مسلمانوں کی جان بوجھ کر دل آزاری کی جارہی ہے، وزیر اعظم

جاسم محمد نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 4, 2021

  1. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    30,073
    مسلمانوں کی جان بوجھ کر دل آزاری کی جارہی ہے، وزیر اعظم
    ویب ڈیسک منگل 4 مئ 2021

    [​IMG]
    اسلامو فوبیا کےخاتمے کیلئے اجتماعی کاوشوں کی ضرورت ہے، وزیراعظم فوٹو: فائل

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہم اپنے نبی ﷺ کی توہین برداشت نہیں کرسکتے اور مسلمانوں کی جان بوجھ کر دل آزاری کی جارہی ہے۔

    ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ملکوں کے سفیروں نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی، جس میں وزیراعظم نے اسلامو فوبیا کے خاتمے کے لئے عالمی سطح پر پاکستان کی کاوشوں سے آگاہ کیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، شدت پسندی کو اسلام سے جوڑنے سے عالمی سطح پر مسلمان متاثر ہوتے ہیں، ایک مسلمان حملہ کرتا ہے تو قصوروار تمام مسلمانوں کو ٹھہرایا جاتا ہے، پاکستان دنیا میں برداشت کے فروغ کے لئے عالمی برادری سے تعاون کے لئے پرعزم اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لئے کوششیں کررہا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے نبی ﷺ ہمارے دلوں میں بستے ہیں، ہم اپنے نبی ﷺ کی توہین برداشت نہیں کر سکتے۔ مسلمانوں کی جان بوجھ کر دل آزاری کی جارہی ہے، مغربی ممالک میں اسلام فوبیا میں اضافہ ہوا ہے اور مغربی ممالک میں مذہب کو مذہب کی طرح نہیں سمجھا جاتا۔ اظہاررائے کی آزادی کی آڑ میں توہین رسالت ﷺسے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہے، اسلامو فوبیا سے بین المذاہب نفرت کو ہوا ملتی ہے، اسلامو فوبیا کے خاتمے کے لئے اجتماعی کاوشوں کی ضرورت ہے، میری کوشش ہے کہ مسلم ممالک اس حساس معاملے پر متحد ہو، او آئی سی اس حوالے سے عالمی سطح پر آگاہی پیدا کرنے میں کردارادا کرے۔

    ملاقات کے دوران او آئی سی ممالک کے سفیروں نے وزیراعظم عمران خان کو معاملہ اٹھانے کی یقین دہانی کرائی۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  2. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    39,603
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Aggressive
    جیسے لاہور میں:
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • مضحکہ خیز مضحکہ خیز × 1
  3. علی وقار

    علی وقار محفلین

    مراسلے:
    266
    کم از کم یہ ایک بہتر بیان اور امت مسلمہ کے جذبات کی عمدہ ترجمانی ہے مگر اسی لڑی کے دوسرے مراسلے پر غور کریں تو ہماری منافقت بھی سامنے آ جاتی ہے۔ اس کے باوجود اسی موقف کو لے کر آگے بڑھنا چاہیے اور دیگر مذاہب اور نظریات سے تعلق رکھنے والے افراد کی جان و مال کا تحفظ اور ان کو اپنے عقیدے یا نظریے سے جڑے رہنے کا حق دیا جانا چاہیے۔ صرف بیان بازی سے بات نہیں چلے گی۔
     
    • زبردست زبردست × 2
  4. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    30,073
    حکومتی ترجمان جھوٹ بول رہے ہیں۔ حملہ مسلمان نرسز نے چرچ پر کیا تھا۔ یہاں الٹا مسیحی نرسز پر الزام لگایا جا رہا ہے۔
     
  5. علی وقار

    علی وقار محفلین

    مراسلے:
    266
    یہاں تو معاملہ طے ہو چکا۔ مگر یہ رویہ عام ہوتا جا رہا ہے۔ کچھ دن قبل ایک ویڈیو دیکھی جس میں کوئی با اثر بندہ بہت سے افراد کے درمیان کھڑا کسی کرسچن سے کہہ رہا تھا کہ کام ٹھیک کرو ورنہ ہم تمہارے اوپرتوہین کا مقدمہ بنوا دیں گے، کچھ اس سے ملتی جلتی بات تھی اور وہ کرسچن فرد بے چارہ تردید پر تردید کیے جا رہا تھا۔ یہ تو ہم مسلمانوں کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ حکومتی سطح پر ایسے واقعات کا نوٹس نہ لینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ذرا سخت لفظ ہے مگر کہنا پڑے گا کہ ایسے خبیث افراد سے معاشرے کو پاک کرنا چاہیے ورنہ اس ملک کا کوئی مستقبل نہیں۔
     
    آخری تدوین: ‏مئی 4, 2021
    • زبردست زبردست × 2
  6. سید رافع

    سید رافع محفلین

    مراسلے:
    1,755
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    بین المذاہب احترام ہی اللہ کا رنگ اور اللہ کا راستہ ہے۔ مذاہب اللہ کی آیات ہیں۔
     
    • متفق متفق × 1
  7. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    30,073
    یہ کوئی نئی بات نہیں۔ اوپر چرچ پر حملہ کرنے والی مسلمان نرسیں اپنی ساتھی مسیحی نرسز کو بھی یہی دھمکیاں دیتی ہوئی ان کے چرچ میں نعتیں پڑھنے گھس گئی تھی۔ حکومت نے معاملہ رفع دفع کر دیا حالانکہ اس واقعہ پر سب کیخلاف قانونی کاروائی ہونی چاہیے۔ اس طرح تو کل کو کوئی بھی کسی کی عبادت گاہ میں دھمکیاں دیتا ہوا گھس جائے گا۔
     
  8. سید رافع

    سید رافع محفلین

    مراسلے:
    1,755
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    لاہور جیسے مسائل سارے پاکستان کے نہیں ہیں۔

    شاید یہ اپنی نوکری بچانے کے لیے ایسا کر رہی ہیں۔ لاہور اور پاکستان میں بہت غربت ہے۔

    لاہور کے ساتھ کچھ تاریخی مسئلہ بھی ہے اسی لیے رحم اور عقل کی کمی ہے۔ لاہور مالی کرپشن کا گڑھ ہے۔ لاہور جیسے مسائل سارے پاکستان کے نہیں ہیں۔



    Nothing unrespectable about prostitution: LUMS professor Nida Kirmani

    Internship for Sex Workers in Lahore | LaunchGood

    Shiza shared her experiences and memories with The Nation. “Clients really matter in the prostitution business. To become rich, one should have filthy rich and powerful clients,” she said. “I did all this for my children, to provide them healthy food, better schooling, and beautiful dresses.”

    Prostitution thriving in City like real estate

    Thousands of prostitution centers are operating in Lahore, a metropolis internationally recognised as a liberal city
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • مضحکہ خیز مضحکہ خیز × 1

اس صفحے کی تشہیر