مرگ بر امریکہ اور ہمنوا

مرگ بر امریکہ اور ہمنوا
16 ستمبر 20121
16 ستمبر 2012 بروز اتوار​
وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے امریکی نمائندے گراسمین سے گستاخانہ فلم کیلئے احتجاج کیا۔ ملاقات تو جنرل کیانی سے بھی ہوئی مگر انہوں نے احتجاج نہیں کیا۔ حنا ربانی کھر امریکی سفیر کو وزارت خارجہ طلب کر کے اور باقاعدہ احتجاج کرے۔ یہ مطالبہ پیپلز پارٹی کے اہم اتحادی چودھری شجاعت نے بھی کیا ہے۔ پہلے بھی ایک بار امریکی سفارت کار کو بلایا گیا تھا۔ پہلے چائے وغیرہ سے اس کی خاطر تواضع کی گئی اور پھر احتجاج کیا گیا۔ تمام عالم اسلام کے مسلمان حکمران احتجاج کریں۔ اگر وہ برائے نام مسلمان ہیں تو بھی احتجاج کریں۔ امریکی انہیں صرف مسلمان حکمران سمجھتے ہیں۔ مسلمان حکام سے مطلب امریکی غلام ہیں مگر غلاموں میں کبھی تو غیرت وغیرہ جاگ جاتی ہے۔ غیرت نہیں تو ”وغیرہ“ ہی جاگ جائے۔
صدر زرداری مسلمان حکمران ہیں ورنہ شیعہ مسلمان حکمران تو ضرور ہیں۔ کربلا میں سارے زمانے کے امام حسینؓ نے اپنی جان دے دی تھی کہ رسول کریم کے طریقوں کے خلاف حکمرانی ہو رہی تھی۔ آج یزیدیت کا مردود ہے۔ تو م¶دبانہ گزارش ہے کہ یزیدی انداز میں حکمرانی امام حسینؓ سے بغاوت ہے۔ سارے زمانوں کے امام حسینؓ کے نانا سارے جہانوں سارے زمانوں سارے انسانوں کیلئے رحمت عام رسول کریم کیلئے گستاخانہ فلم کیلئے صدر زرداری احتجاج کریں۔ حسینیت یہی ہے۔ ان لوگوں کے ساتھ اپنی آواز ملائیں جن لوگوں کے وہ صدر ہیں۔
عمران خان نے چترال کے جلسے میں اس حوالے سے احتجاج کیا ہے۔ اس نے اس المیے کو یہودیوں کی کارروائی قرار دیا ہے۔ یہودیوں سے گہرے رابطوں اور یہودی خاتون جمائما کے ساتھ طلاق کے بعد تعلقات کے باوجود انہوں نے یہودیوں کی مذمت کی ہے تو یہ بہت قابل غور بات ہے۔ میں عمران خان کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ان سے جب سوال کیا گیا کہ آپ کے جلسوں میں ناچ گانا بہت ہوتا ہے تو انہوں نے کہا کہ ”کیا میں نوجوانوں کو نعتیں سنایا کروں“۔ دوستوں کی اطلاع کیلئے انٹرنیٹ کا حوالہ ضروری ہے۔ www.youtube.com‘ Imran khan remarks about naat
قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کی طرح سندھ سرحد اور بلوچستان اسمبلیاں بھی متفقہ قرارداد پاس کریں۔ وزیراعظم پرویز اشرف بھی بیان دیں۔ حکام اور عوام ایک ہو جائیں۔ پہلے یہ ہونا تھا کہ ایسے موقعوں پر شدید ردعمل صرف پاکستان کی طرف سے آتا تھا۔ اب تو عالم اسلام بھی جاگ گیا ہے۔ لیبیا کیلئے مبارکباد ہے کہ وہاں احتجاجی مظاہروں کے نتیجے میں امریکی سفیر اور دوسرے اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ صدر ابامہ بھی ان کی لاشوں کے پاس آخری رسومات میں موجود تھے۔ وہ لاکھ اداکاری کریں مگر یہودی اور انتہا پسند امریکی کبھی انہیں امریکی اور مسیحی تسلیم نہیں کریں گے۔ میرے خیال میں اس کا دوبارہ جیتنا بھی مشکل ہے۔ ان کو یہودی لابی کبھی برداشت نہیں کرے گی۔ لنکن اور کینیڈی کو کس نے قتل کرایا؟ کلنٹن کو عدالتوں میں کس نے گھسیٹا۔ کون بے گناہ ڈاکٹر عافیہ کو رہا نہیں ہونے دیتا۔ عام امریکی یہودیوں سے بڑے تنگ ہیں۔ وقت آئے گا کہ یہودی اور امریکی آمنے سامنے ہوں گے۔
کہا گیا کہ مسلمانوں کا یہ ردعمل مناسب نہیں تو وہ کس طرح ردعمل کا اظہار کریں۔ ہمارے محبوب رسول اعظم کے خلاف بکواس کرتے رہے ہیں اور ہم ہاتھ جوڑ کے ان سے احتجاج کریں۔ اس طرح معافی مانگی جاتی ہے۔ معافی مانگنے کیلئے مسلمان حکمران کافی ہیں۔ کہتے ہیں کہ احتجاج کرنے والوں کے پاس القائدہ کے بینر لگے ہوئے تھے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ بینر کس نے لگوائے تھے۔ دوسری بات یہ کہ القائدہ بنوائی کس نے تھی۔ روس کے خلاف افغان جہاد کیلئے القائدہ کیلئے دفاتر اور مراعات کس نے فراہم کیں۔
اب عالم اسلام میں مسلمان ہونے کا جذبہ پیدا ہوا ہے اور یہ بیداری خود امریکہ اور اسرائیل نے پیدا کی ہے۔ عشق رسول کا جذبہ انہیں کھا جائے گا۔ خدا کی قسم عشق رسول ایٹم بم سے زیادہ طاقتور ہے۔ اس جذبے کو چینلائز کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ تو روس سے نہیں لڑ سکتا تھا۔ پاکستان نے مجاہدین اور افغانوں کے ساتھ مل کر روس کو نکالا۔ جس کا فائدہ صرف امریکہ نے اٹھایا اور پھر عالم اسلام بالخصوص پاکستان کو نشانہ بنایا۔ اور آج وہ مسلمانوں کو سوشلسٹوں سے بڑا دشمن سمجھتا ہے اور یہ بھی سمجھتا ہے کہ مسلمان ساری دنیا پر چھا جائیں گے۔ یہ صرف خواہش نہیں۔ تاریخ کو بدلتے دیر نہیں لگتی۔ امریکہ تو اب سپر پاور ہے اس کے ساتھ چین اور روس بھی اب مقابلے میں آ کھڑے ہوئے ہیں۔ ایک زمانے میں برطانیہ اور اسلام سوپر پاور تھے۔ تبدیلی فطرت کا حصہ ہے اور جسے عروج ملتا ہے اسے زوال بھی ہوتا ہے۔ فرعون کے مقابلے میں موسیٰ اٹھتا ہے۔ یہودی پھر فرعون بن رہے ہیں۔ موسیٰ ان کے اندر جنم لے چکا ہے۔ امریکہ سے زیادہ احمق کوئی نہیں۔ نجانے اس کے تھنک ٹینک صرف مسلمان دشمنی کے علاوہ کچھ سوچتے ہی نہیں اور نفرت ان کی سوچ کا محرک ہو تو پھر بدقسمتی لازمی ہو جاتی ہے۔ امریکہ کو نظر نہیں آتا کہ آدھی دنیا کے مسلمانوں کی نفرت کا ہدف صرف امریکہ ہے اور اسرائیل بغلیں بجاتا ہے۔ صرف اسرائیل اور بھارت کیلئے امریکہ پوری دنیا میں ذلیل و خوار ہوتا ہے۔ اپنے امریکی مکھی مچھر اور چوہوں کی طرح مروا رہا ہے۔ اسے پتہ ہے کہ جب تک مسلمانوں کے دلوں میں عشق رسول کا چراغ جلتا ہے تو وہ کبھی نہ کبھی ضرور غالب آئیں گے۔ عشق رسول کو ختم نہیں کیا جا سکا تو اب اس جذبے کو متنازعہ بنایا جا رہا ہے اور اس میں بھی وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔ فرقہ بازی کے باوجود سارے مسلمان رسول کریم کے حوالے سے ایک ہیں‘ متحد ہیں اور قربان ہونے کیلئے تیار ہیں۔
مسلمان غیر مسلموں سے آخری بات یہ کرتے تھے کہ تم جتنا پیار زندگی سے کرتے ہو ہم اس سے بڑھ کر موت سے پیار کرتے ہیں۔ امریکہ کے ایک ظالم درندہ صفت صدر بش کے جیسے ظالم وزیر دفاع رمز فیلڈ نے کہا تھا کہ ہم مسلمان حکومتوں مسلمان فوجوں سے نہیں ڈرتے ہم نہتے مسلمانوں سے ڈرتے ہیں جن کے اندر ایمان کی روشنی ہے۔ جن کے پاس نہ حکومت ہے نہ فوج ہے۔ وہ صرف جان و دل اپنی ہتھیلی پہ لئے پھرتے ہیں۔ امریکی انہی لوگوں کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ مگر یہ کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ شاعر عباس تابش نے کہا
یہ کیسے لوگ ہیں یہ خاندان عشق کے لوگ
کہ ہوتے جاتے ہیں قتل اور کم نہیں ہوتے
عالم اسلام کے اتحاد کیلئے خود امریکہ اور اسرائیل ماحول بنا دیتے ہیں۔ جو لوگ لیبیا میں ایک دوسرے کے مدمقابل تھے وہ متحد ہو کر امریکہ کے سفارت خانے پر حملہ آور ہوئے جس کے نتیجے میں امریکی سفیر مر گیا۔ سنا ہے وہ خوف سے مر گیا۔ امریکی ظالم ہیں اور ظالم کبھی بہادر نہیں ہوتے۔ امریکی خودکشی تو کر سکتے ہیں۔ افغانستان اور عراق میں خودکشیاں ہوئیں اور ہو رہی ہیں۔ مگر امریکی کبھی خودکش حملہ نہیں کر سکتے۔ یہ صرف مسلمان کر سکتا ہے۔ جس خودکش حملے میں بے گناہ بے خبر عام لوگ ہوتے ہیں۔ میں اس کے خلاف ہوں۔ مگر امریکیوں ان کے غلام حکام اور ظالموں کے خلاف خودکش حملے نہ کئے جائیں تو نہتے لوگ کیا کریں۔ یہ ظلم کے خلاف عملی احتجاج ہے اور یہی جہاد ہے۔ اب جو کچھ ہوا ہے میں اس کی تائید کرتا ہوں کیونکہ مہذب اظہار اصول والے ملکوں اور لوگوں کے خلاف ہوتا ہے۔ جو کسی اصول قانون کو نہیں مانتے اور مسلمانوں کے خلاف صرف ظلم اور نفرت جن کا رویہ ہے۔ ان کے خلاف تشدد بھی تدبر ہے بلکہ تحمل ہے۔ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔
امریکہ مسلمانوں کے ساتھ نبٹنے کیلئے ہر کہیں فوجیں بھجوا رہا ہے۔ گستاخانہ فلم بنانے والوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کو تیار نہیں۔ گستاخانہ فلم کے حوالے سے صرف امریکہ کے خلاف نفرت کا اظہار ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے سوچنا امریکہ کا کام نہیں ؟ امریکہ دشمن ہے ساری انسانیت اور عالم اسلام کا دشمن ہے۔ دشمن سے نفرت نیکی ہے۔ ملعون رشدی کو وائٹ ہا¶س امریکہ بلا کے ”عزت افزائی“ کیوں کی گئی۔
باخدا دیوانہ باش و بامحمد ہشیار
 

نایاب

لائبریرین
حرمت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر جان بھی قربان ہے ۔
مگر یہ کیسا عشق جنوں خیز ہے کہ
یہ کیسے لوگ ہیں یہ خاندان عشق کے لوگ
کہ ہوتے جاتے ہیں قتل اور کم نہیں ہوتے

اس تحریر سے اک سوال بھی ابھرا کہ

امریکی خودکشی تو کر سکتے ہیں۔ افغانستان اور عراق میں خودکشیاں ہوئیں اور ہو رہی ہیں۔ مگر امریکی کبھی خودکش حملہ نہیں کر سکتے۔ یہ صرف مسلمان کر سکتا ہے۔ جس خودکش حملے میں بے گناہ بے خبر عام لوگ ہوتے ہیں۔ میں اس کے خلاف ہوں۔ مگر امریکیوں ان کے غلام حکام اور ظالموں کے خلاف خودکش حملے نہ کئے جائیں تو نہتے لوگ کیا کریں۔ یہ ظلم کے خلاف عملی احتجاج ہے اور یہی جہاد ہے۔
افغانستان ہو عراق ہو پاکستان ہو وہ کونسا خود کش حملہ تھا ۔ جس میں امریکیوں کا کوئی غلام مرا ۔
سب بے گناہ بے خبر معصوم اپنی جان سے گئے ۔ اور خود کش حملہ آور کو جہادی کے لقب سے سرفراز کرتے جنت کا حقدار ٹھہرا گئے ۔
واقعیہ امریکی کبھی خودکش حملہ نہیں کر سکتے ۔ کیون کہ وہ چھان پھٹک کر اپنے دشمنوں کو مارتے ہیں ۔
 
نایاب میاں ! آپ نے خوب تبصرہ کیا۔ اجمل نیازی بھی کیا یاد کریں گے۔ آج کل لوگ دوسرے کالم نویسوں کے کالم بھی لگا دیتے ہیں۔ میں نے بھی اس رسم میں حصہ ڈال لیا۔ جس نے چاروں گھر راضی رکھنے ہوں تضاد بیانی ان کی روزی روٹی کا بھی تو آسرا ہے ناں! میرا تو ان کالم نگاروں کے نام تک لکھنے کو جی نہیں چاہتا۔ آج کچھ لکھتے ہیں کل اسی بات کے خلاف، پرسوں پھر حق میں۔ بلکہ ایک ہی تحریر میں دوغلہ پالیسی نظر آ رہی ہوتی ہے۔ آپ نے میرے دل کی آواز پڑھی ہو گی۔ "معاشرے میں خواص و عوام کا کردار"
بہت سے قلم کار صرف ہمارے جذبات سے کھیلنا جانتے ہیں۔
 

باباجی

محفلین
بہت خوب لکھا ہے آپ نے قادری صاحب
لیکن ایک دھاگہ ابھی میں نے وزٹ کیا
اور مجھے بہت دکھ ہوا وہاں ہم پاکستانی مسلمانوں کے جذبات دیکھ کر کہ برف بھی اتنی ٹھنڈی نہ ہوگی
صرف ایک سائٹ کے بند ہونے سے بہت سے لوگوں کا پڑھائی کا حرج ہوگیا
یہاں عاشقانِ محمد مصطفیٰﷺ کے دل و جگر پر کند چھریاں چل گئیں
اور ہم "پاکستانی مسلمانوں" کی پڑھائی کا حرج ہوگیا
یہ دیکھ مجھے بہت دکھ ہوا کہ کیا فائدہ ایسی مصلحت پسندی کا
جس محمد مصطفیٰﷺ پر ہمارے جان و مال قربان ان کی حرمت کی کوئی وقعت ہی نہیں
یہ کیسی محفل ہے قادری صاحب جہاں اگر اپنی طرف سے کوئی دھاگہ کھول لے فضول سا تو محفلین داد و تحسین کے ڈونگرے بر سا دیتے ہیں
اور اس اتنے بڑے اتنے عظیم سانحے کے بارے میں بات کرنے والا کوئی نہیں
میں نے ایک بات لکھی تھی کسی وقت اور وہ کسی کو بہت برے لگی تھی کہ
"ہم لوگ عامیت سے نکل چکے ہیں "
اور اس کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔
کہ "لوگوں کی پڑھائی و تفریح میں خلل پڑا" ۔
 

زبیر مرزا

محفلین
بہت اچھا کالم ہے اور مسلمانوں کی بیداری کے لیے کوشش - کالم میں خودکش حملوں کو جسٹیفائی نہیں کرنا چاہیے تھا کہ
جوغلط ہے وہ غلط ہی رہے گا اس کو کسی طورپر صحیح نہیں کہا جاسکتا-
باباجی آپ کو بڑی دیرمیں سمجھ آئی ہے :) ابھی اوربھی بہت کچھ عیاں ہوجائے گا کسی ترقی پسند کو اس دھاگے کا رُخ کرنے دیں
 

یوسف-2

محفلین
قرآن مجید میں اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا معیار یہ بتایا گیا ہے:
قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنْ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ۔ (التوبہ 9:24)
کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، تمہارے خاندان اور مال جو تم نے کمایا ہے اور تجارت جس کے گر جانے کا تمہیں اندیشہ ہے اور مکانات جو تمہیں پسند ہیں، اگر یہ ساری چیزیں تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ عزیز ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر کر دے۔​
اسی حقیقت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف احادیث میں بھی واضح فرمایا ہے، مثلاً:​
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لا یومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ و ولدہ و الناس اجمعین (بخاری، مسلم، مشکوۃ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے باپ، اس کے بیٹے، اور دوسرے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔​
ایک اور حدیث میں ہے کہ: ثلث من کن فیہ وجد بھن حلاوۃ الایمان: من کان اللہ و رسولہ احب الیہ مما سوا۔ (بخاری، مسلم) تین چیزیں جس شخص میں ہوں گی، وہ ان کے سبب سے ایمان کا مزا چکھے گا۔ ایک وہ شخص جس کے نزدیک اللہ اور اس کا رسول دوسری تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہوں۔​
 

یوسف-2

محفلین
توہین اورتردید کا فرق سمجھنا بہت ضروری ہے جولوگ یہ فرق نہیں سمجھ پاتے وہ دوسروں کی تردید اوراختلاف رائے کو بھی توہین سمجھ بیٹھتے ہیں ،اورجوابا ان پرسب وشتم اورتوہین کاسلسلہ شروع کردیتے ہیں اورجب ان سے کہا جائے کہ کسی کی توہین کرنا درست نہیں تو کہتے ہیں ہماری بھی تو توہین کی جاتی ہے،حالانکہ ان کی کسی نے توہین نہیں بلکہ تردیدکی ہوتی ۔
یہی غلط فہمی اور ہٹ دھرمی ان غیرمسلموں کی بھی ہے جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتے ہیں ، اورجب ان کے خلاف احتجاج کیاجائے تو جواب یہ دیتے ہیں کہ مسلمان بھی ہمارے معبودوں اورہماری مقدس ہستیوں کی توہین کرتے ہیں،پھر اگران کے نبی صلی اللہ علیہ وسم کے بارے میں ہم نے زبان کھول دی توکون ساجرم کیا؟؟
ان کے اس جواب پرکچھ بھولے بھالے مسلمان بھی حیران ہوجاتے ہیں ،اوریہ سوچنے لگتے ہیں کہ آخرہم بھی تو دوسروں کے خلاف بولتے رہتے ہیں پھریہ سوچ کرتسلی کرلیتے ہیں کہ ہم حق پر ہیں اس لئے ہمیں بولنے کا حق ہے اوردوسرے لوگ باطل پرہیں اس لئے ہم انہیں کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔
حالانکہ یہ سوچ اسلام کے سراسرخلاف ہے ، دراصل یہ لوگ توہین اورتردید کا فرق نہیں سمجھ پارے اورخلط مبحث کے شکارہیں۔
اسلام میں یہ تعلیم توہے کہ غلط کو غلط کہا جائے یعنی باطل کی تردید کی جائے لیکن اسلام اس کی اجازت قطعا نہیں دیتا کہ اہل باطل کی توہین کی جائے ،اس لئے تردید کاجواب توہین سے دینا اوراسلام اورمسلمانوں پردوسروں کی توہین کاالزام لگاناسراسرناانصافی ہے۔
قران مجید معبودان باطلہ کے رد سے بھراہواہے لیکن معبودان باطلہ کی توہین میں پورے قران میں ایک حرف بھی نہیں بلکہ اس کے برعکس قران میں صراحت کے ساتھ اس بات سے منع کردیا ہے کہ معبودان باطلہ پرسب وشتم کیاجائے یاان کی توہین کی جائے ، ارشادہے:
وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ كَذَلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ مَرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ [٦الأنعام١٠٨]۔
اور گالی مت دو ان کو جن کی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں کیونکہ پھر وہ براہ جہل حد سے گزر کر اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کریں گے ہم نے اسی طرح ہر طریقہ والوں کو ان کا عمل مرغوب بنا رکھا ہے۔ پھر اپنے رب ہی کے پاس ان کو جانا ہے سو وہ ان کو بتلا دے گا جو کچھ بھی وہ کیا کرتے تھے۔
غورکریں کہ وہ معبودان جنہیں اللہ کے بالمقابل کھڑا کیا گیا ہے جب ان کی توہیں کی اجازت اسلام میں نہیں ہے تو بھلاکسی اورکی توہیں کی اجازت اسلام کیسے دے سکتاہے۔
اسلام کی نظرمیں انسانیت کاسب سے بڑا دشمن ''شیطان'' ہے اورقران میں متعددمقامات پرصراحت کے ساتھ اسے تمام انسانوں کا ''عدو مبین '' کہا گیا ہے ، لیکن بایں ہمہ شیطان پربھی سب وشتم کی اجازت اسلام میں نہیں، بلکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری صراحت کے ساتھ مسلمانوں کو اس بات سے روک دیا کہ وہ شیطان پرسب وشتم کریں ،حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
عن أبي هريرة ، قال قال رسول اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تسبوا الشيطان وتعوذوا بالله من شره [المخلصیات:رقم١٥٧٢ وصححہ الالبانی علی شرط البخاری فی الصحیحة رقم ٢٤٢٢]۔
یعنی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ شیطان کو گالی نہ دو بلکہ اس کے شرسے اللہ کی پناہ طلب کرو۔
غورکریں جو اسلام ، مسلمانوں کےسب بڑے دشمن ''شیطان '' پرسب وشتم کی اجازت نہیں دیتا کیا وہ اپنے متبعین کو یہ تعلیم دے سکتا ہے کہ اپنے مخالفین پرسب وشتم کرو یاان کی توہین کرو؟؟
صرف یہی نہیں کہ اسلام نے دوسروں پرسب وشتم سے منع کیا ہے بلکہ اسلام نے کسی کو یہ بھی اجازت نہیں کی وہ اپنے آپ پرسب وشتم کرے حالانکہ یہ انسان کااپنامعاملہ جس میں کسی دوسرے کیلئے ایذاء رسانی بھی نہیں ہے ، چنانچہ حدیث ہے:
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي، وَلَكِنْ لِيَقُلْ لَقِسَتْ نَفْسِي[بخاری:۔کتاب الأدب:باب لایقل خبثت نفسی ،رقم 6179]۔
اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میرانفس خبیث ہوگیا بلکہ یوں کہے میرانفس سستی وکاہلی کاشکارہوگیا۔
الغرض یہ کہ اسلامی تعلیمات میں اس بات کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ کسی پرشب وشتم کیا جائے چاہے وہ اپنے ہوں یاپرائے ، موافقین ہوں یامخالفین۔
ہاں اسلام غلط کو غلط کہنے اورباطل کورد کرنے کاحکم دینا ہے ، اور اگرکوئی غیرمسلم اسلام کوبھی غلط کہے اوراسے باطل کہہ کررد کردے تو اس کے لئے وہ آزادہے۔
لیکن اسلام میں کسی کی توہین کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اورنہ ہی دوسروں کو اس کی اجازت ہے کہ وہ اسلام اوراللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف زبان درازی کریں یاسب وشتم اوراہانت کریں ۔
اگرکوئی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کونہیں مانتاتو نہ مانے اس میں وہ آزاد ہے لیکن اگرکوئی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتاہے تووہ قطعا آزاد نہیں بلکہ اسلام میں اس کے لئے سزائے موت ہے ۔
اسلام ادیان باطلہ کی تردید کرتا ہے ، اوردوسروں کو بھی آزادی دیتاہے کہ اگرانہیں اسلام سچامذہب نہیں معلوم ہوتا تو وہ اسے ردکرسکتے ہیں کوئی زوزبردستی نہیں ہے، ارشادہے:
لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنْ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ [ ٢البقرة: 256]۔
دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں، ہدایت ضلالت سے روشن ہوچکی ہے، اس لئے جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے معبودوں کا انکار کرکے اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا، جو کبھی نہ ٹوٹے گا اور اللہ تعالیٰ سننے والا، جاننے والا ہے۔
لیکن اسلام دوسرے کسی بھی مذہب یااس کے رہنماؤں کی توہین نہیں کرتا اس لئے دوسروں کوبھی اس بات کاحق نہیں کہ وہ اسلام یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کریں۔
ضروری ہے کہ توہین اورتردیدکے فرق کوسمجھاجائے اوراپنے مخالفین کی صرف تردیدکی جائے نہ کی توہین۔

اداریہ مجلہ اہل السنہ از کفایت اللہ السنابلی
 

باباجی

محفلین
بہت اچھا کالم ہے اور مسلمانوں کی بیداری کے لیے کوشش - کالم میں خودکش حملوں کو جسٹیفائی نہیں کرنا چاہیے تھا کہ
جوغلط ہے وہ غلط ہی رہے گا اس کو کسی طورپر صحیح نہیں کہا جاسکتا-
باباجی آپ کو بڑی دیرمیں سمجھ آئی ہے :) ابھی اوربھی بہت کچھ عیاں ہوجائے گا کسی ترقی پسند کو اس دھاگے کا رُخ کرنے دیں
سمجھ تو کافی پہلے آگئی تھی لیکن میں اردو محفل کے قوائدوضوابط کا پابند ہوں لہٰذا
یہی بہت ہے جو میں نے کہا
لیکن بہت دُکھا ہے دل مرزا صاحب
اب یہاں آنے کو دل نہیں چاہتا
 
مُلحد جو کہیں وہ اُس کو بھگتیں گے۔ ہم تو اللہ کے رسول کے غلام تھے، غلام ہیں اور ان شاءااللہ غلامی کا حق ادا کریں گے۔ جس دن سے یہ سانحہ ہو گزرا ہے میں تو کفن باندھ کر گھر سے نکلتا ہوں۔ ابھی تک والدہ کو بھی نہیں مطلع کیا۔ روز بھول جاتا ہوں۔ لیکن ان شاءاللہ ثم ان شاءاللہ جان وارنا نہیں بھولوں گا۔ نیٹ پر بیٹھ کر روبوٹ کی طرح ہذیان بک دینا آسان ہے۔ یہ بزدل لمبی زبان والے تو اپنی شناخت بھی اصلی نہیں دیتے۔ نجانے کدھر کدھر سے کیا کیا معاوضہ لیتے ہیں۔ اور کہاں کہاں ایمان بیچا ہے۔ ہم تو سراپا احتجاج ہیں۔ اگر یو ٹیوب کو حکومت نے کبھی معاہدات کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں کروا رکھا تو یہ ذمہ داران کی غلطی ہے نہ کہ غلامان مصطفیٰ کی جو کہ ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہے ہیں۔ لیکن اللہ ہر فرعون کی مانند ظالم کے سامنے کوئی موسیٰ ضرور بھیجتا ہے، راج پال کو علم دین، ہر سلمان تاثیر کو ممتاز قادری
 
ورفعنا لک ذکرک
گستاخوں نے ناپاک جسارت کر کے امتِ مسلمہ کو بیدار کردیا۔ بقولِ شاعر
’’اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دبائیں گے‘‘
مسلم حکمرانوں کے لئے صرف یہی کہوں گا:
غیرت ھے بڑی چیز جہانِ تگ ودَو میں
پہناتی ھے درویش کو تاجِ سرِ دارا
دین ہاتھ سے دے کر آزاد ہو ملت
ھے ایسی تجارت میں مسلمان کو خسارا
 
بہت خوب لکھا ہے آپ نے قادری صاحب
لیکن ایک دھاگہ ابھی میں نے وزٹ کیا
اور مجھے بہت دکھ ہوا وہاں ہم پاکستانی مسلمانوں کے جذبات دیکھ کر کہ برف بھی اتنی ٹھنڈی نہ ہوگی
صرف ایک سائٹ کے بند ہونے سے بہت سے لوگوں کا پڑھائی کا حرج ہوگیا
یہاں عاشقانِ محمد مصطفیٰﷺ کے دل و جگر پر کند چھریاں چل گئیں
اور ہم "پاکستانی مسلمانوں" کی پڑھائی کا حرج ہوگیا
یہ دیکھ مجھے بہت دکھ ہوا کہ کیا فائدہ ایسی مصلحت پسندی کا
جس محمد مصطفیٰﷺ پر ہمارے جان و مال قربان ان کی حرمت کی کوئی وقعت ہی نہیں
یہ کیسی محفل ہے قادری صاحب جہاں اگر اپنی طرف سے کوئی دھاگہ کھول لے فضول سا تو محفلین داد و تحسین کے ڈونگرے بر سا دیتے ہیں
اور اس اتنے بڑے اتنے عظیم سانحے کے بارے میں بات کرنے والا کوئی نہیں
میں نے ایک بات لکھی تھی کسی وقت اور وہ کسی کو بہت برے لگی تھی کہ
"ہم لوگ عامیت سے نکل چکے ہیں "
اور اس کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔
کہ "لوگوں کی پڑھائی و تفریح میں خلل پڑا" ۔
باباجی یہاں یہی چلتا ہے کیونکہ محفل کا کوئی مسلک نہیں۔لہذا یہاں خیر کی توقع رکھنا بہت بڑی حماقت ہے۔
 

باباجی

محفلین
مُلحد جو کہیں وہ اُس کو بھگتیں گے۔ ہم تو اللہ کے رسول کے غلام تھے، غلام ہیں اور ان شاءااللہ غلامی کا حق ادا کریں گے۔ جس دن سے یہ سانحہ ہو گزرا ہے میں تو کفن باندھ کر گھر سے نکلتا ہوں۔ ابھی تک والدہ کو بھی نہیں مطلع کیا۔ روز بھول جاتا ہوں۔ لیکن ان شاءاللہ ثم ان شاءاللہ جان وارنا نہیں بھولوں گا۔ نیٹ پر بیٹھ کر روبوٹ کی طرح ہذیان بک دینا آسان ہے۔ یہ بزدل لمبی زبان والے تو اپنی شناخت بھی اصلی نہیں دیتے۔ نجانے کدھر کدھر سے کیا کیا معاوضہ لیتے ہیں۔ اور کہاں کہاں ایمان بیچا ہے۔ ہم تو سراپا احتجاج ہیں۔ اگر یو ٹیوب کو حکومت نے کبھی معاہدات کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں کروا رکھا تو یہ ذمہ داران کی غلطی ہے نہ کہ غلامان مصطفیٰ کی جو کہ ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہے ہیں۔ لیکن اللہ ہر فرعون کی مانند ظالم کے سامنے کوئی موسیٰ ضرور بھیجتا ہے، راج پال کو علم دین، ہر سلمان تاثیر کو ممتاز قادری
بہت خوب کہا قادری صاحب
"نیٹ پر بیٹھ کر روبوٹ کی طرح ہذیان بکنا"
کچھ لوگ یاد آگئے جو یہی کرتے ہیں :ROFLMAO:
کبھی کبھی میں بھی یہی کرتا ہوں
ایک اور بات پتا چلی لوگ جتنے مرضی شائستہ ہوں
ان کے اندر اپنے دین سے محبت لفاظی کی حد تک بھی نہیں ہے
 

دوست

محفلین
دیکھتے ہیں یہ غیرت کتنی دیر چلتی ہے۔ یو ٹیوب پر پابندی کتنے دن قائم رہتی ہے۔ اور کتنے مسلمان اس 'غیرت مندی' کی بھینٹ چڑھتے ہیں۔
اور ہاں یہ انٹرنیٹ، لیپ ٹاپ اور ساری کافرانہ ٹیکنالوجی کب غیرت میں آ کر کوڑے دان کی نذر کی جاتی ہے۔
سائیں 2006 سے یہی غیرت مندی دیکھ رہے ہیں جب کسی بے غیرت نے کچھ کارٹون بنا کر شائع کر دئیے تھے۔ تب سے یہ غیرت مندی کا تماشا کوئی تین چار بار کھیلا جا چکا ہے۔ کوئی ملعون خنزیر النسل شرارت کا شرارہ پھینکتا ہے اور مسلمان اس سے اپنا دامن جلا کر، کچھ بندے مروا کر، آپس میں دست و گریباں ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔
انا للہ و انا الیہ راجعون۔
قومی ڈنگ ٹپاؤ پالیسی یہاں بھی پورے طمطراق سے براجمان۔ جب سر پر پڑے تو آسمان سر پر اٹھا لو، اس کے بعد ٹھنڈے ہو کر بیٹھ جاؤ۔
 
Top