کی منطق وہی رہی ہے‘ جو تاریخ کے محروم اور مظلوم لوگوں کی منطق ہے۔
قرآن کا گویا یہ التفات ہے کہ اس نے گذشتہ سے متعلق مخالفین اور موافقین کی منطق کو ہمارے لئے پیش کیا ہے اور بتایا ہے کہ ان دونوں گروہوں کی منطق کیا تھی۔ صرف اس لئے کہ یہ دونوں نقطہ ہائے نظر خود ان دو گروہوں کی طرح پوری تاریخ میں آج تک ایک دوسرے کے سامنے کھڑے رہے ہیں اور قرآن مخالفین اور موافقین کی منطق کو آشکار کر کے آج کے لئے ہمارے سامنے ایک معیار پیش کرنا چاہتا ہے۔
قرآن میں ایسے بہت سے مقامات کا ذکر ہے‘ جہاں یہ دو نقطہ ہائے نظر ایک دوسرے کے آمنے سامنے آتے رہے ہیں۔ اہل تحقیق سورئہ زخرف کی چالیسویں سے پچاسویں آیت تک سورئہ مومن کی ۲۳ ویں سے ۴۴ ویں آیت تک‘ سورئہ طہٰ کی ۴۹ ویں سے ۷۱ ویں آیت تک‘ سورئہ شعراء کی ۱۶ ویں سے ۴۹ آیت تک اور سورئہ قصص کی ۳۶ ویں سے ۳۹ ویں آیت تک کی طرف اس موضوع کے سلسلے میں رجوع فرما سکتے ہیں۔ یہاں ہم سورئہ زخرف کی ۲۰ سے ۲۴ تک کی آیتوں کو بطور نمونہ ذکر کر کے ان کے بارے میں کچھ وضاحت پیش کرنا چاہتے ہیں:
وقالوا لوشاء الرحمن ماعبد ناھم‘ مالھم بذالک من علم ان ھم الا یخرصون ام اتینا ھم کتاباً من قبلہ فہم بہ مستمسکون‘ بل قالوآ انا وجدنا آبائنا علی امة و انا علی آثار ھم مہتدون۔ و کذلک مآ ارسلنا من قبلک فی قریہ من نذیر الا قال مترفوھا انا وجد نآ ابائنا علی امة و انا علی اثارھم مھتدون۔ قال اولوجئتکم باھدی مما وجدتم علیہ ابائکم قالوا انا بما ارسلتم بہ کافرون
”اور انہوں نے کہا‘ اگر خدا چاہتا ہے کہ ہم فرشتوں کی عبادت نہ کریں تو ہم نہیں کرتے (لیکن اب جو کر رہے ہیں‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی مرضی یہی ہے‘ یعنی مطلق جبر) یہ لوگ اس قسم کی (جبر پسندانہ) گفتگو از روئے دانائی و ادراک یا علمی و منطقی بنیاد پر نہیں کرتے‘ یہ تو صرف فرض و تخمین سے کام لیتے ہیں۔ کیا ہم نے اس سے پہلے ان کے لئے کوئی ایسی آسمانی کتاب نازل کی ہے‘ جس میں کسی قسم کی جبریت پر مبنی بات ہو اور انہوں نے اسے اختیار کیا ہو (ایسا کچھ بھی نہیں‘ اس میں نہ کسی سنجیدہ جبری اعتقاد کا دخل ہے اور نہ کوئی ایسی آسمانی کتاب ہے‘ جسے اس سلسلے میں دلیل بنایا جا سکے) بلکہ ان کا اصلی قول یہ ہے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو جس راہ پر چلتے دیکھا ہے‘ بس وہی ہماری راہ ہے۔“
(پیغمبر نے) ان سے فرمایا:
”اب اگر میں تمہارے لئے کوئی ایسی راہ اور کوئی ایسا طریقہ پیش کروں‘ جو تمہارے باپ دادا کی راہ سے بہتر اور برتر ہو‘ تو (کیا یہ جانتے ہوئے کہ منطقی اعتبار سے میرا راستہ زیادہ صحیح اور زیادہ اصولی ہے) پھر بھی تم اپنے باپ ‘ دادا کی روش پر قائم رہو گے؟ انہوں نے کہا: ہم بہرحال تمہارے پیغام اور تمہاری رسالت کے منکر ہیں۔“
ہم دیکھ رہے ہیں کہ انبیاء۱ کے مخالفین بعض اوقات اس جبری منطق اور اس جبری قضا و قدر کے نظریے سے کام لیتے ہیں‘ جس کے مطابق ہمارا کوئی اختیار نہیں‘ جیسا کہ عمرانی حوالے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ منطق موجود حالت سے ان فائدہ اٹھانے والوں کی منطق ہے‘ جو نہیں چاہتے کہ حالات میں کسی قسم کی تبدیلی واقع ہو اور اسی لئے وہ قضاء و قدر کو بہانہ بناتے ہیں اور کبھی یہ باپ دادا کی سنت کا سہارا لیتے ہیں اور گذشتہ دور کو مقدس اور قابل پیروی گردانتے ہیں اور گذشتہ سے کسی چیز کے تعلق کو ہدایت یافتہ اور صحیح ہونے کے لئے کافی سمجھتے ہیں۔ ہمیشہ سے قدامت پسند اور حالات سے فائدہ اٹھانے والے لوگوں کی یہی منطق رہی ہے۔
ان کے مقابلے پر انبیاء۱ روایت پرستی اور جبر پسندی کی بجائے زیادہ منطقی‘ زیادہ علمی اور زیادہ نجات بخش بات کرتے رہے ہیں‘ جو موجودہ حالات سے بیزار اور انقلابی لوگوں کی منطق ہے۔ انبیاء۱ کی پیش کردہ حجت و دلیل کے مقابل مخالفین کی بن نہیں پڑتی‘ تو پھر وہ آخری بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں‘ بہرحال جبر ہو یا نہ ہو‘ روایتوں کا احترام کریں یا نہ کریں‘ تمہارا پیغام‘ تمہاری رسالت اور تمہاری آئیڈیالوجی ہمارے لئے ناقابل قبول ہے۔ آخر کیوں؟ اس لئے کہ تمہارا پیغام ہماری طبقاتی اور اجتماعی موجودیت کی ضد ہے۔
۶۔ مستضعفین اور مستکبرین کے جھگڑے میں قرآن کا سب سے روشن اور سب سے واضح فیصلہ یہ ہے کہ کامیابی (جیسا کہ تاریخی مادیت‘ جدلیاتی نظریے کی بنیاد پر خوشخبری دیتی ہے) مستضعفین کے لئے ہے۔ قرآن اپنے اس فیصلے میں تاریخ کے جبری اور لازمی راستے کو پیش کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ وہ طبقہ جو بالذات انقلابی خصلت کا حامل ہے‘ اس طبقے کے ساتھ اپنے جھگڑے میں کہ جو بالذات اور اپنے طبقاتی موقف کی بناء پر قدامت پسند واقع ہوا ہے‘ کامیابی سے ہمکنار ہو گا اور زمین کا وارث بنے گا۔
و نرید ان نمن علی الذین استضعفو افی الارض و نجعلھم أئمة و نجعلھم الوارثین(سورئہ قصص‘ آیت ۵)
”ہم نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ مستضعفین پر احسان سے کام لیں اور انہیں پیشوا اور زمین کا وارث قرار دیں۔“
سورئہ اعراف کی ایک سو سینتیسویں آیت میں بھی یہی بات ہے:
واورثنا القوم الذین کانوا یستضعفون مشارق الارض و مغاربھا التی بار کنا فیھا و تمت کلمة ربک الحسنی علی بنی اسرائیل بما صبروادمرنا ماکان یصنع فرعون و قومہ وما کانوا یعرشون
”ہم نے موعودہ برکت والی سرزمین کو ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک ان لوگوں کے حوالے کیا‘ جنہیں زمین پر کمزور بنا دیا گیا تھا۔
بنی اسرائیل کے بارے میں اللہ کا وعدہ ان کے صبر کے مظاہرے کی بناء پر بحسن و خوبی پورا ہوا اور جو کچھ فرعون اور اس کی قوم نے انجام دیا تھا‘ ان کی تمام بنائی اور پیش کی ہوئی چیزوں کو ہم نے نیست و نابود کر دیا۔“
قرآن کا یہ نظریہ کہ تاریخ کا دھارا محروم‘ مصیبت زدہ اور استحصال شدہ لوگوں کی کامیابی کی راہ میں آگے بڑھتا ہے‘ مکمل طور پر اس اصول پر منطبق‘ جسے ہم نے پہلے مادیت تاریخ سے اخذ کیا تھا کہ رجعت پسندی اور فرسودہ خیالی استحصال پسندی کی ذاتی خصلتیں ہیں اور چونکہ یہ خصلتیں عالم خلقت کی تکاملی روایات کے خلاف ہیں‘ لہٰذا مٹنے والی ہیں‘ لیکن استحصال شدگی کی ذاتی خصلت‘ روشن فکری‘ حرکت اور انقلاب ہے اور چونکہ یہ خصلت خلقت کی تکاملی روایات سے ہم آہنگ ہے‘ اس لئے کامیاب ہے۔
یہاں ایک مقالے کے ایک حصے اور اس سے حاصل شدہ نتائج کا تذکرہ نامناسب نہیں ہو گا جسے چند روشن فکر مسلمانوں نے مرتب کیا ہے اور ایک کتابچے کی شکل میں حال ہی میں شائع کیا ہے۔ یہ گروہ روشن فکری سے بھی آگے بڑھ گیا ہے اور مارکس زدہ ہو گیا ہے۔ اس مقالہ میں مذکورہ بالا آیت کو عنوان قرار دے کر نیچے لکھا ہے:
”… یہاں سب سے زیادہ جاذب توجہ چیز اللہ اور تمام مظاہر وجود کا مستضعفین کے حق میں موقف اختیار کرنا ہے‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ زمین کے مستضعف یا کمزور لوگ قرآنی نظریے کی بنیاد پر ایک ایسا محروم و بے بس طبقہ ہے‘ جو اپنی تقدیر کے بارے میں جبری اور قہری اعتبار سے کسی کردار کا حامل نہیں… اس مفہوم کو سامنے رکھتے ہوئے‘ نیز اللہ اور اس کے تمام مظاہر وجود کے موقف کو دیکھتے ہوئے‘ یعنی وجود پر اس کے مطلق ارادے کی حکمرانی اور احسان کے پیش نظر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون لوگ ہیں‘ جو اس کے ارادے کو عملی جامہ پہنانے والے ہیں؟ اس سوال کا جواب بڑا واضح ہے۔ جب ہم معاشرے کو کمزور اور طاقت ور طبقوں میں تقسیم کرتے ہیں اور پھر یہ بھی جانتے ہیں کہ خداوند عالم کا ارادہ ایک طرف تو زمین میں کمزور افراد کی وراثت و امامت سے پورا ہوتا ہے اور دوسری طرف استحصالی یا طاقت ور نظام کی تباہی اس کے مقصد کو پورا کرتی ہے‘ تو پھر صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ارادہ الٰہی کو نمود عینی بخشنے والے لوگ یہی مستضعفین‘ ان کے انبیاء۱ اور وہ باعزم روشن فکر افراد ہیں‘ جو انہی میں سے اٹھتے ہیں۔ ایک اور بیان کے مطابق مستضعفین کے درمیان سے چنے گئے یہی وہ انبیاء۱(۱) اور شہداء(۲) ہیں‘ جو طاغوتی اور غارت گر نظام سے ٹکرانے کے لئے پہلا قدم اٹھاتے ہیں اور یہ وہ قدم ہوتا ہے‘ جو مستضعفین کو امامت اور وراثت تک پہنچانے کے لئے راہ ہموار کرتا ہے‘ یہ مفہوم درحقیقت توحیدی انقلابات اور تاریخی تبدیلیوں کے بارے میں ہماری شناخت کا انعکاس ہے(۳) اور وہ یوں ہے کہ جس طرح توحیدی انقلابات اجتماعی اعتبار سے زمین پر مستضعفین کی امامت اور ان کی وراثت کے گرد گھومتے ہیں‘ اسی طرح اس تحریک کے رہبروں اور اس کام میں سبقت لے جانے والوں کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ مستضعفین میں سے ہوں اور معاشرے کا موقف اور اس کی آئیڈیالوجی بھی مستضعفین ہی کا موقف اور ان کی آئیڈیالوجی ہو۔“
الف) قرآن کی رو سے معاشرہ دو طبقات پر مشتمل ہے اور ہمیشہ استحصالی اور استحصال شدہ طبقوں میں تقسیم ہوتا ہے۔
ب) ارادہ الٰہی (کہ جو اس مقالہ کی رو سے خدا اور تمام مظاہر وجود کی طرف سے موقف اختیار کرنے سے عبارت ہے) یہ ہے کہ مستضعفین اور تاریخ کے بے بس لوگوں کو بطور کلی امامت و وراثت عطا کرے۔
اس میں موحد‘ مشرک‘ بت پرست اور مومن و غیر مومن کی کوئی قید و شرط نہیں‘ یعنی آیت میں لفظ ”والذین“ استغراق کے لئے ہے اور عمومیت رکھتا ہے اور سنت الٰہی استحصال کرنے والے پر مستضعف کی مستضعف ہونے کے ناطے کامیابی سے عبارت ہے۔ بالفاظ دیگر وہ جھگڑا جو پوری تاریخ کا احاطہ کئے ہوئے ہے‘ اس کی اصلی ماہیت محرومین اور ستم گروں کا ایک دوسرے کے ساتھ مناقشہ ہے اور کائنات کا تکاملی قانون یہ ہے کہ محروم لوگ ستم گروں پر کامیابی حاصل کریں۔
ج) ارادہ الٰہی خود معاشرے کے مستضعفین کے ذریعے پورا ہوتا ہے اور تمام رہبر‘ تمام پیشوا‘ تمام پیغمبر اور تمام شہداء لازمی طور پر مستضعف طبقے سے ابھرتے ہیں‘ کسی اور طبقہ سے نہیں۔
د) ہمیشہ فکری مرکزوں‘ اجتماعی بنیادوں اور طبقاتی موقفوں کے درمیان تطابق اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
پس ہم دیکھتے ہیں کہ اس آیت سے کس طرح تاریخ کے بارے میں کئی مارکسی اصول نکلتے ہیں اور کس طرح قرآن نے مارکس سے ۱۲۰۰ پہلے اس فکر اور اس کے فلسفے کو قلمبند کیا ہے؟
اب جب کہ تاریخ کے بارے میں اس طرح کا نام نہاد قرآنی نظریہ برآمد ہوا ہے‘ تو ہم اپنے دور کی تاریخ کے تجربے میں اس نظریے سے کیا نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں؟ ان حضرات نے بطور نمونہ ایک فوری امر کی صورت میں اس نام نہاد قرآنی اصول کے سہارے نتیجہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے اور علماء کی موجودہ تحریک سے آزمائش کے طور پر استفادہ کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں‘ قرآن نے ہمیں تعلیم دی ہے کہ انقلاب کے رہبروں اور پیشواؤں کو لازمی طور پر مستضعف طبقے سے ہونا چاہئے۔ لیکن آج ہم دیکھتے ہیں کہ وہ علماء جو تاریخ کو تباہی سے ہمکنار کرنے والی مثلث کا ایک کونہ تھے‘ آج اپنی اجتماعی پوزیشن بدل کر انقلابی ہو گئے ہیں‘ تو پھر معاملے کو کس طرح حل کیا جائے؟ آسان سی بات ہے‘ ہمیں سختی کے ساتھ بغیر ہچکچاہٹ کے اعلان کرنا ہو گا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ حکمران طبقے نے اپنے آپ کو معرض خطر میں دیکھ کر اپنے سے وابستہ علماء کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ انقلابی کردار ادا کریں تاکہ اس طرح ان کی کرسی بچ جائے۔ یہ ہے وہ نتیجہ جو مارکسی نظریہ (معاف کیجئے بقول ان کے قرآنی نظریہ) سے حاصل ہوا ہے اور یہ بات واضح ہے کہ اس کا فائدہ کسے پہنچ رہا ہے؟
 

صرف علی

محفلین
اعتراض
مادیت تاریخ کی توجیہ میں قرآن کی نسبت جو کچھ بھی کہا گیا ہے‘ وہ غلط ہے۔ گذشتہ دلائل کا ہم ایک دفعہ پھر جائزہ لینا چاہتے ہیں:
اولاً: یہ بات خالص جھوٹ ہے کہ قرآن نے معاشرے کو دو مادی اور دو معنوی طبقات میں تقسیم کیا ہے۔ یہ دو طبقے ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں‘ یعنی قرآن کی رو سے کافرین‘ مشرکین‘ منافقین‘ فاسقین اور مفسدین ہی ملاء‘ مستکبر اور جابر افراد ہیں اور اس کے برعکس مومن‘ موحد‘ صالح اور شہداء ہی مستضعف اور محروم طبقے میں آتے ہیں۔ کافروں اور مومنوں کی آویزش میں بنیادی طور پر ظالموں اور مظلوموں کے اختلاف کا انعکاس ہے۔ ہرگز ایسی کوئی مطابقت قرآن سے سمجھ میں نہیں آتی بلکہ عدم مطابقت ظاہر ہوتی ہے۔
قرآن اپنے تذکرہ تاریخ میں ایسے مومنوں کو پیش کرتا ہے‘ جنہوں نے ملاء و مستکبر طبقے سے ابھر کر اسی طبقے کے خلاف اور اس کی اقدار کے خلاف قیام کیا۔ مومن آل فرعون جس کا واقعہ اسی نام سے منسوب ایک سورہ‘ یعنی سورئہ ”مومن“ میں آیا ہے‘ انہی مثالوں میں سے ایک ہے‘ اس کے علاوہ فرعون کی بیوی جو فرعون کی شریک حیات تھی اور کوئی ایسی نعمت نہیں تھی‘ جس سے فرعون بہر مند نہ ہو اور یہ واقعہ بھی انہی واقعات میں سے ہے‘ جس کی قرآن نے نشان دہی کی ہے۔(سورئہ تحریم‘ آیت ۱۱)
قرآن نے فرعون کے جادوگروں کے بارے میں کئی مقامات پر بڑے ولولہ خیز انداز میں تذکرہ کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ کس طرح انسان کی فطری حق جوئی اور حقیقت خواہی‘ حق و حقیقت کے ساتھ جھوٹ‘ زور‘ زبردستی اور گمراہی کے خلاف شورش کرتی ہے‘ اپنے مفادات کو ٹھوکر لگا دیتی ہے اور فرعون کی اس دھمکی سے نہیں ڈرتی کہ وہ ان کے ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کی ٹانگ کاٹ کر سولی چڑھا دے گا۔
بنیادی طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قیام از روئے قرآن ایک ایسا قیام ہے‘ جو مادیت تاریخ کی تنسیخ کرتا ہے‘ یہ ٹھیک ہے کہ حضرت موسیٰ۱  قبطی نہیں سبطی تھے‘ مثلاً بنی اسرائیل میں سے تھے۔ آل فرعون سے ان کا تعلق نہیں تھا‘ لیکن وہ بچپن ہی سے فرعون کے گھر پروان چڑھے اور شہزادوں کی طرح ان کی پرورش ہوئی‘ اس کے باوجود انہوں نے اس فرعونی نظام کے خلاف بغآوت کی جس میں وہ خود زندگی گذار رہے تھے۔ اس کی دی ہوئی آسائشوں سے بہرہ مند تھے‘ انہوں نے ان تمام آسائشات کو ترک کر دیا اور مدین کے ایک بزرگ کی گلہ بانی کو اپنی شاہزادگی پر ترجیح دی۔ یہاں تک کہ مبعوث برسالت ہوئے اور باضابطہ طور پر فرعون کے مقابل آ کھڑے ہوئے۔
جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچپن میں یتیم اور آغاز جوانی تک غریب تھے۔ جناب خدیجة الکبریٰ سے شادی کے بعد آپ ۱کی مالی حالت سنبھلی اور آپ خوشحال ہوئے۔ قرآن مجید اسی نکتے کی طرف اشارہ کرتا ہے اور کہتا ہے:
الم یجدک یتیما فاوی ووجدک عائلا فاغنی
یہی خوشحالی کا زمانہ تھا‘ جب آپ نے عبادت و خلوت اختیار کی۔ تاریخی مادیت کے اصول کے مطابق جناب رسالت مآب ۱کو اس زمانے میں ایک قدامت پسند فرد بن جانا چاہئے تھا‘ جو موجودہ حالت ہی پر راضی رہتا‘ لیکن یہی وہ دور تھا‘ جس میں آپ نے اپنی تحریک کا آغاز کیا اور مکہ کے سرمایہ داروں‘ سود خوروں‘ بردہ داروں اور اس بت پرستانہ نظام کے خلاف علم بلند کیا‘ جو اس زمانے کی زندگی کی علامت تھے۔ اسی طرح مومنین‘ موحدین اور توحید پرست انقلابی سب کے سب مستضعفین میں سے نہیں تھے‘ انبیاء۱ استحصالی طبقوں میں سے ان بیدار فطرت افراد کو بھی نکال لائے تھے‘ جو کھوٹ سے عاری تھے یا پھر نسبتاً ان میں کم کھوٹ پایا جاتا تھا اور انہیں اپنے خلاف (عمل توبہ میں) یا اپنے طبقے کے خلاف (انقلابی عمل میں) ابھارتے تھے۔ مستضعفین کا طبقہ بھی تمام کا تمام مومنین اور توحید پرست انقلابیوں کے زمرے میں نہیں رہا ہے۔
قرآن میں ایسے مختلف مقامات ہیں‘ جہاں اس نے مستضعفین کے بعض گروہوں کی مذمت کی ہے اور انہیں کافروں کے زمرے میں قرار دے کر مشمول عذاب گردانا ہے۔(سورئہ نسا آیت ۹۷‘ سورئہ ابراہیم آیت ۲۱‘ سورئہ نساء آیات ۱۳ تا ۳۷‘ سورئہ مومن آیات ۴۷ تا ۵۰)
پس نہ تمام مومنین کا تعلق مستضعف طبقے سے ہے اور نہ ہی تمام مستضعف مومنین کے طبقے میں سے ہیں اور یہ مطابقت محض خالی اور بے معنی دعویٰ ہے۔ البتہ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ بلاشبہ انبیاء۱ پر ایمان لانے والے طبقے کی اکثریت کا تعلق ہمیشہ مستضعف طبقے سے یا کم از کم اس طبقے سے رہا ہے‘ جو استحصال کرنے سے دور رہا ہے اور ان کے مخالفین کی اکثریت ان لوگوں کی رہی ہے‘ جو استحصال کرنے والے تھے‘ کیوں کہ انسانی فطرت میں قبولیت کی جو صلاحیت رکھی گئی ہے۔ اگرچہ وہ سب میں مشترک ہے اور ہر ایک میں پائی جاتی ہے‘ لیکن کھوٹ اور موجود حالت کا عادی ہو جانے نے استحصالی سرمایہ دار اور خوشحال طبقے کے سامنے ایک رکاوٹ کھڑی کر دی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان آلودگیوں کے انبار سے باہر نکالیں اور یہ ایک مشکل کام ہے اور بہت کم لوگوں کو اس میں کامیابی نصیب ہوتی ہے‘ لیکن مستضعف طبقے کے سامنے ایسی کوئی چیز حائل نہیں‘ بلکہ وہ فطرت کی آواز پر لبیک کہنے کے علاوہ اپنے ان حقوق کو بھی حاصل کر لیتا ہے‘ جو اس سے چھن گئے تھے۔ ان کا اہل ایمان کے گروہ سے ملحق ہونا ہم خرما‘ ہم ثواب کے مصداق ہے‘ یہی وجہ ہے کہ انبیاء۱ پر ایمان لانے والوں کی اکثریت مستضعفین سے ہے جو غیر اقلیت میں ہیں‘ لیکن مذکورہ صورت میں تطابق اور مطابقت محض لغو اور بے معنی ہے۔
تاریخی میٹریالزم کی بنیادوں اور ہویت تاریخ کے بارے میں قرآنی نقطہ نظر کے درمیان بڑا فرق ہے۔ باعتبار قرآن روح ایک اصالت کی حامل ہے اور مادہ روح پر کسی طرح کا تقدم نہیں رکھتا۔ معنوی ضرورتیں اور معنوی میلانات انسانی وجود میں اصالت کی حامل ہیں اور مادی ضرورتوں سے ان کی کوئی وابستگی نہیں‘ اسی طرح فکر بھی کام کے مقابل اصالت رکھتی ہے۔
انسان کی روحانی و فطری حیثیت اس کی اجتماعی حیثیت پر فوقیت رکھتی ہے۔ چونکہ قرآن فطری اصالت کا قائل ہے اور ہر انسان کے اندر حتیٰ فرعون جیسے مسخ شدہ انسانوں میں بھی ایک بالفطرت مقید انسان کو دیکھتا ہے اور مسخ ترین انسانوں میں بھی حق و حقیقت کی طرف میلان کو ممکن جانتا ہے‘ اگرچہ یہ میلان خفیف سا کیوں نہ ہو‘ اسی لئے پیغمبران الٰہی کا کام پہلے درجے میں یہ تھا کہ وہ ظالموں اور ستم گروں کو نصیحت کرتے رہیں کہ شاید اس عمل سے ان کے اندر کا مقید انسان اپنی بندشوں کو توڑ کر باہر نکل آئے اور پلید اجتماعی حیثیت کے خلاف ان کی فطری حیثیت کو بیدار کر لے اور ہم دیکھ چکے ہیں کہ بہت سے موارد میں یہ کامیابی حاصل ہوئی ہے اور ”توبہ“ اسی کا نام ہے۔
جناب موسیٰ۱۱کو اپنی رسالت کے پہلے مرحلے میں یہ حکم ملا کہ فرعون کے پاس جائیں اور پہلے پند و نصیحت سے اس کی سوئی ہوئی فطرت کو بیدار کریں اور اگر اس میں کامیابی نہ ہو‘ تو پھر مقابلے پر اتر آئیں۔ جناب موسیٰ۱۱کی نظر میں فرعون نے ایک انسان کو اپنے اندر اور بہت سے انسانوں کو باہر کی دنیا میں قید کر رکھا تھا۔ حضرت موسیٰ۱۱نے پہلا کام یہ کیا‘ انہوں نے فرعون کے اندر چھپے ہوئے مقید انسان کو اس کے خلاف ابھارا۔ دراصل جناب موسیٰ۱۱اس فطری فرعون کو کہ جو ایک انسان یا کم از کم اس کا بچا کھچا حصہ تھا‘ اسے اس اجتماعی حیثیت کے حامل فرعون کے خلاف ابھارنے پر مامور ہوئے تھے۔
اذہب الی فرعون انہ طغی فقل ھل لک الی ان تزکی واھدیک الی ربک فتخشیٰ
قرآن ہدایت‘ ارشاد‘ تذکر‘ موعظہ‘ برہان اور منطقی استدلال (قرآن کی اصطلاح میں حکمت) کے لئے اہمیت اور قوت کا قائل ہے۔ قرآن کی رو سے یہ امور انسان کو متغیر کر سکتے ہیں۔ اس کی زندگی اور شخصیت کو بدل سکتے ہیں اور اس میں ایک معنوی انقلاب پیدا کر سکتے ہیں۔ قرآن فکر اور آئیڈیالوجی کے کردار کو محدود نہیں جانتا۔ اس کے برعکس مارکسزم اور مادیت قیادت اور ہدایت کے کردار کو فی نفسہ طبقہ کے لنفسہ طبقہ میں تبدیل ہونے تک محدود جانتا ہے‘ یعنی طبقاتی تضادات کو خود آگاہی کی منزل تک پہنچا کر اس کا کام ختم ہو جاتا ہے۔
ثانیاً: یہ جو کہا گیا ہے کہ قرآن کا مخاطب ”ناس“ ہیں اور ”ناس“ اور ”محروم طبقہ“ دونوں برابر ہیں اور اس رو سے مخاطب اسلام محروم طبقہ ہے اور اسلامی آئیڈیالوجی‘ محروم طبقہ کی آئیڈیالوجی ہے اور اسلام اپنے پیروکار اور جانثار صرف محروم طبقے سے چنتا ہے‘ بالکل غلط ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مخاطب اسلام ”ناس“ ہیں‘ لیکن ”ناس“ کا مطلب انسان ہیں۔ یہ ایک عمومی گفتگو ہے‘ جو تمام انسانوں کے لئے ہے‘ کسی لغت اور کسی مروجہ عربی زبان میں ”ناس“ محروم طبقے کو نہیں کہا گیا بلکہ طبقے کا مفہوم اس میں آتا ہی نہیں‘ قرآن کہتا ہے:
للہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا
”یعنی صاحب استطاعت لوگوں پر فرض ہے کہ وہ حج بجا لائیں۔“
کیا یہاں یہ مفہوم نکلتا ہے کہ اس سے مراد محروم طبقہ ہے؟ اسی طرح قرآن میں اکثریت کے ساتھ ”یا ایھا الناس“ کے الفاظ آئے ہیں اور کہیں بھی اس سے مراد محروم طبقہ نہیں بلکہ عوام الناس ہیں‘ قرآن کے تمام عمومی خطابات اس نظریہ فطرت سے ہم آہنگ ہیں‘ جسے قرآن نے خود پیش کیا ہے۔
ثالثاً: قرآن کے بارے میں یہ بات بھی درست نہیں کہ وہ اس بات کا مدعی ہے کہ تمام انبیاء۱‘تمام قائدین اور تمام شہداء صرف مستضعف طبقے سے ابھرتے ہیں۔ قرآن نے ہرگز ایسی کوئی بات نہیں کی ہے۔
”ھوالذی بعث فی الامیین…“
کی آیت کو استدلال بنا کر یہ جو کہا گیا ہے کہ پیغمبر ”امت“ سے ابھرتا ہے اور ”امت“ عام لوگوں کے مساوی ہے‘ بڑی مضحکہ خیز بات ہے‘ ”امیین“، ”اُمّی“ کی جمع ہے اور یہ لفظ ناخواندہ کے مفہوم میں آتا ہے۔ ”اُمّی“ امت سے نہیں ”ام“ سے منسوب ہے اور پھر ”امت“ اس معاشرے کا نام ہے‘ جس میں بہت سے گروہ مختلف طبقات کے امکان کے ساتھ باہم جی رہے ہوں۔ امت ہرگز عام لوگوں کے طبقے سے عبارت نہیں ہے۔ اس سے زیادہ مضحکہ خیز استدلال وہ ہے‘ جو سورئہ قصص کی پچھترویں آیت سے شہیدوں کے بارے میں کہا گیا ہے۔ آیت یہ ہے:
ونزعنا من کل امة شھیداً افقلنا ھاتوا برھانکم
اس آیت کی تفسیر (جو دراصل مسخ ہے) اس طرح کی گئی ہے:
”ہم ہر امت (ہر طبقے) سے ایک شہید کو (اللہ کی راہ میں قتل ہونے والے کو) اٹھاتے ہیں‘ یعنی ان سے ایک انقلابی شخص کو ابھارتے ہیں اور پھر تمام امتوں سے کہتے ہیں کہ وہ اپنے اپنے برہانوں کو جو شہید اور اللہ کی راہ میں قتل ہونے والی انقلابی شخصیتیں ہی ہیں‘ کو اپنے ساتھ لائیں۔“
اولا: یہ آیت ایک دوسری آیت کا حصہ ہے اور ان دونوں کا تعلق قیامت سے ہے:
ویوم ینادیھم فیقول این شرکائی الذین کنتم تزعمون
”قیامت کا دن وہ ہو گا‘ جس میں خدا مشرکوں کو آواز دے گا کہ کہاں ہیں وہ شرکاء جن کا تم مجھ پر گمان کیا کرتے تھے۔“
ثانیاً: ”نزعنا“ کا مطلب جدا کرنا ہے‘ ابھارنا اور اکسانا نہیں ہے۔
ثالثاً: شہید کے معنی اس آیت میں خدا کی راہ میں قتل ہونے والا نہیں بلکہ اعمال پر ناظر اور گواہ ہے اور قرآن مجید ہر پیغمبر کو امت کے اعمال پر گواہ گردانتا ہے۔ قرآن میں کہیں بھی لفظ ”شہید“ اللہ کی راہ میں قتل ہونے والوں کے لئے نہیں آیا‘ لہٰذا جناب رسالت مآب اور آئمہ طاہرین علیہم السلام نے اسے آج ہی کے رائج مفہوم میں استعمال کیا ہے‘ لیکن قرآن میں یہ لفظ اس مفہوم میں نہیں آیا‘ پس یہ بات ہماری نظر سے گذر رہی ہے کہ کس طرح نامربوط مارکسی نظریہ کی توجیہ کے لئے قرآن کی آیتوں کو مسخ کیا جا رہا ہے۔
 

صرف علی

محفلین
رابعاً: انبیاء۱ کے ہدف کے بارے میں وہ کیا ہے؟ کیا ان کا پہلا اور اصلی ہدف عدل و قسط قائم کرنا ہے یا بندے اور خدا کے درمیان ایمان اور معرفت کے تعلق کی برقراری ہے یا پھر دونوں ہی باتیں ہیں‘ یعنی انبیاء۱ باعتبار ہدف ”ثنوی“ ہیں یا کوئی اور بات بروئے کار ہے۔ ہم نے ”نبوت“ کی بحث میں اس پر گفتگو کی تھی‘ جسے اب دہرانا نہیں چاہتے۔(”وحی و نبوت“ اسی سلسلے کی تیسری کتاب) اس منزل پر ہم موضوع کو پیغمبروں کے کام کی ”روش“ اورMethod کے اعتبار سے پرکھنا چاہتے ہیں۔ جیسا کہ ہم عملی توحید کے مباحث میں بھی عرض کر چکے ہیں(”توحیدی تصور کائنات“ اسی سلسلے کی دوسری کتاب) انبیاء۱ تو بعض متصوفین کے انداز فکر کے مطابق انسان کی اصلاح کے لئے اپنی تمام کوششوں کو اس پر صرف کرتے تھے کہ اسے باطنی طور پر آزاد بنائیں تاکہ وہ اشیاء سے اپنا رشتہ توڑ لے اور نہ ہی بعض مادی مکاتب کی طرح باطنی روابط کی اصلاح و تعدیل کے لئے ظاہری یا بیرونی اصلاح و تعدیل کو کافی سمجھتے تھے۔ قرآن نے ایک جملے میں اس مسئلے کو حل کر دیا ہے:
تعالوا الی کلمة سوآء بیننا و بینکم ان لا نعبد الا اللہ ولا نشرک بہ شیاء ولا یتخذ بعضنا بعضاً اربابا من دون اللہ(سورئہ آل عمران‘ ۶۴)
”اے اہل کتاب ایک ایسی بات کی طرف آ جاؤ‘ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے کہ ہم سوائے خدا کے کسی کی پرستش نہ کریں اور اس کا کسی کو شریک نہ بنائیں اور حقیقی خدا کو چھوڑ کر ہم میں کوئی کسی کو پروردگار نہ بنائے۔“
لیکن گفتگو اس باب میں ہے کہ کیا انبیاء۱ اپنے کام کا آغاز اندر سے کرتے ہیں یا باہر سے؟ کیا پہلے وہ عقیدے‘ ایمان اور معنوی جذبے کے ذریعے سے اندرونی یا باطنی انقلاب برپا کرتے ہیں اور ان لوگوں کو جو توحیدی‘ فکری‘ احساسی اور عاطفی انقلاب سے بہرہ مند ہو جاتے ہیں‘ انہیں اجتماعی توحید‘ اجتماعی اصلاح اور عدل و انصاف کی برقراری کے لئے ابھارتے ہیں؟ یا پہلے مادی پلڑے میں اپنا وزن ڈال کر یعنی محرومیوں‘ دھوکہ بازیوں اور زیادتیوں پر لوگوں کی توجہ مرکوز کر کے انہیں حرکت میں لاتے ہیں اور اجتماعی شرک اور بے جا امتیازات کا قلع قمع کرنے کے بعد وہ ایمان‘ عقیدے اور اخلاق کی جستجو میں نکلتے ہیں؟
انبیاء۱ اور اولیاء الٰہی کی روش کا تھوڑا سا مطالعہ اور اس پر تھوڑی سی توجہ بھی ہمیں یہ بتاتی ہے کہ وہ اپنا کام مصلحتوں اور انسانی اصلاح کے مدعیوں کے برعکس فکر‘ عقیدے‘ ایمان‘ معنوی اضطرار‘ عشق الٰہی‘ مبداء اور معاد کے تذکرے سے شروع کرتے ہیں۔ سوروں کی ترتیب‘ قرآن مجید کی نازل شدہ آیتوں کا مطالعہ کہ وہ کن مسائل سے شروع ہوئی ہیں اور اسی طرح جناب رسالت مآب کی سیرت کہ انہوں نے اپنی تیرہ سالہ مکی زندگی اور دس سالہ مدنی زندگی میں کن مسائل پر توجہ دی‘ اس موضوع پر کافی روشنی ڈالتی ہیں۔
خامساً: یہ ایک فطری بات ہے کہ پیغمبر کے مخالفین رجعت پسندانہ منطق کے حامل تھے۔ لیکن اگر اس بات کو قرآن سے استنباط کیا جاتا اور وہاں دیکھا جاتا کہ انبیاء۱ کے تمام مخالفین بلا استثناء اس منطق کے حامل تھے‘ تو یہ بات بھی سامنے آتی کہ ان تمام مخالفین کا تعلق باحیثیت‘ خوشحال اور استحصال پسند طبقے سے تھا۔ قرآن سے جو بات سامنے آتی ہے‘ وہ یہ ہے کہ یہ منطق ان وڈیروں اور مخالفوں کی رہی ہے‘ جنہیں ملاء و مستکبر کہا جاتا ہے اور وہ لوگ جن کے ہاتھوں میں بقول مارکس معاشرے کی مادی اجناس کی کنجی تھی‘ ان کی فکری اجناس کو دوسروں تک پہنچاتے تھے اور یہ بات بھی فطری ہے کہ پیغمبروں کی منطق‘ فکری‘ تعقلی اور تقالید و روایات سے پاک رہی ہے اور ایسا ہونا بھی چاہئے‘ لیکن اس کی وجہ ہرگز یہ نہیں ہے کہ طبقاتی محرومیوں‘ مظلومیتوں اور استضعاف شدگیوں نے ان کے ضمیر اور وجدان کو ایسا بنا دیا ہو اور یہ منطق ان کی محرومیوں کا لازمی اور فطری انعکاس ہو‘ بلکہ یہ اس لئے تھے کہ انہوں نے منطق‘ تعقل‘ عواطف اور انسانی احساسات کی آغوش میں پرورش پائی اور انسانیت نے انہیں رشد و کمال تک پہنچا دیا۔ یہ بات ہم بعد میں بتائیں گے کہ انسان جس قدر انسانیت میں رشد و کمال کی منزلیں طے کرے گا اتنا ہی طبیعی اور اجتماعی ماحول سے اس کی وابستگی کم ہو جائے گی اور وہ وارستگی اور استقلال کی منزل حاصل کر لے گا۔ پیغمبروں کی مستقل منطق اسی بات کی متقاضی رہی ہے کہ وہ عادات و روایات و تقالید کے پابند نہ ہوں اور لوگوں کو بھی ان روایات اور اندھی تقالید سے باز رکھیں۔
سادساً: استضعاف کے بارے میں بھی جو کچھ کہا گیا‘ وہ بھی قابل قبول نہیں‘ لیکن کیوں؟
اس لئے کہ اولاً قرآن نے اپنی دوسری آیتوں میں بڑی صراحت کے ساتھ تاریخ کی سرنوشت اور اس کے سرانجام کو کسی اور صورت میں بیان کیا ہے‘ جب کہ ضمناً تاریخ کے تکامل کی جگہ کو بھی بیان کیا ہے اور وہ آیتیں اس آیت کے معنی کی بالفرض کہ اس کا معنی وہ ہو‘ جو بیان کیا جاتا ہے‘ شارح اور مفسر ہیں اور اسے مشروط بناتی ہیں۔
ثانیاً: رائج و عام باتوں کے خلاف بنیادی طور پر استضعاف کی آیت نے کسی کلی اصول کو پیش نہیں کیا تاکہ اس ضمن میں آنے والی آیتوں کے ساتھ موازنے کی منزل میں کسی تفسیر و توضیح کی یا آیت کو مشروط بنانے کی ضرورت ہو‘ یہ آیت اپنی پہلی اور بعد کی آیت سے متصل ہے اور ان مربوط آیتوں پر توجہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ آیت جس طرح کہ اس سے استدلال کیا گیا ہے‘ کلی اصول کو بیان نہیں کر رہی۔ پس اس آیت کے بارے میں ہماری بحث دو حصوں میں منقسم ہوتی ہے۔ پہلے حصے میں فرض کیا گیا ہے کہ ہم نے اس آیت کو اس کی پہلی اور بعد کی دس آیتوں سے جدا کر دیا ہے اور اسی سے ایک کلی تاریخی اصول اخذ کر لیا ہے‘ اس کے بعد اس کا ان دوسری آیتوں کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں‘ جو اس آیت سے ماخوذ اصول کے خلاف تاریخ کے دیگر اصولوں کی حامل ہیں‘ پھر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ مجموعی طور پر ہمیں اس سے کیا حاصل ہوتا ہے۔ دوسرے حصے میں گفتگو کا موضوع یہ ہو گا کہ یہ آیت بنیادی طور پر جس طرح کہ اس سے استدلال کیا گیا ہے‘ کلی تاریخ اصول بیان ہی نہیں کر رہی اور اب پہلے حصہ پر گفتگو ہوتی ہے۔ قرآن مجید کی بعض آیتوں میں تاریخ کی سرنوشت‘ اس کے سرانجام اور نیز تکامل تاریخ کے راستے اور مقام کے بارے میں بھی ضمناً گفتگو ہے اور یہ اسی وقت میسر ہو گا‘ جب بے ایمانی پر ایمان‘ فجور پر تقویٰ‘ بدعنوانی پر اصلاح اور ناشائستہ عمل پر شائستہ عمل کی کامیابی ہو گی۔ سورئہ نور کی ۵۵ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے:
وعد اللہ الذین امنوا منکم و عملوا الصلحت لیستخلفنھم فی الارض کما استخلف الذین من قبلھم ولیمکنن لھم دینھم الذی ارتضی لھم ولیبد لنھم من بعد خوفھم امنا یعبد وننی لایشرکون بی شیئا
اس آیت میں جن لوگوں سے خلافت اور وراثت ارض کا وعدہ کیا گیا ہے اور انہیں حتمی کامیابی کی خوش خبری دی گئی ہے‘ شائستہ کار مومن ہیں۔ اس آیت میں استضعاف کی آیت کے برخلاف جس میں استضعاف شدگی اور محرومیت و مظلومیت کا ذکر ہے‘ آئیڈیالوجیکل اور اخلاق و کردار جیسی صفات کا ذکر کیا گیا ہے اور درحقیقت ایک طرح کے عقیدے‘ ایک طرح کے ایمان اور ایک طرح کے کردار کی کامیابی اور آخری غلبے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ بعبارت دیگر اس آیت میں ایمان دار‘ حقیقت پسندانہ اور راست کردار انسان کی کامیابی کا اعلان ہوا ہے۔ اس کامیابی میں جس چیز کی نوید دی گئی ہے۔
وہ ایک استخلاف یعنی حصول حکومت اور پچھلی طاقتوں کا خاتمہ ہے اور دوسرے استقرار دین یعنی عدل‘ عفاف‘ تقویٰ‘ شجاعت‘ ایثار‘ محبت‘ عبادت‘ اخلاص اور تزکیہ نفس وغیرہ پر مشتمل اسلام کی اجتماعی اور اخلاقی اقدار کی وجود پذیری ہے اور تیسرے عبادت یا اطاعت سے ہر طرح کے شرک کی نفی ہے۔ سورئہ اعراف کی ایک سو اٹھائیسویں (۱۲۸) آیت میں بھی یہی تذکرہ ہے:
قال موسیٰ لقومہ استعینوا باللہ واصبروا ان الارض للہ یورثھا من یشاء من عبادہ و العاقبة للمتقین
”جناب موسیٰ۱۱نے اپنی قوم سے کہا: وہ خدا سے استعانت طلب کرے اور صابر رہے‘ بے شک زمین‘ ملک الٰہی ہے اور وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے‘ اس کا وارث بناتا ہے (لیکن) عاقبت و انجام متقین کے لئے ہے‘ یعنی سنت الٰہی یہ ہے کہ متقین ہی زمین کے وارث بنیں۔“
سورئہ انبیاء۱ کی ایک سو پانچویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے:
ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر ان الارض یرثھا عبادی الصلحون
”ہم نے زبور میں بعد اس کے کہ (کسی اور کتاب میں) ایک دفعہ پہلے بھی یاددہانی کرائی تھی‘ یہ لکھ دیا ہے کہ زمین کی وراثت میرے شائستہ کار بندوں کو ملے گی۔“
اس ضمن میں اور بھی آیتیں ہیں۔ اب ہم کیا کریں؟ استضعاف کی آیت کو لیں یا استخلاف اور ان چند دوسری آیتوں کو؟ کیا ہم یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ یہ دو طرح کی آیتیں اگرچہ ظاہراً دو مفہوم کی حامل ہیں‘ لیکن ایک حقیقت کو پیش کرتی ہیں اور وہ یہ کہ مستضعفین درحقیقت مومنین‘ صالحین اور متقین ہی ہیں‘ جن کا ذکر دوسری آیتوں میں آیا ہے‘ کیا استضعاف ان کا طبقاتی اور اجتماعی عنوان ہے اور ایمان‘ عمل صالح اور تقویٰ مکتبی عنوان؟ ہرگز نہیں۔
کیونکہ اولاً: ہم نے پہلے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ عناوین کی مطابقت کا نظریہ اس معنی میں کہ بنیاد استضعاف شدگی‘ استحصال زدہ ہونا اور محرومی ہے جب کہ ایمان‘ صلاح اور تقویٰ ان بنیادوں پر کھڑی عمارت ہے‘ باعتبار قرآن صحیح نہیں ہے۔ قرآن کی رو سے ممکن ہے‘ بعض گروہ مومن ہوں‘ مگر مستضعف نہ ہوں اور اسی طرح مستضعف ہوں‘ مگر مومن نہ ہوں اور قرآن نے دونوں گروہوں کی شناخت کروائی ہے‘ البتہ جیسا کہ ہم پہلے عرض کر چکے ہیں‘ ایک طبقاتی معاشرے میں جب عدل‘ ایثار اور احسان وغیرہ سے متعلق الٰہی قدروں پر مبنی توحیدی آئیڈیالوجی کا اعلان ہوتا ہے‘ تو روشن ہے کہ اس پر ایمان لانے والوں کی اکثریت مستضعفین میں سے ہوتی ہے کیونکہ ان کی راہ ان رکاوٹوں سے پاک ہوتی ہے‘ جو مخالف طبقے میں پائی جاتی ہیں‘ لیکن کبھی بھی مومن طبقہ فقط مستضعف طبقے میں سے نہیں ہوا۔
ثانیا: ان دونوں آیتوں میں سے ہر ایک آیت تاریخ سے متعلق دو مختلف میکانزم پیش کرتی ہے۔ استضعاف کی آیت تاریخ کی راہ کو طبقاتی کشمکش سے عبارت جانتی ہے اور حرکت سے متعلق میکانزم کو استحصال کرنے والوں کی طرف سے پڑنے والا دباؤ اس طبقے کی بالذات رجعت پسندی اور استحصال کے سبب استحصال کے شکار افراد کا انقلابی جذبہ قرار دیتی ہے۔
جس میں کامیابی بالآخر استضعاف شدہ طبقے ہی کو حاصل ہوتی ہے‘ خواہ وہ ایمان اور عمل صالح سے بہرمند ہو یا نہ ہو اور اس میں فی المثل ویت نام اور کمبوڈیا وغیرہ کے استحصال شدہ عوام بھی آ جاتے ہیں اور اگر ہم الٰہی رخ سے اس آیت کے معنی کی توضیح کرنا چاہیں گے تو ہمیں کہنا پڑے گا کہ یہ آیت چاہتی ہے کہ مظلوم کے لئے حق تعالیٰ کی حمایت جو کہ قرآن کی آیت:
”ولا تحسبن اللہ غآفلا عما یعمل الظالمون“(سورئہ ابراہیم‘ آیت ۴۲)
میں آئی ہے‘ یعنی عدل الٰہی کو بیان کرے۔ استضعاف کی آیت سے رونما ہونے والی وراثت و امامت ”عدل الٰہی“ کا مظہر ہے۔
لیکن استخلاف اور اس سے مشابہ آیتیں تاریخ سے کسی اور طرح کا میکانزم پیش کرتی ہیں اور ایک ایسے اصول کا تذکرہ کرتی ہیں‘ جو عدل الٰہی سے زیادہ جامع اور زیادہ مکمل ہے اور اس میں عدل الٰہی بھی آ جاتا ہے۔
وہ میکانزم جو یہ آیت اور اس سے مشابہ آیتیں پیش کرتی ہیں‘ یہ ہے کہ دنیا میں ہونے والی تمام جنگوں میں مادی اور مفاداتی ماہیت رکھنے والی جدوجہد کے علاوہ اگر کوئی للہی‘ فی اللہی‘ مقدس اور مادی مفادات سے پاک جدوجہد ہے‘ تو یہ وہ تحریک ہے‘ جس کی قیادت انبیاء۱ اور پھر ان کی پیروی میں اہل ایمان نے کی اور اس قسم کی جنگوں نے انسانی تمدن اور بشریت کو آگے بڑھانے میں مدد دی ہے۔ صرف یہی وہ تحریکیں ہیں‘ جن کو حق و باطل کا معرکہ کہا جا سکتا ہے اور انہی معرکوں نے تاریخ کو باعتبار انسانیت اور باعتبار معنویت آگے بڑھایا ہے‘ ان معرکوں کا اصلی محرک کسی طبقے کا دباؤ نہیں ہے بلکہ حقیقت کی طرف فطری میلان‘ نظام وجود کی حقیقی شناخت اور عدالت خواہی یعنی معاشرے کی حقیقی تعمیر اس کے اصلی عامل ہیں۔
مظلومیتوں اور محرومیوں کے احساس نے انسان کو آگے نہیں بڑھایا‘ بلکہ حصول کمال کے فطری احساس نے اسے یہ راستہ دکھایا ہے۔
 

صرف علی

محفلین
انسان کی حیوانی صلاحیتیں انجام تاریخ میں وہی ہیں‘ جو آغاز میں تھیں اور تاریخ کے پورے سلسلے میں کوئی نیا رشد و نمو اسے حاصل نہیں ہوا ہے اور نہ آئندہ ہو گا‘ لیکن انسان کی انسانی صلاحیتیں بتدریج آگے بڑھ رہی ہیں اور آگے چل کر وہ اور بھی اپنے آپ کو مادی اور اقتصادی قیود سے چھڑا کر عقیدے اور ایمان سے منسلک ہو گا۔ وہ سطح جس پر تاریخ نے ترقی کی اور کمال تک پہنچی مادی‘ مفاداتی اور طبقاتی جدوجہد نہیں ہے‘ بلکہ وہ نظریاتی‘ الٰہی اور ایمانی جدوجہد ہے اور یہی وہ طبیعی میکانزم ہے‘ جس میں انسان نے ترقی کی اور نیک‘ پاکیزہ لوگوں اور راہ حق کے مجاہدوں نے کامیابی حاصل کی۔
اب رہی بات اس کامیابی کے الٰہی پہلو کی تو الٰہی پہلو سے جو چیز سلسلہ تاریخ میں ظہور پذیر ہو کر تکامل کی منزلوں سے گذرتی ہے اور بالآخر تاریخ اپنی انتہا کو پہنچتی ہے‘ وہ ربوبیت اور رحمت الٰہی کا ظہور اور اس کی تجلی ہے‘ جو تکامل موجودات کا تقاضا کرتی ہے۔ صرف عدل الٰہی نہیں جو ”صلہ“ کی متقاضی ہے۔ بعبارت دیگر جس بات کی خوشخبری دی گئی ہے‘ وہ خدا کی ربوبیت‘ رحیمیت اور اس کی اکرمیت کا ظہور ہے‘ صرف جباریت و منتقمیت نہیں۔
پس ہم دیکھتے ہیں کہ استضعاف کی‘ استخلاف کی اور اس سے مشابہ آیتوں میں ہر آیت ایک خاص طریقہ کار کو پیش کرتی ہے۔ کامیاب طبقے کے اعتبار سے‘ اس راہ کے اعتبار سے جسے تاریخ طے کر کے کامیابی تک پہنچتی ہے‘ میکانزم یعنی تاریخ کو حرکت میں لانے والے عوامل کے اعتبار سے ایک خاص طریقہ کار سامنے آتا ہے۔ ضمناً یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ استخلاف کی آیت کے مقابل استضعاف کی آیت سے حاصل ہونے والی چیز جزوی بلکہ ایک معمولی جزو ہے‘ استضعاف کی آیت سے حاصل ہونے والے مطلب کا‘ یعنی استضعاف کی آیت دفع ظلم یا مظلوم سے اللہ کی حمایت کے جس مفہوم کو پیش کرتی ہے‘ وہ استخلاف کی آیت کے مفاہیم کا ایک حصہ ہے۔
اب ہم آیہ استضعاف کے بارے میں بحث کے دوسرے حصے کی طرف آتے ہیں: حقیقت تو یہ ہے کہ استضعاف کی آیت نے ہرگز کسی کلی اصول کو پیش نہیں کیا‘ یہی وجہ ہے کہ اس نے نہ تو تاریخ کی راہ کی وضاحت کی ہے اور نہ تاریخی میکانزم کے بارے میں کوئی اشارہ کیا ہے اور نہ ہی تاریخ کی کامیابی کو مستضعفوں کے حصے میں اس اعتبار سے کہ وہ مستضعف ہیں‘ دیا ہے۔ یہ غلطی ہے کہ یہ آیت ایک کلی اصول کو پیش کرتی ہے‘ اس لئے ہوئی کہ اس آیت کو اپنی پہلی اور بعد کی مرتبط آیت سے جدا کر کے ”الذین“ کو ”الذین استضعفوا“ کے مفہوم میں مفید عموم اور سب کے شامل حال بنا دیا گیا ہے اور پھر اس سے ایک ایسے اصول کا استنباط کیا گیا ہے‘ جو آیہ استخلاف کے حقیقی مفہوم کی ضد ہے‘ اب ہم ان تینوں آیتوں کو پیش کرتے ہیں:
ان فرعون علافی الارض و جعل اھلھا شیعاً یستضعف طائفة منھم یذبح ابنآئھم و یستحییٰ نسائھم انہ کان من المفسدین۔ و نرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض و نجعلھم آئمة و نجعلھم الوارثین۔ ونمکن لھم فی الارض و نری فرعون و ھامان و جنود ھما منھم ما کانوا یحذرون(سورئہ قصص‘ آیات ۴ تا ۶)
یہ تینوں آیتیں ایک دوسرے سے مرتبط ہیں اور مجموعاً ایک ہی مفہوم کو پیش کرتی ہیں‘ ان تینوں مرتبط آیتوں کا مفہوم یہ ہے:
”فرعون نے زمین پر برتری حاصل کی اور زمین کے باسیوں کو گروہوں میں بانٹ دیا۔ ان گروہوں میں سے ایک گروہ کو وہ کمزور رکھتا تھا‘ ان کے بیٹوں کو ذبح کیا کرتا تھا اور (صرف) ان کی بیٹیوں کو باقی رکھتا تھا۔ وہ مفسدوں میں سے تھا حالانکہ ہمارے ارادے میں یہ بات تھی کہ ہم فرعون کی طرف سے کمزور بنائے جانے والے انہی لوگوں پر احسان کریں۔ ان کو پیشوا بنائیں‘ انہیں وارث قرار دیں اور اس سرزمین میں ان کو تسلط عطا کریں اور فرعون‘ (اس کے وزیر) ہامان اور ان دونوں کے لشکر کو وہ کچھ دکھا دیں‘ جس کا وہ خوف کیا کرتے تھے۔“
ہم دیکھتے ہیں کہ ”ونمکن لھم فی الارض“ کا جملہ اور تیسری آیت کے ”ونری فرعون و ہامان…“ کا جملہ دونوں دوسری آیت کے ”ان نمن“ کے جملے پر عطف ہیں اور اس کے مفہوم کو مکمل کرتے ہیں‘ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں آیتوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ تیسری آیت کا دوسرا جملہ ”ونری فرعون و ہامان“ پہلی آیت کے مفہوم سے متصل ہے اور فرعون جس کی جباریت پہلی آیت میں بیان ہو چکی ہے‘ کا انجام پیش کرتی ہے۔ پس تیسری آیت کو پہلی آیت سے جدا نہیں کیا جا سکتا اور چونکہ تیسری آیت دوسری پر عطف ہے اور اسے مکمل کرنے والی ہے‘ لہٰذا دوسری آیت بھی پہلی آیت سے جدا نہیں ہو سکتی۔
اگر تیسری آیت نہ ہوتی یا اس میں فرعون یا ہامان کے انجام کا تذکرہ نہ ہوتا‘ تو ممکن تھا کہ دوسری آیت کو پہلی آیت سے جدا کر دیا جاتا اور اس سے ایک کلی اصول کے طور پر استفادہ کیا جاتا‘ لیکن ان تینوں آیتوں کا ناقابل تفکیک جوڑ اسے کلی اصول بنانے میں رکاوٹ ہے۔ جو بات سامنے آتی ہے‘ وہ یہ ہے کہ فرعون بڑائی‘ تفرقہ بازی‘ استحصال اور فرزندکشی کرتا تھا‘ حالانکہ اسی وقت ہمارا یہ ارادہ تھا کہ ہم انہی محقر‘ مظلوم اور محروم لوگوں پر احسان کریں اور انہیں پیشوا اور وارث قرار دیں۔ پس آیت میں لفظ ”الذین“ کا موعود یعنی مذکورہ لوگوں کی طرف اشارہ ہے‘ عمومی اور سب لوگوں پر محیط نہیں۔ علاوہ ازیں اس آیت میں ایک نکتہ اور بھی ہے اور وہ یہ کہ ”و نجعلھم آئمہ…“ کا جملہ ” ان نمن“ کے جملے پر عطف ہے‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان پر احسان کریں اور انہیں فلاں‘ فلاں بنا دیں یہ نہیں کہا: ”بان نجعلھم…“ یعنی جو احسان ہم نے ان پر کیا ہے‘ وہ امامت و وراثت ہی کا دینا تھا‘ جیسا کہ عام طور پر اسی طرح وضاحت کی جاتی ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا ارادہ یہ تھا کہ ہم ان مستضعفین پر دینی تعلیم و تربیت‘ آسمانی کتاب‘ ارسال رسول اور توحیدی اعتقادات کے ذریعے احسان کریں‘ انہیں اہل ایمان اور اہل صلاح و فلاح بنائیں اور آخرکار انہیں زمین (انسان کی اپنی زمین) کا وارث اور امام قرار دیں۔ پس یہ آیت کہنا چاہتی ہے:
”و نرید ان نمن علی الذین استضعفوا (بموسی والکتاب الذی ننزلہ علی موسی) و نجعلھم آئمہ…“
لہٰذا استضعاف کی آیت کا مفہوم ہرچند کہ خاص ہے‘ لیکن استخلاف کی آیت کے مفہوم کے عین مطابق ہے‘ یعنی اس آیت کے مصادیق میں سے ایک مصداق کو بیان کرتی ہے۔ قطع نظر اس سے کہ ”ان نمن“ کے جملے پر ”ونجعلھم آئمہ…“ کے جملہ کا عطف اس طرح کا حکم دیتا ہے‘ بنیادی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آیت یہ کہنا چاہتی ہے کہ بنی اسرائیل مستضعف ہونے کے سبب وراثت اور امامت تک پہنچتے تھے۔ خواہ جناب موسیٰ۱۱ پیغمبر کی حیثیت سے ظہور کرتے یا نہ کرتے‘ خواہ موسیٰ۱ کی آسمانی تعلیمات آتیں یا نہ آتیں‘ خواہ وہ ان کی تعلیمات کو مانتے یا نہ مانتے۔ ممکن ہے اسلام کے نقطہ نگاہ سے نظریہ مادیت تاریخ کے حامی افراد کسی اور بات کو پیش کریں اور کہیں کہ اسلامی کلچر باعتبار روح و معانی یا کمزور اور مستضعف طبقے کی ثقافت ہے یا پھر اس کا تعلق استحصالی طبقے سے ہے یا ایک جامع کلچر ہے‘ اگر اسلامی کلچر مستضعف طبقے کا کلچر ہے‘ تو پھر اس میں بہرحال اپنے طبقے کا رنگ ہونا چاہئے۔ اس کے مخاطب اس کی ذمہ داری‘ اس کی سمت کا تعین‘ سبھی کچھ استضعاف کے محور پر ہونا چاہئے اور اگر اسلامی کلچر کو ظالم یا استحصالی طبقے سے نسبت دی جائے‘ جیسا کہ مخالفین اسلام کا دعویٰ ہے‘ تو علاوہ بریں کہ اس میں طبقاتی رنگ ہو گا ایک طبقہ کے محور پر اس کی گردش ہو گی۔ اس کا کلچر رجعت پسندانہ اور خلاف انسانیت ہو گا اور نتیجتاً الٰہیت سے اس کا واسطہ نہ ہو گا۔
کوئی مسلمان اس نظریے کو ماننے کے لئے تیار نہ ہو گا۔ اس کے علاوہ اس کے کلچر کا سراپا خود اس کے خلاف گواہی دے گا۔ اب صرف یہ بات رہ جاتی ہے کہ کہا جائے کہ اسلامی ثقافت ایک جامع ثقافت ہے‘ جامع ثقافت یعنی غیر جانبدار ثقافت‘ بے پرواہ ثقافت‘ غیر ذمہ دار ثقافت‘ بے مقصد‘ لایعنی ثقافت اور اعتزالی ثقافت‘ جو چاہتی ہے کہ اللہ کے کام کو اللہ اور قیصر کے کام کو قیصر کے حوالے کرے۔ ایک ایسی ثقافت جو آگ اور پانی‘ ظالم اور مظلوم اور استحصال گر اور استحصال کے شکار لوگوں کے درمیان دوستی چاہتی ہے اور سب کو ایک مرکز پر جمع کرنا چاہتی ہے۔ وہ ثقافت جس کا نعرہ یہ ہے کہ ”نہ سیخ جلے اور نہ کباب“ اس قسم کی ثقافت ایک قدامت پرستانہ ثقافت ہے‘ جو ظالم استضعاف گر اور استحصال پسند افراد کے حق میں مفید ثابت ہوتی ہے۔ جس طرح اگر ایک گروہ غیر جانبدارانہ‘ بے توجہانہ‘ غیر ذمہ دار اور عزلت پسندانہ روش اختیار کرے اور غارت گر اور غارت کے شکار افراد کے درمیان اجتماعی یا معاشرتی جھگڑوں میں حصہ نہ لے‘ تو گویا اس نے غارت گر کا ساتھ دیا ہے اور اس کے ہاتھ مضبوط کئے ہیں‘ اسی طرح اگر ایک ثقافت بے توجہ اور غیر جانبدار بن جائے تو ہمیں چاہئے کہ ہم اسے ظالم یا استحصالی طبقے کی ثقافت سمجھیں‘ پس چونکہ اسلامی ثقافت ایک بے پرواہ‘ غیر جانبدار یا استحصالی طبقے کی حامی نہیں ہے‘ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم اسے مستضعف یا مظلوم طبقے کی ثقافت جانیں اور اس کے پیام‘ اس کے مخاطب اور اس کی معین راہ کو اسی طبقے کے محور اور دائرئہ عمل میں شمار کریں۔
یہ گفتگو انتہائی غلط گفتگو ہے۔ غالباً مادیت تاریخ سے بعض مسلمان روشن فکروں کے لگاؤ کا اصلی سبب دو باتیں ہیں‘ جن میں سے ایک یہی سوچ ہے کہ اگر اسلامی ثقافت کو انقلابی ثقافت کہنا چاہتے ہیں یا اگر اسلام کو کسی انقلابی ثقافت سے جوڑنا چاہتے ہیں‘ تو مادیت تاریخ سے رشتہ جوڑے بغیر یہ کام نہیں ہو سکتا۔ باقی یہ تمام باتیں کہ ہماری قرآنی معرفت ہمیں یہ سوچ دیتی ہے یا قرآن کے ہمارے مطالعات ہمیں یہ بتاتے ہیں یا استضعاف کی آیت یہ کہتی ہے‘ سب ایک بہانہ اور پہلے سے سوچتی ہوئی بات کی توجیہ ہے اور اسی بناء پر یہ لوگ اسلامی فکر و سوچ سے بہت دور نکل جاتے ہیں اور اسلام کی الٰہی‘ فطری‘ انسانی اور پاکیزہ منطق کو ختم کر کے مادی منطق تک لے آتے ہیں۔
اس قسم کے روشن فکر حضرات سوچتے ہیں کہ کسی ثقافت کے انقلابی ہونے کی تنہا راہ یہ ہے کہ اس کا تعلق صرف محروم اور استحصال زدہ افراد سے ہو‘ وہ اسی طبقے سے اٹھی ہو‘ اس کا رخ اسی طبقے کی طرف ہو‘ اسی طبقے کے مفادات کی طرف اس کی نگاہ ہو‘ اس کا مخاطب صرف یہی طبقہ‘ اس کے قائدین‘ اس کے رہنما اور اس کے تمام اجتماعی اور طبقاتی مراکز سب کے سب اسی طبقہ سے ہوں اور باقی تمام گروہوں اور مراکز سے اس کا رابطہ صرف جھگڑے‘ دشمنی اور جنگ کا ہو‘ اس کے علاوہ نہیں‘ ان روشن فکر حضرات کا خیال ہے کہ انقلابی ثقافت کی راہ لازماً ”پیٹ“ کے مسئلے پر آ کر ختم ہوتی ہے اور تاریخ کے تمام عظیم انقلابات یہاں تک کہ انبیاء۱ الٰہی کی قیادت میں برپا ہونے والے انقلابات کا تعلق بھی پیٹ کے مسئلے ہی سے تھا‘ لہٰذا انہوں نے عظیم المرتبت ابوذر‘ حکیم امت ابوذر خدا پرست ابوذر‘ مخلص ابوذر‘ امعربالمعروف کرنے والے اور نہی عن المنکرکرنے والے ابوذر اور اور مجاہد فی سبیل اللہ ابوذر کو ایک بندئہ شکم ابوذر اور نفسیاتی الجھنوں کا شکار ابوذر بنا دیا اور کہا کہ وہ بھوک کو اچھی طرح محسوس کرتا ہے اور اسی بھوک کی خاطر وہ تلوار اٹھانے اور لوگوں کے قتل کرنے کو جائز بلکہ واجب و لازم سمجھتا تھا۔ اس کی سب سے بڑی صفت یہ تھی کہ چونکہ وہ خود بھوک کا مزہ چکھ چکا تھا‘ اس لئے جانتا تھا کہ اس کے طبقے سے وابستہ بھوکوں پر کیا گذر رہی ہے‘ مخلوق کی بھوک کا بھی اسے اچھی طرح احساس تھا اور اسی لئے اس بھوک کے اسباب فراہم کرنے والے گروہ کے خلاف اس کے دل میں نفرت بیٹھ گئی اور وہ اس گروہ کے خلاف مسلسل اپنی جدوجہد میں لگا رہا اور بس! اس لقمان امت‘ موحد‘ عارف اور اسلام کے پاک باز مجاہد مومن کی شخصیت بس اسی منزل پر تمام ہوتی ہے۔ یہ روشن فکر حضرات سمجھتے ہیں کہ مارکس کے نظریے کے مطابق:
”انقلاب‘ صرف ایک قہر آلود قیام اور عوامی تحریک ہی سے وجود میں آ سکتا ہے۔“
ان کی سوچ میں یہ بات نہیں آتی کہ ایک ثقافت‘ ایک مکتب‘ ایک آئیڈیالوجی الٰہی غرض و غایت کی حامل ہو اور اس کا مخاطب انسان بلکہ درحقیقت فطرت انسانی ہو اور اس کا پیغام آفاقی اور ہمہ گیر ہو اور مقصد عدالت‘ مساوات‘ برابری‘ پاکیزگی‘ معنویت‘ احسان‘ محبت اور ظلم کے خلاف جنگ ہو‘ تو وہ بھی ایک عظیم تحریک اور ایک عمیق انقلاب برپا کر سکتی ہے۔
لیکن ایک الٰہی انسانی انقلاب کہ جس میں الٰہی ولولہ‘ معنوی مسرت‘ خدائی جذبہ اور انسانی اقدار موجزن ہوں‘ اس کی ہمیں تاریخ میں بہت سی مثالیں ملتی ہیں‘ ایران کا اسلامی انقلاب اس کا ایک روشن نمونہ ہے۔
روشن فکر حضرات یہ بات نہیں سوچ سکتے کہ کسی ثقافت کے ٹھوس اور بامقصد ہونے اور غیر جانبدار اور بے تعلق نہ ہونے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ محروم اور پسے ہوئے طبقے سے تعلق رکھتی ہو۔ ان کا خیال ہے کہ جامع ثقافت لازمی طور پر غیر جانبدار اور لاتعلق ہوتی ہے۔ یہ سوچنے میں ان کی فکر ان کا ساتھ نہیں دیتی کہ ایک جامع مکتب اور ایک جامع ثقافت اگر الٰہی جذبہ کی حامل ہو اور اس کا مخاطب انسان یعنی انسان کی انسانی فطرت ہو‘ تو محال ہے کہ وہ غیر جانبدار‘ لاتعلق‘ بے مقصد اور غیر ذمہ دار ہو‘ جو چیز مقصدیت اور مسئولیت پیدا کر لیتی ہے‘ وہ محروم طبقہ سے نہیں‘ اللہ اور انسانی وجدان سے وابستگی ہے۔
یہ ان حضرات کی غلط فہمی کی ایک بنیادی وجہ ہے۔ اسلام اور انقلاب کے درمیان رابطے کے تصور کے بارے میں یہ لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا رہے ہیں‘ اس غلط فہمی کی دوسری بنیادی وجہ اسلام اور اس کے اجتماعی راہ عمل کے غلط تصور سے متعلق ہے۔ ان روشن فکروں نے انبیاء۱ کی تحریکوں کے بارے میں قرآن کی تاریخی تفسیر میں بڑی وضاحت سے مشاہدہ کیا ہے کہ ان کی طرف سے مستضعفین کے مفاد میں ایک مضبوط راہ عمل متعین کی گئی ہے‘ دوسری طرف ”محور“ اور راہ عمل کے درمیان مطابقت کے قانون یعنی ”اجتماعی بنیاد اور اعتقادی عملی بنیاد کے درمیان تطابق“ جو ایک مارکسی قانون ہے‘ کو یہ روشن فکر حضرات ناقابل تفکیک سمجھتے تھے اور اس کے علاوہ کچھ اور سوچ بھی نہیں سکتے‘ لہٰذا انہوں نے مجموعاً یہ نتیجہ اخذ کیا کہ چونکہ واضح طور پر قرآن پیش رفت کرنے والی اور مقدس تحریکوں کے راہ عمل کو مستضعفوں کے حقوق‘ ان کی آزادی میں مفاد میں جانتا ہے‘ لہٰذا قرآن کی رو سے تمام مقدس اور پیش رفت کرنے والی تحریکوں کا محور محروم‘ مستضعف اور تباہ حال طبقہ ہے۔ پس باعتبار قرآن تاریخ کی ہویت مادی اور اقتصادی ہے اور اقتصاد ہی اصل اساس ہے۔
اب تک جو کچھ ہمارے معروضات رہے‘ ان سے یہ ثابت ہوا کہ چونکہ قرآن اصول فطرت کا قائل ہے اور انسانی زندگی پر حاکم ایک ایسی منطق رکھتا ہے‘ جسے فطری منطق کہنا چاہئے اور اس کے مدمقابل حصول منفعت کی منطق ہے‘ جسے حیوان صفت پست انسانی منطق کہنا چاہئے‘ لہٰذا اسلام ”محور اور راہ عمل کے درمیان مطابقت“ یا ”اجماعی بنیاد اور اعتقادی بنیاد کے تطابق“ کے قانون کو نہیں مانتا‘ اسے ایک غیر انسانی اصول قرار دیتا ہے‘ یعنی اس تطابق کے مصداق وہ لوگ نہیں‘ جو تربیت یافتہ اور انسانیت کے درجہ پر فائز ہیں اور جن کی منطق‘ منطق فطرت ہے‘بلکہ وہ لوگ ہیں‘ جنہوں نے ابھی انسانیت تک رسائی حاصل نہیں کی اور جو انسانی تربیت سے بے بہرہ ہیں اور جن کی منطق حصول مفاد پر مبنی ہے۔
 

صرف علی

محفلین
ان باتوں سے ہٹ کر یہ جو ہم کہتے ہیں کہ اسلام کا عملی راستہ مستضعفین کے مفاد میں ہے‘ ایک طرح کے مجاز اور سہل اندیشی سے خالی نہیں ہے۔ اسلام عدالت‘ مساوات اور برابری کی سمت اپنا راستہ معین کرتا ہے۔ ظاہر ہے یہ راہ محروموں اور مستضعفوں کے لئے مفید اور استحصال کرنے والے غارت گروں کے لئے مضر ثابت ہوتی ہے۔
اسلام وہاں بھی جہاں کسی طبقہ کے حقوق و منافع کا تحفظ چاہتا ہے‘ اس کا اصلی ہدف ایک انسانی اصول کا قیام اور اس کی عظمت کا اظہار ہوتا ہے۔ یہ وہ منزل ہے‘ جہاں ایک بار پھر اس ”اصول فطرت“ کی غیر معمولی منزل کا اندازہ ہوتا ہے جسے قرآن واضح طور پر بیان کرتا ہے اور جسے اسلامی ثقافت اور اسلامی تعلیمات میں ”ام المعارف“ کے عنوان سے پہچانا جانا چاہئے۔
فطرت کے بارے میں بہت کچھ کہا جاتا ہے‘ لیکن اس کی گہرائی اور اس کی مختلف جہتوں کی وسعت کی طرف بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ ایسے لوگوں کی کمی نہیں‘ جو فطرت کے بارے میں بہت دم مارتے ہیں‘ لیکن اس کی وسیع جہات پر پوری توجہ نہ ہونے کے سبب آخرکار جو نظریات اخذ کرتے ہیں‘ وہ اس اصول کے مخالف ہوتے ہیں۔
اسی طرح کا اشتباہ بلکہ اس سے بھی زیادہ وحشت ناک اشتباہ خود مذاہب کے محور و مقصد کے بارے میں رونما ہوا ہے۔ اب تک ہم نے جو گفتگو کی وہ مذہب (البتہ مذہب اسلام) کے نقطہ نظر سے تاریخی واقعات کی ہویت اور اس کے مرکز طلوع کے بارے میں تھی۔ اب ہم تاریخ کے ایک معاشرتی مظہر کے عنوان سے خود مذہب پر گفتگو کریں گے‘ جو آغاز تاریخ سے اب تک موجود رہی ہے۔ پہلے اس معاشرتی حقیقت کی متعین راہ اور اس کے محور و مرکز کو واضح کرنا چاہئے۔
ہم مکرر عرض کر چکے ہیں کہ مارکسی تاریخی مادیت اس اصول کو پیش کرتی ہے کہ جس کے مطابق وہ ہر ثقافتی حقیقت کے محور و مقصد اور اس کی متعین راہ کے درمیان قانون تطابق کی قائل ہوتی ہے۔
درحقیقت عرفاء اور حکماء الٰہی نظام ہستی کے حالات و واقعات میں جس اصول کے قائل ہیں‘ وہ ”النھایات ھی الرجوع الی البدایات“ ہے‘ یعنی انجام دراصل آغاز کی سمت بازگشت ہے۔
مولانا روم نے کہا:
جزئہا را رویہا سوی کل است
بلبلانرا عشق با روی گل است
”اجزاء کا رخ کل کی طرف ہے‘ بلبلوں کو روئے گل سے عشق ہوتا ہے۔“
آنچہ از دریا بہ دریا می رود
از ہمانجا کامد آنجا می رود
”جو کچھ سمندر سے آتا ہے‘ سمندر کی طرف چلا جاتا ہے‘ جہاں سے آتا ہے‘ وہیں چلا جاتا ہے۔“
از سرکہ سیلہائی تیز رو
و زتن ما جان عشق آمیز رو
”کوہسار کی چوٹیوں سے تیز رفتار ندیاں نکلتی ہیں اور ہمارے جسم سے عشق سے معمور روح نمایاں ہوتی ہے۔“
مارکسزم بھی فطری‘ ذوقی‘ فلسفی‘ مذہبی اور حتیٰ ثقافتی‘ اجتماعی امور میں ایسی ہی بات کرتا ہے۔ یہ مکتب اس بات کا مدعی ہے کہ ہر فکر کی سمت اس طرف ہوتی ہے‘ جہاں سے وہ اٹھتی ہے‘ یعنی ”النہایات ھی الرجوع الی البدایات“ نہ غیر جانبدار اور بے طرف سوچ‘ فکر‘ مذہب اور ثقافت ایک ایسا وجود ہے اور نہ ایسی جانبدار سوچ‘ فکر‘ مذہب اور ثقافت موجود ہے‘ جو ایک ایسے اجتماعی نظریے کو آگے بڑھانے کی خواہش مند ہو‘ جس سے اس کا کوئی رشتہ اور تعلق نہ ہو‘ اس مکتب کی رو سے ہر طبقہ اپنے سے متعلق ایک خاص فکر و ذُق کا حامل ہے۔
اس اعتبار سے طبقاتی اور منقسم معاشروں میں حیات اقتصادی کی رو سے دو طرح کے احساسات‘ دو فلسفی طرز تفکر‘ دو اخلاقی نظام‘ دو طریقے کے آرٹ‘ دو نوعیت کا شعر و ادب‘ ہستی کے بارے میں دو طرح کا ذوق اور احساس و نظر اور کبھی دو طرح کا علم پایا جاتا ہے اور جب اصل بنیاد اور روابط مالکیت کی دو صورتیں ہو جاتی ہیں‘ تو باقی تمام چیزیں بھی دو شکلوں اور دو سسٹمز میں بٹ جاتی ہیں۔
مارکس ذاتی طور پر ان دو نظاموں کے عمل میں مذہب اور حکومت کے استثناء کا قائل ہے۔ مارکس کی نگاہ میں یہ دونوں چیزیں استحصالی طبقے کی خاص ایجاد اور اس طبقے کی منفعت جوئی کا ایک خاص ذریعہ ہیں اور طبیعی طور پر ان دونوں کی پالیسی کی سمت اور جدوجہد کا رخ اسی طبقے کے فائدے میں ہے۔ استحصال کا شکار طبقہ اپنے اجتماعی حالات کی بنیاد پر نہ مذہب کو جنم دیتا ہے اور نہ حکومت کو۔ مذہب اور حکومت دونوں مخالف طبقے سے اس کے سر تھوپے جاتے ہیں۔ پس نہ مذہب میں دو سسٹمز ہیں اور نہ حکومت میں۔ بعض مسلمان روشن فکروں کا کہنا ہے کہ مارکس کے نظریہ کے برخلاف مذہب پر بھی دو سسٹمز کا عمل حکم فرما ہے۔
ان کے خیال میں:
”جس طرح طبقاتی معاشروں میں اخلاقی‘ فنی‘ ادبیاتی اور تمام ثقافتی امور دو سسٹمز پر مشتمل ہیں اور ہر سسٹم کا محور اور مقصد اس کا مخصوص طبقہ ہے‘ ایک سسٹم کا تعلق حاکم اور دوسرے کا محکوم طبقہ سے ہے‘ اسی طرح مذہب بھی دو سسٹمز کے نظام پر مشتمل ہے اور ہمیشہ ہر معاشرے میں دو مذہبوں کا وجود رہا ہے‘ ایک حاکم طبقے کا مذہب اور دوسرے محکوم طبقے کا۔“
”مذہب حاکم مذہب شرک اور مذہب محکوم مذہب توحید ہے‘ مذہب حاکم بے جا امتیازات کا مذہب اور مذہب محکوم مساوات اور برابری کا مذہب ہے‘ مذہب حاکم موجود صورت حال کی حمایت اور مذہب محکوم انقلاب اور موجود صورت حال کی مذمت کا مذہب ہے۔ مذہب حاکم جمود‘ سکون‘ سکوت اور مذہب محکوم قیام‘ حرکت اور آواز بلند کرنے کا مذہب ہے۔ مذہب حاکم معاشرے کے لئے افیون اور مذہب محکوم معاشرے کی قوت ہے۔“
”پس مارکس کا یہ نظریہ کہ ہمیشہ مذہب کا رخ حاکم طبقے کے مفاد میں اور محکوم طبقے کے خلاف ہوتا ہے اور مذہب معاشرے کے لئے افیون ہے‘ اس مذہب پر صادق آتا ہے‘ جس کا محور حاکم طبقہ ہے اور اس وقت صرف وہی مذہب تھا کہ جس کا عملاً وجود تھا اور جس کی حکمرانی تھی۔ محکوم طبقہ کے مذہب یعنی انبیاء اکرام۱ کا مذہب کہ جس نے حاکم نظاموں کو ہرگز اپنے اوپر چھانے کی اجازت نہیں دی‘ سے متعلق نہیں ہے‘ ان روشن فکروں نے اس طرح حاکم طبقے کے فائدے میں مذہب کی کارروائی سے متعلق مارکس کے نظریے کو رد کر کے یہ سمجھ لیا کہ انہوں نے مارکسزم کی تردید کی ہے۔ انہوں نے نہیں سوچا کہ خود ان کی گفتگو اگرچہ مارکس‘ اینجلز‘ ماؤ اور مارکسزم کے تمام قائدین کے نظریہ کے خلاف ہے‘ لیکن مذہب کے بارے میں عیناً ایک مارکسی اور مادی توجیہ ہے‘ جو انتہائی خطرناک ہے اور ہرگز اس پر ان کی توجہ نہیں گئی کیونکہ انہوں نے بہرحال محکوم مذہب کے لئے طبقاتی عنصر کو فرض کر کے محور اور راہ عمل کے درمیان مطابقت کے قانون کی تصدیق کی ہے۔ دوسرے لفظوں میں انہوں نے ماہیت مذہب اور ہر ثقافت سے وجود پذیر ہونے والی حقیقت کے مادی ہونے اور ایک ثقافتی تخلیق کے محور اور اس کے راہ عمل کے درمیان مطابقت یقینی ہونے کے قانون کو غیر شعوری طور پر تسلیم کیا ہے اور اہم بات یہ ہے کہ وہ مارکس اور مارکسٹوں کے نظریے کے برخلاف ایسے مذہب کے وجود کے بھی قائل ہوئے ہیں‘ جس کا محور و مقصد محروم اور تباہ حال طبقہ ہے‘ انہوں نے محکوم مذہب کی راہ عمل کے اعتبار سے حقیقتاً ایک دلچسپ توجیہ کی ہے‘ لیکن محور و مقصد کی ماہیت کے اعتبار سے ایسی توجیہ نہیں کر سکے‘ جسے بہرحال مادی اور طبقاتی قبول کرنا پڑا۔“
اس سے حاصل ہونے والا نتیجہ کیا ہے؟ یہ ہے کہ صرف حکمران طبقے سے تعلق رکھنے والا مذہب شرک اور مذہب حاکم ہی وہ عینی تاریخی مذہب ہے‘ جو زندگی پر اپنا اثر قائم کئے ہوئے ہے‘ اس لئے کہ ان کے پس پشت جبر تاریخ کا ہاتھ ہے۔ ان کے اختیار میں اقتصادی اور سیاسی طاقت رہی ہے اور اسی لئے ان کا مذہب بھی جو ان کے مفادات کا آئینہ دار تھا‘ چھپا رہتا تھا‘ لیکن مذہب توحید ایک بیرونی اور عینی وجود کی صورت میں معاشرے میں نہ اتر سکا۔ اس نے معاشرے میں کوئی تاریخی کردار ادا نہیں کیا اور نہ کر سکتا تھا کیونکہ عمارت بنیاد پر سبقت نہیں لے جا سکتی۔
”اس اعتبار سے انبیاء۱ کی توحیدی تحریکیں تاریخ کی محکوم اور شکست خوردہ تحریکیں ہیں اور اس کے علاوہ ہو بھی نہیں سکتی تھیں۔ توحیدی مذہب کے انبیاء۱ نے برابری کے مذہب کو پیش کیا ہے‘ لیکن اس کے بعد زیادہ عرصہ نہیں گذرا کہ شرک کے مذہب نے انبیاء۱ کی تعلیمات کے پس پردہ‘ نقاب توحید تلے اپنا کام جاری رکھا اور ان تعلیمات کی تحریف کے بعد اسی کو اپنی غذاء بنا کر پہلے سے زیادہ طاقت ور ہو گیا اور محروم طبقے کی ایذا رسانی میں مزید قوت حاصل کی۔“
”درحقیقت سچے نبیوں نے اپنی تمام تر کوششوں کے بعد لوگوں کے لئے کچھ سر و سامان کا انتظام کیا‘ لیکن وہی چیز لوگوں کے لئے بلائے جان بن گئی اور مخالف طبقے نے اسے اپنا آلہ کار بنا کر محروم اور بے کس و برباد لوگوں کے گلے کی رسی کو تنگ کر دیا۔ انبیاء۱ اپنی تعلیمات کے ذریعے جس چیز کو پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتے تھے‘ وہ نہ پہنچ سکی اور جو کچھ ہوا‘ وہ ان کا مقصود نہ تھا۔“ بہ تعبیر فقہا:
ماقصد لم یقع وما وقع لم یقصد
”یعنی جو قصد کیا گیا‘ واقع نہ ہوا اور جو واقع ہوا‘ مقصود نہ تھا۔“
”یہ جو مادہ پرست اور مذہب دشمن عناصر کہتے ہیں‘ دین معاشرے کی منشیات کی طرح ہے‘ جمود اور رکاوٹ کا عمل ہے‘ مظالم اور بے جا امتیازات کی توجیہ کرنے والا ہے‘ جہل کا محافظ ہے اور عوام الناس کے لئے افیون ہے‘ بالکل درست ہے‘ لیکن اس مذہب کے لئے جو مسلط‘ مشرک اور بے جا امتیازات کا حامل ہے اور جو تاریخ پر چھایا رہا ہے‘ لیکن یہ بات سچے مذہب کے لئے جھوٹ ہے‘ جو توحیدی اور محکوم و مستضعف لوگوں کا مذہب ہے اور جسے ہمیشہ اوراق حیات اور تاریخ کے صفحات سے دور رکھا گیا ہے۔“
”وہ تنہا کردار جسے محکوم مذہب نے ادا کیا ہے‘ اعتراض اور عمل تنقید ہے اور یہ بات ایسی ہی ہے‘ جیسے کوئی پارٹی قانون ساز ادارے میں اکثریت سے کامیاب ہو اور حکومت بنائے اور اپنے پروگرام اور اپنے فیصلوں کو روبہ عمل لائے اور دوسرا گروہ ہرچند زیادہ قابل اور زیادہ ترقی یافتہ ہو‘ مگر ہمیشہ اقلیت میں پڑا رہے‘ تو اس سے بجز اس کے اور کچھ نہ ہو گا کہ وہ اکثریت کے کاموں پر تنقید اور اعتراض کرتا رہے۔“
”اکثریت کی حامل پارٹی تنقیدوں پر کان نہیں دھرتی اور معاشرے کو جس نہج پر چلانا چاہتی ہے‘ چلاتی ہے اور کبھی کبھی اقلیت کے اعتراضات اور انتقادات سے اپنے کام کو استحکام بخشنے کے لئے استفادہ کرتی ہے۔ اگر ان انتقادات کا وجود نہ ہوتا‘ تو ممکن تھا‘ وہ خود ایک دباؤ کے زیراثر ایک دن ختم ہو جاتی‘ لیکن اقلیت کی تنقیدیں اسے متنبہ کرتی رہتی ہیں اور وہ اپنے آپ کو سنبھالتی رہتی ہے اور اسی کے ذریعے اس کی پوزیشن مستحکم تر ہوتی چلی جاتی ہے۔“
مذکورہ بیان کسی اعتبار سے درست نہیں‘ نہ مذہب شرک کی ماہیت سے متعلق تجزیہ کے اعتبار سے اور نہ مذہب توحید کی ماہیت سے متعلق تجزیہ کے اعتبار سے اور نہ ہی اس کردار کے اعتبار سے جسے تاریخ نے ان دونوں مذاہب کے بارے میں پیش کیا ہے‘ بلاشبہ مذہب کا وجود دنیا میں ہمیشہ رہا ہے۔ اس سے صرف نظر کرتے ہوئے کہ وہ مذہب توحید ہو یا مذہب شرک یا پھر دونوں طرح کے‘ ماہرین عمرانیات کی رائے اس بارے میں مختلف ہے کہ کیا مذہب شرک کو مذہب توحید پر زمانے کے اعتبار سے تقدم حاصل ہے یا اس کے برعکس مذہب توحید مذہب شرک پر مقدم ہے‘ بیشتر افراد کی رائے یہ ہے کہ پہلے مذہب شرک وجود میں آیا اور پھر اس نے بتدریج ترقی کی اور توحید تک پہنچا اور بعض اس کے برعکس کہتے ہیں۔
دینی روایات بلکہ بعض دینی اصول دوسرے نظریے کی تائید کرتے ہیں‘ کیا واقعاً مذہب شرک بے جا امتیازات اور مظالم کی توجیہ کے لئے ظالم اور ستم گر افراد نے ایجاد کیا یا اس کا کوئی اور سبب ہے؟ محققین نے اس کے لئے دوسرے اسباب کا تذکرہ کیا ہے‘ یہ بات اتنی آسانی سے قابل قبول نہیں کہ شرک اجتماعی امتیازات کی پیداوار ہے اور مذہب توحید کی یہ تحلیل کہ یہ امتیازات کے مخالفین‘ یگانگت و بھائی چارے کے موافقین اور محروم طبقے کے مطالبات کے لئے ایک توجیہ ہے‘ یہ پہلی بات سے زیادہ غیر عالمانہ بات ہے۔
علاوہ ازیں یہ بات مبانی اسلام سے بھی ہرگز ہم آہنگ نہیں‘ مذکورہ بیان‘ اللہ کے سچے پیغمبروں کو ”ناکام کامیاب“ کے عنوان سے پیش کرتا ہے۔ ناکام اس اعتبار سے کہ انہوں نے باطل سے شکست کھائی اور تاریخ کے پورے سلسلے میں مغلوب رہے۔ ان کا مذہب معاشرے پر اثرانداز نہ ہو سکا اور نہ ہی کم از کم حاکم اور باطل مذہب جیسا کوئی قابل توجہ کردار اپنے لئے متعین کر سکا۔ مذہب حاکم پر تنقید و اعتراض کے علاوہ اس نے اور کوئی کردار ادا نہیں کیا اور کامیاب اس اعتبار سے کہ مادیت کے حامیوں کے دعوے کے برخلاف ان کا تعلق استعماری اور استحصال پسند طبقے سے نہیں تھا اور یہ لوگ جمود اور رکاوٹوں کے عامل نہیں تھے۔ ان کی متعین راہ اس طبقے کے حق میں نہیں تھی بلکہ اس کے برعکس مستضعف اور استحصال کا شکار ان کے پیش نظر تھے۔ ان لوگوں نے ان کے درد کو سہا تھا‘ انہی میں سے اٹھے تھے اور انہی کے مفاد اور انہی کے کھوئے ہوئے حقوق کو واپس دلانے کے لئے کوشاں تھے۔
سچے انبیاء۱ اپنی رسالت اور روح دعوت کے اعتبار سے کہ جو ان کے محور و مقصد اور طرز عمل سے عبارت ہے‘ کامیاب ہیں‘ اپنی ناکامی کے پہلو کے اعتبار سے بھی مکمل طور پر کامیاب ہیں‘ یعنی وہ خود اپنی ناکامی کے ذمہ دار نہیں ہیں کیونکہ اختصاصی مالکیت کے نتیجے میں ابھرنے والے ”جبر تاریخ“ کا ہاتھ حریف کو تھامے ہوئے ہے۔ اختصاصی مالکیت کے وجود نے جبراً اور قہراً معاشرے کو دو حصوں میں بانٹ دیا ہے‘ ایک حصہ استحصال پسندوں کا تھا اور دوسرا استحصال کے شکار لوگوں کا۔ استحصال پسند جن کے ہاتھ میں مادی پیداوار تھی‘ قہراً معنوی پیداوار کے مالک بھی تھے اور پھر اس جبر تاریخ سے کون پنجہ لڑا سکتا ہے‘ جو قضاء و قدر سے عبارت ہے‘ یہ وہ قضاء و قدر ہے‘ جس کا خدا مادی تعبیر کے اعتبار سے آسمانوں میں نہیں‘ زمین میں ہے اور مجرد نہیں مادی ہے‘ گویا یہ وہی حاکمیت کی طاقت ہے جسے معاشرے کی اقتصادی اساس کا نام دیا جاتا ہے اور جو پیداواری آلات کے گرد گھومتی ہے۔ پس انبیائے الٰہی اپنی ناکامی کے ذمہ دار نہیں ہیں۔
مذکورہ بیان جس کے مطابق انبیاء۱ اپنی ناکامی کے بارے میں بری الذمہ ہیں‘ ہستی کا وہ حقیقی نظام جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک نظام خیر اور نظام حق ہے اور خیر‘ شر پر غلبہ پاتا ہے‘ کے مطابق غلط ثابت ہوتا ہے۔ توحید کے پرستار جو نظام ہستی کو اچھی نگاہ سے دیکھتے ہیں‘ کہتے ہیں کہ نظام ہستی نظام حق ہے‘ نظام خیر ہے‘ اس میں سچائی ہی سچائی ہے۔ شر‘ باطل‘ نادرستی‘ ایک عرضی‘ عارضی‘ طفیلی اور ناپائیدار وجود کی حامل ہے۔ انسان کے نظام ہستی یا نظام اجتماعی کا محور و مدار ”حق“ ہے۔ قرآن حکیم میں ہے:
فاما الزبد فیذھب جفآء و اماما ینفع الناس فیمکث فی الارض
(سورئہ رعد‘ آیت ۱۷)
”پس جو جھاگ ہے وہ کھڑی ہو جاتی ہے اور جو چیز لوگوں کے لئے کارآمد ہے وہ باقی رہتی ہے۔“
اور کہا جاتا ہے کہ حق و باطل کی جنگ میں حق کو کامیابی نصیب ہوتی ہے۔
بل نقذف بالحق علی الباطل فید مغہ فاذا ھوزا ھق(سورئہ انبیاء‘ آیت ۱۸)
”بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینک مارتے ہیں‘ پھر وہ اس باطل کا بھیجہ نکال دیتا ہے‘ (یعنی اس کو مغلوب کر دیتا ہے) سو وہ مغلوب ہو کر دفعةً جاتا رہتا ہے۔“
یہ بھی کہ اللہ کی تائید سچے نبیوں کے ساتھ ہوتی ہے۔
انا لننصر رسلنا والذین آمنوا فی الحیوة الدنیا و یوم یقوم الاشھاد
(سورئہ مومن‘ آیت ۵۱)
”ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیوی زندگی میں مدد ضرور کریں گے اور جس دن گواہ اٹھ کھڑے ہوں گے۔“
ولقد سبقت کلمتنا لعبادنا المرسلین انھم لھم المنصورون وان جندنا لھم الغالبون…
(سورئہ صافات‘ آیت ۱۷۱۔۱۷۳)
”اور اپنے خاص بندوں پیغمبروں سے ہماری بات پکی ہو چکی ہے کہ ان لوگوں کی یقینی مدد کی جائے گی اور ہمارا لشکر تو یقیناً غالب رہے گا۔“
لیکن گذشتہ بیان سے اس اصول کی ترید ہوتی ہے۔ گذشتہ بیان کے اعتبار سے ہرچند کہ تاریخ میں تمام انبیاء‘ تمام رسول اور تمام مصلحین بری الذمہ ثابت ہوتے ہیں‘ لیکن ان پیغمبروں کے خدا پر الزام عائد ہوتا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ مسئلہ بڑا ٹیڑھا ہے۔ ایک طرف تو قرآن عالم کے کلی امور کے بارے میں ایک اچھی نگاہ رکھتا ہے اور اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ ”حق“ ہستی اور انسان کی اجتماعی زندگی کا محور ہے‘ پھر حکمت الٰہی بھی اپنے مخصوص اصول کی بنیاد پر اس بات کی مدعی ہے کہ ہمیشہ شر اور باطل پر خیر اور حق کا غلبہ ہوتا ہے اور شر اور باطل کا وجود عرضی‘ غیر اساسی اور طفیلی ہوا کرتا ہے۔
دوسری طرف گذشتہ اور حال کی تاریخ کا مطالعہ اور مشاہدہ موجودہ نظام کے بارے میں ایک طرح کی بدبینی پیدا کرتا ہے اور اس تصور کو ابھارتا ہے کہ لوگوں کا یہ کہنا بے جا نہیں کہ پوری تاریخ دردناک واقعات‘ مظالم‘ حق کشی اور استحصال کا مرقع ہے۔
کیا کہا جائے؟ کیا ہم نظام ہستی اور انسان کے اجتماعی نظام کو سمجھنے میں غلطی کر رہے ہیں؟ یا یہ کہ اس میں غلطی نہیں کر رہے بلکہ قرآن فہمی میں ہمیں اشتباہ ہو رہا ہے اور ہم سوچ رہے ہیں کہ ہستی اور تاریخ کے بارے میں قرآن کا نظریہ خوش فہمی پر مبنی ہے؟ یا پھر کسی میں کوئی اشتباہ نہیں ہو رہا اور یہ تناقص حقیقت اور قرآن کے درمیان پایا جاتا ہے اور اس کا کوئی حل نہیں۔
ہم اس شبہ کو نظام ہستی تک اپنی کتاب ”عدل الٰہی“ میں خدا کے لطف و کرم سے حل کر چکے ہیں اور باقی جو تاریخ کے واقعات اور انسان کی اجتماعی زندگی سے متعلق ہے‘ آئندہ کی کسی بحث میں ”حق و باطل“ کا معرکہ کے عنوان سے پیش کریں گے اور عنایت الٰہی سے اس شبہ کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہمیں خوشی ہو گی‘ اگر اہل نظر اس مسئلے میں اپنے مستدل نظریات پیش کرنے کی زحمت فرمائیں۔
 

صرف علی

محفلین
معیار اور پیمانے
ہویت تاریخ کے بارے میں کسی مکتب کے نقطہ نگاہ کو جانچنے کے لئے کچھ معیار اور پیمانوں سے استفادہ کیا جا سکتا ہے اور ان پیمانوں کو سامنے رکھ کر اچھی طرح اس بات کا علم ہو سکتا ہے کہ وہ مکتب تاریخی انقلابات اور تاریخی واقعات کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔ اس سلسلے میں جو معیار اور جو پیمانے ہماری نظر تک پہنچے ہیں‘ انہیں ہم یہاں پیش کرنا چاہیں گے۔ البتہ ممکن ہے اس کے علاوہ اور پیمانے بھی ہوں‘ جو ہماری نظر سے پوشیدہ رہ گئے ہوں۔
اس سے پہلے کہ ہم ان معیاروں کو پیش کریں اور ان کے ذریعے اسلام کا نظریہ حاصل کرنا چاہیں‘ اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ ہماری نظر میں قرآن میں بعض اصولوں کی نشان دہی ہوئی ہے جو واضح طور پر مادی بنیاد پر معاشرے کی معنوی بنیاد کی بالادستی کو ظاہر کرتے ہیں‘ قرآن واضح طور پر ایک قانون کی صورت میں کہتا ہے:
ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسھم(سورئہ رعد‘ آیت ۱۱)
”خدا کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا‘ جب تک کہ وہ خود اپنے ارادے سے اس چیز کو نہ بدل دے‘ جس کا تعلق اس کی رفتار و کردار سے ہے۔“
بعبارت دیگر لوگوں کی تقدیر اس وقت تک نہیں بدلتی‘ جب تک کہ وہ خود اپنی ان باتوں کو نہ بدل دیں‘ جو ان کے نفوس اور احساسات سے متعلق ہیں۔ یہ آیت تاریخ کے اقتصادی جبر کی صریحاً نفی کرتی ہے۔ بہرحال ہم نے جن پیمانوں کی تشخیص کی ہے‘ اسے پیش کر کے اسلام کو ان پیمانوں سے پرکھنے کی کوشش کریں گے۔
۱۔ دعوت سے متعلق حکمت عملی
ہر وہ مکتب جو معاشرے کے لئے کسی پیام کا حامل ہے اور لوگوں کو اس پیام کو قبول کرنے کی طرف بلاتا ہے‘ لازمی طور پر ایسی خاص روش اور ایسے خاص طریقہ کار سے استفادہ کرتا ہے‘ جو ایک طرف تو اپنے اصلی اغراض و مقاصد سے متصل ہوتا ہے اور دوسری طرف اپنے اس نقطہ نظر سے متعلق ہوتا ہے‘ جو وہ تاریخ کے انقلابات اور تحریکوں کی ماہیت کے بارے میں رکھتا ہے۔
کسی مکتب کی دعوت کا مطلب لوگوں کو بیدار کرنا اور ان حساس مسائل کو اٹھانا ہے‘ جن سے لوگوں میں حرکت پیدا ہوا‘ مثلاً ”ا۱گسٹ کانٹ“ کا مکتب انسانیت جسے وہ ایک طرح کا سائنسی مذہب سمجھتا ہے اور انسان کے جوہر تکامل کو اس کی ذہنیت میں دیومالائی فلسفی صورتوں پر مبنی دو مرحلوں میں طے کرتا ہے اور کہتا ہے کہ انسان نے اپنی ذہنیت میں دیومالائی اور فلسفی صورتوں پر مبنی دو مرحلوں کو طے کر کے سائنسی مرحلہ تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ اب جو بیداری وہ لوگوں میں پیدا کرنا چاہتا ہے‘ وہ گویا سائنسی بیداری ہے اور لوگوں کو حرکت میں لانے کے لئے جن حساس مسائل سے کام لینا چاہتا ہے‘ وہ بھی سائنسی مسائل ہی ہیں۔
یا مارکسزم جو محنت کش طبقے کی انقلابی تھیوری ہے‘ جو بیداری دیتی ہے‘ وہ محنت کشوں کے شعور کو طبقاتی تضاد سے عبارت مسائل کو اٹھاتی ہے‘ ان کا تعلق رنجشوں‘ محرومیوں اور حق تلفیوں سے ہوتا ہے۔ معاشرے اور تاریخ کے بارے میں کسی مکتب کا کیا نظریہ ہے؟ اس سے ہٹ کر کہ مکاتب جو بیداری دیتے ہیں اور جن مسائل کو اٹھاتے ہیں‘ وہ مختلف ہوتے ہیں۔ تاریخ‘ تکامل تاریخ اور انسان کے بارے میں جس مکتب فکر کا جو نظریہ ہو گا‘ اس کی دعوت بھی اسی انداز کی ہو گی اور دعوت کی تاثیر‘ دباؤ اور دعوت کے درمیان رابطے اور دباؤ کے اخلاقی یا غیر اخلاقی ہونے کے نظریات میں یہ مکاتب اس اعتبار سے مختلف ہو جاتے ہیں۔
بعض مکاتب جن میں مسیحیت کا بطور مثال ذکر کرتے ہیں‘ انسانوں کے رابطے میں جس چیز کو اخلاقی سمجھتے ہیں‘ وہ صرف دعوتوں کی پرامن نوعیت ہے‘ یہ لوگ زور اور دباؤ کو ہر صورت میں‘ ہر حالت اور ہر شرط پر غیر اخلاقی گردانتے ہیں‘ لہٰذا اس مذہب کا مقدس کلمہ یہ ہے کہ اگر کوئی تمہارے داہنے گال پر تھپڑ رسید کرے‘ تو تم بایاں گال بھی اس کے آگے کر دو اور اگر کوئی تمہارا جبہ تم سے چھین لے‘ تو تم اپنی ٹوپی بھی اس کے حوالے کر دو۔ اس کے مقابلے پر ”نطشے“ کی طرح بعض مکاتب جس واحد چیز کو اخلاقی سمجھتے ہیں‘ وہ دباؤ اور طاقت ہے۔ اس لئے کہ انسان کا کمال اس کی طاقت میں ہے۔ ایک طاقت ور شخص مقدر ترین شخص کے برابر ہے۔ ”نطشے“ کی نظر میں عیسائیت کا اخلاق غلامی‘ ضعف اور ذلالت سے عبارت ہے‘ نیز انسانی جمود کا بنیادی عامل ہے۔
بعض دوسرے انداز فکر کے لوگ بھی اخلاق کو دباؤ اور طاقت سے وابستہ جانتے ہیں‘ لیکن ہر دباؤ ان کی نظر میں اخلاق نہیں ہوتا۔ مارکسزم کے نقطہ نظر سے وہ طاقت جو استحصال کرنے والا استحصال ہونے والے کے خلاف استعمال کرتا ہے‘ غیر اخلاقی ہے‘ چونکہ اس کا عمل موجودہ حالات کو اپنی جگہ برقرار رکھتا ہے اور عامل توقف ہے‘ لیکن وہ زور جسے استحصال ہونے والا کام میں لاتا ہے‘ اخلاق ہے کیونکہ وہ اس کے ذریعے‘ معاشرے میں تبدیلی لا کر اسے اگلی منزل تک پہنچانا چاہتا ہے۔
بعبارت دیگر معاشرے پر حکم فرما دائمی جنگ جس میں دو گروہ ایک وسرے سے نبردآزما ہیں‘ ایک ”تھیسز“ کا کردار ادا کر رہا ہے اور دوسرا ”اینٹی تھیسز“ کا‘ وہ طاقت جو ”تھیسز“ کا کردار ادا کر رہی ہے کیونکہ رجعت پسند ہے‘ لہٰذا غیر اخلاقی ہے‘ جبکہ وہ طاقت جو ”اینٹی تھیسز“ کا کام کرتی ہے کیونکہ انقلابی اور ترقی دینے والی ہے‘ لہٰذا اخلاقی ہے‘ البتہ یہی طاقت جو ابھی اخلاقی ہے‘ بعد میں جب دوسری طاقت سے جو اسے نابود کرنے والا کردار ادا کرے گی‘ نبرد آزما ہو گی‘ تو اس وقت اس کا کردار رجعت پسندانہ ہو جائے گا اور اس کے تازہ رقیب کا کردار اخلاقی ہو جائے گا‘ لہٰذا اخلاق نسبی ہے‘ یعنی جو ایک مرحلے میں اخلاق ہے‘ اس سے کامل تر اور بلند تر مرحلے میں خلاف اخلاق ہے۔
پس عیسائیت کے نقطہ نگاہ سے مخالف گروہ جو اس مکتب کی نظر میں تکامل کی راہ میں رکاوٹ ہے‘ سے مکتب کا تعلق صرف ایک رابطہ ہے‘ رابطہ بھی نرمی اور ملائمت کے ساتھ دعوت کا راستہ ہے اور رابطے کا یہی انداز اخلاقی ہے۔
نطشے کے مطابق اخلاقی رابطہ صرف وہ رابطہ ہے‘ جو ایک طاقتور‘ ضعیف کے ساتھ رکھتا ہے اور طاقت سے زیادہ اخلاق کوئی چیز نہیں اور کمزور ہونا سب سے بڑا غیر اخلاقی امر ہے‘ سب سے بڑا جرم اور سب سے بڑا گناہ کمزوری ہے‘ مارکسزم کی رو سے اقتصادی نقطہ نظر سے دو مخالف گروہوں کا ایک دوسرے سے رابطہ سوائے زور اور طاقت کے اور کچھ نہیں ہو سکتا۔ طاقت کے اس رابطہ سے استحصال کرنے والے طبقے کی طاقت تکاملی عمل میں رکاوٹ بننے کی وجہ سے غیر اخلاقی اور استحصال شدہ طبقے کی طاقت اخلاقی ہے۔ یہاں یہ بحث ہی نہیں کہ تازہ دم طاقت کا ”ویرانی طاقت“ سے رابطہ ایک معرکہ بھی ہے اور اخلاقی بھی ہے۔
اسلام کے نقطہ نظر سے مذکورہ تمام نظریات مذموم ہیں‘ عیسائیت کے خیال کی طرح اخلاق کو صرف باہمی توافق‘ دعوت کی نرمی‘ صلح و صفا اور محبت میں سمیٹا نہیں جا سکتا‘ بعض اوقات زور اور طاقت بھی اخلاق بن جاتے ہیں‘ لہٰذا اسلام زور اور ظلم کے خلاف جنگ کو مقدس کام اور فریضہ قرار دیتا ہے اور اسلحے سے جہاد کو خاص حالات اور خاص موقع پر تجویز کرتا ہے۔
صاف ظاہر ہے کہ نطشے کا نظریہ ایک مہمل‘ عبث‘ غیر انسانی اور کمال دشمن نظریہ ہے۔
مارکسز کا نظریہ اسی میکانزم پر مبنی ہے‘ جس میکانزم کو وہ تکامل تاریخ کے بارے میں ضروری سمجھتا تھا۔ اسلام کی رو سے کمال دشمن گروہ سے طاقت کے ذریعے نمٹنا مارکسزم کے نظریہ کے برخلاف پہلا نہیں دوسرا مرحلہ ہے‘ پہلا مرحلہ حکمت اور موعظہ حسنہ کا ہے۔
”ادع الی سبیل ربک بالحکمة والموعظة الحسنہ“(سورئہ نحل‘ آیت ۱۲۵)
کمال دشمن گروہ کے خلاف طاقت کے استعمال کا مرحلہ اس دم اخلاقی ہے‘ جب فکری اقناع (حکمت و برہان) اور روحی اقناع نصیحت اور موعظہ کے مرحلے طے ہو گئے ہوں اور کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا ہو۔
یہی وجہ ہے کہ جو انبیاء۱  جنگوں سے گذرے ہیں‘ انہوں نے اپنی دعوت کے پہلے مرحلے کو حکمت‘ موعظہ حسنہ اور کبھی کبھار کلامی مجادلہ سے گذارا ہے اور جب اس راہ سے کسی نتیجے پر نہیں پہنچے یا نتیجہ سامنے نہیں آیا‘ بلکہ ایک نسبی نتیجہ تک رسائی ہو گئی‘ تو پھر انہوں نے جنگ‘ جہاد اور طاقت کے استعمال کو اخلاقی جانا۔ بنیادی طور پر چونکہ اسلام مادی نہیں بلکہ معنوی بنیادوں پر سوچتا ہے‘ اس لئے وہ برہان‘ استدلال‘ موعظہ اور نصیحت کے لئے ایک عجیب طاقت کا قائل ہے۔
جس طرح (بہ تعبیر مارکس) اسلحہ کے ذریعے تنقید ایک طاقت ور چیز ہے‘ اسی طرح تنقید کا اسلحہ بھی اپنی جگہ ایک طاقت ہے اور اس سے استفادہ کیا جانا چاہئے۔ البتہ اسے واحد ایسی طاقت نہیں سمجھتا جو ہر جگہ استعمال کی جا سکتی ہو‘ یہ بات کہ اسلام رشد و تکامل سے دشمنی کرنے والے گروہ کے ساتھ جنگ کو دوسرا مرحلہ سمجھتا ہے‘ پہلا نہیں اور برہان‘ موعظہ اور جدال حسن کو ایک طاقت گردانتا ہے۔ اسلام کی وہ خاص معنوی نگاہ ہے‘ جو وہ انسان اور اس کے تحت معاشرے اور تاریخ کے بارے میں رکھتا ہے۔
پس یہ بات معلوم ہوئی کہ کسی مکتب کا اپنے مخالف محاذ سے رابطہ محض دعوت کی بنیاد پر ہو یا محض جنگ کی بنیاد پر یا پہلے دعوت اور اس کے بعد جنگ و جدال کی بنیاد پر ہو‘ منطقی اور بیانی طاقت کی تاثیر اور اس کی حدود کے بارے میں اس مکتب کی سوچ کو ظاہر کرتا ہے اور اسی طرح تاریخی واقعات اور ان میں جنگ کے کردار کے بارے میں اس کے نظریات کو واضح کرتا ہے۔
اب ہم بحث کے دوسرے حصے میں آتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اسلامی بیداری کی نوعیت کیا ہے اور وہ کون سے مسائل ہیں‘ جن پر زور دے کر اسلام اپنی دعوت پیش کرتا ہے۔
اسلامی بیداری پہلے درجہ میں مبداء و معاد کے بارے میں نصیحت کرنے جیسے امور ہیں اور وہ حکمت عملی‘ جس سے قرآن بھی کام لیتا ہے اور انبیاء۱  ماسبق نے بھی کام لیا ہے۔ انبیاء۱  اس امر میں انسان کو متوجہ کرنا چاہتے تھے کہ وہ کہاں سے‘ کہاں پر اور کہاں کے لئے آیا ہے اور کہاں ہے اور کہاں جانے والا ہے؟ یہ دنیا کہاں سے نمودار ہوئی ہے اور کس مرحلے کو طے کر رہی ہے اور اسے کہاں جانا ہے؟ سب سے پہلے انبیاء۱  نے جو ذمہ داری سامنے رکھی‘ وہ تمام مخلوقات اور کل ہستی کے بارے میں ذمہ داری تھی اور معاشرتی ذمہ داری اسی کا ایک حصہ ہے۔ ہم پہلے اس بات کی طرف اشارہ کر چکے ہیں کہ ان تمام مکی سورتوں میں جو جناب رسالت مآب۱کی بعثت کے ابتدائی ۱۳ سالوں میں نازل ہوئیں‘ کم ہی ایسی گفتگو ہوئی ہے‘ جو مبداء اور معاد کے تذکرہ سے خالی ہو۔(۱)
جناب رسالت مآب نے اپنی دعوت کا آغاز ”قولوا لا الہ الا اللہ تفلحوا“ یعنی ایک اعتقادی انقلاب اور ایک فکری تطہیر سے کیا‘ یہ ٹھیک ہے کہ توحید وسیع پہلوؤں کی حامل ہے اور اگر تمام اسلامی تعلیمات کا تجزیہ عمل میں آئے‘ تو وہ توحید کی طرف پلٹیں گی اور اگر توحید کی ترکیب کی جائے‘ تو اسلامی تعلیمات پر منتہی ہو گی‘(تفسیرالمیزان سورئہ آل عمران کی آخری آیتوں کے ذیل میں) لیکن ہمیں معلوم ہے کہ آغاز کار میں اس جملے (قولوا لا الہ الا اللہ تفلحوا) مقصود نہ فقط شرک آمیز عبادات کو چھوڑ کر فکری اور عملی طور پر توحید سے وابستہ ہونا تھا اور نہ بالفرض اتنا وسیع مقصد پیش نظر تھا کہ لوگوں کا دھیان اس طرف جاتا۔
یہ مضبوط اور محکم آگاہی جس کی جڑیں انسانی فطرت کی گہرائی میں موجود ہیں‘ انسانوں میں عقیدہ سے متعلق ایک طرح کی غیرت اور پختگی پیدا کرتی ہے اور اپنے عقیدے کو پھیلانے اور رواج دینے کا وہ جذبہ بیدار کرتی ہے کہ وہ اس راستے میں جان و مال اور منصب و اولاد قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ انبیاء۱  اس منزل سے اپنے کام کا آغاز کرتے تھے‘ جو ہمارے اس دور میں عمارت کہلاتی ہے‘ اس ذریعے سے بنیاد تک پہنچتے تھے۔ انبیاء۱  کے مذاہب میں انسان اپنے مفادات سے زیادہ اپنے عقیدے‘ مسلک اور ایمان سے وابستہ ہوتا ہے۔ درحقیقت اس مکتب میں فکر اور عقیدہ بنیاد اور کام یعنی طبیعت اور مظاہر طبیعت یا معاشرے کے ساتھ رابطہ عمارت ہے۔ ہر دینی اور مذہبی دعوت کو پیغمبرانہ ہونا چاہئے‘ یعنی اسے دائمی طور پر مبداء اور معاد کے ساتھ ملا ہونا چاہئے۔ انبیاء۱  احساس کو لوگوں میں جگا کر ان کے شعور میں بالیدگی پیدا کر کے‘ ان کے وجدان سے غبار کو ہٹا کر ان میں ایسی آگاہی پیدا کر کے رضائے حق‘ فرمان حق اور سزا و جزا کے ذکر کے ساتھ معاشرے کو حرکت میں لاتے تھے۔ قرآن میں ۱۳ مقامات پر اللہ کے ”رضوان“ کا ذکر آیا ہے‘ یعنی انبیاء۱  نے اس معنوی مسئلے پر ہاتھ رکھ کر اہل ایمان کو حرکت دی۔ اس بیداری کو الٰہی یا عالمی بیداری بھی کہا جا سکتا ہے۔
دوسرے مرحلے میں اسلامی تعلیمات میں انسان کے بارے میں آگاہی کو سامنے رکھا گیا ہے‘ یعنی انسان کو اس کی کرامت ذات‘ اس کی شرافت ذات اور اس کی عزت و بزرگی یاد دلائی گئی ہے‘ مکتب اسلام میں انسان ایک ایسا حیوان نہیں‘ جس کے وجود کی دلیل یہ ہو کہ اس نے کروڑوں سال پہلے جب وہ دوسرے جانداروں کے ہمدوش اور ہمرکاب تھا اور اس نے تنازع للبقاء کے دائرئہ عمل میں اس قدر خیانت کی کہ آج اس درجہ تک پہنچا بلکہ ایک ایسی ہستی ہے‘ جس میں الٰہی جلوہ موجزن ہے۔ فرشتوں نے اس کے آگے سر جھکایا ہے‘ اس ہستی کے پیکر وجود میں باوجود شہوت‘ شر اور فساد جیسے حیوانی میلانات کے‘ پاکیزگی کا جوہر موجود ہے‘ جو بدی‘ خونریزی‘ جھوٹ‘ فساد‘ پستی‘ حقارت اور ظلم کے ساتھ ساجھا نہیں کھاتا۔ وہ کبریائی عزت کا مظہر ہے۔
وللہ العز ةولرسولہ و للمومنین(سورئہ منافقون‘ آیت ۸)
”عزت اللہ‘ اس کے رسول اور مومنین کے لئے ہی ہے۔“
جناب رسالت مآب ۱کا ارشاد ہے:
شرف المومن قیامہ باللیل و عزة استغناؤہ عن الناس(کافی‘ جلد ۲‘ ص ۱۴۸)
”مرد کی شرافت اس کی شب بیداری اور اس کی عزت لوگوں سے بے نیازی میں ہے۔“
حضرت علی علیہ السلام نے صفین میں اپنے ساتھیوں سے ارشاد فرمایا:
الحیوة فی موتکم قاھرین و الموت فی حیوتکم مقھورین
”زندگی یہ ہے کہ مر جاؤ مگر کامیابی کے ساتھ اور موت یہ ہے کہ زندہ رہو‘ مگر ذات کے ساتھ۔“(نہج البلاغہ‘ خطبہ ۵۱)
امام حسین۱  ابن علی۱ نے فرمایا:
لا اری الموت الا سعادة و الحیوة مع الظالمین الا برما(بحارالانوار‘ ج ۴۴‘ ص ۳۸۱)
”میرے نزدیک موت بجز سعادت اور ظالموں کے ساتھ زندگی کو بجز رنج کچھ نہیں۔“
اور پھر یہ ارشاد فرمایا:
ھیھات منا الذلة(لھوف‘ ص ۴۱)
”ذلت ہم سے بہت دور ہے۔“
یہ سب عبارات انسان کی ذاتی شرافت اور حسن کرامت کو ظاہر کرتی ہیں اور یہ جوہر فطرتاً ہر انسان میں موجود ہے۔
تیسرے مرحلے میں حقوق اور معاشرتی ذمہ داریوں سے آگاہی ہے‘ قرآن میں ایسے مقامات ہمارے سامنے آتے ہیں‘ جہاں دوسروں کے غصب شدہ حقوق یا پھر اپنے کھوئے ہوئے حقوق کے حصول کے لئے قرآن ہمیں حرکت میں لانا چاہتا ہے۔
وما لکم لا تقاتلون فی سبیل اللہ و المستضعفین من الرجال و النساء والولدان الذین یقولون ربنا اخر جنا من ھذہ القریة الظالم اھلھا و اجعل لنا من لدنک و لیا و اجعل لنامن لدنک نصیراً(سورئہ نساء‘ آیت ۷۵)
”تمہیں کیا ہو گیا ہے‘ آخر کیوں تم اللہ کی راہ میں ان ستم رسیدہ مردوں‘ عورتوں اور بچوں کے لئے قتال نہیں کرتے‘ جو کہتے ہیں‘ اے ہمارے پالنے والے! تو ہمیں ان ظالموں کے شر سے باہر اور اپنے لطف و کرم سے ہمارے لئے سرپرست اور یاور کا انتظام فرما دے۔“
درج ذیل آیہ کریمہ میں جہاد کی طرف رغبت کے لئے دو معنوی باتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ یہ راستہ اللہ کا راستہ ہے اور دوسرے یہ کہ بے بس‘ بیچارے اور بے کس لوگ ظالموں کے چنگل میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔
سورئہ حج میں ارشاد ہوتا ہے:
اذن للذین یقاتلون بانھم ظلموا وان اللہ علی نصرھم لقدیرہ الذین اخرجوا من دیارھم بغیر حق الا ان یقولوا ربنا اللہ ولو لا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض لھد مت صوامع و بیع و صلوات و مساجد یذکر فیھا اسم اللہ کثیرا ولینصرن اللہ من ینصرہ ان اللہ لقوی عزیزہ الذین ان مکناھم فی الارض اقاموا الصلوة واتوالزکوة و امروا بالمعروف و نہو اعن المنکرہ وللہ عاقبة الامور
(سورئہ حج‘ آیات ۳۹ تا ۴۱)
”مومنوں کو بموجب اس کے کہ وہ مظلوم گردانے گئے ہیں‘ یہ اجازت دی گئی ہے کہ اپنے جنگی دشمن سے برسرپیکار رہیں‘ خدا مومنوں کی نصرت پر قادر ہے اور یہ مظلوم لوگ وہی ہیں‘ جنہیں اپنے گھروں سے باہر نکال دیا گیا ہے‘ جبکہ ان کا کوئی جرم نہیں‘ سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا‘ اللہ ہمارا رب ہے اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ خدا بعض لوگوں کے شر کو بعض دیگر لوگوں کے ذریعے دفع کرتا ہے‘ تو یہ تمام صومعے‘ دیر‘ کنشت اور مسجدیں منہدم ہو جاتیں‘ جن میں کثرت سے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔ خدا ان لوگوں کی مدد کرتا ہے‘ جو اسے یاد کرتے ہیں۔ بے شک خدا غالب توانا ہے اور یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار عطا کریں تو یہ نماز کو قائم کریں گے‘ زکوٰة دیں گے‘ بھلائی کا حکم دیں گے‘ برائی سے باز رہیں گے اور تمام کاموں کو اختتام تک پہنچانا اللہ ہی کا کام ہے۔“
اس آیت میں ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مجاہدین کے غصب شدہ حقوق کی طرف اشارہ کر کے جہاد اور دفاع کی اجازت دیتا ہے‘ لیکن اس کے ساتھ وہ دفاع کے اصلی فلسفے کو بعض افراد کے غصب شدہ حقوق سے برتر‘ بہتر اور اصولی تر قرار دیتا ہے اور وہ یہ کہ اگر دفاع اور جہاد کا عمل نہ ہو اور اگر اہل ایمان ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں‘ تو معابد و مساجد جو معاشرے کی معنوی حیات کا دھڑکتا ہوا دل ہیں‘ کو نقصان پہنچے گا اور وہ ویران ہو جائیں گی۔ سورئہ نساء میں ارشاد ہوتا ہے:
لایحب اللہ الجھر بالسوء من القول الامن ظلم(سورئہ نساء‘ آیت ۱۴۸)
”خداوند عالم بری بات کے اظہار کو پسند نہیں کرتا‘ مگر مظلوم سے۔“
ظاہر ہے یہ مظلوم کے قیام کی ایک طرح سے تشویق‘ سورئہ شعراء میں شعراء اور ان کے تصوراتی احساسات کی مذمت کے بعد ارشاد ہوتا ہے:
الا الذین امنوا وعملوا الصلحت و ذکروا اللہ کثیرا و انتصروا من بعد ما ظلموا(سورئہ شعراء‘ آیت ۲۲۷)
”مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے اعمال انجام دیئے اور اللہ کا ذکر کثرت سے کیا اور بعد اس کے کہ مظلوم واقع ہوئے‘ ظالم سے انتقام لیں۔“
 

صرف علی

محفلین
لیکن قرآن اور سنت میں باوجود اس کے کہ ظلم کے بوجھ تلے دبنا بدترین گناہ اور احقاق حق ایک فریضہ ہے‘ پھر بھی انسانی پہلو اور انسانی قدروں کو اس سے الگ نہیں کیا گیا‘ قرآن کبھی کبھی نفسیاتی کدورتوں‘ عداتوں اور نفسانی خواہشوں کو وزن نہیں دیتا‘ مثلاً ہرگز یہ نہیں کہتا کہ فلاں گروہ نے اس طرح کھایا پیا‘ بانٹ کر لے گئے‘ جی بھر کر عیش کیا‘ پھر تم کیوں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہو۔
اگر کسی کا سرمایہ اس سے زبردستی چھیننے کی کوشش کی جائے‘ تو اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا کہ اس بہانے کی بنیاد پر کہ مادیت کی کوئی اہمیت نہیں‘ صاحب مال سکوت کر جائے‘ بالکل اسی طرح جس طرح اس بات کی اجازت نہیں کہ اگر کسی کی عزت پر حملہ ہو‘ تو متعلقہ شخص یہ کہہ کر خاموش ہو جائے کہ یہ تو شہوت کی بات ہے‘ بلکہ اس امر میں دفاع کو ضروری گردانتا ہے اور ”المقتول دون اھل و مالہ“ (یعنی جو اپنے مال یا ناموس کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے‘ اسے شہید جانا ہے‘ لیکن اسلام نے یہ جو اپنے مال کے بارے میں دفاع سے متعلق امر کی حوصلہ افزائی کی ہے‘ اس میں کسی حرص کو بنیاد نہیں بنایا‘ بلکہ حق کے دفاع کی بات ہے‘ جو اپنی جگہ وزن رکھتی ہے‘ اسی طرح وہاں بھی جہاں اپنی عزت و ناموس کا دفاع واجب گردانا ہے‘ اس لئے نہیں کہ شہوت کو اہمیت دی گئی ہے‘ بلکہ یہاں بھی معاشرے کی عظیم ترین آبرو یعنی عفت کو پیش نظر رکھا گیا ہے اور مرد کو اس کا محافظ قرار دیا گیا ہے۔
۲۔ عنوان مکتب
ہر مکتب اپنے پیروکاروں کو ایک خاص عنوان دیتا ہے‘ وہ نظریہ جو مثلاً ایک نسلی نظریہ ہے‘ اپنے پیروکاروں کو ایک نام دیتا ہے‘ جس کے اعتبار سے وہ ایک خاص ”ہم“ بن جاتے ہیں۔ بطور مثال گورے ہیں‘ اس وقت جب اس مکتب کے پیروکار لفظ ”ہم“ استعمال کرتے ہیں‘ تو مراد گوروں کا گروہ ہوتا ہے یا مثلاً مارکسی نظریہ جو مزدوروں سے متعلق ہے‘ اپنے پیروکاروں کو ”مزدور“ کا عنوان دیتا ہے۔ ان کی ہویت اور ان کو مشخص کرنے والی چیزیں ”مزدوری“ ہے‘ ان کا ”ہم“ مزدور کا ”ہم“ ہے۔ محنت کشوں اور مزدوروں کا ہم‘ عیسائی مذہب اپنے پیروکاروں کی ہویت کو ایک فرد کی پیروی میں مشخص کرتا ہے۔ گویا پیروکاروں کا مقصد یا راستے سے کوئی سروکار نہیں‘ ان کی اجتماعی ہویت یہ ہے کہ جہاں عیسیٰ۱ ہیں‘ وہاں وہ ہیں۔ یہ اسلام کی ایک خصوصیت ہے کہ اس نے نسلی‘ طبقاتی‘ مشاغلاتی‘ مقامی‘ علاقائی اور شخصی عناوین میں سے کسی کو اپنے مکتب اور اس کے پیروکاروں کی شناخت کے لئے قبول نہیں کیا۔ اس مکتب کے پیروکار‘ اعراب‘ سامی‘ فقراء‘ اغنیاء‘ مستضعف‘ گورے‘ کالے‘ ایشیائی‘ مشرقی‘ مغربی‘ محمدی‘ قرآن اور اہل قبلہ جیسے عناوین سے نہیں پہچانے جاتے۔ ان عناوین میں کوئی بھی ”ہم“ اور وحدت کا معیار نہیں بنتا۔ یہ سب چیزیں اس مکتب کے پیروکاروں کی حقیقی ہویت میں شمار نہیں ہوتیں۔ جب اس مکتب کی ہویت کی بات آتی ہے‘ تو پھر یہ تمام عناوین محو ہو جاتے ہیں۔ بس ایک چیز باقی رہ جاتی ہے‘ بھلا وہ کیا ہے؟ صرف ایک ”رابطہ“ خدا اور انسان کے درمیان رابطہ‘ یعنی اسلام جو منزل تسلیم ہے۔ مسلمان قوم کون سی قوم ہے؟ وہ قوم ہے‘ جو خدا کے آگے تسلیم ہے‘ حقیقت کے سامنے تسلیم ہے‘ وحی و الہام کے سامنے تسلیم ہے‘ وہ وحی جو افق حقیقت سے انسان کی رہنمائی کے لئے لائق ترین افراد کے قلب سے طلوع ہوئی ہے‘ تو پھر مسلمانوں کا ”ہم“ اور ان کی حقیقی ہویت کیا ہے؟ یہ دین ان کو کس قسم کی وحدت دینا چاہتا ہے۔ ان پر کون سی مہر لگانا چاہتا ہے اور کس پرچم تلے اکٹھا کرنا چاہتا ہے؟ اس کا جواب یہ مختصر سا جملہ ہے: اسلام‘ یعنی حقیقت کے حضور سرتسلیم خم کرنا۔
ہر مکتب اپنے پیروکاروں کے لئے وحدت کے جس معیار کو پیش کرتا ہے‘ بس وہی اس مکتب کے اہداف اور انسان‘ معاشرے اور تاریخ کے بارے میں اس کے نقطہ نظر کو سمجھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
۳۔ شرائط و موانع قبولیت
ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ حرکت تاریخ کا میکانزم مختلف مکاتب کی نظر میں مختلف رہا ہے۔ کوئی حرکت کے طبیعی میکانزم کو ایک طبقہ کے دوسرے طبقہ پر دباؤ‘ ایک طبقہ کے بالذات رجعت پسند ہونے اور دوسرے طبقے کے بالذات انقلابی ہونے کو سمجھتا ہے‘ کوئی اصلی میکانزم کو ایک انسان کی ترقی خواہانہ اور کمال جو یا نہ پاکیزہ فطرت میں دیکھتا ہے اور اسی طرح کوئی کچھ اور کوئی کچھ اور۔ ظاہر ہے کہ حرکت سے متعلق میکانزم جو مکتب جس انداز کا میکانزم سمجھتا ہے‘ اسی انداز سے وہ ان شرائط‘ موجبات یا موانع اور رکاوٹوں کی وضاحت کرتا ہے‘ جو اس کی تعلیمات میں موجود ہوتی ہیں۔ وہ مکتب جس کے نزدیک حرکت سے متعلق میکانزم ایک طبقہ کا دوسرے طبقہ پر دباؤ ہے‘ معاشرے کو حرکت میں لانے اور اس کے جمود کو توڑنے کے لئے اگر دباؤ میں کمی محسوس کرتا ہے‘ تو اسے بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ مارکس نے اپنی بعض کتب میں اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ”آزادی سے ہمکنار طبقہ کے لئے غلام طبقہ کا وجود ضروری ہے“۔ اس جائزے کے اختتام پر وہ لکھتا ہے:
”پس جرمن قوم کی آزادی کا امکان کہاں؟“ جواب میں ہم عرض کریں گے کہ ایک ایسے طبقے کی تشکیل کی جائے‘ جو مکمل طور پر زنجیروں میں جکڑا ہوا ہو۔ اس انداز فکر کا حامل مکتب ”اصلاحات“ کو مانع قرار دیتا ہے‘ چونکہ اصلاحات دباؤ میں کمی پیدا کرتی ہیں اور دباؤ میں کمی انقلاب کو روکتی ہے یا کم سے کم اس میں تاخیر پیدا کرتی ہے۔ اس مکتب کے برخلاف جو معاشرے کی ذاتی اور فطری حرکت کا قائل ہے‘ یہ مکتب ہرگز کسی طبقہ کے لئے بیڑیاں بنوانے کا فتویٰ صادر نہیں کرتا۔ اس لئے کہ وہ دباؤ کو رشد و تکامل کی لازم شرائط نہیں سمجھتا۔ اسی طرح تدریجی اصلاحات اس کی نظر میں پیش رفت کی مانع نہیں‘ اسلام میں شرائط اور موانع بیش تر یا پھر ہمیشہ فطرت کے گرد چکر لگاتے ہیں۔ قرآن کبھی اصلی اور قدیمی پاکیزگی پر باقی رہنے کو بعنوان شرط پیش کرتا ہے: ”ھدی للمتقین“(سورئہ بقرہ‘ آیت ۲) اور کبھی نظام ہستی کے مقابل ذمہ داری اور مسئولیت کے تصور سے پیدا ہونے والے خوف اور دغدغہ کو ”بخشون ربھم بالغیب“ یا ”خشی الرحمن بالغیب“ کہہ کر عنوان شرط بناتا ہے(سورئہ طہٰ‘ آیت ۳) اور کبھی فطرت کے زندہ ہونے اور زندہ رہنے کو بعنوان شرط گنواتا ہے: ”لتنذر من کان حیا“(سورئہ انبیاء‘ آیت ۴۹‘ سورئہ فاطر ۱۸ اور سورئہ یس ۱۱ کی آیات کی طرف رجوع فرمائیں)۔
اسلام دعوت کی قبولیت کی شرط کو پاکیزگی خلقت سے متعلق احساس ذمہ داری اور فطری حیات کے ساتھ جینے کو قرار دیتا ہے۔ اس کے مقابلے پر موانع میں وہ اخلاقی اور نفسیاتی برائیوں‘ اثم قلب(سورئہ بقرہ‘ ۲۸۳)‘ زین قلب(سورئہ مطففین‘ ۱۴)‘ دلوں پر مہر لگ جانے(سورئہ یس‘ ۷۰‘ سورئہ بقرہ)‘ چشم بصیرت کے نابنینا ہو جانے(سورئہ حج‘ ۴۶)‘ بڑے لوگوں کی پیروی(سورئہ حم سجدہ‘ ۴۴)‘ کتاب نفس میں تحریف ہونے(سورئہ شمس‘ ۱۰)‘ باپ دادا کی عادتوں کی پیروی(سورئہ زخرف‘ ۲۳)‘ بڑے لوگوں کی پیروی(سورئہ احزاب‘ ۶۷)‘ ظن کی پیروی(انعام‘ ۱۱۶) اور ان جیسے امور کا نام لیتا ہے۔ اسراف اور حرص و آذر کو بھی اس اعتبار سے مانع جانتا ہے کہ یہ چیزیں حیوانی صفات کو انسان میں تقویت دے کر اسے وحشی اور درندہ بنا دیتی ہیں۔ یہ تمام امور قرآن کی نظر میں خیر و صلاح اور تکامل کے لئے معاشرے و انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔
اسلامی تعلیمات کی رو سے نوجوان‘ بوڑھوں سے اور فقراء‘ امراء کی نسبت تسلیم کے حوالے سے زیادہ آمادگی رکھتے ہیں۔ اس کی وجہ پہلے گروہ میں عمر کی کمی ہے‘ جس کے سبب ان کی فطرت نفسانی آلودگیوں سے ابھی دور ہوتی ہے اور دوسرے گروہ میں مال اور آسائشوں کا فقدان ہوتا ہے۔
اس طرح کی شرائط اور اس انداز کے موانع اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ قرآن معاشرتی اور تاریخی انقلابات کے میکانزم کو مادی اور معاشی ہونے سے زیادہ باطنی اور روحانی سمجھتا ہے۔
۴۔ معاشروں کا عروج اور انحطاط
ہر اجتماعی مکتب علی القاعدہ معاشروں کی ترقی اور بلندی نیز ان کے انحطاط و تنزل کے بارے میں اپنا ایک نظریہ رکھتا ہے۔ رہی یہ بات کہ وہ کن چیزوں کو اس سلسلے میں ترقی یا پھر انحطاط کا اصلی اور بنیادی عامل سمجھتا ہے‘ تو اس کا تعلق اس رخ سے ہے کہ جس رخ سے وہ معاشرے‘ تاریخ‘ تکاملی تحریکات اور انحطاطی خطوط کو دیکھتا ہے۔
قرآن میں بطور خاص قصص و حکایات بیان کرتے ہوئے‘ اس موضوع پر توجہ دی گئی ہے‘ اب ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن آج کی اصطلاح میں بنیاد کے حق میں نظریہ پیش کرتا ہے یا عمارت کے حق میں؟ زیادہ صحیح اور زیادہ بہتر تعبیر میں یوں کہہ لیجئے کہ قرآن کن کن چیزوں کو اساس اور کن کن چیزوں کو اس پر قائم عمارت جانتا ہے؟ وہ اقتصادی اور مادء مسائل کو بنیادی عامل گردانتا ہے یا اعتقادی اور اخلاقی مسائل کو؟ یا پھر کسی کو افضلیت نہیں دیتا اور دونوں اس کی نظر میں برابر ہیں؟
قرآن میں عروج و انحطاط کے سلسلے میں چار موثر عوامل سے ہمارا سامنا ہوتا ہے اور ہم بہت ہی اختصار کے ساتھ ان کی طرف اشارہ کر کے آگے بڑھتے ہیں۔
(الف) انصاف اور بے انصافی
قرآن نے بہت سی آیتوں میں اس کا تذکرہ کیا ہے‘ ان میں سورئہ قصص کی وہ چوتھی آیت بھی ہے‘ جس کا پہلے ہم ”استضعاف کی آیت“ میں ذکر کر چکے ہیں:
ان فرعون علافی الارض و جعل اھلھا شیعاً یستضعف طائفة منھم یذبح ابنائھم و یستحیی نسائھم انہ کان من المفسدین
اس آیہ کریمہ میں فرعون کی اس برتری کے گھمنڈ کا تذکرہ کرنے کے بعد جس میں وہ ربوبیت اعلیٰ کا دعویدار تھا اور دوسروں کو اپنا زر خرید غلام سمجھتا تھا‘ ذکر ہوتا ہے کہ وہ مختلف حیلوں بہانوں سے لوگوں میں تفرقہ ڈال کر ان کے درمیان بے جا امتیازات پیدا کر دیتا تھا‘ اس طرح انہیں ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کرتا تھا‘ اپنے ملک کے باشندوں کے ایک خاص گروہ کو ذلیل کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتا تھا۔ ان کے لڑکوں کو قتل کروا دیتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو اپنی اور اپنے حامیوں کی خدمت کے لئے چھوڑ دیا کرتا تھا۔ قرآن اسے ایک مفسد اور تباہ گر کے عنوان سے یاد کرتا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ ”انہ کان من المفسدین“ کا جملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس طرح کے اجتماعی مظالم معاشرے کو الٹ پلٹ کر رکھ دیتے ہیں۔
(ب) اتحاد اور تفرقہ
سورئہ آل عمران کی آیت ۱۰۳ میں بڑی وضاحت سے یہ حکم موجود ہے کہ سب اہل ایمان‘ ایمان کی بنیاد پر اللہ کی رسی کو متحد اور متفق ہو کر تھامیں اور تفرقہ پیدا نہ کریں۔ پھر ایک آیت چھوڑ کر ارشاد ہوتا ہے:
”اپنے پچھلوں کی طرح نہ ہو جانا‘ جنہوں نے اختلاف اور تفرقہ میں زندگی بسر کی۔“
سورئہ انعام کی آیت ۱۵۳ بھی اسی سے ملتی جلتی ہے۔
سورئہ انعام آیت ۴۵ میں ارشاد ہوتا ہے:
قل ھو القادر علی ان یبعث علیکم عذاباً من فوقکم او من تحت ار جلکم اویلبسکم شیعاً و یذیق بعضکم باس بعض
”کہہ دو (اے رسول)! خدا اس بات پر قادر ہے کہ وہ تمہارے اوپر یا پیروں تلے سے عذاب جاری کر دے یا تمہیں تفریق و افتراق کا جامہ پہنائے اور بعض لوگوں کی بد رفتای کا مزہ بعض دوسرے لوگوں کو چکھائے۔“
سورئہ انفال کی ۴۶ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے:
ولا تنازعوا فتفشلوا و تذھب ریحکم
”ایک دوسرے کے ساتھ نہ جھگڑو کہ آپس کے اندرونی جھگڑے کمزوری پیدا کرتے ہیں اور یہ کمزوری تمہیں برباد کر دے گی۔“
(ج) امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا اجراء یا انصراف
قرآن نے امربالمعروف اور نہی عن المنکرکی ضرورت کے بارے میں جو کچھ کہا ہے‘ اس میں سے ایک آیت سے صریحاً یہ استنباط ہوتا ہے کہ اس عظیم فریضہ سے انصراف قوموں کو ہلاکت اور ان کے انہدام میں موثر ثابت ہوتا ہے‘ یہ سورئہ مائدہ کی ۷۹ ویں آیت ہے‘ جس میں وہ بنی اسرائیل کے کافروں کی رحمت خدا سے دوری کا ایک سبب یہ بھی ذکر کرتا ہے کہ انہوں نے ایک دوسرے کو منکرات سے نہیں روکا یعنی نہی عن المنکر سے بے توجیہی برتی:
کانوالا یتناھون عن منکر فعلوہ لبئس ماکانو یفعلون
”یہ لوگ ایک دوسرے کو منکرات کے ارتکاب سے نہیں روکتے تھے اور یہ کتنا غلط کام تھا‘ جو وہ کرتے تھے۔“
معتبر اسلامی روایات میں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے مثبت اور منفی کردار کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا ہے‘ ان سب کو یہاں نقل کرنا ہمارے بس کی بات نہیں۔
(د) فسق و فجور اور اخلاقی برائیاں
اس سلسلے میں بھی بہت سی آیات ہیں۔ کچھ آیتیں تو وہی ہیں‘ جو ”ترف“ اور ”مترف“ ہونے کو ہلاکت کا سبب گردانتی ہیں(ملاحظہ فرمائیں: سورئہ ہود آیت ۱۱۶‘ انبیاء آیت ۱۳ اور سورئہ مومنون آیت ۳۳ اور ۶۴) اور بہت سی آیات ہیں جن میں لفظ ”ظلم“ استعمال ہوا ہے۔ قرآن کی اصطلاح میں ظلم صرف کسی فرد یا گروہ کا دوسرے فرد یا گروہ کے کسی حق پر جارحیت کا نام نہیں ہے بلکہ کوئی شخص خود اپنے اوپر بھی ظلم کر سکتا ہے‘ کوئی قوم خود اپنے نفس پر ظالم ہو سکتی ہے‘ ہر فسق و فجور اور ہر بے راہ روی ظلم ہے۔ قرآن میں ظلم کا تذکرہ عام مفہوم میں ہے‘ جس میں دوسروں پر ظلم کی بات بھی آ جاتی ہے اور فسق و فجور اور غیر اخلاقی امور بھی آتے ہیں۔ تاہم زیادہ تر اس کا استعمال دوسرے مفہوم میں ہوا ہے۔ وہ آیتیں جن میں ظلم اپنے عام مفہوم میں قوموں کی ہلاکت کا باعث قرار دیا گیا ہے‘ بہت زیادہ ہیں اور ہماری مختصر کتاب ان کے بیان سے قاصر ہے۔
ان تمام معیاروں کو سامنے رکھ کر معاشرے اور تاریخ کی بنیادوں کے بارے میں قرآن کے نقطہ نظر کو سمجھا جا سکتا ہے۔ قرآن بہت سے امور کے بارے میں جنہیں آج کی اصطلاح میں عمارت کہا جاتا ہے‘ کے حتمی‘ قطعی اور تقدیر ساز کردار کا قائل ہے۔
 

صرف علی

محفلین
تاریخ کا تغیر و تبدل
اب تک تاریخ کے دو اہم مسئلوں میں سے ایک مسئلے پر گفتگو ہوئی ہے‘ یعنی تاریخ کی ماہیت کے بارے میں بات ہوئی ہے کہ آیا وہ مادی ہے یا غیر مادی؟ دوسرا اہم مسئلہ انسانی تاریخ کا تحول و تطور ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ انسان تنہا زندگی بسر نہیں کر سکتا‘ وہ ایک اجتماعی وجود ہے۔ انسان کے علاوہ بھی کچھ ایسے جاندار ہیں‘ جن کی زندگی کم و بیش اجتماعی ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر زندگی بسر کرتے ہیں۔ ان کی زندگی آپس میں تعاون و ہمکاری اور ذمہ داریوں کی تقسیم کے ذریعے کچھ منظم قواعد و ضوابط اور قوانین کے تحت بسر ہوتی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ شہد کی مکھی اسی قسم کے جانداروں میں سے ہے‘ لیکن انسان اور اس قسم کے جانداروں کی اجتماعی موجودیت میں ایک بنیادی فرق پایا جاتا ہے اور وہ یہ کہ ان جانداروں کی اجتماعی زندگی میں جمود و یکسانیت پائی جاتی ہے‘ ان کے نظام حیات میں کوئی تبدیلی اور کوئی رد و بدل نہیں پایا جاتا‘ اگر موریس میٹرلینگ کی تعبیر کو صحیح سمجھا جائے تو کہا جائے گا کہ ان کے تمدن میں کوئی جدت پسندی نہیں۔
اس کے برخلاف انسان کی اجتماعی زندگی میں تغیر و تبدل رونما ہوتا رہتا ہے‘ بلکہ یہ زندگی شتاب کی حامل ہے‘ یعنی تدریجاً اس کی سرعت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے‘ لہٰذا انسان کی اجتماعی زندگی کی تاریخ ادوار میں بٹی ہوئی ہے اور یہ ادوار مختلف نقطہ ہائے نظر میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ مثلاً لوازم معیشت کے نقطہ نظر سے‘ صید و شکار کا دور‘ کھیتی باڑی کا دور‘ صنعت کا دور‘ اقتصادی نظام کے نقطہ نظر سے: دور اشتراکی‘ دور غلامی‘ دور جاگیرداری‘ دور سرمایہ داری اور دور سوشلزم‘ سیاسی نظام کے نقطہ نظر سے: طوائف الملوکی کا دور‘ استبدادی دور‘ اریسٹوکریسی کا دور اور ڈیموکریسی کا دور‘ جنس کے نقطہ نظر سے عورت کی حاکمیت کا دور‘ مرد کی حاکمیت کا دور وغیرہ۔
یہ تغیر اور یہ انقلابی تبدیلی باقی تمام اجتماعی جانوروں کی زندگی میں کیوں نہیں پائی جاتی؟ اس تبدیلی کا بنیادی عامل اور اس کا راز کیا ہے جس کے سبب انسان ایک معاشرتی دور سے دوسرے معاشرتی دور میں جاتا ہے؟ بعبارت دیگر انسان کو آگے بڑھانے اور ترقی کی منزلوں پر گامزن کرنے والی وہ کون سی چیز ہے‘ جو حیوان میں نہیں؟ اور یہ ترقی اور پیش رفت کس صورت سے‘ کن قوانین کے تحت اور مروجہ اصطلاح میں کس انداز کے میکانزم سے رونما ہوتی ہے؟
البتہ یہاں تاریخ کے فلسفیوں کی طرف سے عام طور پر ایک سوال پیش ہوتا ہے اور وہ یہ کہ کیا پیش رفت اور تکامل کی واقعی کوئی حقیقت ہے؟ یعنی کیا واقعی انسان کی معاشرتی زندگی میں واقع ہونے والی تبدیلیوں کا تاریخی سلسلہ اپنی غرض و غایت میں پیش رفت اور تکامل کو لئے ہوئے ہے؟ تکامل کا معیار کیا ہے؟
بعض افراد ان تبدیلیوں کو پیش رفت اور تکامل نہیں سمجھتے اور اس کا تذکرہ انہوں نے اپنی متعلقہ کتاب میں بھی کیا ہے۔(ملاحظہ فرمائیں: ایم- ایچ- کار کی تالیف ”تاریخ کیا ہے؟“ (ترجمہ کامشاد)‘ اسی طرح ویل ڈیورنٹ کی تالیف ”تاریخ کے دروس“ اور ”ندات فلسفہ“، ص ۲‘ ۳۱۲)
بعض تاریخ کے سفر اور اس کی حرکت کو ایک ضروری حرکت سمجھتے ہیں‘ ان کا کہنا ہے کہ تاریخ ایک نقطے سے حرکت کرتی ہے اور اپنے مخصوص مراحل کو طے کرنے کے بعد پھر‘ واپس اسی نقطے پر آ جاتی ہے‘ جہاں سے وہ چلی تھی‘ یہی تاریخ کی ریت ہے کہ وہ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ مثلاً ایک تشدد پسندانہ قبائلی نظام شجاع اور صاحب ارادہ صحرائی لوگوں کے ذریعے وجود میں آتا ہے۔ یہ حکومت اپنی طبیعت کی بناء پر استکباریت اور ارسٹوکریسی میں بدل جاتی ہے۔ استکباری حکومت میں آمریت ایک عمومی انقلاب کو جنم دیتی ہے اور جمہوری نظام حکومت قائم ہوتا ہے۔
جمہوری نظام میں بے ضابطگی‘ بے سرپرستی اور آزادی میں افراط ایک بار پھر قبائلی احساسات کے ساتھ ایک تشدد پسند استبدادی حکومت کے برسرکار آنے کا سبب بنتا ہے۔
ہم فی الحال اس بحث میں جانا نہیں چاہتے اور اسے کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھتے ہیں‘ ”اصل موضوع“ کی صورت کے بارے میں اسی پر بنا رکھیں گے کہ مجموعی طور پر حرکت اور سیر تاریخ میں پیش رفت ہے‘ البتہ یہ بتانا ضروری ہے کہ وہ تمام افراد جو تاریخ کے بارے میں پیش رفت کے قائل ہیں‘ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے کہ تمام معاشرے اپنے تمام حالات میں اپنے ماضی سے بہتر ہوتے ہیں اور معاشرے ہمیشہ بغیر کسی وقفے کے ترقی کی طرف بڑھتے رہتے ہیں اور ان میں انحطاط نہیں ہوتا۔
بلاشبہ معاشروں میں توقف‘ انحطاط‘ پستی‘ دائیں یا بائیں جانب جھکاؤ اور بالآخر سقوط و زوال کا عمل ہوتا ہے‘ لیکن ہماری مراد یہ ہے کہ انسانی معاشرے مجموعی طور پر بلندی کی راہوں کو طے کرتے ہیں۔
فلسفہ تاریخ کی کتابوں میں اس مسئلہ کو کہ محرک تاریخ کیا ہے؟ اور وہ کون سی چیز ہے‘ جو تاریخ کو آگے بڑھاتی اور اجتماعی تبدیلی کا باعث بنتی ہے؟ عام طور پر اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ کس قدر غور و خوض کے بعد اس کی نادرستی سامنے آتی ہے‘ عام طور پر اس مسئلے کے بارے میں جو نظریات پیش ہوئے ہیں‘ وہ یہ ہیں:
۱۔ نسلی نظریہ
اس نظریہ کے مطابق بعض نسلیں تاریخ کو آگے بڑھانے میں بنیادی کردار کی حامل ہیں‘ بعض نسلوں میں تمدن آفرینی اور ثقافت آفرینی کی صلاحیت ہوتی ہے اور بعض میں نہیں ہوتی‘ بعض سائنس‘ فلسفہ‘ صفت‘ اخلاق اور فن وغیرہ کو جنم دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور بعض فقط استعمال کرنے والی ہیں‘ تخلیق کرنے والی نہیں۔ اس سے یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ نسلوں میں تقسیم کار کی ایک صورت ہونی چاہئے‘ وہ نسلیں جو سیاست‘ تعلیم و تربیت‘ ثقافت‘ ہنر‘ فن اور صنعت میں صاحب استعداد ہیں‘ انہیں چاہئے کہ وہ اسی طرح کے اعلیٰ اور ظریف انسانی امور کے ذمہ دار ہوں اور جن نسلوں میں اس طرح کی صلاحیت موجود نہیں انہیں اس طرح کے کاموں سے باز رکھ کر ان کے ذمہ محنت اور مشقت والے جانوروں جیسے جسمانی کام لگائے جانے چاہئیں‘ جن میں فکر‘ ذوق اور نظریے کی ظرافت ضروری نہیں ہوتی۔ ارسطو کا نسلوں کے اختلاف کے بارے میں یہی نظریہ تھا‘ اسی لئے وہ بعض نسلوں کو غلام بنانے اور بعض کو غلام بننے کا مستحق سمجھتا تھا۔
بعض لوگوں کا عقیدہ ہے کہ تاریخ کو آگے بڑھانے کا عمل خاص نسلوں سے انجام پاتا ہے‘ مثلاً جنوبی نسل پر شمالی نسل کو برتری حاصل ہے‘ یہ نسل اور نژزاد ہی تھی‘ جس نے تمدنوں کو آگے بڑھایا ہے‘ فرانس کا مشہور فلسفی کانٹ گوبینو جو آج سے تقریباً ایک صدی پہلے تین سال تک ایران میں فرانس کے نائب سفیر کی حیثیت سے رہاتھا‘ اسی نظریے کا حامی تھا۔
۲۔ جغرافیائی نظریہ
اس نظریے کے مطابق طبیعی ماحول نے تمدن‘ ثقافت اور صنعت کو ایجاد کیا ہے‘ معتدل علاقوں میں معتدل مزاج اور طاقت ور ذہن وجود میں آتے ہیں۔ بو علی سینا نے کتاب قانون کی ابتداء میں انسانوں کی احساسی‘ ذوقی اور فکری شخصیت پر طبیعی ماحول کی تاثیر کے بارے میں بہت کچھ کہا ہے۔
اس نظریے کی بنیاد پر وہ چیز جو انسانوں کو تاریخ کی پیش رفت کے سلسلے میں آمادہ کرتی ہے وہ نسل اور خون یعنی عامل وراثت نہیں کہ ایک خاص نسل جس ماحول اور جس علاقے میں بھی ہو تاریخ کو آگے بڑھانے والی ہو اور دوسری نسل اس کے برخلاف جس ماحول میں ہو‘ اس طرح کی صلاحیت سے عاری ہو‘ بلکہ نسلوں کا اختلاف ماحول کے اختلاف کا نتیجہ ہے‘ نسلوں کی جگہ کی تبدیلی سے ان کی صلاحیتیں بھی تبدیل ہو جاتی ہیں۔ پس درحقیقت یہ خاص زمینیں اور خاص علاقے ہی ہیں جو آگے بڑھانے والے اور جدت طراز ہوتے ہیں۔ سترہویں صدی کے فرانسیسی ماہر عمرانیات مانٹیسکو مشہور کتاب ”روح القوانین“ میں اس نظریے کی حمایت کرتے ہیں۔
۳۔ بلند پایہ شخصیتوں سے متعلق نظریہ
اس نظریے کے مطابق تاریخ کو یعنی تاریخی تبدیلیوں کو وہ سائنسی ہوں یا سیاسی‘ فنی ہوں یا اخلاقی‘ اقتصادی ہوں یا کچھ اور‘ نابغہ افراد وجود میں لاتے ہیں‘ انسانوں اور دوسرے جانداروں کے درمیان فرق اس بات کا ہے کہ دوسرے جاندار علم حیاتیات کی رو سے یعنی طبیعی استعداد کی رو سے ایک درجہ میں ہیں‘ ان انواع کے درمیان کسی قسم کا کوئی فرق (کم از کم قابل اعتنا فرق) دیکھنے میں نہیں آتا۔
اس کے برعکس انسانوں میں استعداد کی یکسانیت نہیں اور ان میں زمین سے آسمان تک کا فرق پایا جاتا ہے۔ نابغہ لوگ ہر معاشرے کے استثنائی افراد ہوتے ہیں۔ استثنائی افراد ہی عقل یا ذوق یا ارادے اور تخلیقی صلاحیت کے اعتبار سے غیر معمولی طاقت کے حامل ہوتے ہیں۔ ایسے افراد جس معاشرے میں نمودار ہوتے ہیں‘ اسے علمی‘ فنی‘ اخلاقی‘ سیاسی اور فوجی اعتبار سے بلندی عطا کرتے ہیں۔ اس نظریے کے اعتبار سے لوگوں کی اکثریت تقلیدی ہوتی ہے‘ جو تخلیقی صلاحیت سے عاری اور دوسروں کے افکار اور صنعتوں سے استفادہ کرنے والی ہوتی ہے۔
لیکن ہمیشہ کم و بیش ہر معاشرے میں موجد‘ مخترع‘ پیش رو‘ خالق افکار اور خالق صنعت افراد کا ایک مختصر سا گروہ موجود ہوتا ہے‘ یہی وہ لوگ ہیں‘ جو تاریخ کو آگے بڑھا کر نئے مرحلے میں داخل کرتے ہیں۔
مشہور انگریزی فلسفی کارلائل جس نے مشہور کتاب ”بلند پایہ ہستیاں“ (الابطال) لکھی اور جناب رسالت مآب سے اس کا آغاز کیا‘ اسی نظریے کا قائل ہے۔ کارلائل کے نظریے کے مطابق ہر قوم میں ایک یا کئی تاریخی شخصیتیں اس قوم کی پوری تاریخ کی غمازی کرتی ہیں اور زیادہ بہتر عبارت میں ہر قوم کی تاریخ ایک یا کئی مایہ ناز ہستیوں کی شخصیت اور ذہانت کی تجلی گاہ ہوتی ہے‘ مثلاً تاریخ اسلام جناب رسالت مآب۱ کی شخصیت کی تجلی گاہ ہے‘ فرانس کی جدید تاریخ نپولین اور چند دیگر افراد کی اور روس کی حالیہ ساٹھ سالہ تاریخ لینن کی تجلی گاہ ہے۔
۴۔ اقتصادی نظریے
اس نظریے کے مطابق تاریخ کا محرک اقتصاد ہے‘ ہر قوم کا تاریخی اور اجتماعی پہلو جو ثقافتی جہت سے ہو چاہے مذہبی و سیاسی جہت سے‘ فوجی ہو یا پھر اجتماعی‘ اس معاشرے کے پیداواری طریقہ کار اور پیداواری روابط کی عکاسی کرتا ہے۔ معاشرے یا قوم کی اقتصادی بنیاد میں تبدیلی دراصل اس قوم یا اس معاشرے کو حرکت دیتی ہے اور اسے آگے لے جاتی ہے۔ یہ مایہ ناز لوگ جن کا تذکرہ اس سے قبل کے نظریہ میں ہو چکا ہے‘ معاشرے کی اجتماعی‘ سیاسی اور اقتصادی ضرورتوں کے مظاہر کے علاوہ کچھ نہیں ہیں۔ یہ ضرورتیں پیداواری آلات میں تبدیلی کے باعث پیدا ہوتی ہیں۔ کارل مارکس بلکہ مجموعی طور پر تمام مارکسٹ اور کہیں کہیں غیر مارکسٹ بھی اس نظریے کے حامی ہیں۔ میرے خیال میں دور حاضر کا یہ سب سے مقبول نظریہ ہے۔
۵۔ الٰہی نظریہ
اس نظریے کے مطابق جو کچھ بھی زمین پر رونما ہوتا ہے‘ ایک آسمانی امر ہے‘ جو حکمت بالغہ کے مطابق عمل میں آتا ہے۔ تاریخ کے تحولات و تغیرات اللہ کی حکمت بالغہ اور اس کی حکیمانہ مشیت کی جلوہ گاہ ہیں۔
پس جو چیز تاریخ کو آگے بڑھاتی ہے اور اس میں تبدیلی لاتی ہے‘ وہ ارادہ الٰہی ہے۔ تاریخ اللہ کے مقدس ارادے کا پہلے گراؤنڈ ہے۔ مشہور پادری اور مورخ ”بوسوئہ“ جو ”لوئی پانزوہم“ کا معلم بھی تھا‘ اس نظریے کا حامی ہے۔
یہ وہ نظریات ہیں‘ جنہیں عام طور پر فلسفہ تاریخ کی کتابوں نے حرکت تاریخ کے عوامل کے عنوان سے پیش کیا ہے۔
ہمارے خیال میں یہ گفتگو کسی طرح بھی درست نہیں‘ اس میں ایک طرح کا ”خلط مبحث“ ہوا ہے۔ ان میں سے بیش تر نظریات تاریخ کی اس علت محرک سے تعلق نہیں رکھتے‘ جس کی تلاش میں ہم سرگرداں ہیں۔ مثلاً نسل سے متعلق نظریہ ایک عمرانیاتی نظریہ ہے اور اس پر اس رخ سے بحث ہو سکتی ہے کہ کیا انسانی نسلیں موروثی عوامل کے اعتبار سے ایک انداز کی صلاحیت رکھتی ہیں اور ہم سطح ہیں کہ نہیں‘ اگر ہم سطح ہیں تو پھر تمام نسلیں ایک ہی انداز سے تاریخ کی حرکت میں شریک ہیں یا کم از کم شریک ہو سکتی ہیں اور اگر ہم سطح نہیں ہیں‘ تو پھر کچھ ہی نسلیں تاریخ کو آگے بڑھانے میں حصہ دار ہیں یا ہو سکتی ہیں۔ اس اعتبار سے یہ مسئلہ صحیح ہے‘ لیکن فلسفہ تاریخ کا راز پھر بھی مجہول رہ جاتا ہے۔ بالفرض ہم یہ مان لیں کہ صرف ایک ہی نسل کے ہاتھوں تاریخی تحول و تغیر ہوتا ہے‘ تو پھر بھی مشکل کے حل ہونے کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور مشکل جوں کی توں رہتی ہے جبکہ ہم اس کے بھی قائل ہو جاتے ہیں کہ تاریخ کے تحول و تغیر میں تمام انسانوں کا عمل دخل ہے کیونکہ یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آخر کس بناء پر انسان یا انسان کی کسی نسل کی زندگی تبدیل ہوتی رہتی ہے اور حیوان کی زندگی میں ہر تغیر و تحول نہیں ہے۔ وہ راز کہاں چھپا ہوا ہے؟ یہ بات تحرک تاریخ کے راز سے پردہ نہیں اٹھاتی کہ تاریخ کو ایک نسل نے انقلاب سے ہمکنار کیا یا تمام نسلوں نے؟
اسی طرح جغرافیائی نظریہ بھی اپنی جگہ عمرانیاتی علوم کے ایک مفید مسئلے سے مربوط ہے اور وہ یہ کہ یہ ماحول انسان کی عقلی‘ فکری‘ ذوقی اور جسمانی ترقی میں موثر ہے۔ کوئی ماحول انسان کو حیوان کی حد میں یا اس کے قریب رکھتا ہے‘ لیکن کوئی اور ماحول حیوان سے انسان کے فاصلے کو زیادہ رکھتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق تاریخ صرف بعض ممالک اور بعض مناطق میں تحرک رکھتی ہے اور دوسرے مناطق اور دوسرے ماحول میں ثابت‘ یکساں اور حیوانات کی سرگزشت کی طرح رہتی ہے‘ لیکن اصلی سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ مثلاً شہد کی مکھی یا باقی تمام اجتماعی زندگی بسر کرنے والے جاندار نیز انہی مناطق اور انہی ممالک میں فاقد تحرک تاریخ ہیں۔ پس وہ اصلی عامل جو دو قسم کے ان جانداروں میں اختلاف کا اصلی سبب بنتا ہے اور ان میں سے ایک ثابت اور دوسرا ہمیشہ ایک مرحلے سے دوسرے میں منتقل ہوتا رہتا ہے‘ کیا ہے؟ ان سب سے زیادہ بے ربط‘ الٰہی نظریہ ہے‘ مگر کیا صرف تاریخ ہی وہ واحد چیز ہے‘ جو جلوہ گاہ مشیت الٰہی ہے؟ تمام دنیا آغاز سے انجام تک اپنے تمام اسباب‘ علل‘ موجبات اور موانع کے ساتھ جلوہ گاہ مشیت ایزدی ہے۔ مشیت الٰہی دنیا کے تمام اسباب و علل کے ساتھ مساوی رشتے کی حامل ہے‘ جس طرح انسان کی انقلابات بھری زندگی جلوہ گاہ مشیت الٰہی ہے‘ اسی طرح شہد کی مکھی کی ثابت اور یکساں زندگی بھی جلوہ گاہ مشیت الٰہی ہے۔ پس گفتگو اس امر میں ہے کہ مشیت الٰہی نے انسان کی زندگی کو کس نظام کے ساتھ خلق کیا ہے؟
 

صرف علی

محفلین
انسان میں کیا راز رکھ دیا ہے کہ اس کی زندگی متحول و متغیر ہے جبکہ دیگر جانداروں کی زندگی اس راز سے خالی ہے۔
تاریخ کا اقتصادی نظریہ بھی فنی اور اصولی پہلو سے خالی ہے‘ یعنی اصولی صورت میں اسے پیش نہیں کیا گیا‘ تاریخ کے اقتصادی نظریہ کو جس صورت میں پیش کیا گیا ہے‘ اس سے فقط تاریخ کی ماہیت اور ہویت واضح ہوتی ہے کہ وہ مادی اور معاشی ہے اور باقی تمام پہلو اس تاریخی جوہر کے عوارض کی حیثیت رکھتے ہیں‘ یہ نظریہ واضح کرتا ہے کہ اگر معاشرے کی اقتصادی بنیاد میں تبدیلی رونما ہو تو لازمی طور پر معاشرے کے باقی تمام امور تبدیلی سے دوچار ہوں گے‘ لیکن یہ سب باتیں ”اگر“ ہیں‘ اصلی بات پھر بھی اپنی جگہ رہ جاتی ہے اور وہ یہ کہ ہم یہ فرض کرتے ہیں کہ اقتصاد معاشرے کی اصل بنیاد ہے اور ”اگر“ اس اصل بنیاد میں تبدیلی رونما ہو‘ تو تمام معاشرہ بدل جائے گا لیکن کیوں اور کس عامل یا کن عوامل کے تحت بنیاد میں تبدیلی آئے گی؟ اور اس سے بنیاد پر قائم عمارت متغیر ہو گی۔ بعبارت دیگر اقتصاد کا بنیاد ہونا اس کے متحرک ہونے اور حرکت رکھنے کے لئے کافی نہیں ہے۔
ہاں‘ اگر اس نظریے کے حامل افراد اس عقیدے کے بجائے اقتصاد کو جو (بقول ان کے) معاشروں کی اصل بنیاد اور اس پر قائم عمارت کے مسئلے کو پیش کریں اور کہیں کہ عامل محرک تاریخ اصل بنیاد کی دو سمتوں (پیداواری آلات اور پیداواری روابط) کا تضاد ہے‘ تو پھر مسئلہ صحیح صورت میں پیش ہوتا ہے‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ ”اقتصاد محرک تاریخ ہے“ کے مسئلے کو پیش کرنے والے کا اصلی مقصد یہی ہے کہ تمام تحریکات کا اصلی سبب اندرونی تضادات ہیں اور پیداواری آلات اور پیداواری روابط کے درمیان داخلی تضاد محرک تاریخ ہے‘ لیکن ہماری گفتگو پیش کرنے والے کی مراد مافی الضمیر سے متعلق نہیں بلکہ صحیح طور پر پیش کرنے سے متعلق ہے۔
نابغہ شخصیتوں سے متعلق نظریہ درست ہو یا نادرست براہ راست فلسفہ تاریخ سے یعنی عامل محرک تاریخ سے مربوط ہے۔ تاہم تاریخ کو حرکت میں لانے والی طاقت کے بارے میں یہاں تک ہمیں دو نظریے حاصل ہوئے‘ ایک نابغہ شخصیتوں سے متعلق نظریہ جو تاریخ کو مخلوق افراد جانتا ہے اور یہ نظریہ درحقیقت اس بات کا مدعی ہے کہ معاشرے کی اکثریت خلاقیت اور ترقی کی صلاحیتوں سے عاری ہے اور اگر پورا معاشرہ ایسا ہو‘ تو انقلاب اور پیش رفت کا سوال ہی باقی نہیں رہتا‘ لیکن معاشرے میں خداداد صلاحیتوں کی مالک ایک اقلیت ہوتی ہے‘ جو تخلیق کرتی ہے‘ منصوبے بناتی ہے‘ عزم اور ہمت سے کام لیتی ہے‘ سخت جدوجہد کرتی ہے‘ عام لوگوں کو اپنے پیچھے ساتھ لاتی ہے اور اس طرح تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ یہ بلند پایہ لوگ صرف طبیعی اور موروثی استثنائی واقعات کا معلول ہوتے ہیں۔ اجتماعی حالات اور معاشرے کی مادی ضرورتیں ان کی تخلیق میں کوئی کردار ادا نہیں کرتیں۔
دوسرا معاشرے کی اصل بنیاد اور اس پر قائم عمارت میں تضاد کا نظریہ ہی ہے‘ جو محرکیت اقتصاد کی ایک صحیح تعبیر ہے اور جس کے بارے میں ہم پہلے اشارہ کر چکے ہیں۔
تیسرا نظریہ فطرت
انسان کے کچھ خصائص ہیں‘ جن کی وجہ سے وہ ایک کمال پذیر اجتماعی زندگی رکھتا ہے۔ ان میں سے ایک خصوصیت اور ایک صلاحیت تجربات حاصل کرنا اور ان کی حفاظت کرنا ہے۔ وہ جو کچھ اپنے تجربات سے حاصل کرتا ہے‘ اسے محفوظ کرتا ہے اور آئندہ تجربات کی بنیاد بناتا ہے۔
اس کی دوسری صلاحیت یا دوسری استعداد قلم اور بیان سے علم کا حصول ہے۔ وہ دوسرے کے تجربات اور اکتسابات کو زبان اور اسے زیادہ بہتر مرحلے میں تحریر سے اپنے آپ میں منتقل کرتا ہے‘ نسلوں کے تجربات‘ مکالمات اور تحریروں کے ذریعے دوسری نسلوں تک پہنچتے اور جمع ہوتے رہتے ہیں‘ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے نعمت بیان‘ نعمت قلم اور لکھنے کو بڑی اہمیت دی ہے۔
الرحمن علم القرآن خلق الانسان علمہ البیان(سورئہ الرحمن‘ آیات ۱ تا ۴)
”انتہائی مہربان خدا نے قرآن کی تعلیم دی‘ انسان کو خلق کیا اور اسے بیان کرنا سکھایا۔“
اقرا باسم ربک الذی خلق‘ خلق الانسان من علق‘ اقراء و ربک الاکرم الذی علم باالقلم
(سورئہ علق‘ آیات ۱ تا ۴)
”پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا‘ جمے ہوئے خون سے انسان کو خلق کیا۔ پڑھو اور تمہارا پروردگار ہی سب سے زیادہ کریم ہے‘ جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی۔“
انسان کی تیسری خصوصیت اس کی عقل و خلاقیت ہے۔ انسان اپنی اس مرموز قوت سے تخلیق و اختراع کرتا ہے‘ وہ مظہر خلاقیت الٰہی ہے۔ اس کی چوتھی خصوصیت جدت پسندی کی سمت اس کا فطری اور ذاتی لگاؤ ہے‘ یعنی انسان میں خلاقیت اور اختراع‘ صرف استعداد کی صورت میں نہیں ہے کہ وہ چاہے اور ضرورت محسوس کرے‘ تو تخلیق و ایجاد پر توجہ دے بلکہ خلاقیت اور نئی چیز کی ایجاد کا رجحان اس میں بالذات رکھ دیا گیا ہے۔
تجربوں کا تحفظ اور ان کی نگہداشت علاوہ ازیں ایک دوسرے کو تجربات منتقل کرنے کی صلاحیت نیز تخلیق و ایجادات اور ان کی طرف انسان کا ذاتی لگاؤ‘ وہ طاقتیں ہیں‘ جو اسے ہمیشہ آگے کی سمت بڑھاتی رہی ہیں۔ حیوانات میں نہ تو تجربوں کے تحفظ کی صلاحیت ہے اور نہ ہی وہ اپنے اکتسابات یا ادراکات کو ایک دوسرے تک پہنچا سکتے ہیں۔(۱) نہ ان میں تخلیق و ابتکار کی صلاحیت ہے جو قوہ عقلیہ کی خاصیت ہے اور نہ جدت پسندی کا شدید رجحان ہے‘ یہی وجہ ہے کہ حیوان جہاں تھا وہیں رہتا ہے اور انسان آگے نکل جاتا ہے۔ اب ہم ان نظریات کو تنقیدی نگاہ سے دیکھنا چاہیں گے۔
تاریخ میں شخصیت کا کردار
بعض لوگوں کا دعویٰ ہے کہ
”تاریخ نابغہ اور عام حد کے درمیان جنگ سے عبارت ہے‘ یعنی ہمیشہ عام اور متوسط آدمی اس حالت کے حامی ہوتے ہیں‘ جس سے ان کو انسیت ہو گئی ہوتی ہے اور نابغہ یا اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک افراد موجود حالت کو بہتر میں بدلنے کے خواہاں ہوتے ہیں۔“
کارلائل کہتا ہے کہ تاریخ اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک اور ممتاز افراد سے شروع ہوتی ہے۔ یہ نظریہ دراصل دو مفروضوں پر مبنی ہے۔
ایک یہ کہ معاشرہ طبیعت اور حیثیت سے عاری ہے۔ افراد سے معاشرے کی ترکیب حقیقی ترکیب نہیں ہے۔ افراد سب ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ ایک دوسرے سے تاثیر و تاثر حاصل کرنے سے ایک ایسا حقیقی مرکب اور ایک ایسی اجتماعی روح وجود میں نہیں آ سکتی‘ جو اپنی کوئی حیثیت‘ طبیعت اور خصوصی قوانین رکھتی ہو‘ پس افراد ہیں اور ان کی انفرادی نفسیات اور بس۔ کسی معاشرے میں افراد کا ایک دوسرے سے جداگانہ بنیادوں پر رابطہ بالکل جنگل کے درختوں کا سا رابطہ ہے‘ معاشرتی واقعات انفرادی اور جزوی واقعات کا مجموعہ ہوتے ہیں‘ اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس اعتبار سے معاشرے میں رونما ہونے والے ”اتفاقات“ اور ”واقعات“ زیادہ تر جزوی اسباب کے حامل ہوتے ہیں‘ کلی اور عمومی اسباب کے نہیں۔
دوسرا مفروضہ یہ ہے کہ انسان مختلف اور متفاوت صورتوں میں پیدا ہوئے ہیں اور باوجود اس کے کہ وہ عام طور پر ثقافتی وجود اور باصلاح فلاسفہ حیوان ناطق ہیں‘ پھر بھی زیادہ تر انسان خلاقیت‘ نوآوری اور تخلیق سے عاری ہوتے ہیں۔ ان کی اکثریت ثقافت اور تمدن کو برتنے والی ہوتی ہے‘ پیدا کرنے والی نہیں۔ حیوانات کے ساتھ ان کا فرق یہ ہے کہ حیوانات برتنے والے بھی نہیں بن سکتے۔ اس اکثریت کا مزاج تقلیدی‘ روایتی اور شخصیت پرستی پر مبنی ہوتا ہے۔
انسانوں کی بہت کم تعداد بلند پایہ‘ نابغہ‘ عام اور متوسط حد سے بالاتر مستقل الفکر‘ مخترع‘ موجد اور مضبوط ارادے کی مالک ہوتی ہے‘ یہ لوگ معاشرے کی اکثریت سے جدا ہوتے ہیں‘ گویا یہ ”کسی اور آداب اور آب و خاک اور کسی اور شہر و دریا کے لوگ ہیں۔“ اگر اس طرح کے سائنسی‘ فلسفی‘ ذوقی‘ سیاسی‘ اجتماعی‘ اخلاقی‘ ہنری اور فنی ماہرین کا وجود نہ ہو‘ تو انسانیت اسی منزل پر رہتی جہاں پر پہلے تھی اور اس سے ایک قدم بھی آگے نہ بڑھتی۔
ہماری نظر میں یہ دونوں مفروضے مہمل ہیں‘ پہلا مفروضہ اس اعتبار سے بے معنی ہے کہ ہم ”معاشرے“ کی بحث میں پہلے یہ ثابت کر چکے ہیں کہ معاشرے کی اپنی ایک حیثیت‘ طبیعت‘ قانون اور روایت ہے اور وہ انہی کلی روایات پر قائم ہے اور یہ روایات خود اپنی ذات میں اسے آگے بڑھانے اور تکامل بخشنے والی ہیں۔ پس اس مفروضے کو الگ کر کے ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ باوجود اس کے کہ معاشرہ حیثیت‘ طبیعت اور روایت سے ہمکنار ہے اور اپنی روش کے مطابق اپنا عمل جاری رکھتا ہے۔ فرد کی شخصیت اس میں کوئی کردار ادا کر سکتی ہے یا نہیں؟ اس موضوع پر ہم پھر کبھی گفتگو کریں گے‘ اب ہم دوسرے مفروضے کی طرف آتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان کو مختلف صلاحیتوں کے ساتھ خلق کیا گیا ہے‘ لیکن یہ بات بھی درست نہیں کہ صرف بلند پایہ اور نابغہ لوگ ہی تخلیقی صلاحیت کے حامل ہوتے ہیں اور تقریباً باقی تمام لوگ تہذیب و تمدن کے محض صارفین ہوتے ہیں۔ دنیا کے تمام افراد میں کم و بیش خلاقیت اور نوآوری کی صلاحیت پائی جاتی ہے اور اسی لئے اگر تمام افراد نہیں‘ تو کم از کم ان کی اکثریت تخلیق‘ تولیدی اور نوآوری میں حصہ لے سکتی ہے‘ اب یہ اور بات ہے کہ ان کی کوششیں نابغہ افراد کے مقابل میں بہت کم اور ناچیز ہوں۔
”تاریخ کو نابغہ شخصیتیں بناتی ہیں“ والے نظریہ کے بالکل برعکس ایک اور نظریہ ہے‘ جو یہ کہتا ہے کہ تاریخ شخصیتوں کو وجود میں لاتی ہے‘ شخصیتیں تاریخ کو نہیں۔ یعنی عینی اجتماعی ضرورتیں ہیں‘ جو شخصیتوں کو پیدا کرتی ہیں۔
مونٹیسکو کہتا ہے:
”بڑی شخصیتیں اور عظیم واقعات زیادہ وسیع اور زیادہ طویل واقعات کے نتائج اور ان کی نشانیاں ہیں۔“
ہیگل کہتا ہے:
”عظیم ہستیاں تاریخ کی خالق نہیں دایہ ہوتی ہیں۔ عظیم لوگ ”عامل“ نہیں ”علامت“ ہوتے ہیں۔ بعض لوگ جو ”ڈورکم“ کی طرح ”اصالة الجمعی“ کے قائل ہیں اور اس بات پر اعتقاد رکھتے ہیں کہ تمام افراد بطور مطلق اپنی کوئی شخصیت نہیں رکھتے بلکہ وہ اپنی تمام شخصیت کو معاشرے سے لیتے ہیں۔ افراد اور شخصیتیں سوائے اجتماعی روح کے مظہر یا بقول محمود شبستری سوائے اجتماعی روح کے روشن دان کی جالیوں کے کچھ بھی نہیں۔“
وہ لوگ جو مارکس کی طرح علاوہ برایں کہ انسان کی عمرانیات پر مبنی علوم کو اس کے اجتماعی کاموں سے قرار دیتے ہیں‘ اسے اجتماعی شعور پر مقدم بھی جانتے ہیں‘ یعنی افراد کے شعور کو اجتماعی و مادی ضرورتوں کے مظاہر میں سے شمار کرتے ہیں‘ ان کی نظر میں شخصیتیں‘ معاشرے کی مادی اور اقتصادی ضرورتوں کے مظاہر ہیں۔ مادی ضرورتیں…(انتہائی افسوس ہے کہ استاد مطہری شہید۱ کا مسودہ یہیں پر آ کر ختم ہو جاتا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ ابھی وہ اس کے بارے میں اور بھی کچھ لکھنا چاہتے تھے‘ لیکن وقت نے انہیں مہلت نہ دی)
 
Top