الف عین
ڈاکٹر عظیم سہارنپوری
محمد خلیل الرحمٰن
محمّد احسن سمیع :راحل:
------------
مجھ کو وفا ملے گی میں نے یہ خواب دیکھا
لیکن کھلی حقیقت میں نے سراب دیکھا
---------
دل میں خلوص میں نے دیکھا نہیں کسی کے
چہرے پہ ہر کسی کے میں نے نقاب دیکھا
---------
اب حسن کی حقیقت غازے میں چھپ گئی ہے
بالوں میں ہر حسیں کے میں نے خضاب دیکھا
----------
آئے ہو مجھ سے ملنے جانا بہت ہے مشکل
میں نے ہے آج اتنا موسم خراب دیکھا
----------
دیدار ہو نہ پایا ان کا کبھی بھی ممکن
ان کو سدا ہی میں نے با حجاب دیکھا
---------
جو لوٹتے رہے ہیں میرے وطن کو ظالم
ہوتے ہوئے نہ ان کا یوں احتساب دیکھا
--------
جیسا ہے حسن تیرا دیکھا نہیں کسی میں
پہلی ہے بار میں نے ایسا شباب دیکھا
--------------
محسوس ہو رہی ہے ماتھے پہ روشنی سی
روشن ہو چاند جیسے یا آفتاب دیکھا
-----------
پھولوں میں حسن ایسا ہوتا ہے کم ہی ارشد
چہرہ ہے ان کا جیسے کھلتا گلاب دیکھا
---------
 

الف عین

لائبریرین
نہیں ارشد بھائی، ردیف اکثر اشعار میں فٹ نہیں ہو رہی
مجھ کو وفا ملے گی میں نے یہ خواب دیکھا
لیکن کھلی حقیقت میں نے سراب دیکھا
--------- عجز بیان، دوسرا مصرع کئی الفاظ پر کرنے سے با معنی بنتا ہے،
لیکن حقیقت یہ کھلی کہ میں نے سراب دیکھا تھا
پھر پہلے مصرع میں بھی خواب میں وفا دیکھنا سمجھ میں نہیں آتا

دل میں خلوص میں نے دیکھا نہیں کسی کے
چہرے پہ ہر کسی کے میں نے نقاب دیکھا
--------- نقاب سے تو صرف یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ جو بظاہر خلوص کا مظاہرہ کر رہے ہیں، وہ در حقیقت دھوکا ہے، پہلے مصرع سے واضح نہیں ہوتی یہ بات

اب حسن کی حقیقت غازے میں چھپ گئی ہے
بالوں میں ہر حسیں کے میں نے خضاب دیکھا
---------- سب کے بال سفید ہو گئے؟

آئے ہو مجھ سے ملنے جانا بہت ہے مشکل
میں نے ہے آج اتنا موسم خراب دیکھا
---------- ایک آدھ شعر اس قسم کا ضرور گھسا دیتے ہیں جو مزاحیہ لگتا ہے

دیدار ہو نہ پایا ان کا کبھی بھی ممکن
ان کو سدا ہی میں نے با حجاب دیکھا
--------- دوسرا مصرع بحر سے خارج

جو لوٹتے رہے ہیں میرے وطن کو ظالم
ہوتے ہوئے نہ ان کا یوں احتساب دیکھا
-------- یوں یعنی
کس طرح کا احتساب، یہ تو بتایا ہی نہیں،

جیسا ہے حسن تیرا دیکھا نہیں کسی میں
پہلی ہے بار میں نے ایسا شباب دیکھا
-------------- یہ بھی ٹھیک ہے

محسوس ہو رہی ہے ماتھے پہ روشنی سی
روشن ہو چاند جیسے یا آفتاب دیکھا
----------- ردیف فٹ نہیں

پھولوں میں حسن ایسا ہوتا ہے کم ہی ارشد
چہرہ ہے ان کا جیسے کھلتا گلاب دیکھا
--------- یہ بھی ردیف درست نہیں
 
Top