ماں ..... منور رانا

الف عین

لائبریرین



اس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہے
ماں بہت غصّے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہے
 

الف عین

لائبریرین
اپنی بات
غزل ہمیشہ تنقید کے نشانے پہ رہی ہے ۔ زیادہ تر ناقدین ادب نے اس کی بے پناہ مقبولیت کے با وجود اسے منہہ نہیں لگا یا ۔ ہمیشہ اس کی کم مائگی اور سہل پسندی کا رونا روتے رہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ غزل مدتوں کچھ بندھے ٹِکے موضوعات کی امر بیل میں جکڑی رہی۔ حالانکہ اس کی سب سے بڑی وجہہ یہ تھی کہ اس عہد کے مطابق غزل درباری آداب کے پیش نظر لکھی جاتی تھی ۔ اس لیے شاعر ہمیشہ میخانے سے نکلتا ہوا؛ اور کوٹھوں سے اتر تا دکھائی دیتا تھا ۔ اس حقیقت سےبھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس وقت کے نوابین حضرات اور راجے مہا راجے شاعروں کی پرورش ہی نہیں ناز برداری بھی کرتے رہتے تھے ۔ تاریخ سے آنکھ مچولی کرتی ہوئی غزل جیسے ہی گلی کے موڑ ، شہر کے چوراہوں ، قصبات کے چبوتروں، گاؤں کی پگڈنڈیوں اور کھیت کھلیانوں میں بھی موضوعات کی تلاش میں بھٹکنے لگی تو اس نے نئے نئے منظر نامے تلاش کرلیے ۔ خاص طور سے آزادی کے بعد تقسیم کی تلوار سے کٹے پھٹے رشتو ں کی بنتی بگڑتی تصویروں ، بھرے گھر میں تنہا ہونے کے احساس، بے سمتی کی طرف جاتی ہوئی تیز رفتار زندگی اور گھر آنگن میں ابھرے ہوئے لا تعلقی کے صحراؤں نے غزل کے لیے نئے نئے موضوعات کے ڈھیر لگادیے۔
ہر خاص و عام لغت کے مطابق غزل کا مطلب محبوب سے باتیں کرنا ہے۔ اگر اسے سچ مان لیا جائے تو محبوب ’ماں‘ کیوں نہیں ہوسکتی !کیا دنیا کے سب سے مضبوط، سدا بہار اور پاکیزہ رشتے کو غزل بنانا گناہ ہے، کیا تقدس کے ’’پھول بستر‘‘ پر غزل کو سلانا جرم ہے ۔ میری شاعری پر اکثر زیادہ پڑھے لکھے لوگ جذباتی استحسال کی الزام لگاتے رہے ہیں۔ اگر اسے درست مان لیا جائے تو پھر محبوب کے حسن و شباب، اس کے تن و توش، اس کے لب و رخسار ، اس کے رخ و گیسو، اس ک سینے اور کمر کی پیمائش کو عیاشی کیوں نہیں کہا جاتا ہے !
اگر میرے شعر Emotional Blackmailing ہیں تو پھر ؎
’’جنت ماں کے پیروں کے نیچے ہے۔ ‘‘
’’ موسیٰ اب تو تیری وہ ماں بھی نہیں رہی جس کی دعائیں تھے بچالیا کرتی تھیں۔‘‘
’’ اگر مرد کو دوسرے سجدے کی اجازت ہوتی تو ماں کے قدموں پر ہوتی ۔‘‘
’’ میدان حشر میں تمہیں تمہاری ماں کی نسبت سے پکارا جائے گا ۔‘‘ جیسے جملے کیا بے معنی ہیں ؟
میں پوری ایمانداری سے اس بات کا تحریری اقرار کرتا وہں کہ میں دنیا کے سب مقدس اور عظیم رشتے کا پر چار صرف اس لیے کرتا ہوں کہ اگر میرے شعر پڑھ کر کوئی بھی بیٹا اپنی ماں کا خیال کرنے لگے، رشتوں کی نزاکت کا احترام کرنے لگے تو شاید اس کے اجر میں میرے کچھ گناہوں کا بوجھ ہلکا ہوجائے۔
یہ کتاب بھی آپ کی خدمت تک صرف اس لیے پہنچا نا چاہتا ہوں کہ آپ میری اس چھوٹی سی کوشش کے گواہ بن سکیں اور مجھے بھی اپنی دعاؤں میں شامل کرتے رہیں۔
ذرا سی بات ہے لیکن ہوا کو کون سمجھا ئے
دیئے سے میری ماں میرے لئے کاجل بناتی ہے

طالب دعا
منورؔ رانا
 

الف عین

لائبریرین
تمام عمر یہ جھولا نہیں اترتا ہے

میری ماں بتاتی ہے کہ بچپن میں مجھے سوکھے کی بیماری تھی، ماں کو یہ بتانے کی ضرورت کیا ہے ، مجھے تو معلوم ہی ہے کہ مجھے کچھ نہ کچھ بیماری ضرو ہے کیونکہ آج تک میں بیمار سا ہوں ! دراصل میرا جسم بیماری سے رشتے داری نبھانے میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے ۔ شاید اسی سوکھے کا اثر ہے کہ آج تک میری زندگی کا ہر کنواں خشک ہے ، آرزو کا، دوستی کا، محبت کا، وفاداری کا ! ماں کہتی ہے بچپن میں مجھے ہنسی بہت آتی تھی، ہنستا تو میں آج بھی ہوں لیکن صرف اپنی بے بسی پر، اپنی ناکامی پر، اپنی مجبوریوں پر اور اپنی تنہائی پر لیکن شاید یہ ہنسی نہیں ہے، میرے آنسوؤں کی بگڑی ہوئی تصویر ہے، میرے احساس کی بھٹکتی ہوئی آتما ہے۔ میری ہنسی ’’ انشاء‘‘کی کھوکھلی ہنسی ، ’’میرؔ‘‘ کی خاموش اداسی اور غالبؔ کے ضدی پھکڑ پن سے بہت ملتی جلتی ہے۔
میری ہنسی تو میرے غموں کا لباس ہے ۔ لیکن زمانہ اتنا کہاں غم شناس ہے ۔
پیوند کی طرح چمکتی ہوئی روشنی ، روشنی میں نظر آتے ہوئے بجھے بجھے چہرے ، چہروں پر لکھی داستانیں ، داستانوں میں چھپا ہوا ماضی، ماضی میں جھپا ہوا بچپن ، جگنوؤں کو چنتا ہوا بچپن ، تتلیوں کو پکڑتا ہوا بچپن ، پیڑ کی شاخوں سے جھولتا ہوا بچپن ، کھلونوں کی دکانوں کو تکتا ہوا بچپن ، باپ کی گود میں ہنستا ہوا بچپن ، ماں کی آغوش میں مسکراتا ہوا بچپن ، مسجدوں میں نمازیں پڑھتا ہو بچپن ، مدرسوں میں سِپارے رٹتا ہوا بچپن ، جھیل میں تیرتا ہوا بچپن ، دھول مٹی سے سنورتا ہوا بچپن ، ننھے ننھے ہاتھوں سے دعائیں مانگتا بچپن، غلیل سے نشانے لگاتا ہوا بچپن ، پتنگ کی ڈور میں الجھا ہوا بچپن ، نیند میں چونکتا ہوا بچپن، خدا جانے کن بھول بھلیوں میں کھو کر رہ گیا ہے، کون سنگ دل ان سنہرے دنوں کو مجھ سے چھین لے گیا ہے۔ ندی بھی ناگنوں کی طرح بل کھا کر گزرتی ہے لیکن میرے یہ ہاتھ جو محل تعمیر کر سکتےہیں ، اب گھروندے کیوں نہیں بنا پاتے ، کیا پراٹھے روٹیوں کی لذت چھین لیتے ہیں ، کیا پستی کو بلندی اپنے پاس نہیں بیٹھنے دیتی ، کیا امیری غریبی کا ذائقہ نہیں پہچانتی، کیا جوانی بچپن کو قتل کر دیتی ہے ؟
مئی اور جون کی تیز دھوپ میں ماں چیختی رہتی تھی اور بچپن پیڑ کی شاخون پر جھولا کرتا تھا، کیا دھوپ چاندنی سے زیادہ حسین ہوتی ہے، ماجس کی خالی ڈبیوں سے بنی ریل گاڑی کی پٹریاں چرا کر کون لے گیا ، کاش کوئی مجھ سے کاروں کا یہ قافلہ لے لے اور اس کے بدلے میں میری وہی چُھک چُھک کرتی ہوئی ریل گاڑی مجھے دے دے ، کیونکہ لوہے اور اسٹیل کی بنی ہوئی گاڑیاں وہاں نہیں رکتیں جہاں بھولی بھالی خواہشیں مسافروں کی طرح انتظار کرتی ہیں، جہاں معصوم تمنائیں ننھے ننھے ہونٹوں سے بجنے والی سیٹیوں پر کان لگائے رہتی ہیں۔
کوئی مجھے میرے گھر کے سامنے والا کنواں لادے جو میری ماں کی طرح خاموش اور پاک رہتا تھا ، میری خالہ جب مجھے اپنے گاؤں لے کر چلی جاتیں تو ماں خوفزدہ ہوجاتی تھی کیونکہ میں سوتے میں چلنے کا عادی تھا ۔ ماں ڈرتی تھی کہ میں کہیں آنگن کے کنویں میں نہ گر پڑوں ، ماں رات بھر رو رو کر کنویں سے کہتی رہتی کہ اے پانی ! میرے بیٹے کوڈوبنے مت دینا ۔ ماں سمجھتی تھی کہ شاید پانی سے پانی کا رشتہ ہوتا ہے، میرے گھر کا کنواں بہت حساس تھا، جتنی دیر کنویں سے باتیں کرتی تھی کنواں اپنے ابلتے ہوئے پانی کو پُر سکوت رہنے کا حکم دیتا تھا، شاید وہ میری ماں کی بھولی بھالی خواہشوں کی آہٹ کو احترام سے سننا چاہتا تھا ، پتہ نہیں یہ پاکیزگی اور خاموشی ماں سے کنویں نے سیکھی تھی یا کنویں سے ماں نے ؟
گرمیوں کی دھوپ میں جب ٹوٹے ہوئے ایک چھپر کے نیچے ماں لُو اور دھوپ سے ٹاٹ کے پردوں کے ذریعے مجھے بچانے کی کوشش کرتی تو مجھے اپنے آنگن میں دانا چگتے ہوئے چوزے بہت اچھے لگتے جنہیں ان کی ماں ہر خطرے سے بچانے کے لیے اپنے نازک پروں میں چھپالیتی تھی۔ ماں کی محبت کے آنچل نے مجھے تو ہمیشہ محفوظ رکھا لیکن غریبی کے تیز جھکڑوں نے ماں کے خوبصورت چہرے کو جھلسا جھلسا کر سانولا کر دیا ۔ گھر کے کچے آنکن سے اڑنے والی پریشانی کی دھول نے میری ماں کا رنگ مٹ میلا کر دیا ۔ دادی بھی مجھے بہت چاہتی تھیں وہ ہر وقت مجھے ہی تکا کرتیں، شاید وہ میرے بھولے بھالے چہرے میں اپنے اس بیٹے کو تلاش کرتی رہتی تھیں جو ٹرک ڈرائیور کی سیٹ پر بیٹھا ہوا شیر شاہ سوری کے بنائے ہوئے راستوں پر ہمیشہ گرم سفر رہتا تھا۔
شیر شاہ سوری کی بنوائی ہوئی وہ تاریک سڑک گناہ گار دلوں کی طرح رہ رہ کر ٹرک اور کاروں کی ہیڈ لائٹوں سے یوں چمکنے لگتی ہے جیسے اس بے ایمان زمانے میں کہیں کہیں ایمان داری کی کرن دکھائی پڑ جاتی ہے۔ شیر شاہ سوری کی وہ طویل سڑک جس کے سینے پر روزانہ ہزاروں گاڑیاں گزرتی رہتی ہیں لیکن یہ بے جان سڑک بہار کے کسی ہریجن قبیلے کی طرح دکھوں کا بوجھ اٹھائے چپ چاپ مسکراتی رہتی ہے۔ نہ جانے کتنے ہی ڈرائیور اپنے پھول سے بچوں کا مسقبل سنوارنے کے لیے تیوہاروں کو بھلاتے ہوئے ، موسموں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے، زندگی کو داؤں پر لگاتے ہوئے اس پرانی سڑک سے گزرتے رہتے ہیں۔ تھکی تھکی اور پر اسرار سی یہ سڑک آئے دن انسانوں کا خون پی کر اپنی پیاس بجھاتی رہتی ہے۔ سرخ انسانی خون جو تارکول کی کالی سڑک پر ذرا سی دیر میں خشک ہو کر سیاہ ہوجاتا ہے ۔ خون کے اس دھبے کو بھی ذرا سی دیر میں وہاں سے گزرنے والی گاڑیوں کے نرم اور کالے ٹائر چاٹ جاتے ہیں۔ وہ دھبے جن میں کسی سہاگ کی سرخی ، کسی ماں کا انتظار اور کسی بہن کے میلے سے دوپٹے کے آنسو بھی شامل ہوتے ہیں۔
خبر نہیں مجھے یہ زندگی کہاں لے جائے ۔ کہیں ٹھہر کے مرا انتظار مت کرنا
ایک سیاسی لکیر نے سب کچھ تقسیم کردیا، ملک کو ، قوم کو، رشتوں کو ، مجرموں کو، ندیوں نالوں کو، ایک گھونسلے کے کئی حصے ہوگئے ، ایک گھر کے کئی ٹکڑے ہوگئے، کسٹوڈین کی چکّی مٰن اجداد کی عمارتیں پس گئیں ، خاندانوں کی مٹھیوں سے زمینداری کی بالو سرک گئی ، جاگیرداری کے چہرے سے وقار اور اعتماد کا رنگ و روغن اڑ گیا، خاندانی زیورات (جنہیں غیر مردوں نے دیکھا تک نہیں تھا ) ساہوکاروں کی تجوریوں میں قید ہوگئے ، پاکستان بن گیا، علامہ اقبالؔ کی پیشن گوئی ، جناحؔ کا خواب تعبیر کی جستجو میں بھٹکتا ہوا پنجاب کے اس پار پہنچ گیا، رفتہ رفتہ ہر گھر میں پاکستان تعمیر ہونے لگا۔ میرے سبھی رشتہ دار اپنا مستقبل سنوارنے کے لیے پاکستان روانہ ہوگئے ۔ پنجاب میل جو ہر زمانے میں جدائی کی کہانے میں ایک نیا رول ادا کرتا ہے میرے گھر کے مردوں اور سفید کالے برقعوں میں سہمی سمٹی ہوئی عورتوں کو لے کر اس مہاجر خانے کی طرف روانہ ہوگیا جسےلوگ پاکستان کہتے ہیں ۔ میں چپ چاپ اپنی دادی سے چمٹا رہا ۔ میرے چچا نے دادی سے پاکستان چلنے کو کہا اور وہ بھی مہاجرین کے خیمے کی طرف جانے کو تیار ہوگئیں ۔ میں دروازے کی چوکھٹ پر بیٹھا ہوا یہ سوچتا ہی رہ گیا کہ میری دادی مجھے چھوڑ کر نہیں جائے گی اور شاید پہلی بار یہ محاورہ غلط ہوگیا کہ اصل سے زیادہ سود پیارا ہوتا ہے۔
ریل گاڑی کے کوئلے والے انجن سے نکلتے ہوئے دھویں نے میرے والد کی بھیگی ہوئی آنکھوں کو میلا کردیا ۔ اب وہ اس ملک میں اکیلے رہ گئے تھے ۔ بالکل اس پرندے کی طرح جس کے سب ساتھی جال میں پھنس گئے ہوں ۔ پھر جیسے ہی ریل گاڑی کیسیٹینے سسکیاں لین، کارواں اپنی انجانی سی منزل کی طرف روانہ ہوگای، پلیٹ فارم کے کنارے کھڑے ہوئے میرے والد لڑکھڑائے ، میں نے لپک کر سہارا دینا چاہا ، انہوں نے اپنا جسم میرے حوالے کر دیا اور میں اسی دن جوان ہو گیا۔ ضرورت کی ریل گاڑی میں بیٹھ کر میرا بچپن جوانی کے شہر میں آگیا ، کوئلے سے دیواروں پر نام لکھنے کا موسم چلا گیا ۔ تختی پر کھریا مٹی سے سبق لکھنے کے دن چلے گئے ، روٹی کی ڈلیا کے سہارے چڑیاں پکڑنے کا کھیل ختم ہوگیا ۔ اب ماں سر میں سفید نہیں کالے بال ڈھونڈتی ہے۔ یہ تلاش و جستجو کا طویل سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا، کبھی کوکھ اولاد کو تلاش کرتی ہے، کبھی اولاد ماں کی مقدس آغوش کو۔
میرا بچپن تھا مرا گھر تھا کھلونے تھے مرے ۔ سر پہ ماں باپ کا سایہ بھی غزل جیسا تھا
.......................................................................
 

الف عین

لائبریرین
عمر بھر دھوپ میں پیڑ جلتا رہا

زخم کیسا بھی ہو کُریدئیے تو اچھا لگتا ہے ۔ ماضی کیسا بھی رہا ہو سوچئے تو مزہ آتا ہے ۔ بچپن جیسا بھی گزرا ہو راج سنگھاسن سے اچھا ہوتا ہے۔ مجھےنہیں معلوم زمینداری کیسی ہوتی ہے کیونکہ میں نے بارہا ماں کو بھوکے پیٹ سوتے دیکھا ہے ۔ مجھے کیا پتہ زمیندار کیسے ہوتے ہیں، کیونکہ میں نے مدتوں اپنے ابو کے ہاتھوں میں ٹرک کا اسٹئیرنگ دیکھا ہے ۔ میں نے بہت سے خواب دیکھے ہیں ۔ ممکن ہے میرے ابو نے بھی خواب دیکھے ہوں کیونکہ ایک تھکا ماندا ٹرک ڈرائیور بہت بے خبری کی نیند سوتا ہے ۔ لیکن جب مجھے معلوم ہے میری ماں نے کبھی خواب نہیں دیکھا تھا کیونکہ خواب تو وہ آنکھیں ہمیشہ گھر کی دہلیز پر اور جسم جانماز پر رکھا دیکھا ہے اور جوانی اس ٹرک ڈرائیور کے انتظار میں قطرہ قطرہ پگھلتے دیکھی ہے جو میرے ابو بھی تھے اور امی کے سر کا انچل بھی۔
رائے بریلی سے میرا نانہال صرف بیس میل کے فاصلے پر تھا لیکن غربت فاصلے بڑھا دیتی ہے، لفافے اور پوسٹ کارڈ کو چھوٹا کردیتی ہے۔ غربت میں رشتے داربھی دور کا چراغ معلوم ہوتے ہیں ۔ غربت میں وہ نشہ ہے جس میں خدا بھی رشتہ دار معلوم ہوتا ہے۔ ممکن ہے خدا آسمان پر بہت بڑے گھر میں رہتا ہو لیکن زمین پر وہ صرف غریب آدمی کے دل میں رہتا ہے۔ غربت میں کروندے اور بیر کے کانٹے انگلیوں سے خون نکال کر اسکی جانچ لر لیتے ہیں ۔ خون کی بوندوں کے جانچنے اور پرکھنے کے لیے کسی لیبوریٹری میں بھیجنے کی ضرورت نہیں پڑتی، غربت کے وہ دن بھی کیا ہوتے ہیں جب شو کیس میں رکھی ہوئی گڑیا کو دیکھنے کے لیے غریبی احتیا طاً ہاتھ منہہ دھو لیتی ہے۔
ایک دن میرے ابو گھر آ ئے۔ میری امی نانی کے گھر گئی ہوئی تھیں۔ میرے دو چھوٹے بھائی بھی امی کے ساتھ چلے گئے تھے (ایک چھوٹا بھائی یحیٰ رانا تقریباً بارہ برس پہلے عین نوجوانی کے عالم میں جبپ کے حادثے میں مالک حقیقی سے جا ملا)۔ میں گھر پر اپنی دادی کے پاس تھا۔ کیونکہ دادی مجھے بہت چاہتی تھیں ۔ پتہ نہیں لڑکوں سے دادی کو اور لڑکیوں سے نانی کو اتنی محبت کیوں ہوتی ہے۔ شاید نانی دختر زادی میں اپنی بیٹی تلاش کرلیتی ہے اور دادی پوتے میں اپنا بیٹا ڈھونڈ لیتی ہے۔ ابو مجھے ٹرک پر بٹھا کر نانہال کی طرف چل دیے ۔ جہاں تک ٹرک جاسکتا تھا ابو ٹرک چلا کر لے گئے پھر ایک جگہ ٹرک روک دیا اور مجھے ساتھ لے کر پیدل ہی گاؤں کی طرف چل دیے ۔ غالباً دو ڈھائی میل کا فاصلہ رہا ہوگا۔ پگڈنڈیوں پر چلنے کی عادت نہ ہونے سے مجھے یوں بھی تکلیف ہو رہی تھی۔ پھر سفر بھی لمبا تھا، چلتے چلتے میں ابو سے بہت پیچھے ہو جاتا ۔ وہ مڑ کر دیکھتے تو میں پھر دوڑ کر ان کے پاس پہنچ جاتا۔ بچپن میں باپ بھی خضر علیہ السلام معلوم ہوتا ہے۔ قدرت یہ احساس صرف بچپن کو ہی عطا کرتی ہے۔ اچانک ابو ایک جگہ اکڑوں بیٹھ گئے اور بولے تم میرے کندھے پر بیٹھ جاؤ، میں نے کہا نہیں ابو جان ! آپ تھک جائیں گے۔ میں آپ کے ساتھ چلوں گا آپ کے کندھے پر نہیں بیٹھوں گا ۔ ابو نے میری طرف مسکرا کر دیکھا اور بولے تم بوجھ نہیں ہو میرے بیٹے ہو، میں تھکوں گا نہیں ۔ یہ کہکر انہوں نے زبردستی مجھے اپنے کندھے پر بٹھا لیا اور کہنے لگے ٹھیک ہے میں تمہیں اپنے کندھے پر بٹھا کر چل رہا ہوں۔ جب تم بڑے ہونا تو مجھے کار لا کر دینا ۔ اس وقت میری عمر مشکل سے سات آتھ برس رہی ہوگی۔
بچپن خوشبو کی طرح ہوتا ہے بہت دیر نہیں ٹھہر تا یا بچپن کو پر لگ جاتے ہیں۔ دن مہینوں میں اور مہینے برسوں میں تبدیل ہوتے رہے۔ کچھ ہی برسوں بعد سارا خاندان پاکستان چلا گیا۔ جیسے طاعون میں گاؤں صاف ہوجاتے ہیں ، جیسے جنگل میں آگ لگ جاتی ہے، جیسے رنگت کودھوپ کھا فاتی ہے جیسے کردار کو شہر کھا جاتے ہیں، جیسے ایمان کو ہوس نگل لیتی ہے، جیسے حویلیوں کو انا کھا جاتی ہے، جیسے آیئنے کو ویرانی کھا لیتی ہے۔ شاید آئینہ چہرہ دیکھنے کے لیے ہوتا ہے۔ اور ڈھال میدان میں تنہا چھوڑ کر جاتے ہوئے لشکر کو دیکھنے کے لیے ہوتی ہے۔ سیاست کی بساط پر دنیاکی سب سے ذہین قوم مہرا بن کر رہ گئی ۔ تقسیم کے کھیل میں پاکستان جیت گیا مگر مسلمان ہر گئے ۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں یہ کیسی شکست تھی جس کا احساس باون برس گزر جانے کے بعد بھی باقی ہے۔ یہ کیسا زخم تھا جس کی کسک ہر مرنے والے کے چہرے سے اتر کر پیدا ہونے والے کے چہرے پر چپک جاتی ہے۔ یہ کیسی ندامت تھی جسےتین نسلوں کے آنسو بھی نہیں دھو سکے۔ یہ کیسی تقسیم تھی جس کا حصہآج تک نہیں لگ سکا۔ یہ کیسا فیصلہ تھا جس نے تاج محل کے دو ٹکڑے کردئے ، کشمیر کے دو حصے ہوگئے ، جامع مسجد آدھی ہوگئی ۔غزل نے مرثیے کا روپ دھار لیا ، اردو زبان سرحد کی سولی پر لٹکادی گئی اور فرار کو ہجرت کا لقب دے دیا گیا۔
ایک ٹوٹے سے گھر میں بارشوں میں ٹپکتے ہوئے چھپر کے نیچے ابو نے اپنی گیلی مٹی جسیے بچوں کو اس سیدھی سادی پردہ دار خاتون کے سپرد کر دیاجو میری ماں تھی اور خود اللہ کا نام لے کر اپنے بازوؤں کے بھروسے روزی کی تلاش میں شب و روز شیر شاہ سوری کی بنوائی سڑک کے پیچ و خم سے کھیلنا شروع کر دیا ۔ اب کبھی ہفتے بھر بعد آتے ، کبھی دس دنوں بعد واپسی ہوتی کبھی تھوڑی دیر ٹھہر تے ، کبھی تھوڑے دن ٹھہرتے اور پھر ہم لوگوں کے روشن مستقبل کی تلاش میں ٹرک کا اسٹیرنگ تھام لیتے۔ وہساری زندگی ونڈ اسکرین گلاس سے سڑک کے بجائے ہمارے مستقبل کا خواب دیکھتے رہتے تھے۔ مستقبل کا خواب بھی وہ نشہ ہوتا ہے جو ساری عمر نہیں اترتا، وہ الہڑ شباب ہوتا ہےجس سے بڑھاپا کترا کے گزرتا ہے ۔ وہ طوفان ہوتا ہے جسے باندھا نہیں جاسکتا۔
ابو ہم لوگوں کے بارے میں سوچتے بہت تھے ۔ انہیں کوئی بھی موسم ڈرا نہیں پاتا تھا ۔ وہ لُو دھوپ کی شدت کے زمانے میںانگوچھا بھگو کر سر پر لپیٹ لیتے تھے۔ بارہا انہوں نے رائے بریلی سے کلکتہ تک پنجاب میل کے ڈرائیور کو آگے نہیں نکلنے دیا۔ رفتہ رفتہ گاڑی چلانا انکا پیشہ ہی نہیں شوق بن کر رہ گیا ۔ وہ زیادہ سے زیادہ وقت ٹرک چلانے میں گزار دیتے تھے لیکن وہ ہم لوگوں سے غافل نہیں ہو پاتے تھے۔ وہ اس خیال سے کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھاتے تھے یہ پتہ نہیں گھر پر چولہا جلا بھی ہوگا یانہیں ؟ اور اکثر ایسا ہوتا بھی تھا کہ میرے گھر میں چولہا نہیں جلتا تھا۔ امی ہم لوگوں کو رشتے کی ایک پھوپھی کے گھر بھیج دیتیں اور خود خالی پیٹ سوجاتی تھیں یا جا نماز پر کھڑی ہوجاتی تھیں ۔ ابو آگ سے بہت ڈرتے تھے، راستے میں اگر کہیں آگ لگی دیکھ لیتے تھے تو فوراً یہ خیال پریشان کرنے لگتا تھا کہ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ اگر خدانخواستہ گھر میں آگ لگ گئی تو کیا ہوگا ؟ میری امی میرے گھر کی روایتی پردہ داری کی طرفدار بھی تھیں اور نگہبان بھی ۔ ہم لوگوں کے کپٹے خواہ پھٹے ہوئے کیوں نہ ہوں لیکن گھر کے دروازے پر ہمیشہ ایک مضبوط پردہ جھولتا رہتا تھا۔
وقت کو دبے پاؤں چلنے کی اتنی عادت ہے کہ محسوس ہوئے بغیرگزرجاتا ہے ۔ غالباً 1964 ء میں ابو نے کلکتہ میں ٹرانسپورٹ کا چھوٹا سا کام شروع کیا۔ 1967ء میں امی اور چھوٹے بھائی بہن بھی کلکتہ چلے گئے ۔ ہم تین بھائی ابو کے خالہ زاد بھائی یونس صوفی(جنہیں ہم لوگ چچا جان کہتے تھے) کے گھر میں رہ کو تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ 1968ء میں ابو ہم لوگوں کو بھی لے کر کلکتہ چلے آئے ۔محمد جان اسکول سے ہائر سکنڈری کرنے کے بعد میرا داخلہ امیش چندر کالج میں بی کام میں ہوگیا ۔ تعلیم مکمل کرنے کی نوبت نہیں آئی ۔ کیونکہ ایک تو مجھےشاعری، ڈرامہ نگاری اور اسٹیج پروگرام کا چسکہ لگ گیا ، دوسرے اچانک ابو بیمار ہوکر اسلامیہ اسپتا ل میں بھرتی ہوگئے ۔ تقریباً پچیس دنوں تک اسپتال میں رہے۔ پڑھائی سے میر جی اچاٹ ہو گیا اور میں ابو کے ساتھ ٹرانسپورٹ کے آفس میں بیٹھنے لگا ۔ ابو کو شاعری بہت پسند تھی ۔ سوزؔسکندر پوری، پروفیسر اعزاز افضل ، رازؔ الہٰ آبادی اور نازشؔ پرتاپ گڑھی سے ان کے بہت گہرے مراسم تھے۔ اپنے آخری دنوں میں اعزاز افضل کا یہ شعر پڑھتے رہتے تھے۔
افضلؔ کا مقدر ہے حق گوئی و بے باکی ۔ سچ بات کہی ہوگی جھٹلائے گئے ہوں گے
لیکن وہ اس بات پر قطعی راضی نہیں تھے کہ میں شاعر بنوں۔ لیکن تقدیر کے لکھے کو کیسے ٹالا جاسکتا ہے ۔ میں بگڑتے بگڑتے ایک دن شاعر بن گیا لیکن ابو کے خون پسینے سے سینچے ہوئے کاروباری پودے پر کبھی دھوپ چھاؤں کا اثر نہیں ہونے دیا۔ کاروباری گڈی پر بٹھاتے وقت ابو نے پندرہ بیو ہزار روپیوں کے ساتھ ایمانداری ، بے باکی ، حق گوئی اور شرافت کی جو پونجی میرے حوالے کی تھی خدا کا شکر ہے کہ میں نے اس میں اضافہ ہی کیا ہے۔ 1987ء میں ابو کلکتہ سے واپس رائے بریلی آگئے:
مہاجر و یہی تاریخ ہے مکانوں کی ۔ بنانے والا ہمیشہ برآمدوں میں رہا
چھوٹے بھائی کی موت کے بعد ابو ٹوٹ پھوٹ گئے ، لیکن وہ کبھی اس کا اظہار نہیں ہونے دیتے تھے لیکن اندر اندر دھوپ میں رکھی برف کی طرح پگھلنے لگے ۔ ہم سب بھائی ان کو کسی بھی طرح خوش رکھنے کی کوشش میں لگے رہتے ۔ ہر طرح ان کی دل جوئی میں مصروف رہتے ، لیکن اب ایک طرح سے وہ اس بچے کی طرح ہوگئے تھے جو بہت ڈرا ہوا ہوتا ہے۔ ہم لوگوں کو رات کے سفر سے منع کرتے تھے لیکن چونکہ ٹرانسپورٹ کے کام میں جب تک ہیڈ لائٹ ساتھ دے رات کو نہیں کہا جا تا ۔ لہذا اس مجبوری کی وجہ سے ہمارا ر ا توں کا سفر ابو کو بھی گھر میں جگا ئے رکھتا تھا ۔ ہفتوں گھر کا منہ نہ دیکھنے والے ابو اب کہیں بھی جاتے تو کو شش یہی کرتے کہ رات ہونے سے پہلے پہلے وہ ر ائے بر یلی واپس آجائیں ۔ سمندر کی لہروں پر چلنے والا مسافر اب ندی کے کنا رے بیٹھ کر وضو کر تے ہوئے تھک جاتا تھا ۔ ابو اپنے چہرے سے اور خاص طور پر اپنی آ واز کا احساس نہیں ہونے دیتے تھے مجھے دیر رات میں فون کر نے والے اکثر دھوکہ کھا جاتا تھے ۔ اگر چہ یحییٰ کی موت کے بعد ابو بالکل ٹوٹ پھوٹ چکے مگر انکی آواز میں کبھی لوچ نہیں آیا تھا ۔
1999ء کے بعد ابو بالکل کمزور ہو گئے تھے ۔ دونوں گردوں نے کام کرنا تقریباً بندر کر دیا تھا ۔ ہفتے میں دو با رائے بر یلی سے لکھنو ڈاکسس کے لئے لائے جاتے ۔ اس کے باوجود ان کی خود اعتمادی میں کمی نہیں آئی تھی بلکہ کبھی کبھی تو انکے چہرے پر زندگی کی چمک دیکھ کر موت بھی ما یوسی کا شکار ہو جا تی رہی ہو گی ۔

 

الف عین

لائبریرین
ایک دن میں نے سو چا کہ ابو کی 'زین ' کا ر پرانی ہو گئی ہے ۔ نئی کار لائی جائے تو ممکن ہے کہ ابو کہ زندہ رہنے کی امنگ بڑھ جائے ۔ میں کلکتہ گیا تو انکے لئے ایک "ٹا ٹا سفاری " خریدی ۔ جب کسی نے ابو کو چچا آپکے لئے بھیا نے سفاری خریدی ہے تو بستر پر ا ٹھکر بیٹھ گئے اور بچوں کی طرح پوچھا " شہر میں یہ گاڑی کسی کے پاس ہے؟ " جب یہ بتا یا گیا کہ ابھی یہ گا ڑی پورے ضلع میں کسی کے پاس نہیں ہے تو سنکر مسکرائے اور پھر بچوں کی طرح لیٹ کر سو گئے ۔ جس دن کلکتہ سے سفاری آئی ابو ڈاکسس کے لئے لکھنو گئے ہو ئے تھے۔
شام کو کچہری والوں کی طرف سے ' ہندی دوس ' کے مو قہ پر فیروز گاندھی کالج کے آ ڈ یٹور یم میں ایک کو ی سمیلن تھا ۔ رائے بریلی کے ضلع جج محترم پی ڈی کوشک صاحب اردو سے محبت کرتے تھے، اسی نسبت سے وہ میرا بھی خیال کر تے تھے ا نھو ں نے مجھے دعوت نا مہ اس تا کید کے ساتھ بھجوا یا تھا کہ آ پ کو شر یک ہو نا ہے ۔ میں شام کو کو ی سمیلن میں جانے کے لئے نکلا ۔ کا ر ابو کو لیکر ابھی لو ئی نہیں تھی ۔ ڈر ئیو ر چنے خاں جو سفاری کلکتہ سے چلا کر لائے تھے ، کہنے لگے چلئے میں آ پکے ساتھ کوی سمیلن میں چلتا ہوں ۔ میں نے منع کیا تو بو لے میں آ پ چھو ڑ کر چلا جاؤ ں گا ۔ میں نے انہیں سمجھا یا یہ میں ابھی سفاری پر نہیں بیٹھ سکتا کیو نکہ ابھی تک اس گا ڑی کا اصلی مالک اس گاڑی پر نہیں بیٹھا ہے ۔ یہ سن کر چنے خاں بھی رنجیدہ ہو گئے اور میں چپ چاپ سر جھکا ئے سڑک پر آگیا اور رکشے پر بیٹھ کر فیروز گاندھی ڈگری کالج کی طرف روانہ ہوگیا۔ اتفاق سے آڈیٹوریم کے صدر دروازے پر ضلع جج صاحب مل گئے۔ انہوں نے مجھے رکشے سے اترتے دیکھ لیا تھا۔ وہ میرے پاس آءے اور شکایتی لہجے میں بولے کہ آپ نے فون کردیا ہوتا۔ کوئی بھی گاڑی چلی جاتی اور آپ کو لے آتی۔ میں نے اٹکا شکریہ ادا کرتے ہوئے انکو یاد دلایا کہ آپ ایک بار یہ قصہ سنایاتھا کہ الہ آباد کے کسی مندر میں ایک راجہ پہنچا اور اس نے مندر پر چڑھاوے میں دوسیر سونا چڑھایا ہے؟ پجاری جی بولے نہیں مہاراج ابھی تک تو ایسا کوئی بھی دانی ادھر سے نہیں گزرا۔ راجہ نے مسکراکر کہا تو سمجھ لیجئے وہ دانی شہر میں آچکا ہے۔ کل میں مندر میں دوسیر سونا چڑھاؤں گا۔ پنڈت جی نے مسکراتے ہوئے ہاتھ جوڑ لیئے اور بولے لیکن مہاراج میں یہ چڑھاوا لینے سے انکار کرتا ہوں۔ راجہ نے پوچھا پنڈت جی آپ یہ چڑھاوا لینے سے انکار کیوں کررہے ہیں؟ پنڈت جی نے پھر ہاتھ جوڑ لیئے اور بولے مہاراج ، مندر میں دوسری سونا چڑھانے والے تو ہمیشہ پیدا ہوتے رہیں گے لیکن ممکن ہے میرے بعد کوئی انکار کرنے والا نہ پیدا ہو۔ ضلع جج صاحب نے مجھے الجھی ہوئے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا تو میں نے بھی ہاتھ جوڑلیئے کہ جناب میں اپنے دروازے پر سفاری چھوڑ کر اس لیے آیا ہوں کہ ہر دور میں سفاری جیسی مہنگی اور اس سے بھی مہنگی گاڑیوں پر بیٹھ کر لوگ کوی سملین میں آتے رہیں گے لیکن ممکن ہے میرے بعد قیمتی کار چھوڑ کر رکشے پر بیٹھ کر آنے والا نہ پیدا ہو۔
ابو صرف ایک بار اس گاڑی پر بیٹھ سکے کیونکہ اگلے ہفتے امی اپنی کلائی کی طرف نگاہ اٹھاکر نہیں دیکھا۔ تقریباً 6 مہینے تک گاڑی یوں ہی کھڑی رہی۔ میں کوشش کرتا تھا کہ اس پر نگاہ نہ پڑنے پائے۔ پھر ایک دن میرے ایک محسن نے مجھ سے وہ گاڑی کچھ دنوں کے لیے مانگ لی۔ میں نے ڈرائیور سے گاڑی ان کے گھر پر کھڑی کروادی اور آج تک واپس لانے کی ہمت نہیں کرسکا۔
مجھ معلوم نہیں روایتی شاعری، ترقی پسند ادب، جدیدیت اور مابعد جدیدیت کسے کہتے ہیں۔ میں تو آپ بیتی کو جگ بیتی اور جگ بیتی کو آپ بیتی کو آپ بیتی کے لباس سے آراستہ کر کے غزل بناتا ہوں ۔ آپ کو اچھی لگے تو شکریہ، نہ اچھی لگے تو بھی شکریہ۔
دکھ بزرگوں نے کافی اٹھائے مگر میرا بچپن بہت ہی سہانا رہا
عمر بھردھوپ میں پیڑجلتے رہے،اپنی شاخیں ثمردار کرتے رہے

0 0 0 0 0 0 0 0 0
 

الف عین

لائبریرین
ماں

ہنستے ہوئے ماں باپ کی گالی نہیں کھاتے
بچے ہیں تو کیوں شوق سے مٹی نہیں کھاتے
ہو چاہئے جس علاقے کی زباں بچے سمجھتے ہیں
سگی ہے یا کہ سوتیلی ہے ماں بچے سمجھتے ہیں
 

الف عین

لائبریرین
ہوا دکھوں کی جب آئی کبھی خزاں کی طرح
مجھے چھپا لیا مٹی نے میری ماں کی طرح
سسکیاں اس کی نہ دیکھی گیئں مجھ سے راناؔ
رو پڑا میں بھی اسے پہلی کمائی دیتے
سر پھرے لوگ ہمیں دشمن جاں کہتے ہیں
ہم جو اس ملک کی مٹی کو بھی ماں کہتے ہیں
مجھے بس اس لیے اچھی بہار لگتی ہے
کہ یہ بھی ماں کی طرح خوشگوار لگتی ہئے
میں نے روتے ہوئے پونچھے تھے کسی دن آنسو
مدتوں ماں نے نہیں دھویا دوپٹہ اپنا
بھیجے گئے فرشتے ہمارے بچاؤ میں
جب حادث ماں کی دعا سے الجھ پڑے
لبوں پہ اس کے کبھی بدعا نہیں ہوتی
بس ایک ماں ہے جو مجھ سے خفا نہیں ہوتی
تار پر بیٹھی ہوئی چڑیوں کو سو تا دیکھ کر
فرش پر سوتا ہوا بیٹا بہت اچھا لگا
اس چہرے کا اتر جانا مناسب نہیں ہوگا
اب بھی چلتی ہے جب آندھی کبھی غم کی رانا
ماں کی ممتا مجھے باہوں میں چھپا لیتی ہے
مصیبت کے دنوں میں ماں ہمیشہ ساتھ رہتی ہے
پیمبر کیا پریشانی میں امت چھوڑ سکتا ہے
پرانا پیڑ برزرگوں کی طرح پڑتا ہے
یہی بہت ہے کہ تازہ ہوا ئیں دیتا ہے
کسی کے پاس آتے ہیں تو دریا سوکھ جاتے ہیں
کسی کی ایڑیوں سے ریت میں چشمہ نکلتا ہے
جب تک رہا ہوں دھوپ میں چادر بنا رہا
دیکھ لے ظالم شکاری ماں کی ممتا دیکھ لے
دیکھ لے چڑیا ترے دانے تلک تو آ گئی
مجھے بھی اس کی جدائی ستاتی رہتی ہے
اسے بھی خواب میں بیٹا دکھائی دیتا ہے
 

الف عین

لائبریرین
مفلسی گھر میں ٹھر نے نہیں دیتی اس کو
اور پردیس میں بیٹا نہیں رہنے دیتا
اگر اسکول میں بچے ہوں گھر اچھا نہیں لگتا
پرندوں کے نہ ہونے سے شجر اچھا نہیں لگتا
گلے ملنے کو آپس میں دعائیں روز آتی ہیں
ابھی مسجد کے دروازے پہ مائیں روز آتی ہیں
کبھی کبھی مجھے یوں بھی اذاں بلاتی ہے
شریر بچے کو جس طرح ماں بلاتی ہے
کسی کو گھر ملا حصہ میں یا کوئی دکاں آئی
میں گھر میں سب سے چھو ٹا تھا مرے حصے میں ماں آئی
اے اندھیرے دیکھ لے منہ تیرا کا لا ہو گیا
اس طر ح میرے گناہوں کو وہ دھوتی ہے
ماں بہت غصہ میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہے
میری خواہش ہے کہ میں پھر سے فرشتہ ہو جاؤں
ماں سے اس طرح لپٹ جاؤں کہ بچہ ہو جاؤں
مرا خلوص تو پو رب کے گاؤ ں جیسا ہے
سلوک دنیا کا سو تیلی ماؤ ں جیسا ہے
روشنی دیتی ہوئی سب لالٹینیں بجھ گئیں
خط نہیں آ یا جو بیٹو ں کا تو مائیں بجھ گئیں
 

الف عین

لائبریرین
یہ سوچ کے ماں باپ کی خدمت میں لگا ہوں
اس پیڑ کا سایہ میرے بچوں کو ملے گا

یہ ایسا قرض ہے جو میں ادا کر ہی نہیں سکتا
میں جب تک گھر نہ لوٹو ں میری ماں سجدہ میں رہتی ہے

جہاں پچھلے کئی برسوں سے کالے ناگ رہتے ہیں
وہاں اک گھونسلہ چڑیوں کا تھا دادی بتاتی ہے

یاروں کو مسرت میری دولت پہ ہے لیکن
اک ماں ہے جو بس میری خوش دیکھ کے خوش ہے

سمجھ کہ صرف جسم ہے اور جاں نہیں رہی
وہ شخص جو کہ زندہ ہے اور ماں نہیں رہی

پردیس جا رہے ہو تو تعو یز باندھ لو
کہتی ہیں ما ئیں بچوں سے اپنے پکار کے

نکلنے ہی نہیں دیتی ہیں اشکوں کو مری آنکھیں
کہ یہ بچے ہمیشہ ماں کی نگرانی میں رہتے ہیں

تیرے آگے ماں بھی موسی جیسی لگتی ہے
تیری گود میں گنگا میا اچھا لگتا ہے

تیرے دامن میں ستارے ہیں تو ہونگے اے فلک
مجھ کو اپنی ماں کی میلی اوڑھنی اچھی لگی

لپٹ جاتا ہوں ماں سے اور موسی مسکراتی ہے
میں اردو میں غزل کہتا ہوں، ہندی مسکراتی ہے
 

الف عین

لائبریرین
جو بھی دولت تھی وہ بچوں کے حوالے کر دی
جب تلک میں نہیں بیٹھوں یہ کھڑے رہتے ہیں

جب بھی دیکھا مرے کردار پہ دھبہ کوئی
دیر تک بیٹھ کے تنہائی میں رویا کوئی

خدا کرے کہ امیدوں کے ہاتھ پیلے ہوں
ابھی تلک تو گزاری ہے عدتوں کی طرح

گھر کی دہلیز پہ روشن ہیں وہ بجھتی آنکھیں
مجھ کو مت روک مجھے لوٹ کے گھر جانا ہے

یہیں رہوں گا کہیں عمر بھر نہ جاؤں گا
زمین ماں ہے اسے چھوڑ کر نہ جاؤں گا

اسٹیشن سے واپس آ کر بوڑھی آ نکھیں سوچتی ہیں
پتے دیہاتی رہتے ہیں پھل شہری ہو جاتے ہیں

اب دیکھئے کون آئے جنازے کو اٹھانے
یوں تار تو میرے سبھی بیٹوں کو ملے گا

اب اندھیرا مستقبل رہتا ہے اس دہلیز پر
جو ہماری منتظر رہتی تھیں آنکھیں بجھ گئیں

اگر کسی کی دعا میں اثر نہیں ہوتا
تو میرے پاس سے کیوں تیر آ کے لوٹ گیا
 

الف عین

لائبریرین
ابھی زندہ ہے ماں میری مجھے کچھ بھی نہیں ہو گا
میں گھر سے جب نکلتا ہوں دعا بھی ساتھ چلتی ہے

جب بھی کشتی مری سیلاب میں آجاتی ہے
ماں دعا کرتی ہوئی خواب میں آ جاتی ہے

کہیں بے نور نہ ہو جائیں وہ بوڑھی آنکھیں
گھر میں ڈرتے تھے خبر بھی مرے بھائی دیتے

کیا جانے کہاں ہوتے مرے پھول سے بچے
ورثے میں اگر ماں کی دعا بھی نہیں ملتی

کچھ نہیں ہو گا تو آنچل میں چھپا لیگی مجھے
ماں کبھی سر پہ کھلی چھت نہیں رہنے د یگی

قدموں میں لا کے ڈال دیں سب نعمتیں مگر
سو تیلی ماں کو بچے سے نفرت وہی رہی

دھنستی ہوئی قبروں کی طرف دیکھ لیا تھا
ماں باپ کے چہروں کی طرف دیکھ لیا تھا

کو ئی دکھ ہو کبھی کہنا نہیں پڑتا اس سے
وہ ضر و ت کو طلبگا ر سے پہچا نتا ہے

کسی کو دیکھ کر روتے ہو ئے ہنسنا نہیں اچھا
یہ وہ آنسو ہیں جن سے تخت سلطانی پلٹتا ہے

دن بھر کی مشقت سے بدن چور ہے لیکن
ماں نے مجھے دیکھا تو تھکن بھول گئی ہے
 

الف عین

لائبریرین
دعا ئیں ماں کی پہنچا نے کو میلوں میل جاتی ہیں
کہ جب پردیس جانے کے لئے بیٹا نکلتا ہے

دیا ہے ماں نے مجھے دودھ بھی وضو کر کے
محاذ جنگ سے میں لوٹ کر نہ جاؤں گا

کھلو نو ں کی طرف بچے کو ماں جانے نہیں دیتی
مگر آ گے کھلونوں کی دکاں جانے نہیں دیتی

دکھا تے ہیں پڑوسی ملک آنکھیں تو دکھا نے دو
کہیں بچوں کے بو سے سے بھی ماں کا گال کٹتا ہے

بہن کا پیار ماں کی مامتا دو چیختی آنکھیں
یہی تحفے تھے جن کو میں اکثر یاد کرتا تھا

برباد کر دیا ہمیں پردیس نے مگر
ماں سب سے کہ رہی ہے کہ بیٹا مزے میں ہے

بڑی بیچا رگی سے لوٹتی تکتے ہیں
بہادر ہو کے بھی مجبور ہوتے ہیں دلھن وا لے

میرا بچپن تھا مرا گھر تھا کھلونے تھے مرے
سر پہ ماں باپ کا سایہ بھی غزل جیسا تھا

مقدس مسکراہٹ ماں کے ہونٹوں پر لر زتی ہے
کسی کا جب پہلا سپارہ ختم ہوتا ہے

کھانےکی چیز یں ماں نے جو بھیجی ہیں گاؤں سے
باسی بھی ہو گئی ہیں تو لذت وہی رہی
 

الف عین

لائبریرین
میں وہ میلے میں بھٹکتا ہوا ایک بچہ ہوں
جسکے ماں باپ کو روتے ہوئے مر جانا ہے

ملتا جلتا ہے سبھی ماؤ ں سے ماں کا چہر ا
گردوارے کی بھی دیوار نہ گرنے پائے

منتظر ہو نگی وہ پاکیزہ سی آنکھیں گھر میں
گھر کی دہلیز پہ نشے میں کبھی مت جانا

میں نے کل شب چاہتوں کی سب کتابیں پھاڑ دیں
صرف ایک کاغذ پہ لکھا لفظ ماں رہنے دیا

گھیر لینے کو مجھے جب بھی بلائیں آ گئیں
ڈھال بن کر سامنے ماں کی دعائیں آ گئیں

مید ان چھوڑ دینے سے میں بچ تو جاؤں گا
لیکن جو یہ خبر میر ی ماں تک پہو نچ گئی

منوّ ر ماں کے آ گے یو ں کبھی کھل کر نہیں رونا
جہاں بنیاد ہو اتنی نمی اچھی نہیں ہوتی

مٹی لپیٹ لپیٹ گئی پیروں سے اسلئے
تیار ہوکے بھی کبھی ہجرت نہ کر سکے

مفلسی بچے کو رونے نہیں دینا ورنہ
ایک آنسو بھرے بازار کو کھا جائیگا

مجھے خبر نہیں جنت بڑی کہ ماں لیکن
بزرگ کہتے ہیں جنت بشر کے نیچے ہے

مجھے کڑھے ہوئے تکیئے کی کیا ضرورت ہے
کسی کا ہاتھ ابھی میرے سر کے نیچے ہے

بزرگو ں کا مرے دل سے ابھی تک ڈر نہیں جاتا
کہ جب تک جاگتی رہتی ہے ماں میں گھر نہیں جاتا

محبت کرتے جاؤ بس یہی سچّی عبادت ہے
محبت ماں کو بھی مکّہ مدینہ مان لیتی ہے

ماں یہ کہتی تھی کہ موتی ہیں ہمارے آنسو
اسلئے اشکوں کا پینا بھی برا لگتا ہے
 

الف عین

لائبریرین
پردیس جانے والے کبھی لوٹ آئیں گے
لیکن اس انتظار میں آنکھیں چلی گئیں

شہر کے رستے ہوں چاہے گاؤں کی پگڈنڈیاں
ماں کی انگلی تھام کر چلنا بہت اچھا لگا

میں کوئی احسان مانوں بھی تو آخر کس لئے
شہر نے دولت اگر دی ہے تو بیٹا لے لیا

اب بھی روشن ہیں تری یاد سے گھر کے کمرے
روشنی دیتا ہے اب تک ترا سایہ مجھکو

میرے چہرے پہ ممتا کی فراوانی چمکتی ہے
میں بوڑھا ہو ر ہا ہوں پھر بھی پیشانی چمکتی ہے

وہ جا رہا ہے گھر سے جنازہ بزرگ کا
آنگن میں اک درخت پرانا نہیں رہا

وہ تو لکھا کے لائی ہے قسمت میں جاگنا
ماں کیسے سو سکی گی کہ بیٹا سفر میں ہے

شاہزادے کو یہ معلوم نہیں ہے شاید
ماں نہیں جانتی دستار کا بوسہ لینا
 

الف عین

لائبریرین
آنکھوں سے مانگنے لگے پانی وضو کا ہم
کاغذ پہ جب بھی دیکھ لیا 'ماں' لکھا ہوا

ابھی تو میری ضروت ہے میرے بچوں کو
بڑے ہوئے تو یہ خود انتظام کر لیں گے

میں ہوں مرا بچہ ہے کھلو نو ں کی دکاں ہے
اب کوئی مرے پاس بہنا بھی نہیں ہے

اے خدا تو فیس کے پیسے عطا کر دے مجھے
میرے بچوں کو بھی یو نیو رسٹی اچھی لگی

بھیک سے تو بھوک اچھی گاؤں کو واپس چلو
شہر میں رہنے سے یہ بچہ برا ہو جائےگا

کھلونوں کے لئے بچے ابھی تک جاگتے ہوں گے
تجھے اے مفلسی کوئی بہانہ ڈھو نڈ لینا ہے

ممتا کی آبرو کو بچا یا ہے نیند نے
بچہ زمین پہ سو بھی گیا کھیلتے ہو ئے

میر ے بچے نامرادی میں جواں بھی ہوگئے
میری خواہش صرف بازاروں کو تکتی رہ گئی

بچوں کی فیس ، انکی کتا بیں ، قلم، دوا ت
میری غریب آ نکھو ں میں اسکول چبھ گیا

وہ سمجھتے ہی نہیں ہیں مری مجبور ی کو
اسلئے بچوں پہ غصہ بھی نہیں آتا ہے

کسی بھی رنگ کو پہنچا ننا مشکل نہیں ہوتا
مرے بچوں کی صورت دیکھ اسکو زرد کہتے ہیں
 

الف عین

لائبریرین
دھوپ سے مل گئے ہیں پیڑ ہمارےگھر کے
میں سمجھتی تھی کہ کام آ ئے گا بیٹا اپنا

چلو مانا کہ شہنا ئی مسرت کی نشانی ہے
مگر وہ شخص جسکی آکے بیٹی بیٹھ جاتی ہے

پھر اس کو مرکے بھی خود سے جدا ہونے نہیں دیتی
یہ مٹی جب کسی کو اپنا بیٹا مان لیتی ہے

تمام عمر سلامت رہیں دعا ہے یہی
ہمارے سر پہ ہیں جو ہاتھ برکتوں والے

ہماری مفلسی ہم کو اجازت تو نہیں دیتی
مگر ہم تیری خاطر کوئی شہزادہ بھی دیکھیں گے

ماں باپ کی بوڑھی آنکھیں میں ایک فکر سی چھائی رہتی ہے
جس کمبل میں سب سو تے تھے اب وہ بھی چھو ٹا پڑتا ہے

دوستی دشمنی دونوں شامل رہیں دوستوں کی نوازش تھی کچھ اس طرح
کاٹ لے شوخ بچہ کوئی جس طرح ماں کے رخسار پر پیارکرتے ہوئے

ماں کی ممتا گھنے بادلوں کی طرح سر پہ سایہ کیے ساتھ چلتی رہی
ایک بچہ کتابیں لئے ہاتھ میں خامشی سے سڑک پار کر تے ہوئے

دکھ بزرگوں نے کافی اٹھا ئے مگر میرا بچپن بہت ہی سہا نا رہا
عمر بھر دھوپ میں پیڑ جلتے رہے اپنی شا خیں ثمر دار کرتے ہوئے

ابھی موجود ہے اس گاؤں کی مٹی میں خو داری
ابھی بیوہ کی غیر ت سے مہاجن ہار جاتا ہے

معلوم نہیں کیسی ضرورت نکل آئی
سر کھو لے ہو ئے گھر سے شرافت نکل آئی

اس میں بچوں کی جلی لاشوں کی تصویر یں ہیں
دیکھنا ہاتھ سے اخبار نہ گر پائے
 

الف عین

لائبریرین
اوڑھے ہوئے بدن پہ غریبی چلے گئے
بہنوں کو روتا ہوا چھڑ کے بھا ئی چلے گئے

کسی بوڑھے کی لاٹھی چھن گئی ہے
وہ دیکھو ایک جنازہ جا رہا ہے

آنگن کی تقسیم کا قصہ
میں جانوں یا بابا جانے

ہماری چیختی آنکھوں نے جلتے شہر دیھکے ہیں
برلتے لگتے ہیں اب قصے ہمیں بھا ئی بہن والے

اس لئے میں نے بزرگوں کی زمینیں چھوڑ دیں
میرا گھر جس دن بسے گا تیرا گھر گر جائے گا

بچن میں کسی بات پہ ہم روٹھ گئے تھے
اس دن سے اسی شہر میں ہیں گھر نہیں جاتے

بچھڑ کے تجھ سے تری یاد بھی نہیں آ ئی
ہمارے کام یہ اولاد بھی نہیں آئی

مجھ کو ہر حال میں بخشے گا اجالا اپنا
چاند رشتے میں نہیں لگتا ہے ماما اپنا

میں نرم مٹی ہوں تم روند کر گزر جاؤ
کہ میرے ناز تو بس کوزہ گر اٹھا تا ہے

مسائل نے ہمیں بوڑھا کیا ہے وقت سے پہلے
گھر یلو الجھنیں اکثر جوانی چھین لیتی ہیں

اچھلتے کھیلتے بچپن میں بیٹا ڈھونڈتی ہوگی
تبھی تو دیکھ کر پوتے کو دادی مسکراتی ہے
 

الف عین

لائبریرین
کچھ کھلو نے کبھی آنگن میں دکھائی دیتے
کاش ہم بھی کسی بچے کو مٹھائی دیتے

دولت سے محبت تو نہیں تھی مجھے لیکن
بچوں نے کھلو نوں کی طرف دیکھ لیا تھا

جسم پر میرے بہت شفاف کپڑے تھے مگر
دھول مٹی میں اٹا بیٹا بہت اچھا لگا

کم سے کم بچوں کے ہونٹوں کی ہنسی کی خاطر
ایسی مٹی میں ملانا کہ کھلو نا ہو جاؤں

قسم دیتا ہے بچوں کی بہا نے سے بلاتا ہے
دھواں چمنی کا ہم کو کار خانے سے بلاتا ہے

بچے بھی غریبی کو سمجھنے لگے شاید
اب جاگ بھی جاتے ہیں تو سحری نہیں کھا تے

انہیں فرقہ پر ستی مت سکھا دینا کہ یہ بچے
زمیں سے چوم کر تتلی کے ٹوٹے پر اٹھاتے ہیں

سب کے کہنے سے ارادہ نہیں بدلا جاتا
ہر سہیلی سے دوپٹہ نہیں بدلا جاتا

بچھڑتے وقت بھی چہرا نہیں اتر تا ہے
یہا ں سروں سے دوپٹہ نہیں اترتا ہے

کانوں میں کوئی پھول بھی ہنس کر نہیں پہنا
اس نے بھی بچھڑ کر کبھی زیور نہیں پہنا

محبت بھی عجب شے ہے کوئی پردیس میں روئے
تو فورا ہاتھ کی اک آدھ چوڑ ی ٹوٹ جاتی ہے

بڑ ے شہروں میں بھی رہکر برابر یاد کرتا تھا
میں اک چھوٹے سے اسٹیشن کا منظر یاد کرتا تھا

کس کو فرصت اس محفل میں غم کی کہانی پڑھنے کی
سونی کلائی دیکھ کے لیکن چوڑ ی والا ٹوٹ گیا

مجھے بلاتا ہے مقتل میں کس طرح جاؤں
کہ میری گود سے بچہ نہیں اتر تاہے

کہیں کوئی کلائی ایک چوڑ ی کو ترستی ہے
کہیں کنگن کے جھٹکے سے کلا ئی ٹو ٹ جاتی ہے
 
Top