مشن ٹو اسلام آباد

بےباک

محفلین
مشن ٹو اسلام آباد

--------------------------------------------------------------------------------

السلام علیکم دوستو: "اسلام آباد پر طالبان قبضہ کرنا چاہتے ہیں ":::، جناب صدر پاکستان آصف علی
زرداری صاحب کا بیان اس وقت سامنے آیا ہے ،جب انڈیا اور امریکا اور برطانیہ اور دوسری استعماری طاقتوں جن میں فرانس بھی شامل ہے نے مخلتف ذرائع ابلاگ سے پاکستان کی حکومت کو " ڈُو مور ، ڈُو مور " کا واویلا کرتے ہوئے ان اطلاعات کا پروپیگنڈا کیا ہے کہ امریکن انٹیلیجنس کی اطلاعات کے مطابق طالبان اب اسلام آباد پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں ، اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں سے ہر قسم کے جہادی اور اسلامی تنظیموں پر پابندی لگائے اور ان کا قلع قمع کرے، اور پاکستان اپنی پوری ملٹری طاقت سے اس فتنے کو کچل ڈالے ، اور اس کے علاوہ امریکہ کے خصوصی نمائیندہ ھالبروک نے کہا ہے کہ مجھے حیرت ہو رہی ھے کہ پاکستان کے سیاستدان مطالبہ کرتے ہیں کہ ڈارون طیارے افغانستان سے پاکستان کی حدود میں حملے بالکل نہ کریں ، اور جب کہ ایسا بالکل نہیں ،یہ حملے ہماری میوچل انڈر سٹینڈنگ ( باہمی مفاھمت )کے بعد ہو رہے ہیں اور یہ طیارے پاکستان کے ہوائی اڈوں سے اڑ کر حملہ کرتے ہیں ، اور حکومت پاکستان کے کردار پر ھالبروک کی حیرت بجا ہے ، اس لیے کہ ان کے دو منہ ہیں ، ایک وہ جو پاکستانی پبلک دیکھتی ہے ، اور دوسرا دنیا کے عالمی انصاف پسند دیکھتے ہیں، ھاھاھاھاھاھا
ہم کتنے کمزور ہیں ،کہ جلدی پروپیگنڈے سے متاثر ہو جاتے ہیں ،
کاش ہمارے ملک میں کوئی گہری سوچ والا لیڈر ہوتا ، ہمیں آپس میں لڑایا جا رہا ھے
پاکستان کی قیادت کو سوچنا چاھیے کہ یہ دشمنوں کی خواہشیں ہیں اور ہم ان کی تکمیل کے لیے ان کے کارندے بنے ہوئے ہیں ، اور وہ ہمیں کرائے کے فوجیوں کی طرح استعمال کر رہے ہیں ، اے پاکستانی قوم ، تیری بربادی کے فیصلے تیرے سامنے ہو رہے ہیں ،
پاکستانی قوم اپنے قومی مطالبات بھی ممبئی حملوں کے بعد بھول گئے ہیں ، جیسے کشمیر ، جیسے سرکریک ، سیاہ چین ، اور بگھلیار ڈیم سندھ طاس معایدہ ، اور سمجھوتہ ٹرین کے مجرم اور گجرات کے فسادات کے مجرم ،،
اطلاعا عرض ہے کہ صحارا ٹی وی گذشتہ کئی روز سے یہ واویلا کر رہا ھے کہ طالبان اسلام آباد کی طرف بڑھ رھے ہیں ، اور ان کا مشن ہے "مشن ٹو اسلام آباد، " ہمارے صدر محترم وہی بولی بولنا شروع ہو گیے ہیں ، جس کا مطالبہ ہمارے دشمن کر رہے ہیں کہ ان رفاعی فلاحی اور مجاھدانہ تظیموں کو ختم کریں جن کو بنانے میں خود امریکا کا ہاتھ تھا ، اس وقت امریکہ کو روس کے مقابلے میں ان مجاہدین کی ضرورت تھی ،
مزے دار بات ہے ہندوستانی حکومت نے کہا ہے کشمر ھندوستان کا اٹوٹ انگ ہے ، نہ علیحدہ ہونے والا حصہ ، یعنی وہ طے کیے بیٹھے ہیں ، مگر ہم گذشتہ ساتھ برسوں سے ان کے ہاتھوںزبردست بےوقوف بن رہے ہیں ،
ڈو مور ڈو مور ،کرتے جائے ،یہاں تک کہ ان کی ملت میں بھی چلے جائیں ، تب بھی اسلام دشمن طاقتیں آپ سے ہر گز مطمئن نہیں ہوں گی،
آپ سب کا چھوٹا بھائی: بےباک
 
جب ہم سب کی مشترک یہ سوچ ہو گی کہ ہم کو ایک لیڈر چاہیے جو ہمارے ملک کو بطور سب کئ لیے ایک مثال بنا دے۔ تبھی ایسا ممکن ہو گا کہ ہم ایک لیڈر اپنی آنکھوں کہ سامنے دیکھ سکیں۔
 
مشن ٹو اسلام آباد

--------------------------------------------------------------------------------

السلام علیکم دوستو: "اسلام آباد پر طالبان قبضہ کرنا چاہتے ہیں ":::، جناب صدر پاکستان آصف علی
زرداری صاحب کا بیان اس وقت سامنے آیا ہے ،جب انڈیا اور امریکا اور برطانیہ اور دوسری استعماری طاقتوں جن میں فرانس بھی شامل ہے نے مخلتف ذرائع ابلاگ سے پاکستان کی حکومت کو " ڈُو مور ، ڈُو مور " کا واویلا کرتے ہوئے ان اطلاعات کا پروپیگنڈا کیا ہے کہ امریکن انٹیلیجنس کی اطلاعات کے مطابق طالبان اب اسلام آباد پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں ، اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں سے ہر قسم کے جہادی اور اسلامی تنظیموں پر پابندی لگائے اور ان کا قلع قمع کرے، اور پاکستان اپنی پوری ملٹری طاقت سے اس فتنے کو کچل ڈالے ، اور اس کے علاوہ امریکہ کے خصوصی نمائیندہ ھالبروک نے کہا ہے کہ مجھے حیرت ہو رہی ھے کہ پاکستان کے سیاستدان مطالبہ کرتے ہیں کہ ڈارون طیارے افغانستان سے پاکستان کی حدود میں حملے بالکل نہ کریں ، اور جب کہ ایسا بالکل نہیں ،یہ حملے ہماری میوچل انڈر سٹینڈنگ ( باہمی مفاھمت )کے بعد ہو رہے ہیں اور یہ طیارے پاکستان کے ہوائی اڈوں سے اڑ کر حملہ کرتے ہیں ، اور حکومت پاکستان کے کردار پر ھالبروک کی حیرت بجا ہے ، اس لیے کہ ان کے دو منہ ہیں ، ایک وہ جو پاکستانی پبلک دیکھتی ہے ، اور دوسرا دنیا کے عالمی انصاف پسند دیکھتے ہیں، ھاھاھاھاھاھا
ہم کتنے کمزور ہیں ،کہ جلدی پروپیگنڈے سے متاثر ہو جاتے ہیں ،
کاش ہمارے ملک میں کوئی گہری سوچ والا لیڈر ہوتا ، ہمیں آپس میں لڑایا جا رہا ھے
پاکستان کی قیادت کو سوچنا چاھیے کہ یہ دشمنوں کی خواہشیں ہیں اور ہم ان کی تکمیل کے لیے ان کے کارندے بنے ہوئے ہیں ، اور وہ ہمیں کرائے کے فوجیوں کی طرح استعمال کر رہے ہیں ، اے پاکستانی قوم ، تیری بربادی کے فیصلے تیرے سامنے ہو رہے ہیں ،
پاکستانی قوم اپنے قومی مطالبات بھی ممبئی حملوں کے بعد بھول گئے ہیں ، جیسے کشمیر ، جیسے سرکریک ، سیاہ چین ، اور بگھلیار ڈیم سندھ طاس معایدہ ، اور سمجھوتہ ٹرین کے مجرم اور گجرات کے فسادات کے مجرم ،،
اطلاعا عرض ہے کہ صحارا ٹی وی گذشتہ کئی روز سے یہ واویلا کر رہا ھے کہ طالبان اسلام آباد کی طرف بڑھ رھے ہیں ، اور ان کا مشن ہے "مشن ٹو اسلام آباد، " ہمارے صدر محترم وہی بولی بولنا شروع ہو گیے ہیں ، جس کا مطالبہ ہمارے دشمن کر رہے ہیں کہ ان رفاعی فلاحی اور مجاھدانہ تظیموں کو ختم کریں جن کو بنانے میں خود امریکا کا ہاتھ تھا ، اس وقت امریکہ کو روس کے مقابلے میں ان مجاہدین کی ضرورت تھی ،
مزے دار بات ہے ہندوستانی حکومت نے کہا ہے کشمر ھندوستان کا اٹوٹ انگ ہے ، نہ علیحدہ ہونے والا حصہ ، یعنی وہ طے کیے بیٹھے ہیں ، مگر ہم گذشتہ ساتھ برسوں سے ان کے ہاتھوںزبردست بےوقوف بن رہے ہیں ،
ڈو مور ڈو مور ،کرتے جائے ،یہاں تک کہ ان کی ملت میں بھی چلے جائیں ، تب بھی اسلام دشمن طاقتیں آپ سے ہر گز مطمئن نہیں ہوں گی،
آپ سب کا چھوٹا بھائی: بےباک




بہت اچھا مضمون ہے ۔ مگر کیا ان باتوں میں صرف ڈو مور ہی نظر آتا ہے یا کہ پھر ظالمان کے ہاتھوں مارے جانے والے بے گناہوں کا لہو بھی نظر آئے گا ۔۔؟ بند ہونے والے اسکول اور اس کے نتیجے میں ایک جاہل نسل کے سوال کا جواب کون دے گا۔۔؟ مذھبی تنظیموں پر اگر پابندی لگتی ہے تو اس کے ذمہ دار ناف تک پہنچتی ہوئی داڑھیوں والے نام نہاد ملا ہونگے نہ کہ پاکستان یا بین الاقوامی برادری ۔۔۔۔۔! دنیا میں رہنا ہے تو دنیا میں رہنا سیکھنا پڑے گا اور یہی پاکستان اگر مومبائی میں ہونے والی دہشت گردی پر پردہ ڈال دیتا یہ کہ کر کہ جی ہمارا تو کوئی ملوث نہیں ہے تو ان ظالمان کے ایجنڈے میں کوئی فرق آنے والا تھا ۔۔۔؟ کیا آج بھی ظالمان کی نظروں میں حکومت پاکستان کا ہرایسا ملازم جو کسی بھی طرح امن و امان یا افواج یا سیکیورٹی اداروں میں کام کرے کام نہ چھوڑنے اور توبہ نہ کرنے کی صورت میں واجب القتل نہیں ہے ۔۔؟ کیا ظالمان کے ایجنڈے میں پاکستان کو ایک مخصوص مسلک کے مطابق ڈھال دینے کا بقوت عسکری یا دہشت گردی کے ذریعے کوئی ارادہ نہیں ہے ۔۔۔؟ بھائی صاحب سوالات تو بہت اٹھتے ہیں مگر کیا کیجئے ہم جذباتی قوم ہیں اور ہم میں تنقید کو سہنے کی جرات نہیں ہے تو ایسے میں کیا کریں ۔۔۔۔۔۔۔ چلو تالیاں بجاتے ہیں ۔۔۔ تالیاں
 

طالوت

محفلین
بیج بویا بھی خود ، آبیاری بھی کی ، اب جب فصل تیار ہے تو کاٹنے پر اسقدر دکھ کیوں ۔۔ افغان جہاد ، پھر کشمیر جہاد ، پھر اس پر ایک دوسرے کو طعنے اور نئے جہادیوں کا استقبال ، پھر 11/9 ، پھر سب سے پہلے پاکستان ، پھر سب سے آخر میں پاکستان اور اب طالبان ہی طالبان ۔۔۔۔۔۔۔
چیزیں اس قدر آسان نہیں کہ کسی ایک پر سارا گند ڈال کر ہاتھ جھاڑ لیے جائیں ، اپنے گریبانوں میں جھانکیں تو ہمیں بہت سا گند اپنے اندر بھی دکھائی دے گا ۔۔ ہم صرف اسلام کی ٹھیکداری ہی چھوڑ دیں تو پاکستان کے بہت سے مسائل کا حل نکل سکتا ہے ۔۔ اصل بات یہ ہے کہ ہمارا رویہ منافقوں سے بھی بد تر ہے ۔۔ جہاں ہماری مرضی ہو ، جی چاہے ، اطمینان حاصل ہو وہاں آیات بھی مڑ جاتی ہیں نظریات بھی بدل جاتے ہیں ، مقصد کچھ سے کچھ ہو جاتا اور جہاں ہمیں یہ سب حاصل نہ ہو وہاں ہم طوطے کی رٹ‌لگائے بیٹھ جاتے ہیں ۔۔ یہ طالبان بھی اسی دھرتی کے بیٹے ہیں ، ہمارے ہی بھائی ہیں (تھے) ۔۔ انھی کے بل بوتے پر ہم نے روس و بھارت کو آنکھیں دکھائی تھیں ۔۔ اب وہی آنکھیں ہمیں دِکھنے لگیں تو ہماری چیخیں ایک عالم سن رہا ہے ۔۔ اور ہنس رہا ہے ۔۔ یہ جسم کا وہ حصہ ہرگز نہیں جسے ہم کاٹ کر اپنی جان بچا سکیں ، بلکہ اس پر مرہم رکھنا ہی ہماری زندگی کی ضمانت ہے اور یہ بات دیر سے ہی سہی لیکن ایک دن ہمیں سمجھ ضرور آنی ہے ۔۔
وسلام
 

بےباک

محفلین
سچ کہا طالوت بھائی۔ یہ ہمارے ہی جسم کے ٹکڑے تھے ، اور ہیں ، اور اب ہم کب تک ان کو مارتے رہیں گے ، تب تک ہم اندرونی طور پر اور بیرونی طور پر بے حد کمزور ہو چکے ہوں گے ، اس وقت بھارت اور امریکا یا اسرائیل کو بہت کم محنت کرنی پڑے گی ، کیوں کہ ہم اپنے ہی زخموں سے چُور چُور ہوں گے ، نڈھال ہوں گے ،
میری دوستوں سے التماس ہے کہ وہ نسیم حجازی کا مشہور ناول لازمی پڑھے ،جس کا نام ہے ، "سفید جزیرہ " یہ ناول انہوں نے مقصدی طنزیہ لکھا ہے اور ہمارے ملک عزیز کو سفید جزیرہ سے مشابہت دی ہے،
یہ لنک لیں ،میں نے اسے اپ لوڈ کر دیا ہے ، http://www.mediafire.com/download.php?teb2bneicwm
پڑھنے کے بعد دیکھیں ، اللہ ہمارے ملک پاکستان اور امت اسلامیہ کو سلامت رکھے ،
آپ سب کا مخلص: بےباک
 

طالوت

محفلین
اچھی خبر آئی ہے مولانا صوفی محمد اور حکومت کے درمیان معاہدہ ہونے جا رہا ہے ۔۔ اس کے بعد مالاکنڈ کے طالبان غیر مسلحہ ہو جائیں گے ۔۔۔
وسلام
 

بےباک

محفلین
الحمد للہ، بہت اچھی خبر ھے جناب ، اللہ برکت دے
کاش پہلے معایدے جو ہوئے تھے ، وہ بھی قائم رکھتے ، اب ہم یہ توقع رکھتے ہیں ،کہ حکومت اور مولانا صوفی محمد اور ان کے پیروکار ، ہر طرف سے اس پر کاربند رہیں ، اور دشمن کو اپنی صفوں میں نہ گھسنے دیں ، اور نہ ہی ان کی ڈکٹیشن کو قبول کیا جائے،
شکریہ طالوت بھائی،بہت اچھی خبر سنائی،
سب کے لیے دعا گو ، چھوٹا بھائی: بےباک
 

عسکری

معطل
معادہ ہو گیا اور آ ج کئی مہینوں بود سوات میں کوئی حادثہ نہیں ہوا ۔اللہ امن دے ہمارے ملک میں۔اور دلچسپ بات سب فریزین کو ایسا لگ رہا ہے معاہدہ میں اس کی جیت ہوئی ہے۔
 

بےباک

محفلین
اس معایدہ کی سیاہی ابھی سوکھی بھی نہیں ،کہ مختلف بیانات اور سیاسی موشگافیاں شروع ہو گئیں،
۱:امریکہ کے نمائیندہ خصوصی مسٹر ھالبروک نے انڈیا میں اپنا زہریلا روپ دکھایا ہے،اور یہ ھذیان زدہ بیان دیا ہے کہ اصل خطرہ اب اس معایدہ کے بعد کھل کر سامنے آ گیا ہے ، کہ اب طالبان اور ملا لوگ اتنے آگے چلے آئے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ ساتھ ،ھندوستان اور امریکہ کو ان کے بڑھتے ہوئے رسوخ سے سخت خطرہ ہے ،اور حقیقی خطرہ سامنے آ گیا ہے ، اور انہوں نے حکومت پاکستان کو جھکا دیا ہے ،اس کے ساتھ ہی مخلتف لے پالک این جی اوز جن کو باہر سے فنڈ ملتے ہیں ، انہوں نے اس معائدہ پر ناک منہ چڑھایا ہے ، کہ ان کو کچلنا چاہیے ،نہ کہ ان کے ساتھ معائدے کرتے پھریں ،
۲:شیری رحمان نے جناب صدر آصف زرداری کی طرف سے یہ بیان دیا ہے کہ حکومت پاکستان کا اس معایدہ سے کچھ تعلق نہیں ، یہ صوبائی حکومت کا معاملہ ہے،یاد رکھیے کہ اس سے پہلے مولوی نیک محمد کے ساتھ بھی ایسا معایدہ طے پایا تھا ،مگر اگلے دن مولوی نیک محمد کو امریکہ نے اپنے میزائیلوں سے شہید کر دیا ،
کل بھی جب یہ معایدہ طے پایا جا رہا تھا ،اس وقت بھی امریکا کے ڈارون طیارے سے میزائل حملہ کرکے تقریبا ۳۰ افراد شہید کر دیے گئے،حکومت پاکستان کا کوئی نمائیندہ وھاں جا کر تصدیق نہیں کرتا کہ جن افراد کو امریکا کے حملے میں شہید کیا گیا ھے وہ دہشت گرد تھے یا مقامی تھے یا افغان تھے یا معصوم شہری تھے ، کیونکہ اس سے پہلے یہ بات ثابت ہو چکی ہے
کہ امریکا نے جن مواقع پر میزائیل حملے کیے ، وہاں اکثر لوگ مقامی تھی ، یا طالب علم تھے ، کیونکہ ہمارے ذرائع ابلاغ کو وہاں جانے کی اجازت بالکل نہیں ،
کیا ہم لوگ امریکا کے سابق صدر بُش کو بھول گئے ،۔اس نے دس لاکھ سےزیادہ لوگ عراق میں موت کے گھاٹ اتار دیے ،لاکھوں زخمی ہوئے ، لاکھوں ملک چھوڑ کر چلے گئے ، اور اس کا سبب یہ بتایا گیا تھا کہ عراق کے پاس تباہ کن اسلحہ ہے ،( ویپن آف ماس ڈسٹرکشن)، حالانکہ اقوام متحدہ کی ٹیم نے کئی ماہ کی تحقیق کے بعد یہ رپورٹ دی کہ عراق کے پاس ایسا اسلحہ ہر گز نہیں ہے ، اب بش صاحب افسوس کر رہے ہیں ،کہ ان کی انٹیلجنس کی اطلاعات جھوٹ تھیں ،اور اس نے جو حملہ کیا وہ بالکل غلط تھا، مگر اب کیا فائدہ ، جب ملک تباہ و برباد کر دیا گیا ،
ایسی ہی حالت افغانستان میں پیدا کی گئی ہے ، ان ملکوں میں جمہوریت کو فروغ دینے کے لیے اور دھشت گردوں کا پیچھا کرتے ہوئے تباہ و برباد کیا گیا ، لاکھوں افغانی شہید ، قتل اور ملک بدر ہوئے ،کیا وہ سب ہی دھشت گرد تھے ، کیا وہ سلسلہ رک گیا ہے ، اب یہی کام پاکستان میں شروع کر دیا گیا ہے ، امریکہ اپنے ایجنڈے پر آگے بڑھ رہا ہے ،
۳:سابق صدر مشرف صاحب نے بھی اپنا کردار ادا کرنا پھر سے شروع کر دیا ، اور یہ کہنا شروع کر دیا ھے کہ لوگ انہیں ڈبل کردار کا سمجھتے ہیں ، اور وہ ایسے بالکل نہیں ، اور ہماری فوج کی کامونیکیشن امریکن ادارے اور دشمن ملک بالکل نہیں سن سکتے ،مگر ان کا جھوٹ تو سب کے سامنے عیاں ھے جب کارگل کے موقع پر انڈیا والوں نے پاکستانی فوج کے سربراہ کی بات چیت دنیا کے سامنے رکھ دی ،اور یہ بھی کہا ھے کہ ان کے دور میں ایسے ڈارون حملے بالکل نہیں ہوتے تھے ، حالانکہ یہ دور ان کے دور کا ہی تسلسل ہے ،
 

بےباک

محفلین
ابھی ابھی مزید اعتراضات دیکھنے کو ملے ہیں ۔ خود دیکھ لیں ،کہ کن کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہا ہے ، وہ تو ہمیں خون سے نہاتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں ،۔
1:ہندوستانی وزیر خارجہ مکر جی نے اسے ڈینجر معایدہ قرار دیا ہے ،اور اسے پوری دنیا کے لیے خطرناک کہا ہے،کہ طالبان پوری دنیا کے لیے خطرہ ہیں
2: نیٹو کے فوجی کمانڈروں کا اہم اجلاس ہوا اور انہوں نے اس معایدہ کو اپنے لیے خطرناک قرار دیا،کہ اس سے ان کے لیے افغانستان اور ھندوستان کو نقصان ہو گا
3:واشنگٹن پوسٹ اور دوسرے اخبارات نے اس کو ایک شر انگیز اتفاق قرار دیا ہے ،اور یہ کہاکہ اس سے طالبان کو محفوظ جگہیں میسر ہوں گی،
4: افغان وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کو طالبان سے معایدہ کرنے کا کوئی حق نہیں ،یہ صرف افغانستان ہی کر سکتا ہے
 

طالوت

محفلین
سانپ بل سے باہر آ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلے بھی آتے رہے مگر ہماری عقلیں گھاس چرنے گئی ہیں۔۔
وسلام
 

بےباک

محفلین
جناب بالکل سچ فرمایا ؛ ایسا ہی ہے ،
اگر حکومت پاکستان اس مرتبہ بھی خارجی دباؤ میں آ گئی ،تو یوں سمجھ لیں کہ ہم مزید بربادی کے قریب پہنچ گئے،
 
Top