مضمون کے انتخاب میں مشورہ درکار ہے!

مضمون کے انتخاب میں مشورہ درکار ہے!
السلام علیکم!
میرے ایک کزن نے جامعہ کراچی سے پرائیویٹ اُمیدوار کی حیثیت سے بی اے کیا ہے فرسٹ ڈویژن میں۔ دو سال کے وقفے کے بعد اب وہ ایم اے پرائیویٹ میں داخلے کا خواہش مند ہے۔ بی اے میں اس کے اختیاری مضامین معاشیات، تاریخ اسلام اور پولیٹیکل سائنس تھے۔ ریگولر طالب علم کو تو جس شعبے میں داخلہ مل جاتا ہے وہ اسی میں ایم اے کر لیتا ہے۔ لیکن پرائیویٹ اُمیدوار کو خود کوئی مضمون منتخب کرنا ہوتا ہے اور میرے کزن کے لئے یہ انتخاب مشکل ہو رہا ہے۔ بی اے میں بقول اس کے اس نے بڑی مشکل سے معاشیات کے پرچہ جات کلیئر کیے تھے اس لئے وہ معاشیات اور انگریزی میں تو بالکل ایم اے نہیں کرنا چاہتا۔ اس کے علاوہ جن مضامین میں ایم اے (پرائیویٹ )ممکن ہے ان میں اردو، اسلامک اسٹڈیز، پولیٹیکل سائنس، بین الاقوامی تعلقات، تاریخ اسلام وغیرہ شامل ہیں۔

اردو محفل کے معزز اراکین سے گزارش ہے کہ اس سلسلے میں اپنی آراء سے نوازیے کہ کس مضمون میں ایم اے کیا جانا چاہیئے اور کیوں؟ رائے کے لئے پیشگی شکریہ!
 

شمشاد

لائبریرین
شعیب بھائی یہ تو آپ کے کزن پر ہی منحصر ہے کہ ان کی دلچسپی کس مضمون میں زیادہ ہے۔

میرا مشورہ چاہیے تو بین الاقوامی تعلقات عامہ میں داخلہ لے لیں۔
 
تاریخ اسلام یا پولیٹیکل سائنس بہترین انتخاب اس لئے ہوسکتے ہیں کہ گریجوشن لیول میں ان اختیاری مضامیں کی وجہ سے انھوں ان مضامین کی ابتدائی معلومات ہونگی جو انھیں مدد کرے گی-

ایک اور بات تاریخ اسلام کی بنسبت پولیٹیکل سائنس میں ماسٹر آسان ہے
 
کئی چیزیں ہیں جو یہ فیصلہ کرنے کے لئے ضروری ہیں۔ مثلاً ان کی ترجیحات کیا ہیں؟ تن آسانی، رغبت یا روزگار کے مواقع؟ یہ سوال خود سے کر لیں تو جواب بھی از خود مل جائے گا۔
 

فرخ منظور

لائبریرین
میرے خیال میں آج کل یہ اہم نہیں کہ کس مضمون میں ڈگری حاصل کی جائے بلکہ یہ اہم ہے کہ ڈگری بہت اعلیٰ نمبروں سے حاصل کی جائے اور اس میں مزید آگے ریسرچ وغیرہ کی جائے۔ اس لئے میرے خیال میں آپ کے کزن جس مضمون میں دلچسپی اور مہارت رکھتے ہیں انہیں وہی کرنا چاہیے چاہے وہ پنجابی یا اردو ہی کیوں نہ ہو۔ آج کل سپیشلائزیشن کا دور ہے ۔ جس مضمون میں بھی وہ انتہائی ماہر ہو سکتے ہیں انہیں وہی مضمون اختیار کرنا چاہیے۔ ایم اے تو سب ہی کرتے ہیں لیکن کسی خاص مضمون میں مہارت بہت کم لوگ حاصل کر سکتے ہیں اور آج کل صرف مہارت کی ہی مانگ ہے نہ کہ ایم-اے کی۔
 
تمام معزز اراکین کا بے حد شکریہ۔ ۔۔۔۔۔۔۔! میں یہ تمام باتیں اپنے کزن کے گوش گزار کر دونگا۔ میرا بھی یہی ماننا ہے کہ اسی مضمون میں آگے پڑھنا چاہیئے جس میں دلچسپی ہو۔ تین احمق (3 Idiots) فلم ایسے ’’احمقوں‘‘ کے لئے بہترین فلم ہے ۔ بہرحال سب کا ایک مرتبہ پھر شکریہ!
 
Top