مزاحیہ غزل

سید شہزاد ناصر نے 'مزاحیہ شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 17, 2019

  1. سید شہزاد ناصر

    سید شہزاد ناصر محفلین

    مراسلے:
    9,361
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    [​IMG]

    بات جیسی بھی ہو بیگم کی اثر رکھتی ہے
    کیونکہ منوانے کا وہ خوب ہنر رکھتی ہے

    کس سے ملتا ہوں، کہاں آتا کہاں جاتا ہوں
    صبح کی شام کی پل پل کی خبر رکھتی ہے

    میرے کپڑوں سے بتاتی ہے کہ میں کس سے ملا
    سونگھنے کا بھی وہ کچھ خاص ہنر رکھتی ہے

    نوٹ کتنے ہیں مری جیب میں، سکے کتنے
    ایکسرے جیسی وہ باریک نظر رکھتی ہے

    میری کولیگ نے لنچ آج مرے ساتھ کیا
    ایسی باتوں کی بھلا کیسے خبر رکھتی ہے

    شک بھی ہوتا ہے کہ بیگم ہے کہ جاسوس ہے وہ
    میری ہر بات پہ کچھ ایسے نظر رکھتی ہے

    گھر سے وہ مجھ کو نکالے گی، فقط دھمکی نہیں
    ہر گھڑی باندھ کے وہ رختِ سفر رکھتی ہے

    وہ چلاتی ہے چھری روز کچن میں لیکن
    پیٹ میں میرے گھسانے کا جگر رکھتی ہے
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    12,557
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    خوب!:D
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1

اس صفحے کی تشہیر