مسلم لیگ ن کی پنجاب میں دھاندلی جاری

زرقا مفتی

محفلین
بات صرف یہ ہے کہ معاشرے نے اجتمإعی طور پر برائی کو برائی سمجھنا چھوڑ دیا ہے ۔ بے حسی بڑھ گئی ہے اگر کوئی برائی کی نشاندہی کرتا ہے یا اس کے خلاف احتجاج کرتا ہے تو اُس کو ہی بُرا بنانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
احتجاج کرنے والوں کو معاشرے کا ایک خاص طبقہ بتایا جا رہا ہے اُس طبقے کو لیبل کیا جارہا ہے مضحکہ اُڑایا جا رہا ہے ۔
کوئی بتائے کہ اگر یہ صرف مراعات یافتہ طبقہ ہے تو اُسے اس گرمی میں احتجاج سے کیا حاصل ہو رہا ہے صرف نفرین
کیا معاشرے کی تطہیر کا ٹھیکہ کسی مخصوص طبقے کے پاس ہے کہ کوئی اینکر یا عالم فاضل کہے گا کہ یہ خرابی ہوئی ہے تو ہم بھی اُس کی ہاں میں ہاں ملائیں گے

اینکر حضرات کا خیال ہے کہ جو کلمہ اُن کے منہ سے ادا ہوتا ہے وہی حق اور سچ ہے۔ اب ان کو کون سمجھائے کہ ہم نے جس سچ کا مشاہدہ کیا ہے وہ آپ کے سچ سے میل نہیں کھاتا ۔ ہم جھوٹے یا غلط ہیں تو
ہاتھ کنگن کو آر سی کیا
پڑھے لکھے کو فارسی کیا
الیکشن کمیشن ہمارا مطالبہ تسلیم کرے اور ہمیں جھوٹا ثابت کرے۔ بقول عمران خان جو احتجاج کر رہے ہیں اُنہیں مطمئن کرنا الیکشن کمیشن کا فرض ہے۔ وہ اپنا فرض ادا کرے۔
 

زرقا مفتی

محفلین
تحریکِ انصاف میں اکثریت ہاتھ ہلاہلا کر اور ہل ہل کر بولنے والوں کی ہے۔۔۔ یعنی اس میں ممی ڈیڈی زیادہ ہیں۔۔جو گرمی سے پریشان ہوجاتے ہیں۔ جب لائٹ جاتی ہے تو وہ باہر آتے ہیں اور پھر کچھ بولتے ہیں۔۔
تحریکِ انصاف کو اگر کامیابی چاہیئے صحیح معنوں میں تو اسے مڈل کلاس لوگوں کو اوپر آنا لانا ہوگا۔۔۔ اور یہ کام LUMS لاہور ، آئی بی اے (IBA، کراچی)، GIK کے لوگ نہیں کرسکتے۔۔
ڈیفنس اور بنگلوں اور بڑے محلات میں رہنے والے نہیں کرسکتے۔۔۔ فائیو اسٹار ہوٹل میں کھانا کھانے والے نہیں کرسکتے۔۔ہر وقت ٹائی شائی، سوٹ بوٹ میں رہنے والے اور شارٹس پہن کر کان میں ہیڈ فون لگا کر Hiya, Barbie! Hi , Ken! Your wanna go for a ride? Sure, Ken! Jump in سننے والے نہیں کرسکتے۔۔

کامیابی کے لیئے تحریکِ انصاف کو پنجاب یونیورسٹی، کراچی یونیورسٹی وغیرہ کے پڑھے لکھے لوگ، جو کہ مڈل کلاس سے ہی تعلق رکھتے ہیں ان کو اوپر لانا ہوگا۔۔ ڈیفنس کے بجائے مڈل کلاس علاقوں میں کام کرنا ہوگا۔ دیہات گاؤں ، کچی آبادیوں میں کام کرنا ہوگا۔۔اگر کامیابی چاہیئے تو۔۔

ورنہ تو وہی شام 6 بجے سے 8 بجے تک ہی تحریک انصاف ہاتھ ہلا ہلا کر بولے گی اور پھر لوڈشیڈنگ ختم ہونے کے بعد سب گھر جا کر سو جائیں گے یا پھر کوئی Demi Lovato Ka Song
Puttin’ my defences up ‘Cause I don’t wanna fall in love, If I ever did that, I think I’d have a heart attack سننے اور دیکھنے بیٹھ جائیں گے۔۔۔
ویسے
کچھ عرصے بعد دیکھتے ہیں کہ کون کیا کرتا ہے اور کون کیا کررہا ہے۔۔۔ پھر ہی صحیح فیصلہ ہوسکتا ہے۔

تحریکِ انصاف کے مخالفین زمینی حقائق سے چشم پوشی فرماتے ہیں
کاشفی صاحب ذرا یہ تو بتائیے کہ کے پی کے میں کونسے طبقے نے تحریکِ انصاف پر اعتماد کیا ہے۔ وہاں نہ تو لمز ہے نہ آئی بی اے
تحریکِ انصاف کے کتنے ووٹر جی آئی کے آئی سے متعلقہ ہیں
 

حسان خان

لائبریرین
یہ تو درست ہے کہ کراچی میں تحریکِ انصاف کی زیادہ حمایت معاشی طور پر آسودہ طبقے میں ہے، لیکن یہ مکمل تصویر نہیں ہے۔
میرے پرانے علاقے محمود آباد کے حلقے میں تحریکِ انصاف کو چالیس ہزار ووٹ ملے ہیں، جو متحدہ کو ملنے والے ووٹوں کا نصف ہے۔ کوئی مجھے یہ بتائے کہ محمود آباد میں کونسے برگر اور طبقۂ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود ہیں جو تحریکِ انصاف کو اتنی تعداد میں ووٹ ڈال کر آئے ہیں؟
http://election2013.geo.tv/constituency/results/251/NA-251.html
 
بات صرف یہ ہے کہ معاشرے نے اجتمإعی طور پر برائی کو برائی سمجھنا چھوڑ دیا ہے ۔ بے حسی بڑھ گئی ہے اگر کوئی برائی کی نشاندہی کرتا ہے یا اس کے خلاف احتجاج کرتا ہے تو اُس کو ہی بُرا بنانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
احتجاج کرنے والوں کو معاشرے کا ایک خاص طبقہ بتایا جا رہا ہے اُس طبقے کو لیبل کیا جارہا ہے مضحکہ اُڑایا جا رہا ہے ۔
کوئی بتائے کہ اگر یہ صرف مراعات یافتہ طبقہ ہے تو اُسے اس گرمی میں احتجاج سے کیا حاصل ہو رہا ہے صرف نفرین
کیا معاشرے کی تطہیر کا ٹھیکہ کسی مخصوص طبقے کے پاس ہے کہ کوئی اینکر یا عالم فاضل کہے گا کہ یہ خرابی ہوئی ہے تو ہم بھی اُس کی ہاں میں ہاں ملائیں گے

اینکر حضرات کا خیال ہے کہ جو کلمہ اُن کے منہ سے ادا ہوتا ہے وہی حق اور سچ ہے۔ اب ان کو کون سمجھائے کہ ہم نے جس سچ کا مشاہدہ کیا ہے وہ آپ کے سچ سے میل نہیں کھاتا ۔ ہم جھوٹے یا غلط ہیں تو
ہاتھ کنگن کو آر سی کیا
پڑھے لکھے کو فارسی کیا
الیکشن کمیشن ہمارا مطالبہ تسلیم کرے اور ہمیں جھوٹا ثابت کرے۔ بقول عمران خان جو احتجاج کر رہے ہیں اُنہیں مطمئن کرنا الیکشن کمیشن کا فرض ہے۔ وہ اپنا فرض ادا کرے۔

پوری طرح متفق ہوں کہ اگر خدا خدا کرکے طبقہ اشرافیہ میں بھی یہ احساس پیدا ہو گیا ہے کہ یہ ملک درست سمت میں نہیں جا رہا اور انہوں نے اپنی آواز متوسط اور غریب طبقہ کے ساتھ ملائی ہے تو یہ تو بہت بڑی خوشخبری ہے۔

یہی وہ طبقہ ہے جو ملک کی قسمت کے فیصلہ کرتا ہے ، اس طبقہ کو لوڈ شیڈنگ ، نوکری ، تعلیم ، یوٹیلیٹی بل اور دوسرے عوامی مسائل تنگ نہیں کرتے ۔ ان کی تعلیم بالکل مختلف ہے جو انہیں بیرون ملک کے لیے تیار کرتی ہے اور ان کی اکثریت باہر تعلیم حاصل کرتی ہے یا حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہتی ہے اور زیادہ تر یہ ملک سے باہر بھی چلے جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اگر احتجاج کر رہے ہیں اور انہیں احساس دلا دیا گیا ہے کہ ملک درست سمت میں نہیں جا رہا اور انہیں بھی دوسروں کی مشکلات کو اپنی مشکل سمجھنا ہے اور سیاست میں عام لوگوں کی طرح شریک ہونا ہے ، ووٹ کی اہمیت کو جاننا ہے اور اس کے لیے لائنوں میں لگ کر کھڑا بھی ہونا ہے اور اگر ناانصافی ہو تو پاپا سے کہہ کر سفارش یا حکم نہیں کروانا بلکہ سڑکوں میں کڑی دوپہر میں احتجاج اور دھرنے دے کر عام لوگوں کی طرح تکلیف سہنا بھی ہے ۔

میں تو اسے تحریک انصاف کی سب سے بڑی کامیابی سمجھتا ہوں کہ اس نے طبقہ اشرافیہ کو ملک کے دیگر طبقات کے شانہ بشانہ کھڑا کر دیا ہے اور آج کے یہ بچے اپنے بڑوں سے مختلف اور بہتر سوچ کے حامل ثابت ہوں گے اور یہ اپنی طاقت اور مراعات کو ملک کی بہتری کے لیے استعمال کر سکیں گے۔
 
یہ تو درست ہے کہ کراچی میں تحریکِ انصاف کی زیادہ حمایت معاشی طور پر آسودہ طبقے میں ہے، لیکن یہ مکمل تصویر نہیں ہے۔
میرے پرانے علاقے محمود آباد کے حلقے میں تحریکِ انصاف کو چالیس ہزار ووٹ ملے ہیں، جو متحدہ کو ملنے والے ووٹوں کا نصف ہے۔ کوئی مجھے یہ بتائے کہ محمود آباد میں کونسے برگر اور طبقۂ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود ہیں جو تحریکِ انصاف کو اتنی تعداد میں ووٹ ڈال کر آئے ہیں؟
http://election2013.geo.tv/constituency/results/251/NA-251.html

حسان ، لاہور میں اتنا کانٹے کا مقابلہ صرف آسودہ لوگوں کی حمایت سے ممکن نہیں ہو سکتا تھا۔

پنڈی میں غریبوں کی بھاری تعداد نے ووٹ دیا ہے تحریک انصاف کو۔

خاص طور پر جنوبی پنجاب میں تحریک انصاف نے پیپلز پارٹی کی جگہ لے لی ہے ، یاد رہے کہ یہ پنجاب کا پسماندہ ترین اور غریب ترین حصہ ہے۔
 

حسیب

محفلین
حلقہ این اے 125
رجسٹرڈ ووٹر 429115
جیتنے والے اُمیدوار سعد رفیق حاصل کردہ ووٹ 123094
http://www.ecp.gov.pk/electionresult/Search.aspx?constituency=NA&constituencyid=NA-125

اس کے نیچے حلقہ پی پی 154
رجسٹرڈ ووٹر 142662
جیتنے والے زّعیم قادری حاصل کردہ ووٹ 36736
http://www.ecp.gov.pk/electionresult/Search.aspx?constituency=PA&constituencyid=PP-154

دوسرا حلقہ پی پی 155
رجسٹرڈ ووٹر 246334
جیتنے والے اُمید وار میاں نصیر احمد 62838
http://www.ecp.gov.pk/electionresult/Search.aspx?constituency=PA&constituencyid=PP-155

دونوں ن لیگی صوبائی فاتحین کے ووٹ مجموعی ووٹ 99574

قومی اسمبلی کے ن لیگی فاتح سعد رفیق کو 23520 ووٹ فرشتے ڈال گئے
2008 کے الیکشن میں این اے 111 میں پیپلز پارٹی کی فردوس عاشق عوان جیتیں۔ جبکہ اس کے نیچے پنجاب اسمبلی کے تمام حلقوں میں ن لیگ کے امیدوار جیتے

اب یہاں بھی سوچنے والی بات ہے کہ فردوس عاشق کو کون ووٹ دے آیا؟؟؟
 

زرقا مفتی

محفلین
2008 کے الیکشن میں این اے 111 میں پیپلز پارٹی کی فردوس عاشق عوان جیتیں۔ جبکہ اس کے نیچے پنجاب اسمبلی کے تمام حلقوں میں ن لیگ کے امیدوار جیتے

اب یہاں بھی سوچنے والی بات ہے کہ فردوس عاشق کو کون ووٹ دے آیا؟؟؟

وہی فرشتے ہو نگے
 

فرحت کیانی

لائبریرین
میرا خیال ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال کرنے والوں کے بارے میں آپ بھی کافی غلط فہمی کا شکار ہیں۔
سب سے پہلے تو یہ بتاتا چلوں کہ پاکستان میں لٹریسی کا ریٹ 55 فیصد ہے نہ کہ 30 فیصد تو یہ غلط فہمی بھی بہت سی دیگر غلط فہمیوں کو جنم دیتی ہے۔ دوسرا جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ غریب یا معمولی پڑھے لکھے کمپیوٹر یا سوشل میڈیا استعمال نہیں کرتے وہ بھی بھاری غلطی کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ اس پر بھی اعداد و شمار سن لیں ۔

تقریبا ڈھائی کروڑ کے قریب لوگ انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں اور ان میں تمام پڑھے لکھے شامل نہیں ہیں۔
محب علوی مجھے خواندگی کے اعداد و شمار اور کمپیوٹر یا سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کے تناسب کا ٹھیک ٹھاک اندازہ ہے اور میں نے کہیں پر بھی یہ نہیں کہا کہ صرف آپ کے پڑھے لکھے لوگ ہی میڈیا کو استعمال کر رہے ہیں۔ میں ایک عمومی بات کرتی ہوں لیکن اگر آپ اس کو خصوصی طور پر اپنے ساتھ یا خود کو پی ٹی آئی کا نمائندہ سمجھ کر جواب دے رہے ہیں تو میں اسی تناظر میں آپ کو بتانا چاہوں گی کہ پڑھے لکھے سے میری مراد صرف ان لوگوں سے تھی جن کا خیال ہے کہ جو لوگ پی ٹی آئی کی حمایت نہیں کر رہے وہ ان پڑھ ہیں۔ یقین نہیں آتا تو اسی فورم پر الیکشن سے پہلے کے مباحث دوبارہ پڑھ لیجئے اور اپنے ہی کسی جاننے والے سے یہ پوچھ لیجئے کہ موبائل اور ای میلز پر آج کل کس طرح کے میسجز فارورڈ ہو رہے ہیں۔
ڈھائی کروڑ یا ہو سکتا ہے اس سے بھی زیادہ لوگ انٹرنیٹ پر متحرک ضرور ہوں گے لیکن میں نے بات ان لوگوں کی کی جو ایک خاص سوچ کی نمائندگی کرتے ہیں۔


اب آتا ہوں آپ کے اس سوال کی طرف جو اس سے جڑا ہے کہ یہ سوشل میڈیا مافیا کیا ہے ، یہ بات آجکل متحدہ والوں نے زور و شور سے اٹھانی شروع کی ہوئی ہے کہ تحریک انصاف ایک سوشل میڈیا مافیا ہے جس نے انٹرنیٹ پر ہر کسی کا ناک میں دم کر رکھا ہے ، اس میں ان کو خاص تکلیف متحدہ کے قائد الطاف حسین کے خلاف چلنے والی زبردست مہم سے ہوئی جس کی ایک تازہ مثال تحریک انصاف سوشل میڈیا کی مہم تھی جس میں انصافین کو لندن پولیس کو کال کرکے شکایت کرنا تھا۔ اس کے بعد ایک اور مہم جاری رکھی ہوئی ہے انصافین نے کہ انہوں نے الطاف حسین کا دوسرے ملک کو توڑنے کی کوشش پر ایک پٹیشن پر دستخط کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ ن پر بھی خاصی چڑھائی ہے مگر اس میں متحدہ پر ہونے والی جارحیت نہیں ہے۔
مجھے نہ تو کسی ایک پارٹی کی دوسری پر چڑھائی پر اعتراض ہے اور نہ ہی کسی مہم پر۔ میں بھی ایک پاکستانی ہوں اور جو بات پاکستان کے حق میں ہے مجھے اس سے اتفاق ہے چاہے وہ کوئی بھی کر رہا ہو۔ مجھے اعتراض صرف انداز و بیان پر ہے۔ کیا چڑھائی صرف غیر اخلاقی زبان استعمال کر کے ہی ہوا کرتی ہے؟
اور پلیز ایک بار پھر پوسٹ کو انصافین والی عینک اتار کر پڑھیں گے تو شاید آپ کو میرا پوائنٹ نظر آ جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں تحریک انصاف میں بہت سلجھے ہوئے اور شائستہ لوگ بھی شامل ہیں لیکن آپ اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ آپ کے جوشیلے نوجوان پیروکار جوش میں آ کر بہت سی ایسی باتیں کر جاتے ہیں جو شائستگی کی حد سے باہر نکل جاتی ہیں۔




میں آپ لوگوں کے مقابلے میں سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے حامیوں میں زیادہ رہتا اور جانچتا رہتا ہوں، ایک بھاری اکثریت سلجھی ہوئی اور شائستہ ہے ، اقلیت مجھے بتائیں کس جماعت یا طبقہ میں غلط کام نہیں کرتی۔ یہ پروپیگنڈا جو مسلسل جاری ہے اس سے دوسری جماعتیں تحریک انصاف کا تاثر لوگوں کی نظر میں خراب کرنا چاہتی ہیں۔ تحقیق کر لیں اور ڈیٹا کو کوئی بھی سیٹ لے لیں اگر نوے فیصد لوگ سلجھے ہوئے اور شائستہ نہ نکلیں تو پھر ضرور یہ موقف اپنائیں۔
خیر اس بات کو رہنے دیں کہ سوشل میڈیا کو کون زیادہ دیکھتا یا جانچتا ہے۔ آپ کی رائے میرے لئے محترم ہے۔ یقیناً آپ درست کہہ رہے ہوں گے لیکن میری رائے سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ حقیقی زندگی کے مشاہدے پر بھی مبنی ہے۔ میں نے آپ کی جماعت کے جس حصے کی بات کی تھی، آپ سے اقلیت کہہ لیں لیکن میں اسے اکثریت کہوں گی کیونکہ آپ کے جلسوں ، کارنر میٹنگز اور گلیوں محلوں میں یہی لوگ متحرک ہوتے ہیں۔ میں نے آپ کی جماعت کے اس حصے کی بات کی تھی جن کو آپ 'بچے ، بچیاں' کہتے ہیں۔ آئی وش کہ آپ پاکستان میں ہوتے اور کسی بھی ڈیٹا سیٹ کو لے لیتے اور ان بچے بچیوں کے شائستہ پن کو پرکھ لیتے۔

آخر میں ایک بات اور ، میں نے طلعت حسین کے ایک پیغام جس میں تمام تحریک انصاف کے حمایتیوں کی بدزبان پر حیرانی کا اظہار کیا گیا تھا کےجواب میں دو پیغامات لکھے جس میں استفسار کیا کہ بھائی صاحب سب کے بارے میں آپ یہ اتنی بڑی بات کیسے کہہ سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ بہت سے تحریک انصاف کے حمایت کرنے والوں نے معذرت اور سوالات بھی کیے تھے مگر ان کا جواب دینے کی فرصت میسر نہیں ہوئی البتہ شکایات لکھنے میں کافی متحرک ہوتے ہیں۔ طلعت خود بڑی کڑی تنقید کرتے ہیں اور یہ امید کی جانی چاہیے کہ وہ چند پیغامات پر اتنا گھبرا نہیں جائیں گے مگر واقعات سے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ غلط ہی سہی مگر تنقید سہنا آسان ثابت نہیں ہوتا۔
؛8طلعت حسین کی دیانت اور ایمانداری کا میں بھی پرستار ہوں اور لگی لپٹی رکھے بغیر اور سخت انداز میں سوال پوچھنے کے مخصوص انداز کی ایک دنیا بھی دیوانی ہے مگر کبھی کبھی طلعت غیر ضروری سختی اور اپنی رائے کو مقدم رکھنے میں بھی مشغول ہو جاتے ہیں۔ یہ سوشل میڈیا کے حوالے سے تو طلعت کچھ زیادہ ہی نازک مزاجی کا اظہار کر رہے ہیں اور بھی صحافی کئی مواقع پر یہ کہہ چکے ہیں مگر طلعت کو میں نے ایک ہفتہ میں تین بار شکایت کرتے دیکھا ہے ۔
ایک کالم لکھ کر کلاس لی ، چلیں ٹھیک ہے آپ نے اپنا پیغام پہنچا دیا۔ اس کے بعد ایک باقاعدہ شو میں دوبارہ یہ بات دہرائی اور یہ اعتراض کیا چلیں آپ نے دو دفعہ متواتر اپنا پیغام دے دیا ۔ حد یہ ہے کہ ایک دن پہلے جاوید چودھری کے پروگرام میں بطور تجزیہ نگار طلعت مدعو تھے اور اس میں بھی تحریک انصاف پر سخت تنقید کر رہے تھے جس میں اسد عمر بھی شامل تھے اور انہوں نے کافی شائستگی اور تحمل سے تنقید کے جواب میں بھی یہ کہا کہ میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ طلعت کو ہماری جائز ڈیمانڈ پر کیا اعتراض ہے ۔ اس میں بھی طلعت اپنے فون سے جڑے ہوئے تھے اور یقینا ٹویٹر چیک کر رہے تھے کہ جواب سے پہلے اسد عمر سے کہا کہ آپ ذرا اپنے کارکنوں کی سیاسی تربیت بھی کر لیں اور پھر جواب دیا۔
اب میں حیران ہوں کہ پروگرام میں بھی موبائل کو مسلسل چیک کرنا اور اس میں بھی سوشل میڈیا پر نظر رکھنا اور پھر ہر تنقید پر اپنی رائے ایسے بچے کی طرح ظاہر کرنا جو کسی دوسرے کی شرارت پر منہ بسور کر بیٹھ جائے اور ٹیچر سے شکایت لگانے پہنچ جائے۔
سوشل میڈیا کی کوئی شکل نہیں ہوتی اور نہ اس میں کسی کی اصل شناخت ظاہر ہوتی ہے ، کوئی بھی کسی کے بھی نام سے اور کسی بھی حوالے سے کچھ بھی کہہ سکتا ہے اور بچ کر نکل سکتا ہے ۔ بہت سے لوگ اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں اور یہ بھی مت بھولیں کہ باقی جماعتیں بھی بیٹھی ہوئی ہیں اور وہ بھی ویسی حرکتیں کر رہی ہیں جیسا الزام تحریک انصاف کے حمایتیوں پر آ رہا ہے۔ سیاست بڑا مشکل اور پیچیدہ کھیل ہوتا ہے اس میں جو نظر آتا ہے اکثر ویسا نہیں ہوتا۔
میں یہاں نہ تو طلعت حسین کو ڈیفنڈ کرنے آئی ہوں اور نہ ہی ان کی طرف سے الزام تراشی کرنے۔ میں نے ایک بات کی تھی کہ آپ ایک بندے کو بری طرح لتاڑتے ہیں کہ وہ آپ کے خیال میں نا حق پارٹی پر تنقید کر رہا ہے اور عمومی طور پر بھی پرو نواز لیگ سمجھا جاتا ہے۔ مان لیا یہ ٹھیک ہے۔ لیکن ایک اور تجزیہ نگار جو ویسے تو آپ کے خیال میں بڑی متوازن رائے دیتا ہے، اگر کہیں پر کسی بھی وجہ سے کچھ ایسا کہہ دے جو آپ کے نقطہ نظر سے مطابقت نہیں رکھتا تو آپ اس کو بھی انتہائی بری طرح رگید ڈالتے ہیں۔ اور چلیں اس کو بھی مان لیا کہ یہ بھی قدرتی سی بات ہے کہ جو میرے پوائنٹ کو سپورٹ نہیں کرے گا ، میں اس کو کچھ نہ کچھ تو کہوں گی ۔ لیکن کیا ایسا کرنے کے لئے تہذیب کو ایک طرف رکھنا پہلی شرط ہے؟
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر (آپ کے مطابق) قوم نے اس پارٹی سے اپنی توقعات وابستہ کر لی ہیں اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ پارٹی کے نظریہ اور خلوص میں کچھ ایسا ہے جو ان سے پاکستان کی بہتری کے لئے کچھ کروائے گا اور یہ پاکستان کی بڑی نمائندہ جماعت بننے کا پوٹینشیل رکھتی ہے تو پھر سب ان کے کارکنان کو دوسروں سے مختلف دیکھنا چاہیں گے ۔ اس صورت میں یہ بات کہ چونکہ باقی پارٹیوں میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے، کی بنیاد پر خود کو بری الذمہ کروا لینا درست نہیں ہے۔

آخر میں میری بھی ایک بات یہ کہ میں نہ تو آپ کی پارٹی کی شدید ترین مخالف ہوں اور نہ ہی کسی اور پارٹی کی ڈائے ہارڈ فین۔ میں ایک معاشرتی رویے کی نشاندہی کی ہے جس کا ان دنوں بہت سے لوگوں نے مشاہدہ کیا ہے اور میرا خیال ہے کہ یہ میرا حق بھی ہے اور فرض بھی میں اس پر بات کروں کہ یہی بچے ہیں جنہوں نے کل آگے جا کر نظام سنبھالنا ہے۔اگر انہیں ابھی سے یہ نہیں بتایا گیا کہ حوصلہ اور برداشت عملی زندگی میں کامیابی اور دوسروں کو اپنی بات سمجھانے کی بنیادی شرط ہے تو پھر ہماری اجتماعی سیاسی اور معاشرتی زندگی میں تبدیلی آنا بہت حد تک مشکل ہو جائے گا۔
 

فرحت کیانی

لائبریرین
حیرت ہے کہ پھر بھی تحریک انصاف صرف ایک حلقہ سے جیت سکی ہے لاہور سے اور پورے پنجاب میں دس سیٹیں بھی نہیں لے سکی۔

لاہور میں سات لاکھ ووٹ کیا آپ کے خیال میں اسی طرح کی "ممیاں" اور "بہنیں" ڈال گئی ہیں۔ o_O

میں نے ایک ممی اور بہن کے بارے میں ایک بات سنی تھی جو ان خاتون نے خود بتائی ہے ۔ میں نے اس کو کہیں جنرلائز نہیں کیا۔

ویسے تو میں نے وہ بات ایک لائٹر نوٹ پر سنائی تھی لیکن اگر آپ اس کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں تو کیا یہیں اسی فورم پر لوگوں نے نہیں کہا کہ ان کے گھر والوں نے دو بیلٹ پیپر ایک ہی امیدوار کے لئے ڈالے ہیں اور بلے پر مہر لگائی ہے؟ اگر اس بات کو دیکھیں تو یہ ماننا پڑے گا کہ دھاندلی کسی ایک جماعت نے نہیں کی یا ایک جگہ پر نہیں ہوئی۔ جس کا جتنا زور تھا اس نے لگایا اور بے ایمانی کی۔ چاہے وہ کوئی بھی پارٹی ہو۔
 
کل ٹی وی پر ایک پروگرام دیکھ رہا تھا جس میں ایک صاحب کینیڈا سے کال کر رہے تھے۔ انکا کہنا تھا کہ وہ مسلم لیگ ن کے کافی سرگرم کارکن رہے ہیں اور گذشتہ الیکشنز میں ن لیگ کی طرف سے کی جانے والی دھاندلی کے سارے پراسیس سے اور انکے طریقہ واردات سے پوری طرح واقف ہیں کیونکہ وہ خود بھی اس سرگرمی کا حصہ تھے۔ موصوف سے جب پوچھا گیا کہ کیا وجہ ہے کہ پی ٹی آئی والے، مسلم لیگ ن کو دھاندلی سے روکنے میں ناکام رہے، تو انہوں نے بڑا معنی خیز جواب دیا ۔ انہی کے الفاظ میں:
یہ (پی ٹی آئی کے) لوگ نئے ہیں یہ ن لیگ کی طرح "کھوچل" نہیں ہیں۔۔۔۔:D
 

زرقا مفتی

محفلین
حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ انہیں لوگوں نے ہی ووٹ دیے تھے۔
صرف آپ کو یہ بتانا مقصود تھا کہ ضروری نہیں کہ ہر بندہ دونوں حلقوں میں ایک ہی امیدوار کو ووٹ دے،
حسیب صاحب تھوڑی سی زحمت اُٹھائیے
قومی اسمبلی میں ڈالے گئے ووٹ جمع کیجیے
پھر دونوں صوبائی حلقوں میں ڈالے گئے ووٹ جمع کیجیے
اور تقریبا ١۷۰۰۰ ہزار کا فرق دیکھیئے
یعنی قومی اسمبلی کی سیٹ کے لئے تقریبا ١۷۰۰۰ ووٹ زیادہ ڈالے گئے
 

محمداحمد

لائبریرین
آخر میں میری بھی ایک بات یہ کہ میں نہ تو آپ کی پارٹی کی شدید ترین مخالف ہوں اور نہ ہی کسی اور پارٹی کی ڈائے ہارڈ فین۔ میں ایک معاشرتی رویے کی نشاندہی کی ہے جس کا ان دنوں بہت سے لوگوں نے مشاہدہ کیا ہے اور میرا خیال ہے کہ یہ میرا حق بھی ہے اور فرض بھی میں اس پر بات کروں کہ یہی بچے ہیں جنہوں نے کل آگے جا کر نظام سنبھالنا ہے۔اگر انہیں ابھی سے یہ نہیں بتایا گیا کہ حوصلہ اور برداشت عملی زندگی میں کامیابی اور دوسروں کو اپنی بات سمجھانے کی بنیادی شرط ہے تو پھر ہماری اجتماعی سیاسی اور معاشرتی زندگی میں تبدیلی آنا بہت حد تک مشکل ہو جائے گا۔

اچھی بات ہے۔۔۔۔! پہلے پاکستان اور پھر دیگر سیاسی نظریے۔۔۔!

ویسے تربیت کا مسئلہ ہمارے پورے معاشرے کا ہے نہ یہ کہ کسی ایک جماعت کا۔

دراصل تحریکِ انصاف کی حمایت میں ایسے لوگ اُٹھے جو پہلے کبھی سیاسی سرگرمیوں سے وابسطہ نہیں رہے تھے۔ جو نہ تو منظم تھے اور نہ ہی تحریکِ انصاف کا ڈھانچہ اتنا منظم تھا کہ یہ نسبتاً نئی جماعت ہے۔ بلکہ زیادہ تر تو احتجاج بھی بغیر کسی جماعتی سربراہی کے ہوئے۔

چونکہ تحریکِ انصاف نے تبدیلی کی بات کی اس لئے اسے بہت زیادہ "مزاحمت" کا سامنا کرنا پڑا۔ نہ صرف یہ کہ تحریکِ انصاف کو زبانی کلامی آڑے ہاتھوں لیا گیا بلکہ الیکشن کے نتائج پر اثر انداز ہونے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ نتیجے میں تحریکِ انصاف کے لوگ احتجاج کے لئے سڑکوں پر آگئے (جن کے بارے میں عمومی خیال یہ تھا کہ یہ صرف فیس بک اور ٹوئیٹر پر مہم چلا سکتے ہیں)۔ گو کہ انتخابی نتائج میں دھاندلی کے خلاف احتجاج تحریکِ انصاف نے جماعتی بنیاد پر نہیں شروع کیا بلکہ اس کے حمایتی ذاتی حیثیت میں احتجاج کے لئے نکل کھڑے ہوئے، پھر بھی لوگوں نے دیکھا کہ یہ سرگرمی کافی منظم رہی۔

بالفرض احتجاج میں استعمال ہونے والی زبان یا لوگوں میں اخلاق اور تربیت کا فقدان نظر آیا تو یہ مسئلہ تحریکِ انصاف سے زیادہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے۔ معاشرہ فرد سے بنتا ہے اور فرد کی تربیت ہی معاشرے کی تربیت ہوتی ہے۔ اگر ان لوگوں کے رویوں میں کجی نظر آئی تو یہ لمحہ ء فکریہ ہم سب کے لئے ہے کہ ہمارا معاشرہ اور ہمارے بڑوں کی تربیت ایسے افراد کو جنم دے رہی ہے کہ جو اخلاق اور اقدار سے عاری نظر آتے ہیں۔

ہاں البتہ تحریکِ انصاف کے رہمناؤں کو چاہیے کہ اپنے حمایتیوں کی ہر ہر موڑ پر اصلاح کی کوشش کریں اور ایک ایسی جماعت کو پروان چڑھائیں جس کے لئے اخلاقی اقدار اہمیت رکھتی ہوں۔
 

کاشفی

محفلین
تحریکِ انصاف کے مخالفین زمینی حقائق سے چشم پوشی فرماتے ہیں
کاشفی صاحب ذرا یہ تو بتائیے کہ کے پی کے میں کونسے طبقے نے تحریکِ انصاف پر اعتماد کیا ہے۔ وہاں نہ تو لمز ہے نہ آئی بی اے
تحریکِ انصاف کے کتنے ووٹر جی آئی کے آئی سے متعلقہ ہیں
آپ سے تو بات ہی نہیں ہورہی ہے۔ آپ خواہ مخواہ مجھے ٹیگ کرتی ہیں۔
 
ویسے متحدہ نے بھی وہی لائن پکڑی ہے جو پنجاب میں مسلم لیگ ن نے پکڑی ہوئی تھی۔ اگر تھوڑا سا دل کشادہ کریں تو ذرا اندازہ ہو گا آپ کو کہ کراچی میں بھی کتنی بڑی تعداد میں تحریک انصاف کا ووٹر نکلا ہے اور اگر اتنی بڑی تعداد میں امرا کی تعداد بستی ہے تو پھر تو یہ ایک معجزہ ہے کہ ملک میں غربت اور تباہی کا ایسا شور ہے اور اتنی بڑی تعداد میں امرا اور ان کے بچے بس رہے ہیں اس ملک میں۔
اگر آپ کو فرصت ملے تو کبھی تحریک انصاف کے ووٹران کا تناسب نکال کر دیکھیے گا ، متوسط طبقہ نے بہت بڑی تعداد میں ووٹ دیا ہے اسی وجہ سے لاکھوں کا تناسب بنا ہے البتہ غریب لوگوں نے اتنی تعداد میں ووٹ نہیں دیا۔
آپ کی بات کے غلط ہونے کے لیے یہاں فورم پر ہی جتنے لوگ تحریک انصاف سے وابستہ ہیں وہ غلط ثابت ہوتے ہیں، ان میں سے کوئی ایلیٹ کلاس سے تعلق نہیں رکھتا۔
میں نے ان کو غریبوں کے بچے کہا تو زرقا مفتی کہتی ہیں وہ غریب نہیں ، آپ کہتے ہیں وہ امیر نہیں ۔ اب کریں تو کریں کیا ؟
 
کراچی کا تو مجھے علم نہیں لیکن لاہور کا بتا سکتی ہوں۔ میرے ساتھ والے ڈیپارٹمنٹ کی ایک خاتون آفیسر کی 'ممی' اس دنیا میں نہیں ہیں اور 'بہن' پاکستان میں نہیں ہیں۔ لیکن ان کی ممی بھی ووٹ ڈال گئی ہیں اور ان کی بہن بھی، تحریک انصاف کو ہی۔ عمران خان واقعی بلاتفریق جگہ ، ملک ، عمر اور دنیا بہت مشہور سیاستدان ہیں۔ (y)
:giggle: میرے خدا ۔۔۔
 
زبردست فرحت میں متفق ہوں ۔ کل ہی میں نے بھڑوں کا چھتہ اتارا، یقین مانیں اتنا آسان لگا سیاسی عمل پر رائے دینے کی نسبت ۔ سب سے عجیب بات یہ ہے کہ بعض لوگ سیاست میں قدم رکھتے ہی سب دوسری جماعتوں کو چور اور کرپٹ کا لقب دے دیتے ہیں ۔ پھر چند حلقوں میں چند پولنگ سٹیشنز پر دھاندلی ہونے پر سارے انتخابی عمل کو مشکوک بنا دینا ، یہی انتہا پسندی ہے ۔ ہمیں بحیثیت پاکستانی شکر کرنا چاہیے کہ الیکشن جو خونی ہو سکتے تھے ، تشدد کے جزوی واقعات کے باوجود اچھے حالات میں ہو گئے ۔ اب دانش مندی یہی ہے کہ ایک طرف پرامن انتقال اقتدار کی طرف بڑھا جائے دوسری طرف دھاندلی کی شکایات کو سنجیدگی سے لینا یقینی بنایا جائے ۔ الیکشن کمشن ، فوج ، سیاست دان، ووٹرز خواہ پڑھے لکھے ہوں یا ان پڑھ سب اسی ملک کے لوگ ہیں اور سب محب وطن ہیں ، کسی کو حق نہیں کہ وہ کسی دوسرے کی حب وطن پر شک کرے ، نہ ہی جمہوری عمل میں شریک ووٹرز کے ایک طبقے کو یہ زیبا ہے کہ دوسرے ووٹرز کی سیاسی دانش کا مضحکہ اڑائیں ۔ سب میں کوتاہیاں بھی ہیں خوبیاں بھی بالکل اسی طرح جس طرح انسانوں میں ہوتی ہیں ۔ کوئی سیاسی پارٹی فرشتوں کی پارٹی نہیں ہے نہ یہ قوم فرشتہ ہے ۔
ضرور لکھئے گا پلیز۔ اور اس کا عنوان 'مظلوم برگر بچے مافیا' رکھیں تو زیادہ سوٹ کرے گا۔ ہم لوگ جو عمران خان کی قابلیت اور خلوص پر یقین رکھنے کے باوجود ان کے طرزِ گفتگو پر پریشان ہوتے تھے ، اسی لئے ہوتے تھے کہ وہ جس گروپ کو ٹارگٹ کر رہے ہیں ، اس نے اس طرز گفتگو کو مزید شدت سے اپنا لینا ہے۔ جس قدر ابیوزو abusive language یہ 'مظلوم بچے بچیاں' حقیقی زندگی اور سوشل میڈیا پر استعمال کر رہے ہیں اس سے ان کی معصومیت ، تہذیب اور مظلومیت کا اندازہ بخوبی ہوتا ہے اور ان کے مزید 'پوٹینشیل' کا بھی۔ آپ جو باہر بیٹھے ہیں ، جن کی معلومات کا بنیادی ذریعہ یہاں بیٹھے لوگوں سے فون یا نیٹ پر بات چیت، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے رحجانات ہیں، ان لوگوں سے بھی بات کر کے دیکھیں جو غیر سیاسی یا غیر جانبدارانہ رائے دے سکیں۔ ماشاءاللہ جو انداز ان مظلوم بچے بچیوں اور نوجوانوں نے اپنایا ہوا ہے اس کے مقابلے میں وہ '70 فی صد' جاہل اور پینڈو طبقہ زیادہ مہذب دِکھنے لگا ہے ، جس کی جہالت کے بارے میں ٹیکسٹ میسجز اور انٹرنیٹ پر ان مظلوموں نے اپنے خیالات کی بھرمار کر رکھی ہے۔ آپ سوشل میڈیا کو ایک انڈیکیٹر مانتے ہیں نا تو اسی سوشل میڈیا پر دیکھیں کہ ان مظلوموں نے ہر اس بندے کے ساتھ کیا کیا ہے جس نے ایک جملہ بھی ایسا لکھا ہے جس کا مقصد بلواسطہ یا بلاواسطہ پی ٹی آئی کی کسی کمزوری کو عیاں کرنا ہے یا جو پی ٹی آئی کی حمایت نہ کرنے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اب چاہے اس میں کوئی عام 'ان پڑھ' اور 'جاہل' پاکستانی ہو یا نصرت جاوید جیسے کہنہ مشق لیکن پارٹی کے خلاف کھل کر بولنے والے یا سید طلعت حسین جیسے غیر متنازعہ ، مستند اور متوازن اپروچ رکھنے والے تجزیہ نگار اور صحافی ہوں جن کی رائے کا ہر طبقہ احترام کرتا ہے۔
 

زرقا مفتی

محفلین
آپ سے تو بات ہی نہیں ہورہی ہے۔ آپ خواہ مخواہ مجھے ٹیگ کرتی ہیں۔

میں نے آپ کو ٹیگ نہیں کیا مخاطب کیا ہے اور اگر آپ کو میرے مخاطب ہونے پر اعتراض ہے تو مجھے نظر انداز کر سکتے ہیں۔ مگر یہ مت سمجھیں کہ آپ کے غلط پراپیگنڈا کا ہم جواب نہیں دیں گے۔ آپ آنکھیں یا کان بند رکھنا چاہیں تو اپنے ہر عمل میں آزاد ہیں
 
Top