الف عین
ڈاکٹر عظیم سہارنپوری
محمد خلیل الرحمٰن
محمّد احسن سمیع :راحل:
----------
مفاعِلن مفاعِلن مفاعِلن مفاعِلن
------------
مجھے تو بس جو چاہئے خدا سے وہ امان ہے
مقابلہ جہان سے، مری نحیف جان ہے
-----------------یا
مجھے ۔تو اپنے۔ اُس خدا کی چاہیے امان ہے
ہے معرکہ جہاں سے اور ناتواں یہ جان ہے
-----------
مصیبتوں کو جھیل کر مرا جو حلق خشک تھا
خدا کے نام سے ہوئی یہ تر مری زبان ہے
--------
خدا بہت کریم ہے وہ بخش دے گا سب خطا
مرا خدا غفور ہے ، یہی مرا گمان ہے
--------------
نحیف ہو گیا ہوں میں کہ موت بھی قریب ہے
جو عمر کا ہے چل رہا ، یہ آکری زمان ہے
-------------
جسے میں دوست کہہ سکوں وہ آدمی نہ مل سکا
مرا تو اس جہان سے یہ دل ہی بد گمان ہے
----------
یہ زندگی کے راستے طویل بھی ہیں سخت بھی
سفر بہت عجیب سا ہے اور بے نشان ہے
-----------
بھلا کرے گا وہ مرا مجھے تو یہ یقین ہے
مرے خدا کے ہاتھ میں مری سبھی کمان ہے
----------
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
مجھے تو بس جو چاہئے خدا سے وہ امان ہے
مقابلہ جہان سے، مری نحیف جان ہے
-----------------یا
مجھے ۔تو اپنے۔ اُس خدا کی چاہیے امان ہے
ہے معرکہ جہاں سے اور ناتواں یہ جان ہے
----------- آپ خود ہی طے کر کے ایک متبادل پوست کءا کریں جو بہترین محسوس ہو، جیسا کہ میں کہتا آیا ہوں کہ ہر ممکن صورت میں روانی کا مشاہدہ کریں ۔ مری نحیف بہتر ہے یا نحیف میری
میں اس خیال کو یوں کہتا
مجھے تو اپنے رب کی صرف چاہیے امان ہے
مقابلہ جہاں سے ہے، نحیف میری جان ہے

مصیبتوں کو جھیل کر مرا جو حلق خشک تھا
خدا کے نام سے ہوئی یہ تر مری زبان ہے
-------- مصیبتوں سے حلق تو خشک نہیں ہوتا، ہاں، آہ و زاری کرنے سے ممکن ہے

خدا بہت کریم ہے وہ بخش دے گا سب خطا
مرا خدا غفور ہے ، یہی مرا گمان ہے
-------------- درست

نحیف ہو گیا ہوں میں کہ موت بھی قریب ہے
جو عمر کا ہے چل رہا ، یہ آکری زمان ہے
-------------شاید آخری زمان لکھنا تھا
زمان کے معنی لگام کے ہیں، زمانے کے نہیں

جسے میں دوست کہہ سکوں وہ آدمی نہ مل سکا
مرا تو اس جہان سے یہ دل ہی بد گمان ہے
---------- کوئی نہ ایسا مل سکا جسے میں دوست کہہ سکوں

یہ زندگی کے راستے طویل بھی ہیں سخت بھی
سفر بہت عجیب سا ہے اور بے نشان ہے
----------- کیا عجب ہے سفر میں؟ واضح کرین

بھلا کرے گا وہ مرا مجھے تو یہ یقین ہے
مرے خدا کے ہاتھ میں مری سبھی کمان ہے
---------- سبھی کے ساتھ جمع کا صیغہ آنا تھا یعنی کمانیں، جب صرف کمان ہو تو 'ہر اک' لانا تھا۔ شعر مگر دو لخت لگ رہا ہے۔ یہ یقین کیوں کہ بھلا کرے گا
 
الف عین
----------
( اصلاح )
-----------
بلند جب فغاں ہوئی تو حلق میرا خشک تھا
خدا کا نام لے لیا تو تر ہوئی زبان ہے
-------
نظر مجھے ہے آ رہا کہ موت بھی قریب ہے
کمر مری جھکی ہوئی بنی یہ اب کمان ہے
-----------
کوئی نہ ایسا مل سکاجسے میں دوست کہہ سکوں
مرا تو اس جہان سے یہ دل ہی بدگمان ہے
--------------
گریب ہوں، فقیر ہوں ، نبی کا میں غلام ہوں
اسی میں میری شان ہے ، اسی پہ مجھ کو مان ہے
-------
گزار دی ہے زندگی یہ جس طرح بھی ہو سکا
میں جا رہا ہوں غم زدہ ، یہی مرا بیان ہے
-------------
بھلا کرے گا وہ مرا یقین مجھ کو ہے یہی
اسی کے ہاتھ میں مری حیات کی کمان ہے
 

الف عین

لائبریرین
کچھ نیے اشعار بھی ہیں!
بلند جب فغاں ہوئی تو حلق میرا خشک تھا
خدا کا نام لے لیا تو تر ہوئی زبان ہے
------- درست، یہی پرانا تھا

نظر مجھے ہے آ رہا کہ موت بھی قریب ہے
کمر مری جھکی ہوئی بنی یہ اب کمان ہے
----------- اس کو نکال ہی دو

کوئی نہ ایسا مل سکاجسے میں دوست کہہ سکوں
مرا تو اس جہان سے یہ دل ہی بدگمان ہے
-------------- درست

گریب ہوں، فقیر ہوں ، نبی کا میں غلام ہوں
اسی میں میری شان ہے ، اسی پہ مجھ کو مان ہے
------- غریب؟ مگر یہ نصف مصرع بے ربط ہے، کچھ اور کہ نبی کے غلام سے پہلے

گزار دی ہے زندگی یہ جس طرح بھی ہو سکا
میں جا رہا ہوں غم زدہ ، یہی مرا بیان ہے
------------- اسے بھی نکال دو

بھلا کرے گا وہ مرا یقین مجھ کو ہے یہی
اسی کے ہاتھ میں مری حیات کی کمان ہے
.. درست
 
Top