محبت۔۔۔۔۔۔۔۔نور سعدیہ شیخ

نور وجدان نے 'آپ کی تحریریں' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 25, 2015

  1. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    5,245
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    محبت کی حقیقت اور معنویت کیا ہے؟ میری زندگی میں نظریات کے تغیر نے محبت کو سمجھنے میں مدد دی ہے۔ نظریہ محبت روحوں کے تعلقات سے منبطق ہے. روح کے کششی سرے قربت اور مخالف سرے مخالفت میں جاتے ہیں. بنیادی طور پر درجہ بندی کشش اور مخالفت کی ہوتی ہے. اِن روحوں سے نکلتی ''نورانی شعاعیں'' ایک سپیکڑیم بناتی ہیں. ارواح کی کشش کا دائرہ بڑا یا چھوٹا ہوسکتا ہے.اور ان کی دوسری درجہ بندی دائروی وسعت کرتی ہے اور یوں انواع و اقسام کی ارواح تغیر کے ساتھ مرکز کے ساتھ مخالفت یا کشش کرتی ہیں. جن کا حلقہِ کشش بڑا ہوتا ہے وہی مرکز سے قریب ہوتی ہیں.

    لوگ کہتے ہیں محبت کا سرچشمہ بدن ہے. انصال سے انتقال ہوتا ہے اور انتقال حواسِ خمسہ کا محتاج ہوتا ہے. اور یہی محبت اصل محبت ہے کہ محبت روپ بدلتی ہے یا کہ لیں لباس بدلتی ہے. محبت پھر خود ملبوس ہے جس کو میں اوڑھ لوں اور زمانے کے رواج کے مطابق اوڑھنی اتار پھینک دوں . دوسری صورت میں انصال کے بعد اتصال اور انتقال میں اس قدر موافقت ہو کہ یہ روح اور خاک دونوں کا ملزوم ٹھہرتی ہیں. محبت ملبوس کی طرح نہیں ہوتی مگر اس میں خاک ایک ملاوٹ کی طرح ہوتی ہے. دل نہ ہو میلا، بدن میلا اور رنگ کچیلا ..۔۔۔

    محبت کی پہلی سیڑھی خاک سے چلتی روح کو بھنگ پلاتی ہے اور افیون کے دھونی میں 'من نشیلا ' تن بھلا ' بیٹھے لوگ ''دائروی رقص'' شروع کرتے نظر آتے ہیں اس رقص میں روح کے ساتھ ساتھ جسم بھی گھومتا ہے ۔اس پہیے (جسم)کو روح تحریک دیتی رہتی ہے یہاں تک کا تن اور من کا ہوش جاتا رہتا ہے. تب ایک روح تقسیم در تقسیم کے بعد تن کی نفی کا کلمہ پڑھ لیتی ہے اور مقام عین پالیتی ہے.

    روحانی انتقال بجسمانی کے فوقیت رکھتا ہے. یہ درجہ آگہی کے دروازے پر لاکھڑا کرتا ہے. آگہی جنون بھی ہے اور عذاب بھی۔۔۔۔. یہ فہم بھی ہے اور ادراک بھی ۔۔۔۔۔ یہ راز بھی ہے اور انکشاف بھی ۔۔۔۔!!!

    دروازے تک پہنچنے کے لیے لمحوں کی تپسا بھی اہمیت رکھتی ہے کہ پل بھر میں صدی بھر کا درد دے دیا جاتا ہے.اور پل پل درد کا انجیکشن ہوش سے ماورا کیے رکھتا ہے اور عاشق عین دروازے پر پہنچا دیا جاتا ہے. ''

    کیا دروازے کھٹکھٹاؤ گے؟ شرم و آداب کے تمام التزامات کو بھول جاؤ گے؟''

    یہاں روح سے موسیقی کے سُر نکلتے ہیں ان کی تال پر رقص جنوں کرتے کرتے دروازہ کھل جاتا ہے.۔۔ موسیقی کی تال پر ناچنے والے ایک دروازے سے دوسرے دروازے تک پہنچا دیے جاتے ہیں کہ اس جہاں میں ہوش و عقل ناکام و نامراد پلٹتے ہیں ۔ یہ سرشاری و مستی ، یہ عالمِ بے خبری انکشاف کے دروازے ہی نہاں کو عیاں کرتی ہے ۔ کہنے کو مد ہوشی بھی ایک نعمت ہے
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 25, 2015
    • زبردست زبردست × 4
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  2. ادب دوست

    ادب دوست معطل

    مراسلے:
    3,429
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    اچھی تحرریر ہے نور سعدیہ شیخ ،
    کا ، کی، کے ، کہ، نے ، پر ،
    کی ترتیب دیکھ لیں اکثر مقامات پر مجھے درست معلوم نہیں ہورہی ۔ جس کی وجہ سے پڑھنے والوں کو مشکلات ہو سکتی ہیں ۔
     
    • متفق متفق × 3
  3. نوشین فاطمہ عبدالحق

    نوشین فاطمہ عبدالحق محفلین

    مراسلے:
    257
    موڈ:
    Apprehensive
    "یہاں روح سے موسیقی کے سر نکلتے ہیں ۔ ان کی تال پر رقص جنوں کرتے کرتے دروازہ کھل جاتا ہے"
    اس لائن نے تو مار ڈالا ۔ بہت خوب سسٹر !
    محبت کی تعریف آج تک کوئی نہیں کر پایا ۔ نہ ہی کوئی۔بیان کر پائےگا ۔ میں بس یہ کہا کرتی ہوں "جس تن لاگے ، وہ تن جانے"
    آپ بہت اچھا لکھتی ہیں ۔ غالباً یہ آپ کی دوسری تحریر میری نظر سے گزر رہی ہے ۔ خوب !
     
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  4. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    5,245
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    شکریہ ۔۔ دیکھتی ہوں میں ۔۔۔:)
    خوشبو آتی ہے اور چلی جاتی کے مصداق نشان چھوڑ جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ '' جس تن لاگے ، وہ تن جانے '' ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ جملہ آپ کی اخفاء صفات یا جملہ صفات پر روشنی ڈال رہا ہے ۔
    شکریہ بہنا ۔۔۔۔ اچھی وہ ذات ہے جس نے ہمیں اشرف المخلوقات بنادیا باقی لکھنا آتا نہیں ہے یونہی دل بہلانے کو لکھتی ہوں ۔۔ پسند آوری کا شکریہ ۔
    :)
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 25, 2015
    • دوستانہ دوستانہ × 3
  5. نظام الدین

    نظام الدین محفلین

    مراسلے:
    1,005
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    بہت عمدہ تحریر ہے۔۔۔۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    5,245
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    شکریہ :)
     
  7. آوازِ دوست

    آوازِ دوست محفلین

    مراسلے:
    1,900
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    فطرت انسان کو اپنے متعین خطوط پر چلنے کا پابند بناتی ہے اور انسان انجانے میں اپنی مجبوری کو اپنی خوبی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ محبت ایک آئینہ ہے جِس میں ہر ایک اپنی سوچ کا عکس دیکھتا ہے۔ عملی دُنیا میں محبت کا اگلہ درجہ ضرورت اور آخری درجہ مجبوری ہے۔ ایثار، محبت سے بلند تر جذبہ ہے۔ عشق ایک مختلف دُنیا ہے اورعشق عموما" فطرت کی تعلیم کی نفی کرتا ہے۔ محبت شعور کی تسکین ہے اور عشق شعور سے تصادم۔ آپ نے اچھا لکھا ہے وقت اور تجربات کے ساتھ پختگی بھی آجائے گی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  8. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,422
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    " خمار محبت " کیسے " جنوں " میں مبتلا کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بہت خوب لکھا ہے اس حقیقت بارے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بہت سی دعاؤں بھری داد
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  9. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    5,245
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    ایک لائن کی سمجھ نہیں آئی ۔۔ آپ صاحب علم ہیں ۔ سوال بنتا ہے ۔
    محبت میں مجبوری کی سمجھ آتی ہے ۔ آخری درجہ کیا عشق کی ابتدا نہیں ہے ؟ ابتدا میں ضرورت کا احتمال ؟ یہ مجھے کنفیوز کر رہا تھا ۔ اس لیے سوچا پوچھ لیا جائے
     
  10. خالد محمود چوہدری

    خالد محمود چوہدری محفلین

    مراسلے:
    11,610
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    بہت اچھا لکھا ہے نور سعدیہ شیخ بہن
    بہت سی دعائیں۔ اللہ خوش رکھے جیتی رہیئے ، خوش رہیئے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    5,245
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    آپ کی دعا بہت بھاتی ہے اور نہ جانے کیوں بھاتی ہے اس کا معلوم نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    شکریہ :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  12. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    5,245
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    دعائیں خوب ہوتی ہیں مجھے تو یہ بہت اچھی لگتی ہیں ۔۔۔ نوازش اس کے ساتھ لکھا پسند آیا۔۔۔ میں کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور میری ذات کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. آوازِ دوست

    آوازِ دوست محفلین

    مراسلے:
    1,900
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    دیکھئیے صاحبِ علم ہونا بڑی بات ہوتی ہے۔ ہم تو بس نادان سے طالب علم ہیں۔ آپ کے سوال کا جواب آسان ہےمحبت کا کوئی بھی درجہ عشق کو نہیں پُہنج سکتا کیونکہ دونوں کی بنیاد الگ الگ ہے۔ ایک مثال ذہن میں آتی ہے شائد کام کر جائے۔ آپ صلی اللہ و علیہِ و سلم سے صحابہ کرام کی والہانہ محبت تاریخِ اسلامی کے ہر ورق سے جھلکتی ہے مگر جنگِ اُحد کے موقع پر حضرت اویس قرنی کا آپ صلی اللہ و علیہِ و سلم کے ایک دانت کی شہادت کے بدلے اپنے تمام دانت توڑ دینا اظہارِ محبت سے زیادہ اظہارِ عشق ہے جِس میں شعور کی عمومی تعلیم کی نفی نظر آتی ہے۔ آپ کسی سے محبت اختیار کر سکتے ہیں اور پھر ترکِ محبت بھی آپ کے دائرہ اختیار میں آ سکتا ہے مگر عشق آپ کی قوتِ اختیار و اجتناب سے باہر کی چیز ہے۔ محبت قید ہے ،عشق آزادی مگر آپ کی پسند و ناپسند سے بےنیاز۔ وہ کیا خوب غزل کہی ہے کسی نے کہ: عشق گر ہوتا ہے تو بس ہوتا ہے یا ہوتا ہی نہیں :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  14. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    5,245
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    صاحب علم کی بحث چھوڑیں ۔۔۔ اکثر کسر نفسی سے کام لیتے ہیں ۔ میں تو آپ سے پوچھ رہی ہوں اور امید کرتی ہوں جواب ضرور دیں گے÷

    اس میں تو اور الجھاؤ ہے ۔۔۔
    اصحاب تو سراپا عشق تھے ۔
    قرانِ پاک میں بھی اور احادیثِ مبارکہ میں بھی ۔۔۔۔

    حضرت طلحہ رض نے جب احد میں خود کو آنحضرت ص کے سامنے کرکے ہاتھ آگے کردیا یہاں تک کہ ہاتھ شل ہوگیا۔ اور بیکار بھی ۔۔۔ کیا ذی شعور ایسا کر سکتے ؟؟؟ان کو دو دفعہ جنت کی بشارت ملی ۔۔۔ تب حضرت محمد ص نے کہا : او جب طلحہ ۔۔۔۔طلحہ پر جنت واجب ہوگئی ۔۔۔۔۔۔ اس کو میں کیا کہوں ؟ کیا یہ محبت ہے یا حضرت مصعب بن عمیر ۔۔۔ یا حضرت جعفر طیار۔۔ خود کو قربان کر دینا کیا ہوتا ہے ؟

    اکثر لوگ ایسا کہتے آئے کہ عشق کے درجے اس طرح ترقی کی جانب چلتے ہیں :
    1۔ ادب
    2۔ پسنددیدگی
    3۔ محبت
    4۔ عشق

    ہر درجے کی انتہا دوسرے درجے کی ابتدا ہے ۔۔ ایسا کیا غلط ہے ؟ اور ایک اور سوال

    حضرت اویس کا فرق قربت اور ظاہریت کا تھا ۔۔۔ اصحاب کو قرب حاصل تھا اور ان کے عشق کو بھی جبکہ قرن میں رہنے والے سے دنیا نا واقف تھی ۔ آپ بتائیں کیا کہتے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  15. لئیق احمد

    لئیق احمد معطل

    مراسلے:
    12,179
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
  16. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    5,245
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    نا واقف ہوں ۔۔۔۔ آپ یہ بتائیں محبت جھوٹی بھی ہوتی ہے ۔۔
     
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  17. لئیق احمد

    لئیق احمد معطل

    مراسلے:
    12,179
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    وہ محبت جس کا صرف دعوی کیا جائے یقیناً جھوٹی ہوتی ہے :)
     
    • زبردست زبردست × 1
    • متفق متفق × 1
  18. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    5,245
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    واہ ! خوب مزید روشنی ڈال دیں ۔۔۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  19. لئیق احمد

    لئیق احمد معطل

    مراسلے:
    12,179
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    کس پر؟ محبت پر یا جھوٹی محبت پر؟
     
    • زبردست زبردست × 1
  20. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    5,245
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    جس کا پردہ اٹھنا چاہیے اس کو اٹھائیں ۔۔۔۔۔ آپ کے فرائض میں شامل ہے جھوٹ کو فاش کرنا اور سچ بتانا
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر