مرے دل میں ہے اداسی ترے بن بہار کیا ہے

سعید احمد سجاد نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 23, 2021 7:46 شام

  1. سعید احمد سجاد

    سعید احمد سجاد محفلین

    مراسلے:
    452
    سر الف عین
    محمّد احسن سمیع :راحل:
    اور دیگر احباب سے اصلاح کی درخواست ہے

    نہ وہ مےکدہ نہ محفل نہ کوئی شراب نوشی
    مرا انگ انگ ٹوٹے یہ عجب خمار کیا ہے

    رہے خامشی سی ہر سو ہے سکوت ساعتوں پر
    نہ کوئی یہ مجھ سے پوچھے ترا انتظار کیا ہے

    ترے سامنے جو آؤں نہ سنبھل سکوں ذرا بھر
    مرے دل کی دھڑکنوں پر مرا اختیار کیا ہے

    ہو خزاں کہ موسمِ گل ہے رتوں کا بس تغیّر
    مرے دل میں ہے اداسی ترے بن بہار کیا ہے

    تری بے رخی ہے پیہم میں تری طرف ہوں مائل
    مری ذات پر جنوں کا یہ عجب حصار کیا ہے
     
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,627
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    آخری شعر دو لخت لگ رہا ہے
    ... ذرا بھر.... محاورے کے مطابق نہیں ذرا بھی کہا جا سکتا ہے
    باقی اشعار درست ہیں
     
  3. سعید احمد سجاد

    سعید احمد سجاد محفلین

    مراسلے:
    452
    شکریہ سر آخری شعر پر دوبارہ کوشش کرتا ہوں
     
  4. سعید احمد سجاد

    سعید احمد سجاد محفلین

    مراسلے:
    452
    تری بے رخی ہے پیہم مَیں ہوں پھر بھی تیرا قائل
    مری ذات پر جنوں کا یہ عجب حصار کیا ہے

    سر نظر ثانی فرما دیں
     

اس صفحے کی تشہیر