مرے دل مرے مسافر (کتاب) از فیض احمد فیض

فرخ منظور نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 5, 2012

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    مقتل میں نہ مسجد نہ خرابات میں کوئی
    ہم کس کی امانت میں غمِ کارِ جہاں دیں

    شاید کوئی ان میں سے کفن پھاڑ کے نکلے
    اب جائیں شہیدوں کے مزاروں پہ اذاں دیں

    بیروت 79 ؁

     
  2. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    پیرس

    دن ڈھلا کوچہ و بازار میں صف بستہ ہوئیں
    زرد رُو روشنیاں
    ان میں ہر ایک کے کشکول سے برسیں رم جھم
    اس بھرے شہر کی ناسودگیاں
    دور پس منظرِ افلاک میں دھندلانے لگے
    عظمتِ رفتہ کے نشاں
    پیش منظر میں
    کسی سایۂ دیوار سے لپٹا ہوا سایہ کوئی
    دوسرے سائے کی موہوم سی امید لیے
    روزمرہ کی طرح
    زیرِ لب
    شرحِ بےدردیِ ایّام کی تمہید لیے
    اور کوئی اجنبی
    ان روشنیوں سایوں سے کتراتا ہوا
    اپنے بے خواب شبستاں کی طرف جاتا ہوا

    پیرس ، اگست 1979 ؁
     
  3. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    قوّالی
    جلا پھر صبر کا خرمن، پھر آہوں کا دھواں اٹھّا
    ہوا پھر نذرِ صرصر ہر نشیمن کا ہر اِک تنکا

    ہوئی پھر صبحِ ماتم آنسوؤں سے بھر گئے دریا
    چلا پھر سوئے گردوں کاروانِ نالۂ شب ہا
    ہر اِک جانب فضا میں پھر مچا کہرامِ یارب ہا

    امڈ آئی کہیں سے پھر گھٹا وحشی زمانوں کی
    فضا میں بجلیاں لہرائیں پھر سے تازیانوں کی
    قلم ہونے لگی گردن قلم کے پاسبانوں کی
    کھلا نیلام ذہنوں کا، لگی بولی زبانوں کی
    لہو دینے لگا ہر اِک دہن میں بخیہِ لب ہا
    چلا پھر سوئے گردوں کاروانِ نالۂ شب ہا

    ستم کی آگ کا ایندھن بنے دل پھر سے، دادلہا!
    یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں خداوندا
    بنا پھرتا ہے ہر اِک مدّعی پیغام بر تیرا
    ہر اِک بت کو صنم خانے میں دعویٰ ہے خدائی کا
    خدا محفوظ رکھے از خداوندانِ مذہب ہا
    چلا پھر سوئے گردوں کاروانِ نالۂ شب ہا

    بیروت 1979ء
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    کیا کریں

    مری تری نگاہ میں
    جو لاکھ انتظار ہیں
    جو میرے تیرے تن بدن میں
    لاکھ دل فگار ہیں
    جو میری تیری انگلیوں کی بے حسی سے
    سب قلم نزار ہیں
    جو میرے تیرے شہر کی
    ہر اک گلی میں
    میرے تیرے نقش ِ پا کے بے نشاں مزار ہیں
    جو میری تیری رات کے
    ستارے زخم زخم ہیں
    جو میری تیری صبح کے
    گلاب چاک چاک ہیں
    یہ زخم سارے بے دوا
    یہ چاک سارے بے رفو
    کسی پہ راکھ چاند کی
    کسی پہ اوس کا لہو
    یہ ہے بھی یا نہیں، بتا
    یہ ہے، کہ محض جال ہے
    مرے تمہارے عنکبوتِ وہم کا بُنا ہوا
    جو ہے تو اس کا کیا کریں
    نہیں ہے تو بھی کیا کریں
    بتا ، بتا ،
    بتا ، بتا

    بیروت 80 ؁
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    دو نظمیں فلسطین کے لیے

    فلسطینی شہدا جو پردیس میں کام آئے
    (ا)
    میں جہاں پر بھی گیا ارضِ وطن
    تیری تذلیل کے داغوں کی جلن دل میں لیے
    تیری حرمت کے چراغوں کی لگن دل میں لیے
    تیری الفت، تری یادوں کی کسک ساتھ گئی
    تیرے نارنج شگوفوں کی مہک ساتھ گئی
    سارے اَن دیکھے رفیقوں کا جِلو ساتھ رہا
    کتنے ہاتھوں سے ہم آغوش مرا ہاتھ رہا
    دور پردیس کی بے مہر گذرگاہوں میں
    اجنبی شہر کی بے نام و نشاں راہوں میں
    جس زمیں پر بھی کھُلا میرے لہو کا پرچم
    لہلہاتا ہے وہاں ارضِ فلسطیں کا عَلَم
    تیرے اعدا نے کیا ایک فلسطیں برباد
    میرے زخموں نے کیے کتنے فلسطیں آباد
    بیروت ۸۰ ء

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    فلسطینی بچے کے لیے لوری

    مت رو بچے
    رو رو کے ابھی
    تیری امی کی آنکھ لگی ہے
    مت رو بچے
    کچھ ہی پہلے
    تیرے ابا نے
    اپنے غم سے رخصت لی ہے
    مت رو بچے
    تیرا بھائی
    اپنے خواب کی تتلی کے پیچھے
    دور کہیں پردیس گیا ہے
    مت رو بچے
    تیری باجی کا
    ڈولا پرائے دیس گیا ہے
    مت رو بچے
    تیرے آنگن میں
    مردہ سورج نہلا کے گئے ہیں
    چندرما دفنا کے گئے ہیں
    مت رو بچے
    امی، ابا، باجی، بھائی
    چاند اور سورج
    تو گر روئے گا
    اور بھی تجھ کو رلوائیں گے
    تو مسکائے گا تو شاید
    سارے اک دن بھیس بدل کر
    تجھ سے کھیلنے لوٹ آئیں گے

    بیروت ۸۰ء
     
    • زبردست زبردست × 1
  6. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    نذرِ حافظ
    ناصحم گفت بجز غم چہ ہنر دارد عشق
    بر وائے خواجۂ عاقلِ ہنرِ بہتر ازیں
    ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
    قندِ دہن، کچھ اس سے زیادہ
    لطفِ سخن، کچھ اس سے زیادہ

    فصلِ خزاں میں لطفِ بہاراں
    برگِ سمن کچھ اس سے زیادہ

    حالِ چمن پر تلخ نوائی
    مرغِ چمن، کچھ اس سے زیادہ

    دل شکنی بھی، دلداری بھی
    یادِ وطن، کچھ اس سے زیادہ

    شمعِ بدن فانوسِ قبا میں
    خوبیِ تن، کچھ اس سے زیادہ

    عشق میں کیا ہے غم کے علاوہ
    خواجۂ من، کچھ اس سے زیادہ

    بیروت 80 ؁
     
  7. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    میرے ملنے والے

    وہ در کھلا میرے غمکدے کا
    وہ آ گئے میرے ملنے والے
    وہ آگئی شام، اپنی راہوں میں
    فرشِ افسردگی بچھانے
    وہ آگئی رات چاند تاروں کو
    اپنی آزردگی سنانے
    وہ صبح آئی دمکتے نشتر سے
    یاد کے زخم کو منانے
    وہ دوپہر آئی آستیں میں
    چھپائے شعلوں کے تازیانے
    یہ آئے سب میرے ملنے والے
    کہ جن سے دن رات واسطا ہے
    پہ کون کب آیا، کب گیا ہے
    نگاہ ودل کو خبر کہاں ہے
    خیال سوئے وطن رواں ہے
    سمندروں کی ایال تھامے
    ہزار وہم وگماں سنبھالے
    کئی طرح کے سوال تھامے
    بیروت 80 ؁
     
  8. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    گاؤں کی سڑک

    یہ دیس مفلس و نادار کج کلاہوں کا
    یہ دیس بے زر و دینار بادشاہوں کا
    کہ جس کی خاک میں قدرت ہے کیمیائی کی
    یہ نائبانِ خداوندِ ارض کا مسکن
    یہ نیک پاک بزرگوں کی روح کا مدفن
    جہاں پہ چاند ستاروں نے جبّہ سائی کی
    نہ جانے کتنے زمانوں سے اس کا ہر رستہ
    مثالِ خانۂ بے خانماں تھا در بستہ

    خوشا کہ آج بفضلِ خدا وہ دن آیا
    کہ دستِ غیب نے اس گھر کی در کشائی کی

    چنے گئے ہیں سبھی خار اس کی راہوں سے
    سنی گئی ہے بالآخر برہنہ پائی کی

    بیروت 80 ؁



     
  9. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    اب کے برس دستورِستم میں کیا کیا باب ایزاد ہوئے
    جو قاتل تھے مقتول ہوئے، جو صید تھے اب صیّاد ہوئے
    پہلے بھی خزاں میں باغ اجڑے پر یوں نہیں جیسے اب کے برس
    سارے بوٹے پتہ پتہ روش روش برباد ہوئے
    پہلے بھی طوافِ شمعِ وفا تھی، رسم محبت والوں کی
    ہم تم سے پہلے بھی یہاں منصور ہوئے، فرہاد ہوئے
    اک گل کے مرجھانے پر کیا گلشن میں کہرام مچا
    اک چہرہ کمھلا جانے سے کتنے دل ناشاد ہوئے
    فیض، نہ ہم یوسف نہ کوئی یعقوب جو ہم کو یاد کرے٭
    اپنی کیا، کنعاں میں رہے یا مصر میں‌ جا آباد ہوئے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ٭ غنی روزِ سیاہ پیرِ کنعاں را تماشا کن
    کہ نورِ دیدہ اش روشن کند چشمِ زلیخا را
     
  10. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    غم بہ دل، شکر بہ لب، مست و غزل خواں چلیے
    جب تلک ساتھ ترے عمرِ گریزاں چلیے

    رحمتِ حق سے جو اس سَمت کبھی راہ ملے
    سوئے جنّت بھی براہِ رہِ جاناں چلیے

    نذر مانگے جو گلستاں سے خداوندِ جہاں
    ساغرِ مے میں لیے خونِ بہاراں چلیے

    جب ستانے لگے بے رنگیِ دیوارِ جہاں
    نقش کرنے کوئی تصویرِ حسیناں چلیے

    کچھ بھی ہو آئینۂ دل کو مصفّا رکھیے
    جو بھی گزرے، مثلِ خسروِ دوراں چلیے

    امتحاں جب بھی ہو منظور جگر داروں کا
    محفلِ یار میں ہمراہِ رقیباں چلیے
     
  11. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    وہ بتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوفِ خدا گیا
    وہ پڑی ہیں روز قیامتیں کہ خیالِ روزِ جزا گیا

    جو نفس تھا خارِگلو بنا، جو اٹھے تو ہاتھ لہو ہوئے
    وہ نشاطِ آہ سحر گئی وہ وقارِ دستِ دعا گیا

    نہ وہ رنگ فصلِ بہار کا، نہ روش وہ ابرِ بہار کی
    جس ادا سے یار تھے آشنا وہ مزاجِ بادِ صبا گیا

    جو طلب پہ عہدِ وفا کیا، تو وہ آبروئے وفا گئی
    سرِ عام جب ہوئے مدّعی تو ثوابِ صدق و صفا گیا

    ابھی بادباں کو تہہ رکھو ابھی مضطرب ہے رخِ ہوا
    کسی راستے میں ہے منتظر وہ سکوں جو آکے چلا گیا

     
  12. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    ستم سکھلائے گا رسمِ وفا، ایسے نہیں ہوتا
    صنم دکھلائیں گے راہِ خدا، ایسے نہیں ہوتا

    گنو سب حسرتیں جو خوں ہوئی ہیں تن کے مقتل میں
    مرے قاتل حسابِ خوں بہا ایسے نہیں ہوتا

    جہانِ دل میں کام آتی ہیں تدبیریں نہ تعزیریں
    یہاں پیمانِ تسلیم و رضا، ایسے نہیں ہوتا

    ہر اک شب، ہر گھڑی گزرے قیامت، یوں تو ہوتا ہے
    مگر ہر صبح ہو روزِ جزا ،ایسے نہیں ہوتا

    رواں ہے نبضِ دوراں، گردشوں میں آسماں سارے
    جو تم کہتے ہو سب کچھ ہو چکا، ایسے نہیں ہوتا

     

اس صفحے کی تشہیر