لت لگ گئی۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔

بھلکڑ

لائبریرین
ایک بچے کو مچھروں نے بہت تنگ کیا تو وہ صحن سے اٹھ کر کمرے کے اندر چلا گیا۔ اتفاق سے ایک جگنو بھی کمرے کے اندر آ گیا۔ بچے نے دیکھا تو غصے سے کہا، کہنے لگا، کم بخت، یہاں بھی آ گیا، ٹارچ لے کر مجھے ڈھونڈ رہا ہے۔
یہ تو خیر بچے کی سادہ لوحی تھی کہ جگنو کو مچھر سمجھا لیکن پاکستان میں نگران حکومت کچھ ایسی بنی ہے کہ جگنو والا لطیفہ سچ ہو گیا ہے۔ پرویز اشرف کی حکومت گئی تو اپنی دانست میں سب کچھ تباہ کر گئی اور ہر شے لوٹ کر لے گئی۔ اربوں کھربوں کی لوٹ مار تو خیر معمول کی مشق تھی۔ اخبارات میں یہ تک چھپا کہ پرویز اشرف جاتے جاتے دفتر میں بھی جھاڑو پھیر گیا اور فیکس مشین تک لے گیا۔ فیکس مشین چند ہزار روپے کی آتی ہے، جو اربوں کھربوں لوٹ چکے ان کے لئے چند ہزار روپے کو چیز تو ’’ککّھ کانے‘‘ سے بھی زیادہ اہم نہیں ہونی چاہیے لیکن کیا کیجئے، عادت بری شے ہے۔ فیکس مشین تو پھر بھی کئی ہزار روپے کی تھی، یہ موصوف تو ایسے تھے کہ دفتر میں پڑے گلاس کپ بھی کہاں چھوڑے ہوں گے۔پنسل اور اس کا شارپنر تک لے گئے ہوں گے۔

تو کہنے کا مطلب یہ تھا کہ اپنی دانست میں تو رینٹل گینگ سب کچھ صاف کر گیا۔ لیکن بہرحال تھے تو یہ سب بندہ بشر، جن سے خطا ہو ہی جاتی ہے۔ ممکن ہے بھول چوک سے کچھ چھوڑ گئے ہوں۔ کئی اشیاء ایسی ہوں گی جو لٹنے سے بچ گئی ہوں گی اور کئی معاملات ایسے ہوں گے جو تباہ ہوتے ہوتے رہ گئے یا پوری طرح تباہ نہیں ہو سکے ہوں گے۔ بس یہ85 سالہ ’’جگنوؤں‘‘ کی ٹیم انہی بچ جانے والی چیزوں اور معاملوں کو ٹارچ کی مدد سے تلاش کررہی ہے ۔ اسی لئے تو ان کے آتے ہی پہلے سے مچا ہوا اندھیر اور بھی گھپ ہو گیا، یعنی اندھیر پر اندھیر پڑ گیا۔ خدا کی پناہ، ملک مسلسل دس دس گھنٹے کے اندھیرے میں ڈوبا رہتا ہے۔ 85سالہ بابے نے اپنی پارٹی کی روایت کی پاسداری کی اور تین دنوں میں دو بار اس کا نوٹس لیا۔ ملتان والا جب اس کرسی پر تھا تو وہ بھی ہفتے میں چار بار لوڈشیڈنگ کانوٹس لیتا تھا، پھر وہ گوجرخان والا آیا تو اس نے بھی یہ رسم نبھائی۔ چھٹے سال میں پیپلزپارٹی کا یہ تیسرا انڈر ٹیکر ہے جو یہ رسم نبھا رہا ہے۔

کیئر ٹیکر ایسی اصطلاح تھی جو اب تک رسوائی سے بچی ہوئی تھی، اب یہ بھی داغدار ہوئی۔ ملاحظہ فرمائیے، سندھ کی نگران حکومت کے اجلاس کی صدارت زرداری نے کی۔ آئین اور الیکشن کمیشن کے کس ضابطے کی رو سے؟ الیکشن کمشن نے کوئی نوٹس لیا؟ ظاہر ہے کہ نہیں لیا اور لے بھی نہیں سکتا، اس لئے کہ الیکشن کمیشن کا 85سالہ گھنٹال بھی تو اسی قبیلے کا ہے، وہ کیوں نوٹس لے گا۔
اور ابھی اخبار نے خبر دی ہے کہ لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کیلئے رواں ہفتے 11ارب روپے جاری کئے گئے تھے۔ اخبار نے یہ خبر نہیں دی کہ یہ 11 ارب کہاں گئے۔ لوڈشیڈنگ تو اوپر ہی اوپر جا رہی ہے۔ ضرور یہ11ارب بھی اسی بڑے پیٹ میں گئے جہاں ایسے ہزاروں لقمے پہلے ہی جا چکے ہیں۔
یا خدا، یہ کتنا بڑا پیٹ ہے، لگتا ہے ساتوں برّاعظم اور چھ کے چھ سمندر بھی اس میں پہنچ جائیں ، یہ تب بھی نہیں بھرے گا۔



بک فیس
 

عسکری

معطل
پیسے ایشو نہین ہوئے اور 11 ارب نہیں 20 ارب جس کا فیول خریدا جائے گا اور فیول کوئی سامنے والے کھوکھے سے نہیں کویت یا سعودی سے آتے آتے ٹائم لگے گا :cautious:
 

مہ جبین

محفلین
ان بے لگام لٹیروں کو کوئی لگام ڈالنے والا ہے ؟؟؟؟؟ :shock:
دور دور تک گھپ اندھیرا ہے :( پھر بھی امید کے دیے روشن کرکے اچھے دنوں کی آس لگاتے ہیں ۔۔۔۔۔ ہم عوام بھی کتنے سادہ ہیں نا :eek:
 

شمشاد

لائبریرین
ان سبکو اپنا مرنا اور حساب دینا بالکل بھولا ہوا ہے۔
یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیشہ ایسا ہی رہے گا۔ ہمیشہ ہی لوٹتے رہیں گے۔
نہیں جانتے کہ اللہ کے ہاں دیر تو ہے لیکن اندھیر بالکل بھی نہیں ہے۔
 
Top