محفل پر مواد کی ملکیت

جیسبادی

محفلین
نوٹس کے بغیر کاپی رائٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ plagarism ایک علیحدہ چیز ہے، کہ آپ یوزنیٹ سے کوئی تحریز اٹھا کر دعوی کرو کہ یہ میں نے لکھا۔ البتہ آپ یہ تحریریں چھاپ ضرور سکتے ہو، بغیر کسی سے پوچھے۔
 
زکریا نے کہا:
انڈیا اور پاکستان بھی برن کنوینشن سائن کر چکے ہیں اس لئے ان پر بھی یہی قانون لاگو ہوتا ہے۔ لہذا اگر اردو کی کسی کتاب پر کاپی‌رائٹ کا نوٹس نہ بھی ہو تو بھی وہ کاپی‌رائٹ ہی سمجھی جائے گی۔

زکریا اس طرح سے آپ کسی پر قانونی مقدمہ نہیں کرسکتے اگر صراحتا نہ لکھا ہو کہ کاپی رائٹ کے تحت ہے یہ کتاب، اس کے علاوہ بھی بہت سی پیچیدگیاں ہی ان قوانین میں۔
 

زیک

مسافر
جیسبادی اور محب: کاپی‌رائٹ کے قوانین میں کافی پیچیدگیاں ہیں اور بغیر کاپی‌رائٹ نوٹس کے اس کی خلاف‌ورزی کا مقدمہ کرنا کافی مشکل مگر اگر bright line rule دیکھا جائے تو وہی ہے جو میں نے بتایا۔
 
زکریا اگر اس bright line کو ہم دیکھتے رہیں تو پھر کچھ بھی نہ لکھ سکیں گے ۔ اب میں آپ کو مثال دیتا ہوں پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ لاہور کی۔

گیارہویں جماعت کے لیے فلسفہ کی کتاب پر ان کاپی رائٹ نوٹس یہ ہیں۔

“ جملہ حقوق بحق پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ لاہور محفوظ ہیں۔ منظور کردہ وفاقی وزارت تعلیم (شعبہ نصاب سازی ) حکومتِ پاکستان ، اسلام آباد۔
اس کتاب کا کوئی حصہ نقل یا ترجمہ نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اسے ٹیسٹ پیپر ، گائیڈ بکس ، خلاصہ جات ، نوٹس یا امدادی کتب کی تیاری میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ “


اب حالت یہ ہے کہ یہ کتاب اب پورے پنجاب میں ڈھونڈتے رہیں ، آپ کو شاید کسی ردی کے ڈھیر ، کسی کتابوں کے شوقین کباڑیہ کی دکان یا اردو بازار کی پرانی کتابوں والی دکان سے مل جائے۔ آخری دفعہ یہ کتاب 2001 میں شائع ہوئی تھی اور 1000 کی تعداد میں۔ چار پانچ سال میں اس کتاب کے 5 نسخے تو میں حاصل کرچکا ہوں ، اب 995 رہ گئے ہوں گے جن میں جانے کتنی کچرے کے ڈھیر کی نذر اور جانے کتنی پھل فروٹ ، شکر قند، چنے ، چھلیوں کی ریڑھیوں میں کھپ گئی ہوں گی۔ بڑی جدوجہد سے مجھے یہ کتاب مل سکی دوبارہ اور اس کے کاپی رائٹ نوٹس کو دیکھ کر سوائے ہنسنے کے میں کچھ نہیں کرسکتا کیوں کہ یہ کتاب کسی کو ملے گی تو وہ اس کی نقل کر سکے گا۔ دوسرا اس کے نوٹس شاید کسی نے خیالی جنت میں بیٹھ کر لکھے تھے۔

“اس کتاب کا کوئی حصہ نقل یا ترجمہ نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اسے ٹیسٹ پیپر ، گائیڈ بکس ، خلاصہ جات ، نوٹس یا امدادی کتب کی تیاری میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ “

اس کتاب کا اگر کوئی حصہ ترجمہ ہو جائے تو کون کیسے پتہ چلائے گا۔ اس اگر امدادی کتب کی تیاری میں استعمال کرلیا جائے تو بھی کون کیسے اس کی تصدیق کرسکتا ہے جبکہ صاف صاف چوری کو ثابت کرنے میں دانتوں پسینہ آجاتا ہے۔

سب سے بڑھ کر اس میں کہیں بھی الیکڑانک شکل میں استعمال کرنے سے نہیں روکا گیا اور صرف اسی سقم سے باآسانی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ دوسرا قانونی پیچیدگیاں اور اتنی ہیں کہ اس کے لیے یہ پوسٹ ناکافی ہے وہ پھر کبھی سہی۔
 
Top