لوگ بستی کے سدا یوں ہی رہا کرتے ہیں---برائے اصلاح

ارشد چوہدری نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 27, 2019

  1. ارشد چوہدری

    ارشد چوہدری محفلین

    مراسلے:
    1,772
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Brooding
    عمران سرگانی کی زمیں میں پاؤں رکھنے کی جسارت
    الف عین
    عظیم
    شاہد شاہنواز
    -----------
    فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
    -------------
    لوگ بستی کے سدا یوں ہی رہا کرتے ہیں
    پیار کرتے ہیں کسی سے تو وفا کرتے ہیں
    --------------
    دل سے نفرت کے چراغوں کو بجھانا ہو گا
    ------یا
    دل میں نفرت کے جو شعلے ہیں بجھا دو ان کو
    گھر تو ایسے ہی چراغوں سے جلا کرتے ہیں
    -------------
    خیر آتی ہے زمانے میں محبّت سے ہی
    کام الفت کی نگاہوں سے بنا کرتے ہیں
    -----------------
    مجھ سے کرتا ہے جو نیکی تو دعا دیتا ہوں
    رب کے بندے تو سدا ایسے ہی کیا کرتے ہیں
    ----------------
    آگ نفرت کی بجھا کر ہی محبّت ہو گی
    دل ہمیشہ ہی ملاتے سے ملا کرتے ہیں
    ---------------
    جان دینے سے کبھی ڈرتے نہیں دل والے
    عشق والے تو سدا یوں ہی جیا کرتے ہیں
    ------------
    اس کی ارشد کے سدا دل نے گواہی دی ہے
    دل کے رشتے تو نبانے سے نبھا کرتے ہیں
    ------------
     
  2. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,868
    لوگ بستی کے سدا یوں ہی رہا کرتے ہیں
    پیار کرتے ہیں کسی سے تو وفا کرتے ہیں
    -------------- کس بستی کے؟ کسی خاص علاقے کا ذکر ہونا چاہیے، مثلاً گاؤں وغیرہ

    دل سے نفرت کے چراغوں کو بجھانا ہو گا
    ------یا
    دل میں نفرت کے جو شعلے ہیں بجھا دو ان کو
    گھر تو ایسے ہی چراغوں سے جلا کرتے ہیں
    ------------- پہلے کا متبادل بہتر لگ رہا ہے، صرف دوسرے میں 'تو' بھرتی کا لگتا ہے۔ اس کی جگہ 'کچھ' استعمال کیا جا سکتا ہے

    خیر آتی ہے زمانے میں محبّت سے ہی
    کام الفت کی نگاہوں سے بنا کرتے ہیں
    ----------------- محبت سے ہی کی جگہ محبت ہی سے' بہتر ہو شاید
    'الفت کی نگاہ' کچھ عجیب لگ رہا ہے۔ کون سے کام ہیں اس کی بھی وضاحت ضروری لگتی ہے

    مجھ سے کرتا ہے جو نیکی تو دعا دیتا ہوں
    رب کے بندے تو سدا ایسے ہی کیا کرتے ہیں
    ---------------- پہلا مصرع اچھا ہے۔ دوسرے میں 'سدا ایسے ہی' کا ٹکڑا جچ نہیں رہا۔
    شاید 'یوں ہی' بہتر ہو، یا کچھ اور سوچیں

    آگ نفرت کی بجھا کر ہی محبّت ہو گی
    دل ہمیشہ ہی ملاتے سے ملا کرتے ہیں
    --------------- ملاتے؟ ٹائپو ہے شاید۔ باقی درست

    جان دینے سے کبھی ڈرتے نہیں دل والے
    عشق والے تو سدا یوں ہی جیا کرتے ہیں
    ------------ ٹھیک تو ہے لیکن دوسرے مصرع کے الفاظ اگر بدل سکیں تو بہتر ہے۔ 'تو سدا' کو پچھلے ایک دو اشعار میں بھی استعمال میں لایا گیا ہے

    اس کی ارشد کے سدا دل نے گواہی دی ہے
    دل کے رشتے تو نبانے سے نبھا کرتے ہیں
    ------------ نبانے؟ 'سدا' پچھلے اشعار میں بھی ایک دو بار آیا ہے۔ اس کو اگر بدلا جا سکے تو بہتر ہے۔
     
  3. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    611
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    رب کے بندے تو ہمیشہ یوں کیا کرتے ہیں
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 28, 2019
  4. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    611
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    خیال تو میرا ہے چلو آپ کی مدد کر دیتا ہوں

    سادگی سے جو بھلے لوگ رہا کرتے ہیں
    پیار کرتے ہیں کسی سے تو وفا کرتے ہیں
     
  5. ارشد چوہدری

    ارشد چوہدری محفلین

    مراسلے:
    1,772
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Brooding
    شکریہ۔ اچھے مصرعے ہیں
     
  6. ارشد چوہدری

    ارشد چوہدری محفلین

    مراسلے:
    1,772
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Brooding
    الف عین
    عظیم
    ( تصحیح کے بعد )
    غم چھپا کر وہ زمانے سے جیا کرتے ہیں
    پیار کرتے ہیں کسی سے تو وفا کرتے ہیں
    -----------
    دل میں نفرت کے جو شعلے ہیں بجھا دو ان کو
    گھر کچھ ایسے ہی چراغوں سے جلا کرتے ہیں
    -------------
    خیر آتی ہے زمانے میں محبّت ہی سے
    کام بگھڑے بھی محبّت سے بنا کرتے ہیں
    -------------
    مجھ سے کرتا ہے جو نیکی تو دعا دیتا ہوں
    رب کے بندے تو ہمیشہ یوں ہی کیا کرتے ہیں
    ----------------
    آگ نفرت کی بجھا کر ہی محبّت ہو گی
    دل ہمیشہ ہی ملانے سے ملا کرتے ہیں
    ---------------
    جان دینے سے کبھی ڈرتے نہیں دل والے
    عشق والے تو وفا کر کے جیا کرتے ہیں
    ------------
    اس کی ارشد کے سدا دل نے گواہی دی ہے
    دل کے رشتے تو نبھانے سے نبھا کرتے ہیں
    ---------
     
  7. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,482
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    غم چھپا کر وہ زمانے سے جیا کرتے ہیں
    پیار کرتے ہیں کسی سے تو وفا کرتے ہیں
    .. کون؟

    دل میں نفرت کے جو شعلے ہیں بجھا دو ان کو
    گھر تو ایسے ہی چراغوں سے جلا کرتے ہیں
    ... اس سے لگتا ہے کہ گھر جلنا مثبت بات ہے، جیسے کہیں 'گھر روشن ہوتے ہیں' ۔ میرے خیال میں 'تو' نکالنے کے علاوہ بھی جلا کی جگہ 'جل جایا' ہونا چاہیے یعنی مصرع ایسا ہو کہ ایسی نثر بنے کہ 'ایسے چراغوں سے گھر جل جایا کرتے ہیں'

    خیر آتی ہے زمانے میں محبّت ہی سے
    کام بگھڑے بھی محبّت سے بنا کرتے ہیں
    ------------- بگڑے؟ یہاں بھی عجز بیان ہے۔ شاید یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ کام بگڑ بھی جائے تو محبت سے بن جایا کرتے ہیں

    مجھ سے کرتا ہے جو نیکی تو دعا دیتا ہوں
    رب کے بندے تو ہمیشہ یوں ہی کیا کرتے ہیں
    -------- عظیم نے 'کیا' پر غور نہیں کیا؟ یہاں اسی کِ یَ ا کا محل ہے، کیا سوالیہ کا نہیں جس میں ی تقطیع میں شامل نہ ہو
    باقی اشعار ٹھیک لگ رہے ہیں
     
  8. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,868
    جی بابا
    میرا مشورہ 'تو سدا یوں ہی' کے ساتھ تھا۔ جو شاید ارشد چوہدری بھائی کو واضح نہیں کر سکا۔
     

اس صفحے کی تشہیر