سیدہ شگفتہ

لائبریرین
بیشک بصارت اور بصیرت میں فرق ہے
جیسے حکایت اور حقیقت میں فرق ہے
زخموں میں اور دَردِ محبت میں فرق ہے
الفاظ کے معانی و صورت میں فرق ہے
آنکھیں تو صرف لفظ کی صورت شناس ہیں
مطلب تمام اہلِ معانی کے پاس ہیں
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
معنی شناس کرتے نہیں صورتوں کا غم
ان کی نظر میں اصل حقیقت ہے محترم
ہنس ہنس کے جھیل لیتے ہیں دنیا کا ہر ستم
ملتی ہے یہ بصیرتِ باطن بہت ہی کم
دولت عطا یہ ہوتی نہیں ہے عوام کو
ملتی ہے انبیاء کو فقط یا امام کو
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
وہ ذات جس کو کہتے ہیں سردارِ انبیا
مقصودِکن، محیطِ کرم، مخزنِ عطا
تخلیقِ اوّلیں، شہ لولاک، مصطفٰے
شاہِ عرب، شہنشہِ کونین و ماسوا
نورِ خدا سے خلق ہوا نور بن گیا
خود ناظرِ تجلئ مستور بن گیا
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
ذاتِ محمد عربی ہے وہ پاک ذات
آئینہ جس کے واسطے تھی بزم شش جہات
اُس کو کھلی کتاب تھے اسرارِ کائنات
وہ شاہد و شہود وہی ناظرِ حیات
روشن تھے اُس پہ حال عدم اور وجود کے
پردے اٹھے ہوئے تھے غیاب و شہود کے
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
عنوانِ آفرینش و سرنامہ وجود
اُس کی نظر کے سامنے اقلیم ہست و بود
آئینہ اس کے واسطے کونین کی نمود
کیوں اس کے نام پر نہ زمانہ پڑھے درُود
حسنِ نظر بھی اس میں صفات ضمیر بھی
وہ باصرہ نواز بھی تھا اور بصیر بھی
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
اُترا زمینِ مکّہ پہ اس آن بان سے
صلّ علیٰ کی آئی صدا آسمان سے
گزرا مصیبتوں کے ہر اک امتحان سے
دیکھا مآلِ کار بصیرت کی شان سے
حسن و جمال ذاتِ احد دیکھتی ہوئی
آنکھیں ازل سے تا بہ ابَد دیکھتی ہوئی
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
بعثت سے اُس کی دورِ جہاں جگمگا اٹھا
آتی تھی ذرّہ ذرّہ سے آوازِ مرحبا
آتشکدوں میں سرد ہوئی آتشِ بلا
تثلیث کا طلسمِ کُہن ٹوٹنے لگا
کچّے تھے جتنے رنگ وہ سب چُھوٹنے لگے
دیکھا نظر اٹھا کے تو بُت ٹوٹنے لگے
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
بدلا معاشرے کا سسکتا ہوا نظام
انساں کو ایک سطح پہ لایا بہ اہتمام
ہر ایک کو بتا دیا جس کا تھا جو مقام
آقا جو تھے غلاموں کو کرنے لگے سلام
چھینٹیں جو دامنوں پہ پڑی تھیں وہ دُھل گئیں
آنکھیں تھیں جن کی بند ابھی تک وہ کُھل گئیں
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
صادق، امین، مصلح و ہادی و راہبر
ہر ذہن و دل کے درد مسلسل کا چارہ گر
ہر اک کی دیکھ بھال ہر اک بات پر نظر
جس پر خُدا کو ناز ہو اس شان کا بشر
آنکھوں سے سب کی پردہ غفلت اُٹھا دیا
ہر کم نظر کو دیدہ بینا عطا کیا
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
چھوڑا بتوں کو ہو گئے بندے خدا پرست
آلودگئ کفر سے نکلے خُدا پرست
کرنے لگے جفاؤں سے توبہ جفا پرست
آئے گروہِ حق میں مگر کچھ ہوا پرست
وحدانیت کی راہ نہ دیکھی کُھلی ہوئی
آنکھوں پہ اور دلوں پہ تھیں مہریں لگی ہوئی
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
تھے سب کے دل کے حال سے واقف حبیبِ رب
کہتے نہ تھے زباں سے کبھی کچھ شہِ عرب
آئینہ ہونے والے تھے اعمال اور سبب
رازِ درُوں کسی کا نہ لاتے تھے تا بہ لب
پردہ منافقوں کا اٹھانے میں دیر تھی
ابنِ علی کے دہر میں آنے کی دیر تھی
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
شیرِ خُدا علی ولی شاہِ بو تراب
مولائے کائنات، مشیت کا انتخاب
زیبِ زمینِ کعبہ شہِ آسماں جناب
برج شرف کا مہر حقیقت کا آفتاب
دیں کا حصار ساقئ کوثر سخی علی
دل کی زباں پکار رہی ہے علی علی
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
ہادی علی رفیق علی رہنما علی
منزل علی مراد علی مدعا علی
ساحل علی سفینہ علی ناخدا علی
ان سے جدا نبی نہ نبی سے جدا علی
پھیلی ہوئی شمیم اخوت کے پھول کی
ٹھنڈی تھیں ان کو دیکھ کے آنکھیں رسول کی
 
آخری تدوین:

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
آئینہ ضیائے رُخِ مصطفےٰ علی
تصویر حسنِ رُوئے حبیبِ خدا علی
جلوہ علی جمال علی حق نما علی
اُمت میں اور رسول میں اک واسطہ علی
اُن میں تجلئ رُخ دلجوئے مصطفےٰ
دیکھا اُنھیں تو دیکھ لیا رُوئے مصطفےٰ
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
ہر سانس جس کی گلشنِ اسلام کی بہار
مختارِ دیں متاعِ پیمبر کا ورثہ دار
ایمان کا وقار شریعت کا افتخار
مذہب کا اعتماد، طریقت کا اعتبار
سینے میں بحرِ علمِ لدنی لیے ہوئے
نظریں رُخِ رسول کی جانب کیے ہوئے
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
پیدا ہوئے تو کعبہ پکارا کہ مرحبا
کھولی جو آنکھ سامنے تھا روئے مصطفےٰ
پھر کچھ سنبھالا ہوش تو بعثت کا دور تھا
پہلے اُنھیں کو دولت ایماں ہوئی عطا
خادم مَلک ہیں جن کے وہ انسان ہیں یہی
اہلِ نظر میں سابق الایمان ہیں یہی
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
کیونکر نہ ہوتے سارے زمانے سے سرفراز
یہ ذات وہ ہے جس پہ نبی نے کیا ہے ناز
ہر ایک رازِ حق کے تھے یہ آشنائے راز
حاصل ہے یہ اُنھیں کو زمانے میں امتیاز
بے شک یہ انتخابِ خُدا و رسول ہیں
داماد مصطفےٰ کے ہیں زوجِ بتول ہیں
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
چشمِ نبی میں سارے زمانے سے معتبر
زوجِ بتول، شبّر و شبیر کے پدر
ہیں بس یہی مدینہ علم نبی کا در
اسلام کا حصار تو ایمان کی سپر
ایماں کی دیکھ بھال میں شام و سحر رہے
اسلام پر ہو وار تو سینہ سپر رہے
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
اللہ رے رسول کا حیدر پہ اعتماد
ہر سخت معرکے میں کیا ہے اُنہی کو یاد
تعمیلِ حکم کر کے ہمیشہ ہوئے یہ شاد
تلوار سے جہاد کبھی نیند سے جہاد
آیا نہ خوفِ جاں دل پُر اعتماد میں
شامل تھی نیند بھی شبِ ہجرت جہاد میں
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
ہجرت کی شب ملا اُنھیں بستر رسول کا
محصور چار سمت سے تھا گھر رسول کا
نرغے میں دُشمنوں کے برادر رسول کا
تنہا علی کی ذات تھی لشکر رسول کا
دل میں رسولِ حق کی محبت لیے ہوئے
سوتے تھے اپنی جاگتی قسمت لیے ہوئے
 
Top