جاں نثار اختر مزاجِ رہبر و راہی بدل گیا ہے میاں - جاں نثار اختر

مزاجِ رہبر و راہی بدل گیا ہے میاں
"زمانہ چال قیامت کی چل گیا ہے میاں"

تمام عمر کی نظارگی کا حاصل ہے
وہ ایک درد جو آنکھوں میں ڈھل گیا ہے میاں

کوئی جنوں نہ رہا جب تو زندگی کیا ہے
وہ مر گیا ہے جو کچھ بھی سنبھل گیا ہے میاں

بس ایک موج تہہِ آب کیا تڑپ اُٹھی
لگا کہ سارا سمندر اُچھل گیا ہے میاں

سجے ہوئے ہیں کھلونے سبھی دکانوں پر
نہ جانے کس پہ ترا دل مچل گیا ہے میاں

کوئی ثبوت ملے گا تو کیوں نہ مانیں گے
سنا تو ہے برا وقت ٹل گیا ہے میاں

ہمارے خواب بھی بہلا نہ پائے آج ہمیں
جو رو لئے ہیں تو کچھ دل بہل گیا ہے میاں

نہ آہِ نیم شبی ہے نہ گریہِء سحری
مزاجِ اہلِ محبت بدل گیا ہے میاں

یہ جام جامِ طلوعِ سحر کا نظارہ
یہ مے ہے یا کوئی سورج بگھل گیا ہے میاں

تمہیارے دل میں جو اب بھی ہے کوئی بات تو ہو
ہمارے دل سے تو سب کچھ نکل گیا ہے میاں
جاں نثار اختر
 
Top