مشرف کے دورہ یورپ کا مقصد

اسلام آباد ( نمائندہ جنگ) معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ صدر پرویز مشرف کے تمام اقدامات غیر آئینی ہیں، دورہ یورپ کا مقصد مجھے بدنام کرناتھا، مجھ پر استعفیٰ دینے کا دباؤ قبول ہے لیکن میں یہ کبھی قبول نہیں کرونگا۔معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی طرف سے امریکی وزیر خارجہ، برطانوی وزیر اعظم، فرانسیسی صدر ، یورپی حکام اور ڈیووس اکنامک فورم کے چےئرمین کے نام لکھے گئے کھلے خط میں کہا گیا ہے کہ تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹوں کے 60 ججوں کو برطرف کر دیا گیا ہو، انہیں گرفتار اور نظر بند کر دیا گیا ہو، تاریخ میں کسی بادشاہت کے دور میں بھی ایسی مثال نہیں ملتی مگر آج تو 21 ویں صدی چل رہی ہے جس میں ایک انتہا پسند جنرل کے ہاتھوں ایسا بھی ہوا۔ انہوں نے اپنی تحریر میں انہوں نے قید کے حوالے سے لکھا ہے کہ میرے بیوی بچے قید ہیں، پانی بند کر دیا جاتا ہے، سردی میں دھوپ سینکنے کیلئے لان تک جانے کی اجازت نہیں،میرے ساتھ میری بیوی اور بچے بھی قید ہیں جو تمام سکول میں پڑھتے ہیں جبکہ میری ایک بیٹی ”سپیشل بچی“ ہے مجھے اپنے گھر کے لان تک میں جانے کی اجازت نہیں ہے میری رہائش گاہ کے اردگرد تمام راستے بند کر کے رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں اور سکیورٹی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں۔اپنے خط میں انہوں نے کہا کہ تین ماہ سے وہ چیف جسٹس ہاؤس میں نظر بند ہیں مگر ان کے پڑوس میں رہائش پذیر جنرل پرویز مشرف کے نامزد کردہ کسی جج کو جرات نہیں ہوئی کہ حبس بے جا کے سلسلے میں اپنا آئینی اختیار استعمال کر سکے۔خط میں کہا گیا ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے اپنے غیر ملکی دوروں کے دوران ان کے خلاف الزامات پر مبنی 8 صفحات کی دستاویزات تقسیم کی ہیں اس کا جواب دینا ضروری ہے، تمام الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں۔ پریس کانفرنس میں بار کے صدر ہارون الرشید، جنرل سیکرٹری ریاست آزاد، وکلاء ایکشن کمیٹی کے کنونیئر توفیق آصف چوہدری سینئر ایڈووکیٹ عباد الرحمن لودھی اور ڈسٹرکٹ بار کے سابق صدر طارق جہانگیری بھی موجود تھے۔ اطہر من اللہ نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کی تحریک جو 9 مارچ کو شروع ہوئی تھی اب اپنے پورے جوبن پر چلے گی۔ اگر وکلاء تمام تر کوششوں کے باوجود اس تحریک کو چلانے میں ناکام رہے تو ملک کا بہت بڑا نقصان ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی اور معزول ججوں کی بحالی کے لئے سول سوسائٹی اور سیاسی قوتوں کو بھی وکلاء کے شانہ بشانہ نکلنا ہو گا۔ توفیق آصف ایڈووکیٹ نے کہا کہ صدر پرویز مشرف ریاستی پالیسیوں کے خلاف عمل پیرا ہیں۔ اسرائیلی وزیر سے ملاقات پاکستان کے موقف کی نفی ہے ۔بار کے صدر ہارون الرشید نے کہا کہ صدر کی حیثیت سے پرویز مشرف جو کردار ادا کر رہے ہیں آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت ٹرائل ضرور ہو گا اور کھلی عدالت میں ہو گا۔ مغربی خبررساں ادارے کے مطابق انہوں نے مغربی رہنماؤں سے کہا ہے کہ اگرچہ شفاف انتخابات پرزور دینا خوش آئند ہے لیکن بھلا کیاخودمختار عدلیہ کے بغیر منصفانہ انتخابات ہو سکتے ہیں؟، ثناء نیوز کے مطابق معزول چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے صدر پرویز مشرف کو پاکستان کا غیر آئینی صدر قرار دیا ہے۔ میں نے یہ خط آپ کو لکھنا اس لئے ضروری سمجھا کہ اپنے دورہ یورپ کے دوران صدر پرویز مشرف نے مجھ سمیت میرے ساتھیوں پر جو الزامات لگائے ہیں اور ایک کتابچہ جس کا موضوع ”پروفائل آف دی فارمر چیف جسٹس آف پاکستان“ (سابق چیف جسٹس آف پاکستان کا کردار) کے نام سے وہاں پر تقسیم کیا ہے ،آپ کو حقائق سے آگاہ کرنے کے لئے میں نے یہ خط تحریر کیا ہے۔ صدر مشرف کے بارے میں صدر پاکستان کا دعویٰ کرنے کا لفظ میں نے اس لئے استعمال کیا ہے کیونکہ ان کی آئینی مدت 15 نومبر 2007ء کو ختم ہو چکی ہے اور ان کی اہلیت کے بارے میں ابھی سپریم کورٹ میں سماعت چل رہی تھی جب پرویز مشرف نے 3 نومبر کو ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کر کے عدلیہ مجھے اور سپریم کورٹ کے بینچ کے گیارہ ارکان کو معطل کر کے انہیں گرفتار کر لیا اور عدالتی عمل کو جام کر دیا۔ ابھی تک میں اور میرے ساتھی غیر قانونی حراست میں ہیں۔ مجھ پر استعفیٰ دینے کے لئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے جس پر میں کبھی تیار نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے خط میں لکھا ہے کہ آپ اس حوالے سے پاکستان میں تعینات اپنے سفارت کاروں سے ان تمام باتوں کی تصدیق کر سکتے ہیں۔

جنگ اخبار 01 فروری
 

ظفری

لائبریرین
سچ کہوں ۔۔۔ پڑھ کر بے انتہا حیرت ہوئی کہ مشرف کا اتنے یورپی ممالک کا دورہ کرنا صرف افتخار چوہدری کو بدنام کرنا تھا ۔ یہ کام تو یہاں پاکستان میں بھی بیٹھ کر کیا جاسکتا تھا ۔ میں افتخار محمد چوہدری کی اس شخصیت کے پہلو سے پہلے آگاہ نہیں تھا کہ وہ ان لوگوں کے لیئے اتنے اہم ہیں کہ یورپ کے اتنے سارے اہم ممالک اور پھر ان کے سربراہان نے بھی خاص طور پر وقت نکالا کہ مشرف کو یہاں بلا کر افتخار چوہدری کی بدنامی کا کوئی جواز کیا پیدا کریں ۔ اتنا اہتمام پاکستان تو کیا ، انڈیا کی بھی کسی شخصیت کے لیئے پہلے نہیں‌کیا گیا ۔ عجیب سی بات ہے ۔۔۔ ہضم نہیں ہوئی ۔ ;)
 

دوست

محفلین
مشرف نے اعتزاز احسن کی بیٹی سے بھی ون ٹو ون ملاقات کی ہے۔ بشرٰی اعتزاز (بیوی) نے اس کی تصدیق کی ہے۔
 
Top