مصطلحاتِ تصوف
تصوف
دین کے تمام مراتب یعنی اسلام، ایمان اور احسان کے ساتھ تحقق(Verification ) حاصل ہونے کا نام تصوف ہے۔
شروع کے زمانوں میں دین کے مرتبہءِ احسان کو ہی تصوف کے مترادف سمجھا جاتا تھا کیونکہ ان زمانوں میں عامۃالمسلمین اور فقہاء و مقلدین، دین کے پہلے دو مراتب یعنی مرتبہءِ اسلام اور مرتبہءِ ایمان سے عمومی طور پر متحقق ہوا کرتے تھے۔ لیکن موجودہ دور میں احسان تو درکنار، اسلام اور ایمان کے مراتب بھی گویا شاذ اور کمیاب کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔
چنانچہ تصوف کا لفظ اب دین کے تینوں مراتب اور دینداری کے تینوں مراحل کی طرف لوٹ آیا ہے۔ چنانچہ دین اور تصوف اب ایک ہی شئے کا نام ہے۔ اور دین کی جگہ تصوف کا لفظ استعمال کرنے کی وجہ یہ ہے کہ غافل لوگوں نے لفظ دین کو اسکے شایانِ شان مظاہر کی بجائے بہت غیرمناسب امور کیلئے بھی استعمال کرنا شروع کردیا اور کھوکھلی، سطحی اور خشک بے جان دینداری کے مظاہر پر بھی دین کا اطلاق ہونے لگا۔ حالانکہ دین تو اللہ کے ساتھ اسکے بندے کے معاملے کا نام ہے جو ہردم تروتازہ اور زندہ ہونا چاہئیے۔ چنانچہ اسی بناء پر ، ظاہری و باطنی طور پر صحیح دین کی طرف لوٹ آنے کو تصوف کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔
صوفیہ کے نزدیک، قرآن و سنت کے معاملے میں محض سابقین میں سے کسی ایک کی فہم پر ہی اکتفا نہیں کیا جاسکتا، چنانچہ اللہ کی طرف سے انکے قلوب پر بھی علوم وارد ہوتے ہیں کیونکہ اللہ کے خزانوں کی کوئی انتہاء نہیں اور علم کی کوئی حد نہیں ، اور ہر ذی علم سے اوپر بھی ایک علم والا ہے(و فوق کل ذی علم علیم)۔
اور جس کسی نے تصوف کو زہد کے معنوں میں استعمال کیا ہے تو اسکا یہ ایسا کرنا کسی شئے کو اسکے جزو کے نام سے موسوم کرنے کی قبیل سے ہے۔ کیونکہ زہد، مرتبہِ ایمان کے احوال میں سے ایک حال ہے چنانچہ تصوف کو صرف زہد میں ہی محصور کرنا، علم کی رُو سے خالی از علت نہیں ہے۔
پس صوفی وہ ہے جس نے دینداری کے تمام مراحل طے کئے ہوئے ہوں اور دین کے تمام مراتب سے گذر کر دین کی غرض و غایت (یعنی پروردگارِ عالم کی معرفت) کو پہنچ چکا ہو۔ چنانچہ اس بناء پر ، جسے وصل حاصل نہیں ہوا، وہ صوفی نہیں ۔ البتہ مجازی طور پر کسی سالک کو تبشیر کے تحت صوفی کہا گیا ہو تو یہ ایک الگ بات ہے۔
(مصنف : شیخ عبدالغنی العمری)
(اردو ترجمہ : محمود احمد غزنوی)
(جاری ہے)۔۔۔۔۔۔
 
آخری تدوین:
طریق
اللہ اور اسکے بندے کے درمیان پائی جانے والی موہوم مسافت کا نام طریق ہے۔ اور انہی معنوں میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ {وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ}[ق:16].
ترجمہ :"اور بیشک ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم ان وسوسوں کو (بھی ) جانتے ہیں جو اسکا نفس اسکے (دل و دماغ میں) ڈالتا ہے اور ہم اسکی شہ رگ سے بھی زیادہ اسکے قریب ہیں"۔
اور طریق نسبی (Relative) ہے، ان معنوں میں کہ کسی قوم کے حق میں طویل اور کسی دوسری قوم کے حق میں انکی استعدادات کی کثافت و لطافت کے اعتبار سے قصیر (چھوٹا) ثابت ہوا۔ اور طریق میں ہر نزدیکی اور قرب حق تعالیٰ کی طرف سے ہے اور ہر دُوری یا بُعد ، نفس کے اثر سے ہے۔
چنانچہ سب لوگ ۔۔۔خواہ وہ مومنین سے ہوں یا کافرین میں سے۔۔۔ طریق پر ہی ہیں۔ اور بیشک مومنین کو حق تعالیٰ نے دوسروں کے برعکس، صراطِ مستقیم کے ساتھ مخصوص فرمایا ۔ اور طریق کی غایت اور منتہائے مقصود اللہ ہی ہے اور اُسکے سوا اور کوئی غایت نہیں۔ پس جو اِس دنیا میں غایت کو نہ پہنچا، وہ آخرت میں غایت کو پہنچے گا اور جو گلزارِ جنت میں اس غایت کو نہ پاسکا وہ نار ِ دوزخ میں اُس غایت کو پا لے گا۔
سلوک
طریق کے مراحل کو ابتداء سے لے کر اسکی انتہاء تک طے کرنے کا نام سلوک ہے۔ اور اصطلاح میں سالک وہ ہے جو خواص کے طریقے کے مطابق طریق پر چلے۔ پس سالکین میں سے کوئی تو وہ ہے کہ جسے اس دنیا میں ہی وصل و وصول حاصل ہوجاتا ہے، اور کوئی وہ ہے جسے وصل سے پہلے موت آلیتی ہے۔ کوئی وہ ہے جو اس راہ کو طے کرجاتا ہے اور کوئی ایسا بھی ہے جو صراطِ مستقیم سے بھٹک کر مطرود ہوجاتا ہے۔
سلوک کئی متغیرات ( Variables) سے وابستہ ہے۔ ان میں سے کچھ کا تعلق سالک کی استعداد سے ہے تو کچھ کا تعلق شیخ و مرشد سے ہے۔ اور کچھ متغیرات ایسے بھی ہیں جو شیطان کی طرف لوٹتے ہیں۔ اسی بات کو یوں ذکر کیا گیا ہےکہ : {قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ (16) ثُمَّ لَآتِيَنَّهُمْ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَائِلِهِمْ وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ}[الأعراف: 16-17].
ترجمہ : "اس (ابلیس) نے کہا کہ پس اس وجہ سے کہ تُو نے مجھے گمراہ کردیا ہے(مجھے قسم ہے کہ) میں (بھی) ان (افرادِ بنی آدم کو گمراہ کرنے )کیلئے تیری سیدھی راہ پر ضرور بیٹھوں گا۔ پھر میں یقینا ؑ انکے آگے سے، پیچھے سے، دائیں سے اور انکے بائیں سے انکے پاس آؤں گا اور تُو ان میں سے اکثر کو شکرگذار نہیں پائے گا"۔
اور سلوک کیلئے لازم ہے کہ اس میں ایک شیخ و مرشد ہو جو اسکے تمام متغیرات کی تفاصیل کا علم رکھتا ہو تاکہ مرید کی نگاہ میں وہ امور لے آئے جو بصورتِ دیگر اس پر مخفی ہی رہتے اور جنکی بناء پر مرید شیطان کے داؤ پیچ کا شکار ہوجاتا اور اپنے رب سے دوری میں جاپڑتا اور اسے اس بات کا پتہ بھی نہ چلتا۔
اور سلوک کی ابتداء کافر کے حق میں کلمہِ شہادت کی ادائیگی سے ہوتی ہے اور مومن کے حق میں توبہ کے وقت سے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ غافل مومن کیلئے سلوک نہیں ہے۔ بلکہ وہ ایسا ہے جیسے بیچ راہ میں کوئی کھڑا ہو اور لوگ اسکے پاس سے گذر کر جارہے ہوں لیکن وہ اسی حال پر قائم رہے۔
اور سلوک کے تمام مقامات، دین کے تینوں مراتب کی ذیل میں آتے ہیں۔ چنانچہ سالکین میں سے کوئی ہے جو مرتبہءِ اسلام میں ہے اور کوئی ہے جو مرتبہءِ ایمان پر پہنچا ہوا ہے جبکہ کوئی سالک ایسا بھی ہے جو مرتبہءِ احسان پر فائز ہے۔ ماضی میں کچھ لوگوں کے نزدیک سلوک مقامِ احسان کیلئے ہی مختص تھا جب اُن زمانوں میں عامۃالمسلمین بالعموم دین کے پہلے دو مراتب (یعنی اسلام اور ایمان) کے حامل ہوا کرتے تھے، چنانچہ یہ گمان کرلیا گیا کہ سلوک صرف مرتبہءِ احسان کو طے کرنے کا نام ہے جبکہ حقیقت یہی ہے کہ پورے کا پورا دین (اپنے تینوں مراتب کے ساتھ) سلوک کی جولان گاہ ہے۔
(مصنف : شیخ عبدالغنی العمری)
(اردو ترجمہ : محمود احمد غزنوی)
(جاری ہے۔۔۔۔۔)
 
کیا یہ بتا سکتے ہیں کہ اس نظام کے لیے تصوف کی اصطلاح کا استعمال کیوں جبکہ ابھی تک متفقہ طور پر اس اصطلاح کے معنی کا تعین ہی نہیں ہوسکا۔ اس کے بجائے قرآنی یا حدیث کی اصطلاح احسان کیوں نہیں اتنے تواتر سے استعمال کی جاتی ہے جبکہ اس میں کسی قسم کا کوئی ابہام بھی نہیں۔ :) :)
 
Top