لوڈ شیڈنگ سے نجات کے راستے ؟؟؟

مجھے ہر وقت یہ خیال آتا ہے پر اب تک کوئی ایسا فیصلہ نہین کر پایا ۔ پاکستان میں اگر 5 کمروں کے ایک گھر کو 24 گھنٹے بجلی دینی ہو تو کیا بہترین آپشنز ہیں ؟ آخر کس طرح اس گھر کے 5 انرجی سیورس ایک روم میں پنکھا ٹی وی اور ہر چیز 24 گھنٹے روشن رہے ۔ مطلب ایک بیڈ روم جس کی بجلی بند نا ہو جیسے ہی بجلی جائے آٹو میٹک بیک اپ کام کرنا شروع کر دے جنریٹر کی طرح جا کر اسٹارٹ نا کرنا پڑے نا ہی کوئی اور بات بیک اپ مطلب بیک اپ اور چالو رہے ۔ ۔ میرے دماگ میں ایا ملٹی یو پی ایس والا آئیدیا مطلب 5 یو پی ایس یا سولر پینلز لگوا لیے جائیں ؟ 17 کروڑ آبادی میں لاکھوں لوگ ہوں گے بھائی جن کی بجلی بند نہیں ہوتی ہو گی آخر ۔ کوئی آئیڈیاز دے کر ثواب دارین حاصل کریں اور اپنے تجربات بھی بتائیں اور ہاں قیمت بھی مثلا 5 لاکھ روپے ایک بار لگا کر یا 3 لاکھ روپے ایک ساتھ لگا کر اس معاملے سے جان چھڑائی جا سکتی ہے ؟:rolleyes:

ساجد بھائی
پردیسی پا جی
سولر پینل کا آئیڈیا بہت مہنگا ہے۔ اور یو پی ایس کی بیٹریز کو آخر چارج ہونے کے لیے بھی مخصوص وقت درکار ہے جو کبھی کبھی تو بھول جائیں۔ البتہ جنریٹر میں جدت بھی ہے کم خرچ بھی اور آسانی بھی۔ سیلف اسٹارٹ جو کے رسی کھینچنے کے بجائے ایک بٹن سے آن ہو جاتا ہے کو بھی ایک آٹو آن آف کرنے والا آپریٹنگ سسٹم ملتا ہے جنریٹرز کے لیے جس کے لیے مجھے ایک وینڈر نے پچھلے سال چالیس سے پچاس ہزار کا خرچ بتایا تھا۔ بس 8 کے وی تک کا جنریٹر لیں، گیس پہ چلائیں اب تو گیس کی کمی پوری کرنے کے لیے گیس کے سٹیبلائیزرز بھی مارکیٹ میں موجود ہیں جو گیس سَک کر کے اس کا پریشر بڑھاتے ہیں اور بجلی پہ چلتے ہیں۔ جنریٹر چلانے اور بند کرنے کے لیے اٹھ کر جانے والی بات پرانی ہو چکی پر ہے سستی۔ یاد رکھیے اگر آپ کے گھر کا خرچ یا خرچ کا ارادہ 1 کے وی کا ہے تو جنریٹر 2 سے 3 کے وی کا لیجیے گا، تاکہ ہمیشہ آسانی رہے۔
 

عسکری

معطل
سولر پینل کا آئیڈیا بہت مہنگا ہے۔ اور یو پی ایس کی بیٹریز کو آخر چارج ہونے کے لیے بھی مخصوص وقت درکار ہے جو کبھی کبھی تو بھول جائیں۔ البتہ جنریٹر میں جدت بھی ہے کم خرچ بھی اور آسانی بھی۔ سیلف اسٹارٹ جو کے رسی کھینچنے کے بجائے ایک بٹن سے آن ہو جاتا ہے کو بھی ایک آٹو آن آف کرنے والا آپریٹنگ سسٹم ملتا ہے جنریٹرز کے لیے جس کے لیے مجھے ایک وینڈر نے پچھلے سال چالیس سے پچاس ہزار کا خرچ بتایا تھا۔ بس 8 کے وی تک کا جنریٹر لیں، گیس پہ چلائیں اب تو گیس کی کمی پوری کرنے کے لیے گیس کے سٹیبلائیزرز بھی مارکیٹ میں موجود ہیں جو گیس سَک کر کے اس کا پریشر بڑھاتے ہیں اور بجلی پہ چلتے ہیں۔ جنریٹر چلانے اور بند کرنے کے لیے اٹھ کر جانے والی بات پرانی ہو چکی پر ہے سستی۔ یاد رکھیے اگر آپ کے گھر کا خرچ یا خرچ کا ارادہ 1 کے وی کا ہے تو جنریٹر 2 سے 3 کے وی کا لیجیے گا، تاکہ ہمیشہ آسانی رہے۔
مطلب جنریٹر خود چل جاتے ہیں اور وہ جو چیزیں میں نے بتائی ہیں مطلب 5 سے 7 انرجی سیور 20 واٹ والے ایک پنکھا ایک 32 انچ کا ایل ای ڈی لیپ ٹاپ یہ کتنی پاور لیتے ہیں ؟
 

نایاب

لائبریرین
اور نایاب بھائی وولٹس اور واٹ ہمیں سمجھ نہیں آتے پلیز آسان الفاظ میں سمجھا دیں کہ کیا کچھ کتنے گھنٹے چلایا جا سکتا ہے میرے لیے 5 یا 7 انریج سیورز ایک پنکھا ایک ٹی وی ایک لیپ ٹاپ ہی کافی ہے اگر 24 گھنٹے چلے تب

پانچ لاکھ خرچتے تو ان کے ساتھ ساتھ ڈش انٹینا ریسیور موبائل چارجرز بھی چل سکتا ہے ۔ 24 گھنٹے ۔۔۔ تھوڑا سا وقت دیں میں مفصل لسٹ و نقشہ تحریر کر دوں گا ۔ یاد رہے کہ اس سسٹم کے استعمال کے لیئے بنیادی شرط کم از کم چھ گھنٹے سورج کی شعاؤں کا ملنا لازم امر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

عسکری

معطل
پانچ لاکھ خرچتے تو ان کے ساتھ ساتھ ڈش انٹینا ریسیور موبائل چارجرز بھی چل سکتا ہے ۔ 24 گھنٹے ۔۔۔ تھوڑا سا وقت دیں میں مفصل لسٹ و نقشہ تحریر کر دوں گا ۔ یاد رہے کہ اس سسٹم کے استعمال کے لیئے بنیادی شرط کم از کم چھ گھنٹے سورج کی شعاؤں کا ملنا لازم امر ہے ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔
جی بالکل اور میں ایکسٹرا پاور بیک اپ اسی لیے چاہتا ہوں کہ کبھی ایسا نا ہو کہ لو جی بجلی نہیں اور جب سورج نہیں ہو گا تب تو ہم میاں بیوی باہر گارڈن جا بیٹھیں گے نا ;) تب بجلی ہو یا نا ہو کوئی پرابلم نہین :biggrin:
 

نایاب

لائبریرین
سولر پینل کا آئیڈیا بہت مہنگا ہے۔ اور یو پی ایس کی بیٹریز کو آخر چارج ہونے کے لیے بھی مخصوص وقت درکار ہے جو کبھی کبھی تو بھول جائیں۔ البتہ جنریٹر میں جدت بھی ہے کم خرچ بھی اور آسانی بھی۔ سیلف اسٹارٹ جو کے رسی کھینچنے کے بجائے ایک بٹن سے آن ہو جاتا ہے کو بھی ایک آٹو آن آف کرنے والا آپریٹنگ سسٹم ملتا ہے جنریٹرز کے لیے جس کے لیے مجھے ایک وینڈر نے پچھلے سال چالیس سے پچاس ہزار کا خرچ بتایا تھا۔ بس 8 کے وی تک کا جنریٹر لیں، گیس پہ چلائیں اب تو گیس کی کمی پوری کرنے کے لیے گیس کے سٹیبلائیزرز بھی مارکیٹ میں موجود ہیں جو گیس سَک کر کے اس کا پریشر بڑھاتے ہیں اور بجلی پہ چلتے ہیں۔ جنریٹر چلانے اور بند کرنے کے لیے اٹھ کر جانے والی بات پرانی ہو چکی پر ہے سستی۔ یاد رکھیے اگر آپ کے گھر کا خرچ یا خرچ کا ارادہ 1 کے وی کا ہے تو جنریٹر 2 سے 3 کے وی کا لیجیے گا، تاکہ ہمیشہ آسانی رہے۔

کل ہی یہ خبر سنی کہ پاکستان میں گیس سے جنریٹر چلانا جرم قرار دیتے 10 ہزار سے 50 ہزار روپیہ جرمانہ اور گیس کنکشن منقطع کرنا سزا رکھی گئی ہے ۔۔۔۔؟
 

عسکری

معطل
کل ہی یہ خبر سنی کہ پاکستان میں گیس سے جنریٹر چلانا جرم قرار دیتے 10 ہزار سے 50 ہزار روپیہ جرمانہ اور گیس کنکشن منقطع کرنا سزا رکھی گئی ہے ۔۔۔ ۔؟
اسی لیے میں کہہ رہا ہوں انڈیپینڈنٹ حکومت کی محتاجی نا ہو بے شک شیطان کی محتاجی ہو جائے میں نے ہاتھ دھو لیے ان سیاسی بکواسوں سے کئی سال پہلے ہی ۔ اس لیے بجلی کسی بھی اور زرائع سے ہو پر تیل گیس یا حکومتی بجلی پر انحسار ن اہو ہمارے علاقے میں سورج سارا سال رہتا ہے
 
مطلب جنریٹر خود چل جاتے ہیں اور وہ جو چیزیں میں نے بتائی ہیں مطلب 5 سے 7 انرجی سیور 20 واٹ والے ایک پنکھا ایک 32 انچ کا ایل ای ڈی لیپ ٹاپ یہ کتنی پاور لیتے ہیں ؟
جی جنریٹر خود آن اور خود ہی آف ہو جاتا ہے۔ اور جتنا خرچ آپ بتا رہے ہیں وہ تو بہت آسانی سے 2 کے وی میں پورا ہو سکتا ہے۔ ایک "کے وی" میں 1000 واٹ ہوتے ہیں اور ایک نارمل سے بڑا انرجی سیور 14 سے 36واٹ کا ہوتا ہے۔

میرے کراچی والے گھر میں 2 کے وی کا چائینا کا جنریٹر ہے جو کہ گیس سے چلتا ہے اور پچھلے ڈیڑھ سال سے گھر کے دو پورشنز کی لائٹس، 2 چھت والے پنکھے پرواز فین، ایک یونس پیڈسٹل فین اور ایک میرا گھر والا ورک اسٹیشن کمپیوٹر Compaq W8000 Evo جسے جاننے والے "بلا" کہتے ہیں 19 انچ ایل سی ڈی کے ساتھ آرام سے چلتا ہے۔ بس آٹو سسٹم نہیں اس میں بلکہ خود آن کرنا پڑتا ہے آپ لگوا لیجیے گا آٹو والا سسٹم۔ اور ساتھ گیس پریشر ریگولیٹر بھی۔
 
کل ہی یہ خبر سنی کہ پاکستان میں گیس سے جنریٹر چلانا جرم قرار دیتے 10 ہزار سے 50 ہزار روپیہ جرمانہ اور گیس کنکشن منقطع کرنا سزا رکھی گئی ہے ۔۔۔ ۔؟
آپ نے پھر تو یہ خبر بھی سن رکھی ہو گی کہ بجلی چلانے کے لیے میٹر ضروری ہے اور ہر ماہ بل بھی ادا کرنا پڑے گا؟؟ اور اسی طرح گیس کا بھی؟؟ :)
 

عسکری

معطل
جناب میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں بہت آگے کی سوچنے کا مریض ہوں ۔ میں نے گھر کے لیے ہر چیز 25 سال تک کی سوچی اور پلان کی ہے ۔ ایک ہی بار پیسے خرچنا مجھے بہت اچھا لگتا ہے لیکن پھر چیز بن جانی چاہیے ۔ میں 100 جوتے 100 پیاز کھانے کی بجائے ایک چیز کھا لوں گا ۔ مجھے جگاڑو یا ایسا بیک اپ نہیں چاہیے جو جینا عزاب رکھے صرف جنریٹر کو چلانے کا ہی بتا دوں تو یہ ٹھیک نہین کہ رات کو سو رہے ہین اور اٹھ کر جاؤ چلاؤ بند کرو ۔ اسی طرح تیل خریدو یا حکومتی گیس پر بھروسہ کرو ۔ ہماری ابادی خطرناک رفتار سے بڑھ رہی ہے اور اگلے چند سالوں میں گیس کا ستیاناس مار دیا جائے گا فکر نا کریں اوپر سے ہماری اخلاقی حالت یہ ہے کہ بل دینا اب جرم بنتا جا رہا ہے ۔ ادارے ناکام ہو رہے ہین اور گورمنٹس بھی اب جگاڑو ہیں ڈیم ہم بناتے نہین نا ہی ہمارے پاس پیسا ہے اور ہم بالکل بری حالت میں ا چکے ہیں ۔ ایسے میں مجھے اپنے لیے ایک ایسا سسٹم تیار کرانا تھا کہ میں میٹر نا لگواؤں پر اب اس میں ترمیم کر دی گئی ہے اب ایک ایسابیک اپ چاہیے کہ روٹی کھاتے ہوئے ہاتھ نا رکے کہ جیسے پتا بھی نا چلے بجلی گئی ۔ اسی طرح کمپیوٹر ٹی وی پنکھا لائٹس سارا دن چلتی رہیں چاہے واپڈا سارا کہین جا مرے میری بلا سے۔میں ایک روم ایسا بنانا چاہتا ہوں جس میں کبھی بجلی نا جائے ۔ بیک اپ کے لیے ایک روم بنا دوں گا چھوٹا سا جس میں بیک اپ سسٹم سیٹ کیاجائے مجھے بالکل کلین اور سیٹ چیزیں چاہیے نا کہ تاریں بکھری ہوں سوئچ ادھر ادھر ہوں اور جگاڑ لگے ہوں جو چند مہنے بعد ٹھس ہو جائیں ۔گھر مین گھومتے ہوئے یہ محسوس ہی نا ہو کہ پاور کہاں سے آ رہی ہے ۔شور شرابہ اور دھم دھم بالکل نہیں ۔ اب شاید آپ میرا مدعا سمجھ گئے ہوں گے ایک بیڈ روم 24 گھنٹے بجلی والا اور 4 مزید لائٹس جو راستے باتھ روم کچن کو روشن رکھیں 24 گھنٹے کئی سال تک کم از کم 10 زیادہ سے زیادہ 25 ۔
میں ایک مثالی بیک اپ چاہتا ہوں لانگ لائف ۔
 

عسکری

معطل
میں کچھ اس طرح کا پاور روم بنانا چاہتا ہوں ۔ اور اس مین سوائے میرے کوئی نہیں جائے گا
russell-batteries1.jpg
 

فاتح

لائبریرین
کراچی اور اسلام آباد میں چونکہ ہوا کی رفتار اوسطاً 6 تا 7 میل فی گھنٹہ ہوتی ہے لہٰذا یہاں ونڈ ٹربائنز لگائی جا سکتی ہیں جب کہ پنجاب کے علاقوں میں سولر پینل اچھا سلوشن ہے لیکن سولر پینل صرف سورج کی روشنی میں ہی کام کرتے ہیں اور ان کے ساتھ بڑی اور ایک سے زائد بیٹریاں لگائی جا سکتی ہیں جنھیں دن کو فل چارج کیا جائے تا کہ رات کے وقت بجلی منقطع نہ ہو۔
 
جناب میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں بہت آگے کی سوچنے کا مریض ہوں ۔ میں نے گھر کے لیے ہر چیز 25 سال تک کی سوچی اور پلان کی ہے ۔ ایک ہی بار پیسے خرچنا مجھے بہت اچھا لگتا ہے لیکن پھر چیز بن جانی چاہیے ۔ میں 100 جوتے 100 پیاز کھانے کی بجائے ایک چیز کھا لوں گا ۔ مجھے جگاڑو یا ایسا بیک اپ نہیں چاہیے جو جینا عزاب رکھے صرف جنریٹر کو چلانے کا ہی بتا دوں تو یہ ٹھیک نہین کہ رات کو سو رہے ہین اور اٹھ کر جاؤ چلاؤ بند کرو ۔ اسی طرح تیل خریدو یا حکومتی گیس پر بھروسہ کرو ۔ ہماری ابادی خطرناک رفتار سے بڑھ رہی ہے اور اگلے چند سالوں میں گیس کا ستیاناس مار دیا جائے گا فکر نا کریں اوپر سے ہماری اخلاقی حالت یہ ہے کہ بل دینا اب جرم بنتا جا رہا ہے ۔ ادارے ناکام ہو رہے ہین اور گورمنٹس بھی اب جگاڑو ہیں ڈیم ہم بناتے نہین نا ہی ہمارے پاس پیسا ہے اور ہم بالکل بری حالت میں ا چکے ہیں ۔ ایسے میں مجھے اپنے لیے ایک ایسا سسٹم تیار کرانا تھا کہ میں میٹر نا لگواؤں پر اب اس میں ترمیم کر دی گئی ہے اب ایک ایسابیک اپ چاہیے کہ روٹی کھاتے ہوئے ہاتھ نا رکے کہ جیسے پتا بھی نا چلے بجلی گئی ۔ اسی طرح کمپیوٹر ٹی وی پنکھا لائٹس سارا دن چلتی رہیں چاہے واپڈا سارا کہین جا مرے میری بلا سے۔میں ایک روم ایسا بنانا چاہتا ہوں جس میں کبھی بجلی نا جائے ۔ بیک اپ کے لیے ایک روم بنا دوں گا چھوٹا سا جس میں بیک اپ سسٹم سیٹ کیاجائے مجھے بالکل کلین اور سیٹ چیزیں چاہیے نا کہ تاریں بکھری ہوں سوئچ ادھر ادھر ہوں اور جگاڑ لگے ہوں جو چند مہنے بعد ٹھس ہو جائیں ۔گھر مین گھومتے ہوئے یہ محسوس ہی نا ہو کہ پاور کہاں سے آ رہی ہے ۔شور شرابہ اور دھم دھم بالکل نہیں ۔ اب شاید آپ میرا مدعا سمجھ گئے ہوں گے ایک بیڈ روم 24 گھنٹے بجلی والا اور 4 مزید لائٹس جو راستے باتھ روم کچن کو روشن رکھیں 24 گھنٹے کئی سال تک کم از کم 10 زیادہ سے زیادہ 25 ۔
میں ایک مثالی بیک اپ چاہتا ہوں لانگ لائف ۔
ایک گھر کی پاور کے لیے 25 سال تو کیا 5 10 سال کی منصوبہ بندی بھی کہیں سے عقل مندی نہیں ہو گی کیونکہ نت نئی ایجادات ہو رہی ہیں ہو سکتا ہے کل کو انہی میں سے کچھ بہت سستا ہو جائے یا بہت بہتر ہو جائے یا کوئی بہترین نظام پیدا کر لیا جائے تب تک 3 یا 4 سال کی منصوبہ بندی سے ہی کام چلا لیں۔
 

پردیسی

محفلین
12 وولٹ 150 امپئیر کی دس بیٹریاں 18ہزار واٹ چھ گھنٹے مسلسل استعمال کے لیئے ذخیرہ کر سکتی ہیں ۔ بشرطیکہ سولر پینلز کو کم از کم چھ گھنٹے سورج کی شعاعیں براہ راست میسر رہیں ۔ اور ڈی سی ٹو اسے اسی کنورٹر کے ذریعے 220 وولٹ پر قریب 75 امپیئر کرنٹ چھ گھنٹے تک مسلسل فراہم کر سکتی ہیں ۔ اس میں 20 فی صد کمی کا امکان سولر پینل ۔ بیٹری ۔ کنورٹر اور لوڈ کے درمیانی فاصلے وائرنگ پر منحصر ہے ۔ اب تو مارکیٹ میں یہاں 12 وولٹ کے انرجی سیورز ۔ فریج ۔ مکیف صحراوی آ گئے ہیں جن سے بیٹریوں کے خرچ کا دورانیہ کافی بڑھ گیا ہے ۔
بھرا عسکری ۔۔۔آپ ابھی پاکستان آئے بھی نہیں اور ادھر اے سی مں بیٹھ کر یہاں کی بجلی کے بارے میں سوچ سوچ کر پریشان بلکہ ہلکان ہوئے جاتے ہیں۔۔اور ایک ہم ہیں کہ سولہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں مبتلا ہیں۔۔۔۔
نایاب بھائی نے جو معلومات مہیا کی ہیں وہ بالکل درست ہیں اور میرے نزدیک یہ سب سے بہتر اور آسان حل ہے۔۔۔
میں نے بھی کچھ دن پہلے اسی سللے میں معلومات حاصل کی ہیں۔دوکاندار کے مطابق 60 واٹ کا سولر پینل 12 واٹ کے چار انرجی سیور،دو پنکھے مسلسل چلائے رکھے گا۔یعنی دن کی روشنی میں وہ بغیر بیٹری کے بجلی مہیا کرے گا۔اور اندھیرے میں مسلسل سات گھنٹے تک سورج کی روشنی سے جمع کی گئی بجلی کو بیٹری کے زریعہ سے مہیا کرے گا۔
ڈرائی بیٹری کی گارنٹی اور معیاد پانچ سال بتائی گئی ہے۔جبکہ سولر پینل کی گارنٹی ایک سال اور معیاد 25 سے 30 سال بتائی گئی ہے۔۔۔اگر کوئی اسے توڑے نا تو ۔۔۔
اس کا کل خرچہ جو آرہا تھا وہ انہوں نے 27000 ہزار روپے بتایا تھا۔۔۔میرے 22000 ہزار روپے لگانے پر اس نے چڑ کر مجھے انکار کر دیا اور کہنے لگا باؤ جی نکلو۔۔۔اہیہ کوئی لوٹیاں دی دکان نہی ۔۔۔:eek: کیونکہ اس نے مجھے بریفنگ دینے میں آدھ گھنٹہ لگایا تھا :)
اب میں نے جو نتیجہ نکالا ہے وہ یہ کہ اس سولر پینل کے مقابلے میں یو پی ایس بہت مہنگا اور بیکار ۔۔۔ مہنگا اس لئے کہ سال بعد بیٹریاں تبدیل کرو ۔۔۔ اور بجلی بھرنے کا بل بھی بھرو۔۔۔ اس لئے یو پی ایس بیکار
جنریٹر ۔۔۔ بالکل بیکار ،،، پٹرول اور ڈیزل کا مہنگا خرچہ ۔۔۔ سوئی گیس سے چلانا منع کر دیا گیا۔۔یعنی جرمانہ اور قید۔۔۔شور علیحدہ ۔۔۔ اس لئے یہ بھی بیکار

صرف سولر پینل زندہ باد
بڑا لگائیں تو ڈیڑھ سے ساٹھے تین لاکھ کا خرچہ۔۔۔ پورا گھر چلائیں
 

طالوت

محفلین
کل ہی یہ خبر سنی کہ پاکستان میں گیس سے جنریٹر چلانا جرم قرار دیتے 10 ہزار سے 50 ہزار روپیہ جرمانہ اور گیس کنکشن منقطع کرنا سزا رکھی گئی ہے ۔۔۔ ۔؟
ممکن ہے ، سی این جی میں ساری گیس اڑا کر اب انھیں ہوش آ رہا ہے ۔

جنریٹر کا شور سب سے بڑا اور نا حل ہونے والا مسئلہ ہے اور پھر اگر سبھی گیس پریشر بڑھانے کے چکر میں پڑ گئے تو پریشر تو کسی کسی کو ہی ملے گا مگر کھانا بنانا شاید بڑا مسئلہ بن جائے، میرے خیال میں اگر جیب اجازت دیتی ہو تو سولر پینل یا علاقائی موسمی حالات کے حساب سے ہوائی ذریعے سے بجلی حاصل کرنا سب سے بہتر ہے۔
 

باباجی

محفلین
یار عسکری
5لاکھ میں بہترین 30KVA کا جنریٹر آجاتا ہے ، ہم نے اپنے آفس میں لگوایا ہے
ڈائریکٹ گیس پر اسٹارٹ ہوتا ہے ، ریلے لگایا ہوا ہے جس کی وجہ آٹو اسٹارٹ اور آف ہوتا ہے
ڈیڑھ ٹن کے پانچ اسپلٹ اے سی اور 9 کمپیوٹر، 40 انرجی سیورز، فریج وغیرہ آرام سے چلتےہیں
کار کے انجن کا جنریٹر ہے
اسلیئے نو ٹینشن
ups کو ایک گھنٹہ چلنے کے بعد 3 گھنٹے چارجنگ ٹائم چاہیئے ہوتا ہے جو آجکل پاکستان میں ممکن نہیں
اور سولر پینل کی اب تک کوئی فول پروف ٹیکنولوجی پاکستان میں دستیاب نہیں ہے ، میرے ایک جاننے والے ہیں جو کہتےہیں ان کے پاس سب سے اچھی ٹیکنولوجی ہے لیکن مہنگی بہت ہے
450 روپے واٹ دے رہے ہیں
 

فاتح

لائبریرین
شمسسی توانائی سے بجلی کہنے کو تو مفت ہے لیکن اس کے حصول میں سولر پینل، چارج کنٹرولر، انورٹر اور مینٹیننس کا خرچ ملا کر اس سے حاصل کردہ بجلی کی فی یونٹ قیمت کسی بھی دوسرے ذریعے سے حاصل کردہ بجلی سے تقریباً دو گنا ہے۔ لہٰذا شمسی توانائی سے بجلی بنا کر استعمال کرنا سستا طریقہ بہرحال نہیں ہے، ہاں! پاکستان کے حالات میں جہاں بجلی آتی ہی نہ ہو وہاں اسے قدرے مہنگے متبادل طریق کے طور پر ضرور استعمال کیا جا سکتا ہے۔
 

ساجد

محفلین
احباب اپنی اپنی رائے دے چکے ہوں تو بندہ بھی کچھ عرض کرے گا۔ ایسی معروضات ہوں گی کہ چراغوں میں روشنی نہ رہے گی۔:)
 
مجھے ہر وقت یہ خیال آتا ہے پر اب تک کوئی ایسا فیصلہ نہین کر پایا ۔ پاکستان میں اگر 5 کمروں کے ایک گھر کو 24 گھنٹے بجلی دینی ہو تو کیا بہترین آپشنز ہیں ؟ آخر کس طرح اس گھر کے 5 انرجی سیورس ایک روم میں پنکھا ٹی وی اور ہر چیز 24 گھنٹے روشن رہے ۔ مطلب ایک بیڈ روم جس کی بجلی بند نا ہو جیسے ہی بجلی جائے آٹو میٹک بیک اپ کام کرنا شروع کر دے جنریٹر کی طرح جا کر اسٹارٹ نا کرنا پڑے نا ہی کوئی اور بات بیک اپ مطلب بیک اپ اور چالو رہے ۔ ۔ میرے دماگ میں ایا ملٹی یو پی ایس والا آئیدیا مطلب 5 یو پی ایس یا سولر پینلز لگوا لیے جائیں ؟ 17 کروڑ آبادی میں لاکھوں لوگ ہوں گے بھائی جن کی بجلی بند نہیں ہوتی ہو گی آخر ۔ کوئی آئیڈیاز دے کر ثواب دارین حاصل کریں اور اپنے تجربات بھی بتائیں اور ہاں قیمت بھی مثلا 5 لاکھ روپے ایک بار لگا کر یا 3 لاکھ روپے ایک ساتھ لگا کر اس معاملے سے جان چھڑائی جا سکتی ہے ؟:rolleyes:

ساجد بھائی
پردیسی پا جی
یار آپ کوئی یوپی ایس لے لیں۔
بیک اپ بیٹری فرانس کی لیجیے گا۔ وہی جو ٹیلیفون ایکسچینج میں استعمال ہوتی ہیں۔
سولر پینل خاصا مہنگا سودا ہے۔۔ اور جنریٹر کا شور۔۔۔۔۔۔۔۔ اففففف
 
Top