لیفٹیننٹ جنرل کو قید با مشقت، بریگیڈئیراورحساس ادارے کے افسر کو سزائے موت کی توثیق

جاسم محمد نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 30, 2019

  1. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,555
    کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ سول حکومت عسکری اداروں کو اپنی آئینی و قانونی حدود میں رکھنے کیلئے اقدامات کرے؟
     
  2. جان

    جان محفلین

    مراسلے:
    1,500
    میں محض یہ چاہتا ہوں کہ اگر حکومتِ وقت میں ان کو آئین و قانون میں لانے کی سکت نہیں ہے تو کم از کم ان کے اقدامات کو خاموشی سے برداشت کریں، یہ سیاسی ایمان کا کم سے کم درجہ ہے لیکن حکومتِ وقت چاپلوسی میں اس سے بھی آگے نکل کر پبلِکلی ان کے اقدامات کی حمایت کے گن گانا شروع کر دیتی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  3. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,555
    بھائی موازنہ کرنے کا مقصد ان ریفرنسز کا دفاع نہیں۔ بلکہ یہ بتانا ہے کہ اپوزیشن اپنے دور حکومت میں معزز ججوں کیساتھ جو سلوک کرتی رہی ہے۔ تحریک انصاف حکومت اس کے قریب سے بھی نہیں گزری۔
    ایک معزز جج کے خلاف بیرون ملک اثاثے ملنے پر صرف ریفرنس دائر کیا ہے۔ جو کہ جوڈیشل کونسل میں غلط بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ جج کو نواز شریف کی طرح اپنی پوسٹ سے ہٹایا نہیں ہے۔
    جوڈیشل کونسل میں صرف کیس دائر کرنے پر معزز جج مجرم کیسے ثابت ہوں گے؟ یا حکومت کی بدنیتی کیسے ثابت ہوگی؟
     
  4. عبدالقیوم چوہدری

    عبدالقیوم چوہدری محفلین

    مراسلے:
    16,559
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    پہلا مقصد تو یہ کہ لڑیِ نایاب جرنیلوں و ہمنواؤں کے کرتوتوں کے بارے میں ہے، سوچا ذرا یادداشت بہتر ہو جائے۔ باقی اگر آپ ان مہا کرپشن داستانوں پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتے تو کوئی گل نہیں۔ اسی وی نہیں کرنا چاہندے، کالے ویگو ڈالے تو بڑا ڈر لگدا اے۔ ;)

    دوسرا مقصد تیلی لگانا تھا، میرا مطلب ہے آپ کو تھوڑا وارم اپ کرنا تھا۔:tongueout:

    :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  5. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,555
    اچھا۔ حالیہ چیک پوسٹ والے سانحہ کے بعد حکومتی وزرانے چپ کا روزہ رکھ لیا تھا۔ البتہ اپوزیشن نے پارلیمان میں جا کر اس پر سیاست شروع کر دی۔
    چار و نچار حکومت کے پشتون وزرا کو ان الزامات کا جواب دینا پڑا جو اپوزیشن والے عسکری اداروں پر لگا رہے تھے۔
    اب یہ بھی غلط کیا؟
     
  6. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,555
    ان کیسز پر بات کرنا بیکار ہے۔ کیونکہ پچھلے 9 ماہ سے حکومت، فوج اور عدلیہ ایک پیج پر ہونے کے باوجود صرف ملک ریاض سے 450 ارب روپے کی ریکوری کروانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ دیگر بڑے کرپشن کیسز میں ریکوری تو دور سزائیں تک عدالتیں سُنا نہیں پائی ہیں۔ ضمانت پر ضمانت، پیشی پہ پیشی ۔ یہ اس ملک کا احتسابی نظام ہے۔
    ان حالات میں یہ توقع رکھنا کے فوج میں ہونے والی کرپشن پر ہاتھ ڈالا جائے گا محض خام خیالی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ پہلے کرپٹ سیاست دانوں، بیروکریٹس اور ججوں سے تو نبڑلیں۔
     
  7. جان

    جان محفلین

    مراسلے:
    1,500
    اگر تحریک انصاف کو حقیقی معنوں میں سیاست کرنی آتی تو اسمبلی میں اپوزیشن کو سیاست کرنے کا موقع ہی نہیں ملنا تھا۔ دونوں ارکان اسمبلی کو پارلیمنٹ میں لا کر ان کی بات سنیں، یہی انصاف کا تقاضا ہے کہ دونوں موقف سامنے آنے چاہیئں نہ کہ صرف سٹیٹ (اسٹیبلشمنٹ) کا۔ اس سے باآسانی معاملہ ٹھنڈا کیا جا سکتا تھا، بندے بھی ان کے مرے اور کیس بھی ان پر چلا اور اس سے بڑھ کر یہ کہ پوری تحریک انصاف فوج کی چاپلوسی میں مصروف ہے۔ اگر آپ یہ سب کچھ نہیں بھی کر سکتے تو بھی کوئی بات نہیں لیکن کم از کم اپوزیشن کی بات سننے کا حوصلہ تو ہونا چاہیے وہ بھی بالکل نہیں، فاشزم اسے ہی کہتے ہیں کہ آپ ڈنڈے کی زور پر اپنی مرضی مسلط کرنا شروع کر دیں اور کوئی بات بھی نہ کرے۔
     
  8. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,555
    جب اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نیب کی تحویل میں تھے تو آئے روز ان کے پروڈکشن آرڈر جاری ہوتے۔ وہ اسمبلی آتے، نیب کے ادارہ کو گالیاں دیتے اور واپس چلے جاتے۔ اس دوران پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی صدارت بھی کرتے اور نیب کے افسران کو بلا کر ان کی تضحیک کرتے۔
    حکومت یہ تاریخ دہرانے کے موڈ میں نہیں ہے۔
     
  9. جان

    جان محفلین

    مراسلے:
    1,500
    حکومت اگر آزادی رائے کا حق دینے میں بھی اپنی توہین سمجھتی ہے تو پھر یقیناً تحریکِ انصاف فاشسٹ پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے۔
     
  10. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,555
    قومی اسمبلی کے ہر اجلاس میں پہلے اپوزیشن اراکین کو بولنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ وہ اپنی روایتی ٹر ٹر کر کے حکومتی اراکین کا موقف سنے بغیر احتجاج یا اسمبلی کا واک آؤٹ کر جاتے ہیں۔
    کل سپیکر اسمبلی اسد قیصر کی غیرموجودگی میں ڈپٹی سپیکر نے پہلے بولنے کا موقع حکومتی رکن کو دے دیا۔ جن کے پرجوش خطاب کی تاب نہ لا کر اپوزیشن ہتھے سے اکھڑ گئی۔ نتیجتاًاجلاس ملتوی کرنا پڑا۔ جسے باہر میڈیا میں آکر کیش کروایا گیا کہ حکومت فیشسٹ ہے۔
     
  11. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,555
    جس طرح شہباز شریف نے نیب کی تحویل میں جانے کے بعد قومی اسمبلی کو احتساب کے ادارہ کے خلاف بیان بازی کیلئے استعمال کیا تھا۔ ویسے ہی اپوزیشن چاہتی ہے کہ محسن داوڑ اور علی وزیر کو فوج کی تحویل سے نکال کر اسمبلی لایا جائے۔ جہاں یہ اپنی روایتی طرز پر فوج کے ادارہ کے خلاف بیان بازی کریں۔
    اگر ایسا کرنے سے ملک بہتری کی طرف جائے گا تو اپوزیشن کا یہ شوق بھی پورا کر دینا چاہئے۔
     
  12. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    13,779
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    دم مدار ، بیڑا پار
     
  13. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,555
     
  14. فرخ

    فرخ محفلین

    مراسلے:
    1,721
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Aggressive
    کیا یہ افسران سپریم کورٹ میں ان فیصلوں کو چیلنچ کر سکتے ہیں؟ میں نے سُنا تھا کہ فوجیوں کو اب کورٹ مارشل کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کا حق مل چُکا ہے۔۔۔۔
     
  15. عبدالقیوم چوہدری

    عبدالقیوم چوہدری محفلین

    مراسلے:
    16,559
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    ملٹری کورٹ مارشل کے خلاف پہلی اپیل کے لیے فوج کے اندر موجود JAG (جج ایڈووکیٹ جنرل) کی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر کوئی وہاں اپیل نہیں کرتا تو قانوناً پہلے وہ ہائی کورٹ میں اپنا مقدمہ لائے گا۔

    مزید برآں یہ کہ کسی بھی سرکاری ادارے کے متعلق کیس کی شنوائی پہلے ہائی کورٹ میں ہوتی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  16. آورکزئی

    آورکزئی محفلین

    مراسلے:
    91
    جو میں نے سنا اور پڑھا۔۔ امید ہے کہ وہ غلط ہوگا۔۔۔ اور دعا بھی یہی ہے۔۔۔
    سول افسر۔۔ ڈاکٹر کی بہت عرصہ قبل موت ہوچکی ہے۔۔۔ اور یہ دو فوجی افسران پاکستان میں نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1

اس صفحے کی تشہیر