مزاحیہ اشعار

شمشاد

لائبریرین
آگے میں لکھ دیتا ہوں :

اور وہ اپنی بتیس دھاریں کس سے بخشوائے
کہ اس کی ماں تو فیڈر تھی اور سوکھے دودھ کا ڈبہ تھا
(خالد مسعود)
 

شمشاد

لائبریرین
شیخ صاحب میں آپ کو یہاں ہی خوش آمدید کہتا ہوں۔ آپ تو ہمارے اعجاز اختر بھائی کے شہر ناگپور کے رہنے والے ہیں۔

آپ ادھر تعارف کے زمرے میں جائیں اور اپنا تعارف تو دیں کہ اراکینِ محفل آپ کے متعلق جان سکیں۔
 

شمشاد

لائبریرین
اک لڑکی تھی دیوانی سی
موبائیل لیکر چلتی تھی نظریں جھکائے
موبائیل میں کچھ کرتی تھی
جب بھی ملتی تھی مجھ سے
یہی پوچھا کرتی تھی
یہ چالو کیسے ہوتا ہے
 

ابوشامل

محفلین
بریک

اک روز کہیں سائیکل پہ جارہے تھے ہم
پہنچے جو اک موڑ پہ نازل ہوا ستم
پیڈل سے سائیکل کے جو پاؤں اکھڑ گئے
ہم جا کے اک شوخ حسینہ سے لڑ گئے
سنبھلی جو وہ یوں تو ہتھے سے اکھڑ گئی
گویا ہوئی یوں کہ ہواؤں سے لڑ گئی
کہنے لگی اندھے ہیں؟ آتا نہیں نظر؟
یہ حرکتیں ہیں آپ کی یہ رِیشِ معتبر
یوں پھرتے ہیں شریفوں سے صورت بنا کے آپ
یوں عورتوں پہ گرتے ہیں داڑھی لگا کے آپ؟
ہم نے کہا تھوک دو غصے کو نازنیں
سائیکل لڑی ہے تم سے یہ داڑھی لڑی نہیں
داڑھی کا نام لے کے ہمیں کیوں ہو ٹوکتی؟
داڑھی کوئی بریک ہے جو سائیکل کو روکتی؟
 

سارہ خان

محفلین
اپنی زوجہ سے کہا ایک مولوی نے نیک بخت،
تیری تربت پہ لکھیں تحریر کس مفہوم کی،
جل کہ بولی مناسب عبارت ہے یہی،
دفن ہے بیوہ ایک مولوی مرحوم کی،
 

عمر سیف

محفلین
شاعروں نے رات بھر بستی میں واویلا کیا
داد کے ہنگامے میں پورا محلہ ڈر گیا
ایک ضعیفہ اپنے بیٹے سے بولی اگلے دن
رات کوئی شور تھا، کیا کوئی شاعر مر گیا
 

شمشاد

لائبریرین
0037.gif
 

سارہ خان

محفلین
ویسے تو زندگی میں کچھ بھی نہ اُس نے پایا
جب دفن ہو گیا تو شاعر کے بھاگ جاگے
وہ سادگی میں ان کو دو سامعین سمجھا
بس آٹھویں غزل پہ منکر نکیر بھاگے
 

علمدار

محفلین
زبردست :D

میرے پاس بھی کچھ مزاحیہ شاعری موجود ہے لیکن باوجود تلاش کے ہاتھ نہیں آرہی :cry:
 

شمشاد

لائبریرین
کہاں جائے گی، آخر کو ہاتھ آ ہی جائے گی اور جب ہاتھ آ جائے تو یہاں پوسٹ کرنا مت بھولیے گا۔
 

علمدار

محفلین
باقی خیر ہے

بک رہا ہوں آج کل ہذیان، باقی خیر ہے!
اور لاحق ہے ذرا نسیان، باقی خیر ہے!
بہہ رہی ہے رات بھر سے ناک، سر میں درد ہے
اور کچھ سنتے نہیں ہیں کان، باقی خیر ہے!
ہے ذرا رعشہ تو دادا جان کو لقوہ بھی ہے
اور ہیں بیمار دادی جان، باقی خیر ہے!
کل سے ہے منّی کو پیچش اور منے کو بخار
سب سے چھوٹے کو ہوا یرقان، باقی خیر ہے!
بات اب تشویش کی کوئی نہیں ہے اے فہیم
دور تک ملتا نہیں انسان، باقی خیر ہے!
:) :)
شاعر:سید فہیم الدین
 

سارہ خان

محفلین
جس شخص کو اوپر کی کمائی نہیں‌ہوتی
سوسائٹی اسکی کبھی ہائی نہیں‌ ہوتی

تب تک تو بھری بزم میں‌لگتا ہے معزز
جب تک کہ غزل اس نے سنائی نہیں‌ہوتی

پولیس کرا لیتی ہے ہر چیز برآمد
اس آدمی سے جس نے چرائی نہیں‌ہوتی

کرتی ہے اُسی روز شاپنگ کا تقاضا
جس روز میری جیب میں‌پائی نہیں ہوتی

(ڈاکٹر انعام الحق جاوید)
 
Top