مانسہرہ میں ن کا عظیم جلسہ

اسٹیبلشمنٹ کے پاس ق لیگ ، ایم کیو ایم اور اب تو مشرف بذات خود بھی موجود ہے۔

مشرف تو پہلے ہی پٹا ہوا گھوڑا ہے۔ وہ اس امید میں ایا ہے کہ کسی کودتا کی صورت میں شاید اس کی لاٹری نکل اوے۔
ق لیگ اور متحدہ البتہ ہر دم تیار ہیں۔
مگر نواز لیگ کی مشکل کا حل اسٹیبلیشمنٹ کے پاس نہیں۔ ق لیگ تتر بتر ہے اور متحدہ صرف سندھ میں ہے۔ نواز لیگ کو گرانے کے لیے صرف عمران ہے یا قادری۔ قادری پہلے ہی پٹ گیا ہے
 

شمشاد

لائبریرین
عمران اور ن لیگ کا ٹکراؤ پی پی پی کے لیے فائدہ مند ہو گا اور یہی زرداری کی سیاست بھی ہے۔
 
نواز لیگ کو گرانے کے لیے صرف عمران ہے یا قادری۔ قادری پہلے ہی پٹ گیا ہے
پہلے آپ فرمارہے تھے کہ فوج کے جرنیل، اعلیٰ عدلیہ اور بیوروکریسی ہی اسٹیبلشمنٹ ہے۔۔۔
دوسرا نکتہ یہ ارشاد ہوا کہ نواز لیگ کو گرانے کیلئے اسٹیبلشمنٹ نے دو مہرے آگے کئے یعنی عمران اور قادری۔۔۔
تیسرا نکتہ یہ ہے کہ اسی اسٹیبلشمنٹ نے پھر نجانے کیا سوچ کر اپنے ایک مہرے یعنی قادری کو بساط سے باہر کردیا۔۔
بابا جی اگر اسٹیبلشمنٹ نامی کسی چیز کا وجود ہوتا اور قادری انکا مہرہ ہوتا، تو پھر اس اسٹیبلشمنٹ کی عقل اور طرزِ عمل پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے کہ انکے مہرے نے تو بقول آپکے پوری پوری کارکردگی دکھا دی لیکن پھر بھی نجانے کیوں انہوں نے اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا، جرنیلوں نے سنہری موقرے کے ہوتے ہوئے بھی سیاست دانوں کی چھٹی نہیں کی، اور اعلیٰ عدلیہ نے اپنے ہی مہرے کی پٹیشن سننے سے انکار کردیا۔۔
بات کچھ بنی نہیں۔۔ کوئی نئی تھیوری لائیے۔ :D
 
مجھے پاکستانی "سیاہ سی" جماعتوں کی جو دو بری ترین باتیں لگتی ہیں ان میں سے ایک یہ "اسٹیبلشمنٹ" کا رونا ہے۔پہلی اقرباء پروری ہے۔
ہر برے کام کے لیے ان کے پاس اختیار ہوتا ہے لیکن جہاں بات کسی اچھے کام کی آ جائے وہاں ان کا رونا شروع ہو جاتا ہے کہ "ہمیں مدت پوری نہیں کرنے دی گئی"،"ہمارے پاس اختیار نہیں ہے"
اربوں روپے اپنے "۔۔۔۔۔۔۔۔۔" پر خرچ کرنے کے لیے ان کے پاس "اختیار" ہوتا ہے، نہیں ہوتا تو کسی اچھے کام کے لیے نہیں ہوتا۔
 
ش

شہزاد احمد

مہمان
یہ اندازہ آپ نے کیسے لگایا کہ پہلے والا بڑا تھا اور یہ نہیں جبکہ زیادہ رپورٹس پہلے والے سے بڑے ہونے کی ہیں اور اس میں ایک سیدھا جواز تو منتخب نمائندوں کی شرکت بھی ہے۔
سہیل وڑائچ، نجم سیٹھی، شاہ زیب خان زادہ، عامر غوری ۔۔۔ یہ دو چار نام تو ذہن میں آ رہے ہیں ۔۔۔ یہ سب اس بات پر متفق تھے کہ جلسہ واقعی بہت بڑا تھا لیکن تیس اکتوبر 2011ء کا جلسہ زیادہ بڑا تھا اور یوں بھی منتخب نمائندوں کے ہوتے ہوئے جلسہ مزید بڑا ہونا چاہیے تھا ۔۔۔ نہ کہ تعداد میں پچھلے جلسے کے برابر یا کم ۔۔۔
 

زرقا مفتی

محفلین
23 مارچ کا جلسہ "بے مثال" ہرگز نہیں تھا ۔۔۔ اس سے پہلے ایسے جلسے ہوتے رہے ہیں ۔۔۔ حتیٰ کہ عمران خان صاحب کا تیس اکتوبر 2011ء کا جلسہ ان کے حالیہ جلسہء لاہور سے بڑا تھا ۔۔۔ پورے پاکستان سے اسی ہزار نمائندے الگ آئے تھے ۔۔۔ ہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ جلسہ "تاریخی" ضرور تھا ۔۔۔ اور سونامی نے پھر سے "کم بیک" ضرور کیا ۔۔۔
میں نہیں جانتی کہ آپ دونوں جلسوں میں شریک تھے یا نہیں۔ بہرحال میں دونوں جلسوں میں شریک تھی 23 مارچ کا جلسہ 11 اکتوبر کے جلسے سے ڈیڑھ گنا بڑاتھا۔ گاڑیاں فٹ پاتھوں پر بھی پارک ہوئیں۔ حضوری باغ اور بادشاہی مسجد میں بھی شرکا کا ہجوم تھا
 
میں نہیں جانتی کہ آپ دونوں جلسوں میں شریک تھے یا نہیں۔ بہرحال میں دونوں جلسوں میں شریک تھی 23 مارچ کا جلسہ 11 اکتوبر کے جلسے سے ڈیڑھ گنا بڑاتھا۔ گاڑیاں فٹ پاتھوں پر بھی پارک ہوئیں۔ حضوری باغ اور بادشاہی مسجد میں بھی شرکا کا ہجوم تھا

یہ تو اچھا کہ لوگ سیاسی طور پر متحرک ہیں
جیسے جیسے وقت قریب اتا جائے گا لوگوں کا ذھن کلیر ہوجائے گا اور فیصلہ میں اسانی ہوگی
 
میں نہیں جانتی کہ آپ دونوں جلسوں میں شریک تھے یا نہیں۔ بہرحال میں دونوں جلسوں میں شریک تھی 23 مارچ کا جلسہ 11 اکتوبر کے جلسے سے ڈیڑھ گنا بڑاتھا۔ گاڑیاں فٹ پاتھوں پر بھی پارک ہوئیں۔ حضوری باغ اور بادشاہی مسجد میں بھی شرکا کا ہجوم تھا

پر میرا نہیں خیال کہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ قصوری، محمود قریشی، شفقت رانا، شیریں مزاری اور اس جیسے دوسرے لوگوں کی حمایت کریں گے جو کسی بھی تبدیلی کے نہیں بلکہ موجودو سسٹم کے نمائندہ ہیں

نواز شریف البتہ تبدیلی لاسکتا ہے
 
پہلے آپ فرمارہے تھے کہ فوج کے جرنیل، اعلیٰ عدلیہ اور بیوروکریسی ہی اسٹیبلشمنٹ ہے۔۔۔
دوسرا نکتہ یہ ارشاد ہوا کہ نواز لیگ کو گرانے کیلئے اسٹیبلشمنٹ نے دو مہرے آگے کئے یعنی عمران اور قادری۔۔۔
تیسرا نکتہ یہ ہے کہ اسی اسٹیبلشمنٹ نے پھر نجانے کیا سوچ کر اپنے ایک مہرے یعنی قادری کو بساط سے باہر کردیا۔۔
بابا جی اگر اسٹیبلشمنٹ نامی کسی چیز کا وجود ہوتا اور قادری انکا مہرہ ہوتا، تو پھر اس اسٹیبلشمنٹ کی عقل اور طرزِ عمل پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے کہ انکے مہرے نے تو بقول آپکے پوری پوری کارکردگی دکھا دی لیکن پھر بھی نجانے کیوں انہوں نے اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا، جرنیلوں نے سنہری موقرے کے ہوتے ہوئے بھی سیاست دانوں کی چھٹی نہیں کی، اور اعلیٰ عدلیہ نے اپنے ہی مہرے کی پٹیشن سننے سے انکار کردیا۔۔
بات کچھ بنی نہیں۔۔ کوئی نئی تھیوری لائیے۔ :D

اپ سمجھ نہیں سکے
قادری تو پہلے جلسے کے ساتھ ہی اوٹ ہوگیا تھا اور عوام نے اس کو مسترد کردیا تھا اس کے بعد جو پلان تھا وہ پہلے ہی فیل ہوگیا تھا
قادری کے فیلڈ اٹیمپٹ کے بعد کوئی اسکو قبول کرنے کو تیار نہیں تھا۔ جنھوں نے اس کو لانچ کیا تھا انھوں نے دوری اختیار کی۔ عدلیہ نے دھرنے کے پہلے دن جس طرح قادری نے عدلیہ کو جانبدار ثابت کرنے کی کوشش کی بہت برا مانا ۔ عدلیہ کے پاس کوئی چارہ نیہیں رہ گیا کہ اس قادری سے دوری کو ثابت کیا جائے

قادری کوئی بھی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہا۔ جولوگ اس کے مرید تھے بس ان کو ادھر ادھر گھماکر دھرنے مارتا رہا۔ یہی دھمکی دے رہا ہے
 

سید ذیشان

محفلین
اسکی نیت مجھے ٹھیک لگتی ہے۔
اسکے دور میں بہت اچھےمنصوبے بنتے ہین جیسے موٹر وے۔ جس کے اثرات دوررس ہیں۔ بھلا مانس ہے
مگر اسکو اسکی ٹرم پوری نہیں کرنے دیتے ظالم لوگ

نیت تو شائد صوفی محمد کی بھی ٹھیک تھی، وہ بھی شریعت لانا چاہتا تھا۔

آپ نے شائد سنا نہیں "نادان دوست سے دانا دشمن بہتر ہے"
 
نیت تو شائد صوفی محمد کی بھی ٹھیک تھی، وہ بھی شریعت لانا چاہتا تھا۔

آپ نے شائد سنا نہیں "نادان دوست سے دانا دشمن بہتر ہے"

نیت ٹھیک ہے
منصوبے اچھے بناتا ہے
بیرونی دباو ملک کے مفاد میں قبول نہیں کرتا
ملکی دباو سے بھی اب بہت ازاد ہے
تمام صوبوں میں اس کی نمائندگی ہے یا جماعتوں سے الحاق ہے
ذاتی ماضی بھی بے داغ ہے۔
اسی کے دور میں پاکستانیت فروغ پاتی ہے۔
اور کیا چاہیے؟
 

سید ذیشان

محفلین
نیت ٹھیک ہے
منصوبے اچھے بناتا ہے
بیرونی دباو ملک کے مفاد میں قبول نہیں کرتا
ملکی دباو سے بھی اب بہت ازاد ہے
تمام صوبوں میں اس کی نمائندگی ہے یا جماعتوں سے الحاق ہے
ذاتی ماضی بھی بے داغ ہے۔
اسی کے دور میں پاکستانیت فروغ پاتی ہے۔
اور کیا چاہیے؟

آپ کسی لالا لینڈ کی تو بات نہیں کر رہے جہاں پر نواز شریف نام کا وزیر اعظم یہ سب کام کر چکا ہے۔

مجھے اچھی طرح سے یاد ہے قریباً ایک سال قبل آپ نے مولانا فضل الرحمٰن کی سپورٹ میں دھاگہ بنایا تھا کہ اس مرتبہ اس کو ووٹ دیں، اب اچانک نواز شریف کہاں سے آ گیا؟
 
آپ کسی لالا لینڈ کی تو بات نہیں کر رہے جہاں پر نواز شریف نام کا وزیر اعظم یہ سب کام کر چکا ہے۔

مجھے اچھی طرح سے یاد ہے قریباً ایک سال قبل آپ نے مولانا فضل الرحمٰن کی سپورٹ میں دھاگہ بنایا تھا کہ اس مرتبہ اس کو ووٹ دیں، اب اچانک نواز شریف کہاں سے آ گیا؟

شہباز کی کارکردگی اچھی رہی۔ بڑے اچھے ترقیاتی منصوبے بنائے بالخصوص میٹرو بس تو بہت اچھی رہی
نواز نے بھی مجموعی طور پر مہذب طریقہ سے اپوزیشن کا کردار ادا کیا۔
 
پانچ سال پہلے میں پی پی کا حمایتی تھا
مگر اب کارکردگی کی بنیاد پر ن لیگ کا
آپ نے تاریخ سے ابھی بھی کچھ نہیں سیکھا۔۔۔آپ جس پارٹی کی حمایت کرتے ہیں ، اقتدار ملنے کے بعد وہ ملک و قوم کا بھرکس نکال دیتی ہے۔ اب ن لیگ کی حمایت کر رہے ہیں، تو ہم دعا کرتے ہیں کہ ن لیگ کو اقتدار نہ ہی ملے تو اچھا ہے:p:D
 
آپ نے تاریخ سے ابھی بھی کچھ نہیں سیکھا۔۔۔ آپ جس پارٹی کی حمایت کرتے ہیں ، اقتدار ملنے کے بعد وہ ملک و قوم کا بھرکس نکال دیتی ہے۔ اب ن لیگ کی حمایت کر رہے ہیں، تو ہم دعا کرتے ہیں کہ ن لیگ کو اقتدار نہ ہی ملے تو اچھا ہے:p:D

بمقابلہ شوکت عزیز حکومت یا فوجی حکومتوں کے زرداری کی حکومت بہتر رہی۔ بہت سے اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل ہوئے اور سیاسی راہ ہموار ہوئی۔ فوجی مداخلت کی راہ رکی۔
مگر مزید بہتر نواز حکومت ثابت ہوگی انشاللہ

اپ کی چوائس تو بہت ہی عجیب ہے ۔قادری۔
اگر سو سال بھی قادری دھرنے مارے مگر کوئی اس کی بات نہیں سننے گا۔
 
ش

شہزاد احمد

مہمان
میں نہیں جانتی کہ آپ دونوں جلسوں میں شریک تھے یا نہیں۔ بہرحال میں دونوں جلسوں میں شریک تھی 23 مارچ کا جلسہ 11 اکتوبر کے جلسے سے ڈیڑھ گنا بڑاتھا۔ گاڑیاں فٹ پاتھوں پر بھی پارک ہوئیں۔ حضوری باغ اور بادشاہی مسجد میں بھی شرکا کا ہجوم تھا
محترمہ! آپ کی بات تسلیم بھی کر لی جائے تب بھی نومنتخب عہدے دار جن کی تعداد اسی ہزار بتائی جاتی ہے، ان کی تعداد کو جلسے کے شرکاء کی تعداد سے منہا کر کے دیکھا جائے تو پوزیشن اب بھی وہی ہے تحریک انصاف کی ۔۔۔ جو ڈیڑھ سال قبل تھی ۔۔۔ کوئی غیرمعمولی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے ۔۔۔ البتہ یہ ایک کامیاب جلسہ تھا اور عمران خان نے انٹرا پارٹی الیکشن کے باوجود پارٹی کی مقبولیت کو ایک سطح پر برقرار رکھا ۔۔۔ یہ اپنی جگہ پر ایک بڑی کامیابی ہے ۔۔۔
 

زرقا مفتی

محفلین
محترمہ! آپ کی بات تسلیم بھی کر لی جائے تب بھی نومنتخب عہدے دار جن کی تعداد اسی ہزار بتائی جاتی ہے، ان کی تعداد کو جلسے کے شرکاء کی تعداد سے منہا کر کے دیکھا جائے تو پوزیشن اب بھی وہی ہے تحریک انصاف کی ۔۔۔ جو ڈیڑھ سال قبل تھی ۔۔۔ کوئی غیرمعمولی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے ۔۔۔ البتہ یہ ایک کامیاب جلسہ تھا اور عمران خان نے انٹرا پارٹی الیکشن کے باوجود پارٹی کی مقبولیت کو ایک سطح پر برقرار رکھا ۔۔۔ یہ اپنی جگہ پر ایک بڑی کامیابی ہے ۔۔۔
میرا خیال ہے بات جلسے کے شرکا کی ہو رہی ہے۔ اور رہی بات عہدیداران کی تو ظاہر ہے کہ وہ تحریکِ انصاف کے پُرانے حمایتی ہیں اُنہیں نہ تو پچھلے جلسے سے منہا کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس جلسہ سے ۔ اور کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ن لیگ یا کسی اور جماعت کے جلسے میں عہدیدار شریک نہیں ہوتے
 
Top