مرے دل کو کرو آباد یادوں میں مری آ کر---برائے اصلاح

الف عین
عظیم
------------
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
-------------
مرے دل کو کرو آباد یادوں میں مری آ کر
مرا دل جھوم اٹھتا ہے تمہیں کو سامنے پا کر
---------------
میں تم سے دور جاتا ہوں تو دل بے چین ہوتا ہے
تمہارے ساتھ ایسا ہے کہو میری قسم کھا کر
-----------
اسی کو لوگ کہتے ہیں محبّت ہو گئی ہم کو
کہ جانے کو نہ دل چاہے کسی کو سامنے پا کر
--------------
سیانے یہ ہی کہتے ہیں ، نشانی ہے محبّت کی
کہ محفل بھی نہیں بھاتی نہ اس کو درمیاں پا کر
-------------
ترا دیدار ہوتا ہے ، سکوں ملتا ہے آنکھوں کو
ابھی بس میں نہیں میرے بِٹھا لوں سامنے لا کر
-----------یا
ابھی بس میں نہیں میرے بٹھا لوں تم کو گھر لا کر
-----------------
کیا انجام ہوتا ہے ، خبر اس کی نہیں مجھ کو
تمہارا ہاتھ مانگوں گا بزرگوں سے ترے جا کر
---------------
کسی کی آنکھ کا تارا بنوں ارشد زمانے میں
محبّت میں تری جھومے ،محبّت کو تری پا کر
------------
 

میم الف

محفلین
عمدہ اشعار ہیں ارشد صاحب لیکن دو جگہ لگتا ہے آپ دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں:
ابھی بس میں نہیں میرے بٹھا لوں تم کو گھر لا کر
-----------------
کیا انجام ہوتا ہے ، خبر اس کی نہیں مجھ کو
تمہارا ہاتھ مانگوں گا بزرگوں سے ترے جا کر
 

اتفاقی

محفلین
کیا انجام ہوتا ہے ، خبر اس کی نہیں مجھ کو
تمہارا ہاتھ مانگوں گا بزرگوں سے ترے جا کر

رائے - مشورہ ۔ نہ سمجھیں تو مرضی ہے

ترا پختون قبیلہ ہے! میں ہوں بندوق سے ڈرتا
ترا ہاتھ مانگوں کیا بزرگوں سے ترے جا کر

ناراض مت ہوئیے گا ۔
 
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
کرو آباد میرے دل کویادوں میں مری آ کر
رائے - مشورہ ۔ نہ سمجھیں تو مرضی ہے

ترا پختون قبیلہ ہے! میں ہوں بندوق سے ڈرتا
ترا ہاتھ مانگوں کیا بزرگوں سے ترے جا کر

ناراض مت ہوئیے گا ۔

کرو آباد مرے دل کو یادوں میں مری آ کر
مرا دل جھوم اٹھتا ہے تمہیں کو سامنے پا کر
---------------
سدا بے چین رہتا ہوں میں تم سے دور جاؤں تو
تمہارے ساتھ ایسا ہے کہو میری قسم کھا کر
-----------
اسی کو لوگ کہتے ہیں محبّت ہو گئی ہم کو
کہ جانے کو نہ دل چاہے کسی کو سامنے پا کر
--------------
سیانے یہ ہی کہتے ہیں ، نشانی ہے محبّت کی
کہ محفل بھی نہیں بھاتی نہ اس کو درمیاں پا کر
-------------
ترا دیدار ہوتا ہے ، سکوں ملتا ہے آنکھوں کو
ابھی بس میں نہیں میرے بِٹھا لوں سامنے لا کر
-----------یا
ابھی بس میں نہیں میرے بٹھا لوں تم کو گھر لا کر
-----------------
کیا انجام ہوتا ہے ، خبر اس کی نہیں مجھ کو
تمہارا ہاتھ مانگوں گا بزرگوں سے ترے جا کر
---------------
کسی کی آنکھ کا تارا بنو ارشد زمانے میں
محبّت میں تری جھومے ،محبّت کو تری پا کر
 
آخری تدوین:
الف عین
عظیم
تصحیح کے بعد دوبارہ
--------------
کرو آباد مرے دل کو یادوں میں مری آ کر
مرا دل جھوم اٹھتا ہے تمہیں کو سامنے پا کر
---------------
سدا بے چین رہتا ہوں میں تم سے دور جاؤں تو
تمہارے ساتھ ایسا ہے کہو میری قسم کھا کر
-----------
اسی کو لوگ کہتے ہیں محبّت ہو گئی ہم کو
کہ جانے کو نہ دل چاہے کسی کو سامنے پا کر
--------------
سیانے یہ ہی کہتے ہیں ، نشانی ہے محبّت کی
کہ محفل بھی نہیں بھاتی نہ اس کو درمیاں پا کر
-------------
ترا دیدار ہوتا ہے ، سکوں ملتا ہے آنکھوں کو
ابھی بس میں نہیں میرے بِٹھا لوں سامنے لا کر
-----------یا
ابھی بس میں نہیں میرے بٹھا لوں تم کو گھر لا کر
-----------------
کیا انجام ہوتا ہے ، خبر اس کی نہیں مجھ کو
تمہارا ہاتھ مانگوں گا بزرگوں سے ترے جا کر
---------------
کسی کی آنکھ کا تارا بنو ارشد زمانے میں
محبّت میں تری جھومے ،محبّت کو تری پا کر
 

الف عین

لائبریرین
مجھے تو کوئی فرق نظر نہیں آ رہا پچھلی صورت اور اس شکل میں!
کرو آباد مرے دل کو یادوں میں مری آ کر
مرا دل جھوم اٹھتا ہے تمہیں کو سامنے پا کر
---------------کسی کو یادوں میں آنے کی دعوت تو نہیں دی جاتی! تمہیں (تمہی ں) کیوں؟ 'تمہےں یوں سامنے...' بہتر ہوگا

سدا بے چین رہتا ہوں میں تم سے دور جاؤں تو
تمہارے ساتھ ایسا ہے کہو میری قسم کھا کر
----------- 'تمہارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہے؟ ' کا محل ہے 'تمہیں بھی یوں ہی لگتا ہے؟، کہو....' بہتر ہے
پہلا مصرع بھی ترتیب الٹنے سے بہتر ہو گا
میں تم سے دور جاؤں تو بہت.....
میں تم سے دور جانے پر....

اسی کو لوگ کہتے ہیں محبّت ہو گئی ہم کو
کہ جانے کو نہ دل چاہے کسی کو سامنے پا کر
-------------- لوگ کہتے ہیں کہ ہم کو، لوگوں کو، محبت ہو گئی؟ اگر شاعر سے کہتے ہیں تو 'تم کو' کہنا چاہیے نا!
کسی کو سامنے پا کر؟ سے یہ بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ کسی کو بھی سامنے پا کر! وضاحت کی ضرورت ہے
ایک مثال
ہمیں کچھ ایسا لگتا ہے محبت ہو گئی تم سے
نہ دل چاہے کہیں جانے کو، تم کو سامنے....

سیانے یہ ہی کہتے ہیں ، نشانی ہے محبّت کی
کہ محفل بھی نہیں بھاتی نہ اس کو درمیاں پا کر
------------- دوسرا مصرع واضح نہیں
یہ ہی، 'وہ ہی' پرانی غلطی ہے!

ترا دیدار ہوتا ہے ، سکوں ملتا ہے آنکھوں کو
ابھی بس میں نہیں میرے بِٹھا لوں سامنے لا کر
-----------یا
ابھی بس میں نہیں میرے بٹھا لوں تم کو گھر لا کر
----------------- بس میں نہیں تو کیا کار میں ہو؟
ابھی کیا پرابلم ہے، یہ واضح نہیں
اگر بس میں ہو میرے، میں بٹھا دوں سامنے.....
لیکن شعر پسند نہیں آیا

کیا انجام ہوتا ہے ، خبر اس کی نہیں مجھ کو
تمہارا ہاتھ مانگوں گا بزرگوں سے ترے جا کر
--------------- کیا سوالیہ ہے؟ بتا چکا ہوں کہ سوالیہ محض 'کا' تقطیع ہونا چاہیے
شتر گربہ بھی ہے

کسی کی آنکھ کا تارا بنو ارشد زمانے میں
محبّت میں تری جھومے ،محبّت کو تری پا کر
.. واضح نہیں
 
الف عین
---------
استادِ محترم---کچھ تبدیلیوں کے بعد دوبارا پیشِ خدمت
--------------
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
----------------
مرا دل جھوم اٹھتا ہے تمہارے پاس آنے س
دکھی ہوتا ہے دل میرا تمہارے روٹھ جانے سے
---------------
میں تم سے دور جاؤں تو سدا بے چین رہتا ہوں
سکوں پاتا ہے دل میرا تمہارے پاس آنے سے
-----------
اسی کو لوگ کہتے ہیں محبّت ہو گئی تم کو
لگے دل ڈوب جائے گا کسی کے دور جانے سے
--------------
سیانے یہ ہی کہتے ہیں ، نشانی ہے محبّت کی
تجھے سونی لگے محفل وہاں اس کے نہ آنے سے
-------------
ہمیں دنیا نے روکا ہے مسائل کر دئے حائل
ابھی قاصر ہوں میں محبوب کو اپنا بنانے سے
-----------------
پٹھانوں کا قبیلہ ہے بڑے ہی سخت ہوتے ہیں
مجھے کچھ ڈر سا لگتا ہے تمہارے گھر میں جانے سے
---------------
اکیلا تھا زمانے میں بنا کوئی نہ ارشد کا
سہارا مل گیا اس کو تمہارا پیار پانے سے
 

الف عین

لائبریرین
ردیف ہی بدل دی!
مرا دل جھوم اٹھتا ہے تمہارے پاس آنے س
دکھی ہوتا ہے دل میرا تمہارے روٹھ جانے سے
---------------
میں تم سے دور جاؤں تو سدا بے چین رہتا ہوں
سکوں پاتا ہے دل میرا تمہارے پاس آنے سے
-----------
دونوں شعر درست لیکن ان کے درمیان دو تین اشعار کا فاصلہ رکھیں کہ 'تمہارے پاس آنے سے' دہرایا گیا ہے

اسی کو لوگ کہتے ہیں محبّت ہو گئی تم کو
لگے دل ڈوب جائے گا کسی کے دور جانے سے
-------------- دوسرے مصرعے میں وضاحت کے لیے 'اگر ایسا لگے کہ' ہونا چاہیے

سیانے یہ ہی کہتے ہیں ، نشانی ہے محبّت کی
تجھے سونی لگے محفل وہاں اس کے نہ آنے سے
------------- یہ ہی؟ بجائے یہی؟ شایدیری طنزیہ بات سمجھ نہیں سکے!

ہمیں دنیا نے روکا ہے مسائل کر دئے حائل
ابھی قاصر ہوں میں محبوب کو اپنا بنانے سے
----------------- شتر گربہ ہے ہمیں اور ہوں کے استعمال کی وجہ سے
پہلے مصرع میں ایک ہی بات ہے، تب بھی 'اور' کے بغیر اچھا نہیں

پٹھانوں کا قبیلہ ہے بڑے ہی سخت ہوتے ہیں
مجھے کچھ ڈر سا لگتا ہے تمہارے گھر میں جانے سے
--------------- یہ لوگ سخت ہوتے ہیں؟ قبیلہ سخت ہوتے ہیں تو درست گرامر نہیں

اکیلا تھا زمانے میں بنا کوئی نہ ارشد کا
سہارا مل گیا اس کو تمہارا پیار پانے سے
پہلے مصرع میں تھا کے ساتھ بنا فعل کا استعمال ٹھیک نہیں
نہیں تھا کوئی ارشد کا، اکیلا تھا زمانے میں
بہتر ہو گا
 
الف عین
--------------
معذرت کے ساتھ ایک بار پھر
----------------
مرا دل جھوم اٹھتا ہے تمہارے پاس آنے سے
دکھی ہوتا ہے دل میرا تمہارے روٹھ جانے سے
------------------
یہی سب لوگ کہتے ہیں محبّت ہو گئی تم کو
اگر دل ڈوب جاتا ہو کسی کے دور جانے سے
---------------
یہی کہتے ہیں دل والے ، نشانی ہے محبّت کی
تجھے سونی لگے محفل وہاں اس کے نہ آنے سے
---------------
ہمارے پیار کی دشمن بنی دنیا نہ جانے کیوں
ابھی قاصر ہوں میں محبوب کو اپنا بنانے سے
--------------
میں تم سے دور جاؤں تو سدا بے چین رہتا ہوں
سکوں پاتا ہے دل میرا تمہارے پاس آنے سے
--------------
پٹھانوں کا قبیلہ ہے بڑے ہی سخت ہوتے ہیں
مجھے کچھ ڈر سا لگتا ہے تمہارے اس گھرانے سے
-------------
نہیں تھا کوئی ارشد کا، اکیلا تھا زمانے میں
سہارا مل گیا اس کو تمہارا پیار پانے سے
------------
 

میم الف

محفلین
عمدہ اشعار ہیں ارشد صاحب لیکن دو جگہ لگتا ہے آپ دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں:
اس میں حرج بھی کیا ہے
یعنی مزید دو شادیوں کا ارادہ ہے
چار تک تو کام چل سکتا ہے نا
ہاہاہا۔۔
ارشد صاحب آپ زندہ باد :jokingly:
 

الف عین

لائبریرین
مرا دل جھوم اٹھتا ہے تمہارے پاس آنے سے
دکھی ہوتا ہے دل میرا تمہارے روٹھ جانے سے
------------------
یہی سب لوگ کہتے ہیں محبّت ہو گئی تم کو
اگر دل ڈوب جاتا ہو کسی کے دور جانے سے
---------------
یہی کہتے ہیں دل والے ، نشانی ہے محبّت کی
تجھے سونی لگے محفل وہاں اس کے نہ آنے سے
---------------
سب درست ہیں

ہمارے پیار کی دشمن بنی دنیا نہ جانے کیوں
ابھی قاصر ہوں میں محبوب کو اپنا بنانے سے
-------------- نہ جانے کیوں کو پہلے لانے سے روانی بہتر لگتی ہے
نہ جانے کیوں ہمارے پیار کے دشمن بنے ہیں سب

میں تم سے دور جاؤں تو سدا بے چین رہتا ہوں
سکوں پاتا ہے دل میرا تمہارے پاس آنے سے
--------------درست

پٹھانوں کا قبیلہ ہے بڑے ہی سخت ہوتے ہیں
مجھے کچھ ڈر سا لگتا ہے تمہارے اس گھرانے سے
------------- میری بات سمجھ نہیں سکے شاید، قبیلہ واحد ہے، لیکن قبیلے کے لوگ جمع جس کے لیے 'سخت ہوتے ہیں' درست استعمال کیا ہے۔ یعنی یہ بیان کرنا تھا کہ 'پٹھانوں کا قبیلہ ہے اور یہ لوگ بڑے سخت ہوتے ہیں' مگر کہا یہ گیا ہے کہ 'پٹھانوں کا قبیلہ سخت ہوتے ہیں'

نہیں تھا کوئی ارشد کا، اکیلا تھا زمانے میں
سہارا مل گیا اس کو تمہارا پیار پانے سے
------ درست
 
Top