ماں ..... منور رانا

الف عین نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 14, 2006

  1. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اس وقت بھی اکثر تجھے ہم ڈھونڈ نے نکلے
    جس دھوپ میں مزدور بھی چھت پر نہیں جاتے

    شرم آ تی ہے مز دوری بتا تے ہو ئے ہوئے ہم کو
    اتنے میں تو بچوں کا غبارہ نہیں ملتا

    ہم نے بازار میں دیکھے ہیں گھر یلو چہرے
    مفلسی تجھ سے بڑے لوگ بھی دب جاتے ہیں

    بھٹکتی ہے ہوس دن رات سونے کی دکانوں میں
    غریبی کان چھدواتی ہے تنکا ڈال دیتی ہے

    امیر شہر کا رشتے میں کوئی کچھ نہیں لگتا
    غریبی چاند کو بھی اپنا ما ما مان لتی ہے

    تو کیا مجبو ریاں بے جان چیز یں بھی سمجھتی ہیں
    گلے سے جب اتر تا ہے تو زیور کچھ نہیں کہتا

    کہیں بھی چھوڑ کے اپنی زمیں نہیں جاتے
    ہمیں بلاتی ہے دنیا ہمیں نہیں جاتے

    زمیں بنجر بھی ہو جائے تو چاہت کم نہیں ہوتی
    کہیں کوئی وطن سے بھی محبت چھوڑ سکتا ہے

    ضرورت روز ہجرت کے لئے آواز دیتی ہے
    محبت چھوڑ کر ہندوستاں جانے نہیں دیتی

    پیدا یہیں ہوا ہوں یہیں پر مرو ں گامیں
    وہ اور لوگ تھے کراچی چلے گئے

    میں مروں گا تو یہیں دفن کیا جاؤں گا
    میری مٹی بھی کراچی نہیں جانے والی

    وطن کی راہ میں دینی پڑے گی جان اگر
    خدا نے چا ہا تو ثابت قدم ہی نکلیں گے

    وطن سے دور بھی یا رب وہاں پہ دم نکلے
    جہاں سے ملک کی سر حد دکھائی دینے لگے

     
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    بزرگ


    خود سے چل کر نہیں یہ طرز سخن آیا ہے
    پاؤں دابے ہیں برزرگوں کے تو فن آیا ہے

    ہمیں بزرگوں کی شفقت کبھی نہ مل پائی
    نتیجہ یہ ہے کہ ہم لو فر وں میں رہنے لگے

    ہمیں گرتی ہو ئی دیوار کو تھامے رہے ورنہ
    سلیقے سے بزرگوں کی نشانی کون رکھتا ہے

    روش بزرگوں کی شامل ہے میری گھٹی میں
    ضرورتاً بھی سخی کی طرف نہیں دیکھا

    سڑک سے جب گزرتے ہیں تو بچے پیڑ گنتے ہیں
    بڑے بوڑھے بھی گنتے ہیں وہ سو کھے پیڑ گنتے ہیں

    حویلیوں کی چھتیں گر گئیں مگر اب تک
    مرے بزرگوں کا نشّہ نہیں اتر تا ہے

    بلک رہے ہیں زمینوں پہ بھوک سے بچے
    مرے برزرگوں کی دولت کھنڈ ر کے نیچے ہے

    مرے بزر گوں کو اسکی خبر نہیں شاید
    پنپ نہیں سکا جو پیڑ برگدوں میں رہا

    عشق میں رائے بزر گوں سے نہیں لی جاتی
    آگ بجھتے ہوئے چولہوں سے نہیں لی جاتی

    مرے بزرگوں کا سایہ تھا جب تلک مجھ پر
    میں اپنی عمر سے چھو ٹادکھائی دیتا تھا

    بڑے بوڑھے کوئیں میں نیکیاں کیوں پھینک آتے ہیں
    کنویں میں چھپ کے آخر کیوں یہ نیکی بیٹھ جاتی ہے

    مجھے اتنا ستا یا ہے مرے اپنے عزیز وں نے
    کہ اب جنگل بھلا لگتا ہے گھر اچھا نہیں لگتا
     
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    خود

    ہمارے کچھ گناہوں کی سزا بھی ساتھ چلتی ہے
    ہم اب تنہا نہیں چلتے دوا بھی ساتھ چلتی ہے

    کچے ثمر شجر سے الگ کر دیے گئے
    ہم کمسنی میں گھر سے الگ کر دیے گئے

    گوتم کی طرح گھر سے نکل کر نہیں جاتے
    ہم رات میں چھپ کر کہیں باہر نہیں جاتے

    ہمارے ساتھ چل کر دیکھ لیں یہ بھی چمن والے
    یہاں اب کوئلہ چنتے ہیں پھو لوں سے بدن والے

    اتنا رو ئے تھے لپٹ کر درودیوار سے ہم
    شہر میں آ کے بہت دن رہے بیمار سے ہم

    میں اپنے بچوں سے آنکھیں ملا نہیں سکتا
    میں خالی جیب لیے اپنے گھر نہ جاؤ ں گا

    ہم ایک تتلی کی خاطر بھٹکتے پھر تے تھے
    کبھی نہ آ ئیں گے وہ دن شرارتوں والے

    مجھے سنبھا لنے والا کہا ں سے آئے گا
    میں گر رہا ہوں پرانی عمارتوں کی طرح

    پیروں کو میرے دیدۂ تر باندھے ہوئے ہے
    زنجیر کی صورت مجھے گھر باندھے ہوئے ہے

    دل ایسا کہ سیدھے کیے جو تے بھی بڑوں کے
    ضد اتنی کہ خود تاج اٹھا کر نہیں پہنا

    چمک ایسے نہیں آ تی ہے خود داری کے چہرےپر
    انا کو ہم نے دو دو وقت کا فاقہ کر ا یا ہے

    ذرا سی بات پہ آنکھیں برسنے لگتی تھیں
    کہا ں چلے گئے موسم وہ چا ہتوں والے

    میں اس خیال سے جاتا نہیں ہوں گاؤ ں کبھی
    وہاں کے لوگوں نے دیکھا ہے بچپنا میرا

    ہم نہ دلّی تھے نہ مزدور کی بیٹی لیکن
    قافلے جو بھی ادھر آئے ہمیں لوٹ گئے

    اب مجھے اپنے حریفوں سے ذرا بھی ڈر نہیں
    میرے کپڑے بھائیوں کے جسم پر آ نے لگے

    تنہا مجھے کبھی نہ سمجھنا مرے حریف
    ایک بھا ئی مر چکا ہے مگر ایک گھر میں ہے

    میدان سے اب لوٹ کے جانا بھی ہے دشوار
    کس موڑ پہ دشمن سے قرابت نکل آئی
    مقدر میں لکھا کر لائے ہیں ہم دربدر پھر نا
    پرندے کوئی موسم ہو پریشانی میں رہتے ہیں

    میں پٹر یوں کی طرح زمیں پر پڑا رہا
    سینے سے غم گز رتے رہے ریل کے طرح

    میں ہوں مٹی تو مجھے کوز ہ گروں تک پہنچا
    میں کھلونا ہوں تو بچوں کے حوالے کر دے

    ہماری ز ندگی کا اس طرح ہر سال کٹتا ہے
    کبھی گاڑی پلٹتی ہے کبھی ترپال کٹتا ہے

    شاید ہمارے پاؤں میں تل ہے کہ آ ج تک
    گھر میں کبھی سکون سے دو دن نہیں رہے

     
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    میں وصیت کر سکا کوئی نہ وعدہ لے سکا
    میں نے سوچا بھی نہیں تھا حادثہ ہو جائےگا

    ہم بہت تھک ہا ر کے لوٹے تھے لیکن جانے کیوں
    رینگتی، بڑ ھتی ، سر کتی چیو نٹیا ں اچھی لگیں

    مدتوں بعد کوئی شخص ہے آ نے والا
    اے مرے آنسوؤ تم دیدۂ تر میں رہنا

    تکلفات نے زخموں کو کر دیا ناسور
    کبھی مجھے کبھی تا خیر چا رہ گر کو ہوئی

    اپنے بکنے کا بہت دکھ ہے ہمیں بھی لیکن
    مسکراتے ہو ئے ملتے ہیں خریدار سے ہم

    ہمیں دن تاریخ تو یاد نہیں بس اس سے اندازہ کر لو
    ہم اس موسم میں بچھڑے تھے جب گاؤں میں جھولا پڑتاہے

    میں اک فقیر کے ہونٹوں کی مسکراہٹ ہوں
    کسی سے بھی مری قیمت ادا نہیں ہوتی

    ہم تو اک اخبار سے کاٹی ہوئی تصویر ہیں
    جس کو کاغذ چننے والے کل اٹھالے جائیں گے

    انا نے میرے بچوں کی ہنسی بھی چھین لی مجھ سے
    یہاں جانے نہیں دیتی وہاں جانے نہیں دیتی

    جانے اب کتنا سفر باقی بچا ہے عمر کا
    زندگی ابلے ہوئے کھانے تلک تو آگئی

    ہمیں بچوں کا مستقبل لئے پھر تا ہےسڑکوں پر
    نہیں تو گر میوں میں کب کوئی گھر سے نکلتاہے

    سونے کے خریدار نہ ڈھونڈو کہ یہاں پر
    اک عمر ہوئی لوگوں نے پیتل نہیں دیکھا

    میں اپنے گاؤں کا مکھیا بھی ہو ں بچوں کا قاتل بھی
    جلا کر دودھ کچھ لوگوں کی خاطر گھی بنا تا ہوں
     
  5. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    بہن

    کس دن کوئی رشتہ مری بہنوں کو ملے گا
    کب نیند کا موسم مری آنکھوں کو ملے گا

    میری گڑیا سی بہن کو خود کشی کرنی پڑی
    کیا خبر تھی دوست میرا اس قدر گر جائے گا

    کسی بچے کی طرح پھوٹ کے روئی تھی بہت
    اجنبی ہاتھ میں وہ اپنی کلائی دیتے

    جب یہ سنا کہ ہار کے لوٹا ہوں جنگ سے
    راکھی زمیں پہ پھینک کے بہنیں چلی گئیں

    چاہتا ہوں کہ ترے ہاتھ بھی پیلے ہو جائیں
    کیا کروں میں کوئی رشتہ ہی نہیں آتا ہے

    ہر خوشی بیاج پہ لا یا ہوا دھن لگتی ہے
    اور اداسی مجھے منہ بولی بہن لگتی ہے

    دھوپ رشتوں کی نکل آ ئے گی یہ آس لیے
    گھر کی دہلیز پہ بیٹھی رہیں بہنیں میری

    اسلئے بیٹھی ہیں دہلیز پہ میری بہنیں
    پھل نہیں چاہتے تاعمر شجر میں رہنا

    نا امید ی نے بھر ے گھر میں اندھیرا کر دیا
    بھائی خالی ہاتھ لوٹے اور بہنیں بجھ گئیں

     
  6. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    بھائی

    میں اتنی بے بسی سے قیدِ دشمن میں نہیں مرتا
    اگر میر ابھی اک بھائی لڑکپن میں نہیں مرتا

    کانٹوں سے بچ گیا تھا مگر پھول چبھ گیا
    میرے بدن میں بھائی کا ترشول چبھ گیا

    اے خدا تھوڑی کرم فر مائی ہو نا چا ہیئے
    اتنی بہنیں ہیں تو پھر اک بھائی ہو نا چا ہیئے

    باپ کی دولت سے یوں دونوں نے حصہ لے لیا
    بھائی نے دستا ر لے لی میں نے جو تا لے لیا

    نہتا دیکھ کے مجھ کو لڑا ہے
    جو کام اس نے کیاہے وہ بھائی کرتا ہے

    یہی گھر تھا جہاں مل جل کے سب اک سا تھ رہتے تھے
    یہی گھر ہے الگ بھا ئی کی افطاری نکلتی ہے

    وہ اپنے گھر میں روشن سار ی شمعیں گنتا رہتا ہے
    اکیلا بھائی خاموشی سے بہنیں گنتا رہتا ہے

    میں اپنے بھائیوں کے ساتھ جب باہر نکلتا ہوں
    مجھے یوسف کے جانی دشمنوں کی یاد آ تی ہے

    مرے بھا ئی و ہا ں پانی سے روزہ کھو لتے ہوں گے
    ہٹا لو سامنے سے مجھ سے افطاری نہیں ہوگی

    جہاں پر گن کے روٹی بھائیوں کو بھا ئی دیتے ہیں
    سبھی چیز یں وہاں دیکھیں مگر برکت نہیں دیکھی

    رات دیکھا ہے بہار وں پہ خزاں کو ہنستے
    کوئی تحفہ مجھے شاید مرا بھائی دے گا

    تمھیں اے بھائیو یوں چھوڑ نا اچھا نہیں لیکن
    ہمیں اب شام سے پہلے ٹھکانا ڈھونڈ لینا ہے

     
  7. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    غم سے لچھمن کی طرح بھائی کا رشتہ ہے مرا
    مجھ کو جنگل میں اکیلا نہیں رہنے دیتا

    جو لو گ کم ہوں تو کاندھا ضرور دے دینا
    سر ہا نے آ کے مگر بھا ئی بھائی مت کرنا

    محبت کا یہ جذبہ جب خدا کی دین ہے بھائی
    تو میرے راستے سے کیوں یہ دنیا ہٹ نہیں جاتی

    یہ قر بِ قیامت ہے لہو کیسامنور
    پانی بھی تجھے تیرا برادر نہیں دیگا

    آپنے کھل کے محبت نہیں کی ہے ہم سے
    آپ بھائی نہیں کہتے ہیں میاں کہتے ہیں
     
  8. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    بچے

    فرشتے آکے انکے جسم پر خوشبو لگاتے ہیں
    وہ بچے ریل کے ڈبے میں جو جھاڑو لگاتے ہیں

    ہمکتے کھیلتے بچوں کی شیطانی نہیں جاتی
    مگر پھر بھی ہمارے گھر کی وہرانی نہیں جاتی

    اپنے مستقبل کی چادر پر رفو کر تے ہوئے
    مسجد وں میں دیکھیئے بچے وضو کرتے ہوئے

    مجھے اس شہر کی سب لڑکیا ں آداب کر تی ہیں
    میں بچوں کی کلائی کے لئے راکھی بنا تا ہوں

    گھر کا بوجھ اٹھا نے والے بچے کی تقدیر نہ پوچھ
    بچپن گھر سے باہر نکلا اور کھلو نا ٹو ٹ گیا

    جو اشک گو نگے تھے وہ عرض حال کر نے لگے
    ہمارے بچے ہمیں سے سوال کر نے لگے

    جب ایک واقعہ بچپن کا ہم کو یادآیا
    ہم ان پرندوں کو پھر گھونسلے میں چھوڑ آ ئے

    بھرے شہروں میں قر بانی کا موسم جب سے آیا ہے
    مرے بچے کبھی ہولی میں پچکاری نہیں لاتے

    مسجد کی چٹا ئی پہ یہ سوتے ہوئے بچے
    ان بچوں کو دیکھو کھبی ریشم نہیں دیکھا

    بھوک سے بے حال بچے تو نہیں روئے مگر
    گھر کا چولہا مفلسی کی چغلیاں کھانے لگا

    تلوار تو کیا میری نظر تک نہیں اٹھی
    اس شخص کے بچوں کی طرف دیکھ لیا تھا

    ریت پر کھیلتے بچوں کو ابھی کیا معلوم
    کوئی سیلاب گھر وندا نہیں رہنے دیتا

    دھواں بادل نہیں ہوتا کہ بچپن دوڑ پڑتا ہے
    خوشی سے کون بچہ کار خانے تک پہنچتا ہے

    میں چاہوں تو مٹھائی کی دکانیں کھول سکتا ہوں
    مگر بچپن ہمیشہ رام دانے تک پہنچتا ہے

    ہو ا کے رخ پہ رہنے دو یہ جلنا سیکھ جائے گا
    کہ بچہ لڑکھڑا ئے گا تو چلنا سیکھ جائے گا

    اک سلگتے شہر میں بچہ ملا ہنستا ہوا
    سہمے سھمے سے چراغوں کے اجالے کی طرح

    میں نے اک مدت سے مسجد بھی نہیں دیکھی مگر
    ایک بچے کا اذاں دینا بہت اچھا لگا

    انہیں اپنی ضرورت کے ٹھکانے یاد رہتے ہیں
    کہاں پر ہے کھلو نو ں کی دکاں بچے سمھتے ہیں

    زمانہ ہو گیا دنگے میں اس گھر کو جلے لیکن
    کسی بچے کے رونے کی صدائیں روز آتی ہیں

     
  9. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    وہ

    کسی بھی موڑ پر تم سے وفاداری نہیں ہوگی
    ہمیں معلوم ہے تم کو یہ بیماری نہیں ہوگی

    نیم کا پیڑ تھا برسات تھی اور جھولا تھا
    گاؤں میں گزرا زمانہ بھی غزل جیسا تھا

    ہم کچھ ایسے ترے دیدار میں کھو جاتے ہیں
    جیسے بچے بھرے بازار میں کھو جاتے ہیں

    تجھے اکیلے پڑھوں کوئی ہم سبق نہ رہے
    میں چاہتا ہوں کہ تجھ پر کسی کا حق نہ رہے

    وہ اپنے کاندھوں پہ کنبہ کا بو جھ رکھتا ہے
    اسی لئے تو قدم سو چ کر اٹھا تا ہے

    آنکھیں تو اسے گھر سے نکلنے نہیں دیتیں
    آنسو ہیں کہ سامان سفر باندھے ہو ئے ہیں

    سفید ی آگئی بالوں میں اس کے
    وہ باعزت گھر انا چاہتا تھا

    نہ جانے کون سی مجبور یاں پردیس لائی تھیں
    وہ جتنی دیر تک زندہ رہا گھر یاد کرتا تھا

    تلاش کرتے ہیں ان کو ضرورتوں والے
    کہاں گئے وہ پرانی شرافتوں والے

    وہ خوش ہے کہ بازار میں گالی مجھے دے دی
    میں خوش ہوں کہ احسان کی قیمت نکل آئی

    اسے جلی ہوئی لاشیں نظر نہیں آتیں
    مگر وہ سوئی سے دھاگا گزار دیتا ہے

    وہ پہروں بیٹھ کر طوطے سے باتیں کرتا رہتا ہے
    چلو اچھا ہے اب نظریں بدلنا سیکھ جائے گا

    اسے حالات نے روکا مجھے میرے مسائل نے
    وفا کی راہ میں دشوار یاں دونوں طرف سے ہیں

    تجھ سے بچھڑا تو پسند آ گئی بے تر تیبی
    اس سے پہلے مرا کمرا بھی غزل جیسا تھا

    کہا ں کی ہجرتیں کیسا سفر کیسا جدا ہونا
    کسی کی چا ہ پیروں پر دوپٹہ ڈال دیتی ہے

    غزل وہ صنف نازک ہے جسے اپنی رفاقت سے
    وہ محبوبہ بنا لیتا ہے میں بیٹی بنا تا ہوں

    وہ ایک گڑیا جو میلے میں کل دکان پہ تھی
    دنوں کی بات ہے پہلے مرے مکان پہ تھی

    لڑکپن میں کیے وعدے کی قیمت کچھ نہیں ہوتی
    انگوٹھی ہاتھ میں رہتی ہے منگنی ٹو ٹ جاتی ہے

    وہ جسکے واسطے پر دیس جا رہا ہوں میں
    بچھڑتے وقت اسی کی طرف نہیں دیکھا

     
  10. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    متفر قات

    ہم سایہ دار پیڑ زمانے کے کام آئے
    جب سوکھنے لگے تو جلانے کے کام آئے

    کوئل بولے یا گوریا اچھا لگتاہے
    اپنے گاؤں میں سب کچھ بھیّا اچھا لگتا ہے

    خاندانی وراثت کے نیلام پر آپ اپنے کو تیا ر کرتے ہوئے
    اس حویلی کے سارے مکیں رو دیئے اس حویلی کو باز ار کرتےہوئے

    اڑ نے سے پرندے کو شجر روک رہا ہے
    گھر والے تو خاموش ہیں گھر روک رہا ہے

    وہ چا ہتی ہے کہ آ نگن میں موت ہو میری
    کہا ں کی مٹی ہے مجھ کو کہاں بلاتی ہے

    نمائش پر بدن کی یوں کو ئی تیار کیوں ہوتا
    اگر سب گھر کے ہو جاتے تو یہ بازار کیوں ہوتا

    کچا سمجھ کے بیچ نہ دینا مکان کو
    شاید کبھی یہ سر کو چھپا نے کے کام آئے

    اندھیری رات میں اکثر سنہری مشعلیں لیکر
    پرندوں کی مصیبت کا پتہ جگنو لگاتے ہیں

    تو نے ساری باز یا ں جیتی ہیں مجھ پر بیٹھ کر
    اب میں بوڑھا ہو رہا ہوں اصطبل بھی چا ئیے

    مہا جرو یہی تاریخ ہے مکانوں کی
    بنانے والا ہمیشہ برآمد وں میں رہا

    تمہاری آنکھوں کی توہین ہے ذرا سوچو
    تمہارا چاہنے والا شراب پیتا ہے

    کسی دکھ کا کسی چہرے سے اندازہ نہیں ہوتا
    شجر تو دیکھنے میں سب ہرے معلوم ہوتے ہیں

    ضرورت سے انا کا بھا ری پتھر ٹوٹ جاتا ہے
    مگر پھر آدمی بھی اندر اندر ٹوٹ جاتا ہے

    محبت ایک ایسا کھیل ہے جس میں مرے بھائی
    ہمیشہ جیتنے والے پریشانی میں رہتے ہیں

    پھر کبوتر کی وفاداری پہ شک مت کرنا
    وہ تو گھر کو اسی مینار سے پہچا نتا ہے

    انا کی مو ہنی صورت بگاڑ دیتی ہے
    بڑے بڑوں کو ضرورت بگاڑ دیتی ہے

    بنا کر گھونسلہ رہتا تھا اک جوڑا کبوتر کا
    اگر آندھی نہیں آتی تو یہ مینار بچ جاتا

    ان گھروں میں جہاں مٹی کے گھڑے رہتے ہیں
    قد میں چھو ٹے ہوں مگر لوگ بڑے رہتے ہیں

    پیاس کی شدت سے منہہ کھولے پرندہ گر پڑا
    سیڑھیوں پر ہانپتے اخبار والے کی طرح

    وہ چڑیا ں تھیں دعا ئیں پڑھ کے جو مجھ کو جگاتی تھیں
    میں اکثر سوچتا تھا یہ تلاوت کو ن کرتا ہے

    پرندے چونچ میں تنکے دبا ئے جاتے ہیں
    میں سوچتا ہوں کہ اب گھر بسا لیا جائے

    اے میرے بھائی مرے خون کا بدلہ لے لے
    ہاتھ میں روز یہ تلوار نہیں آئے گی

    نئے کمروں میں اب چیزیں پرانی کون رکھتا ہے
    پرندوں کے لیئے شہروں میں پانی کون رکھتا ہے

    جسکو بچوں میں پینچنے کی بہت عجلت ہو
    اس سے کہیے نہ کبھی کار چلانے کے لئے

    سو جاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھاکر
    مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے

    پیٹ کی خاطر فٹ پاتھوں پر بیچ رہا ہوں تصویر یں
    میں کیا جانوں روزہ ہے یا میرا روزہ ٹوٹ گیا

    جب اس سے گفتگو کر لی تو پھر شجر نہیں پوچھا
    ہنر بخیہ گری کا ایک تر پائی میں کھلتا ہے
     
  11. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    غربت

    گھر کی دیوار پہ کوے نہیں اچھے لگتے
    مفلسی میں یہ تماشے نہیں اچھے لگتے

    مفلسی نے سارے آنگن میں اندھیرا کر دیا
    بھائی خالی ہاتھ لو ٹے اور بہنیں بجھ گئیں

    امیری ریشم و کمخواب میں ننگی نظر آئی
    غریبی شان سے اک ٹاٹ کے پردے میں رہتی ہے

    اسی گلی میں وہ بھوکا کسان رہتا ہے
    یہ وہ زمیں ہے جہاں آسمان رہتا ہے

    دہلیز پہ سر کھو لے کھڑی ہوگی ضرورت
    اب ایسے میں گھر جانا مناسب نہیں ہوگا

    عید کے خوف نے روزوں کا مزہ چھین لیا
    مفلسی میں یہ مہینہ بھی بر ا لگتا ہے

    اپنے گھر میں سر جھکا ئے اسلئے آیا ہوں میں
    اتنی مزدوری تو بچے کی دوا کھا جائے گی

    اللہ غریبوں کا مددگار ہے راناؔ
    ہم لوگوں کے بچے کبھی سردی نہیں کھاتے

    بوجھ اٹھانا شوق کہاں ہے مجبوری کا سودا ہے
    رہتے رہتے اسٹیشن پر لوگ قلی ہو جاتے ہیں

     
  12. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    بیٹی

    گھروں میں یوں سیانی لڑکیاں بے چین رہتی ہیں
    کہ جیسے ساحلوں پر کشتیاں بے چین رہتی ہیں

    یہ چڑ یا بھی مری بیٹی سے کتنی ملتی جلتی ہے
    کہیں بھی شاخ گل دیکھے تو جھولا ڈال دیتی ہے

    رو رہے تھے سب تو میں بھی پھوٹ کر رونے لگا
    ورنہ مجھ کو بیٹیوں کی رخصتی اچھی لگی

    بڑی ہونے لگی ہیں مورتیں آنگن میں مٹی کی
    بہت سے کام باقی ہیں سنبھا لا لے لیا جائے

    تو پھر جا کر کہیں ماں باپ کو کچھ چین پڑتا ہے
    کہ جب سسرال سے گھر آ کے بیٹی مسکرا تی ہے

    ایسا لگتا ہے کہ جیسے ختم میلہ ہو گیا
    اڑ گئیں آنگن سے چڑیاں گھر اکیلا ہو گیا

     

اس صفحے کی تشہیر