لباس تار تار کو رفو گری سے کام کیا

نور وجدان

لائبریرین
.اداس دل کو دوستو کسی خوشی سے کام کیا
لباسِ تار تار کو رفو گری سے کام کیا ..

یا
لباسِ تار تار کو رفوگری سے کام کیا
ملے ہیں اتنے زخم، مجھ کواب ہنسی سے کام کیا

ترے خیال کے سبب چراغ ایسا جل گیا
ہوا بجھا نہ پائے گی، سو تیرگی سے کام کیا
یا
اگر کہیں پہ ہو بھی، مجھ کو تِیرگی سے کام کیا۔


غرض نہیں کسی سے، جب چراغِ دل ہی بجھ گیا
کہیں جو روشنی بھی ہو تو روشنی سے کام کیا


بہانہ دید کا بنے،مجھے بھی کچھ سکوں ملے
کبھی تو آئیے گھر مرے، مجھے کسی سے کام کیا


ہماری زندگی ہیں آپ، ہر خوشی بھی آپ سے
بلائیں آپ دار پر تو زندگی سے کام کیا


جو ہم کو تیرے میکدے سے جام ہی نہ مل سکا
تو ساقیا ہمیں کسی کی تشنگی سے کام کیا

لہو لہو جگر پہ تیر ہے تری جدائی کا
یہ کارِ عشق ہے میاں، تجھے خوشی سے کام کیا ..

حضور آپ جو کہیں، وہی کریں گے ہم سدا
فقط غرض ہے آپ سے، ہمیں کسی سے کام کیا
یا
فقط غرض ہے آپ سے، ہے اجنبی سے کام کیا
 

الف عین

لائبریرین
داس دل کو دوستو کسی خوشی سے کام کیا
لباسِ تار تار کو رفو گری سے کام کیا ..

یا
لباسِ تار تار کو رفوگری سے کام کیا
ملے ہیں اتنے زخم، مجھ کواب ہنسی سے کام کیا
.. دوسرا متبادل بہتر لگتا ہے

ترے خیال کے سبب چراغ ایسا جل گیا
ہوا بجھا نہ پائے گی، سو تیرگی سے کام کیا
یا
اگر کہیں پہ ہو بھی، مجھ کو تِیرگی سے کام کیا۔
.. پہلا متبادل بہتر ہے

غرض نہیں کسی سے، جب چراغِ دل ہی بجھ گیا
کہیں جو روشنی بھی ہو تو روشنی سے کام کیا
... درست..

بہانہ دید کا بنے،مجھے بھی کچھ سکوں ملے
کبھی تو آئیے گھر مرے، مجھے کسی سے کام کیا
... کون آئے گھر؟ واضح کرو

ہماری زندگی ہیں آپ، ہر خوشی بھی آپ سے
بلائیں آپ دار پر تو زندگی سے کام کیا
... ٹھیک

جو ہم کو تیرے میکدے سے جام ہی نہ مل سکا
تو ساقیا ہمیں کسی کی تشنگی سے کام کیا
.. درست

لہو لہو جگر پہ تیر ہے تری جدائی کا
یہ کارِ عشق ہے میاں، تجھے خوشی سے کام کیا ..
... خوشی سے تیر جگر کا تعلق کچھ جم نہیں رہا ہے، کچھ اور کہو
جگر میں تیر بہتر ہو گا نا بجائے 'پہ تیر' کے

حضور آپ جو کہیں، وہی کریں گے ہم سدا
فقط غرض ہے آپ سے، ہمیں کسی سے کام کیا
یا
فقط غرض ہے آپ سے، ہے اجنبی سے کام کیا
.. پہلا متبادل بہتر ہے

مزید یہ کہ چراغ جلنے بجھنے والے اشعار کے درمیان فاسلہ بڑھا دیا جائے
 

نور وجدان

لائبریرین
لباسِ تار تار کو رفوگری سے کام کیا
ملے ہیں اتنے زخم، مجھ کواب ہنسی سے کام کیا


ترے خیال کے سبب چراغ ایسا جل گیا
ہوا بجھا نہ پائے گی، سو تیرگی سے کام کیا



بہانہ دید کا بنے، ہو بات آپ سے کبھی
کبھی تو آئیے گھر مرے، مجھے کسی سے کام کیا

ہماری زندگی ہیں آپ، ہر خوشی بھی آپ سے
بلائیں آپ دار پر تو زندگی سے کام کیا


جو ہم کو تیرے میکدے سے جام ہی نہ مل سکا
تو ساقیا ہمیں کسی کی تشنگی سے کام کیا


لہو لہو جگر میں تیر ہے تری جدائی کا
پیا ہے آبِ موت،مجھ کو زندگی سے کام کیا
یا
تو نے نظر نہ کی کبھی، تجھے دکھی سے کام کیا



حضور آپ جو کہیں، وہی کریں گے ہم سدا
فقط غرض ہے آپ سے، ہمیں کسی سے کام کیا


غرض نہیں کسی سے، جب چراغِ دل ہی بجھ گیا
کہیں جو روشنی بھی ہو تو روشنی سے کام کیا
 

الف عین

لائبریرین
بہانہ دید کا بنے، ہو بات آپ سے کبھی
کبھی تو آئیے گھر مرے، مجھے کسی سے کام کیا
... آئے میرے گھر.... شتر گربہ ہو گیا
کبھی تو آئیں میرے گھر....

لہو لہو جگر میں تیر ہے تری جدائی کا
پیا ہے آبِ موت،مجھ کو زندگی سے کام کیا
. دوسرا مصرع یہی بہتر ہے، دکھی لفظ تو فٹ نہیں ہو رہا
باقی اشعار درست ہو ہی گئے ہیں
 

الف عین

لائبریرین
آئیے
تو کوئی لفظ نہیں ہوتا
آئے یا آئیے ہو سکتا ہے۔
آئیے وزن میں نہیں آتا
اس لئے آئے کے طور پر میں نے اسے سمجھا، جس سے شتر گربہ ہو جاتا ہے، 'تو' سے کوئی تعلق نہین
 
نور وجدان آپ نے اس غزل پر رائے مانگی ہے تو اپنے ناقص فہم کے مطابق کچھ کہہ دیتا ہوں ۔ عرض یہ ہے کہ اس کی ردیف ٹھیک نہیں ہے چنانچہ پوری غزل ہی داغدار ہے ۔ قاری کی پہلی نظر اس لسانی غلطی پر ہی پڑتی ہے ۔ درست روزمرہ "کیا کام" ہے اور روزمرہ میں ترتیبِ الفاظ کو بدلنا جائز نہیں ۔ اس بات کو اس فقرے کی مدد سے سمجھئے : پڑوسی کیا پکا رہے ہیں اس سے تمہیں کیا ۔ اس فقرے کو یوں نہیں کہہ سکتے کہ پڑوسی کیا پکا رہے ہیں اس سے کیا تمہیں ۔ روزمرہ میں الفاظ کو جوں کا توں استعمال کرنا ہوتا ہے ۔ دوسری بات یہ کہ دو تین اشعار کے علاوہ ردیف اکثر اشعار میں بر محل نہیں ۔ یہ بات یاد رکھ لیجئے کہ کسی محاورے یا روز مرہ کو ردیف بناتے زبان و بیان پر عبور ہونا بہت ضروری ہے ۔ اس ضمن میں داغ ؔ کی شاعری کا مطالعہ بہت مفید ہوگا ۔
 

نور وجدان

لائبریرین
میں نے آپکی بات سمجھنے کی کوشش کی اور آپ کے مشورے و اصلاح سے نئے در کھلتے ہیں .

مجھے اس سے سروکار کیا؟
مجھے اس سے کیا سروکار

ان دونوں میں سے کونسا جملہ زبان و بیان کے لحاظ سے درست ہے؟


تم بہت خوبصورت ہو تمھاری بات ہے کیا
تم بہت خوبصورت ہو تمھاری کیا بات ہے


ان میں سے کونسا درست ہے

اصل میں آجکل اردو عام بول چال کی لسانی غلطیوں کے ساتھ ہی بولی جاتی ہے اس لیے اس بات کے لیے چند اصول اساتذہ نے وضع کر رکھے ہوں گے، میں اس اصول کی بات کر رہی تھی ...!


دوسرا آپ ان اشعار کو واضح کر سکتے جن میں ردیف نبھ نہیں رہی. آپ کی باتوں کو بغور پڑھ کے سنجیدگی سے لیتے آپ سے پوچھنے کی جسارت کی ہے.


اک بات اور
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں

اگر "کیا " آخر میں نہیں آسکتا تو "کیوں " کی وجہ یہی آنے کی کہ یہ جسٹ اک ردیفی لفظ ہے محاورہ نہیں مگر محاورہ "کیوں " سے بن رہا ہے نا شعر کا
 
میں نے آپکی بات سمجھنے کی کوشش کی اور آپ کے مشورے و اصلاح سے نئے در کھلتے ہیں .

مجھے اس سے سروکار کیا؟
مجھے اس سے کیا سروکار

ان دونوں میں سے کونسا جملہ زبان و بیان کے لحاظ سے درست ہے؟


تم بہت خوبصورت ہو تمھاری بات ہے کیا
تم بہت خوبصورت ہو تمھاری کیا بات ہے


ان میں سے کونسا درست ہے

اصل میں آجکل اردو عام بول چال کی لسانی غلطیوں کے ساتھ ہی بولی جاتی ہے اس لیے اس بات کے لیے چند اصول اساتذہ نے وضع کر رکھے ہوں گے، میں اس اصول کی بات کر رہی تھی ...!


دوسرا آپ ان اشعار کو واضح کر سکتے جن میں ردیف نبھ نہیں رہی. آپ کی باتوں کو بغور پڑھ کے سنجیدگی سے لیتے آپ سے پوچھنے کی جسارت کی ہے.


اک بات اور
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں

اگر "کیا " آخر میں نہیں آسکتا تو "کیوں " کی وجہ یہی آنے کی کہ یہ جسٹ اک ردیفی لفظ ہے محاورہ نہیں مگر محاورہ "کیوں " سے بن رہا ہے نا شعر کا

بیٹا ، آپ پہلے روز مرہ اور محاورے کا فرق سمجھ لیں ۔ آپ اس سے واقف معلوم نہیں ہوتیں ۔ سرور عالم راز سرور کی کتاب "اردو محاورے" کے پیش لفظ میں ان کی مفصل وضاحت موجود ہے اسے دیکھ لیں ۔ اور اگر آپ کتاب پڑھنے کی قائل نہیں تو کم از کم نوراللغات میں لفظ " بول چال" کے ذیل میں دیا گیا حاشیہ ضرور پڑھ لیں ۔
روزمرہ دو یا دو سے زیادہ الفاظ کا ٹکڑا ہوتا ہے کہ جسے کسی خاص موقع محل پر بولا جاتا ہے ۔ جیسے : اللہ کرے ہمارا ملک دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرے۔ یہاں رات چوگنی اور دن دوگنی ترقی کرے نہیں کہا جاسکتا ۔ جیتے رہو ، خوش رہو کو رہو جیتے ، رہو خوش نہیں کہا جاسکتا ۔ وغیرہ وغیرہ ۔
کہنے کو تو آپ زبان کسی طرح بھی برت سکتے ہیں ۔ الفاظ توڑ مروڑ سکتے ہیں ، گرامر کی دونوں ٹانگیں توڑ سکتے ہیں اور سننے والا پھر بھی آپ کا مفہوم پاسکتا ہے لیکن یہ شستہ اور فصیح زبان نہیں کہلائے گی ۔ اور پھر ایسی زبان کو شعر میں استعمال کرنا؟!! غزل کا شعر تو زبان کا اعلیٰ اور ارفع درجہ مانگتا ہے ۔
مجھے اس سے سروکار کیا؟
مجھے اس سے کیا سروکار
تم بہت خوبصورت ہو تمھاری بات ہے کیا
تم بہت خوبصورت ہو تمھاری کیا بات ہے
دونوں دوسرے فقرے درست ہیں ۔ ہر دو مثالوں میں پہلا فقرہ زبان کی ٹانگ توڑنے کے مترادف ہے ۔
اک بات اور
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں

اگر "کیا " آخر میں نہیں آسکتا تو "کیوں " کی وجہ یہی آنے کی کہ یہ جسٹ اک ردیفی لفظ ہے محاورہ نہیں مگر محاورہ "کیوں " سے بن رہا ہے نا شعر کا

آپ کا یہ سوال غلط ہے ۔ بات "کیا" کے لفظ کی نہیں ہورہی بلکہ "کیا بات ہے" اور "کیا سروکار" کی ہورہی ہیں ۔ یہ دونوں اسلوب روزمرہ ہیں اور ان میں الفاظ کی یہی ترتیب رائج ہے ، یونہی بولا جاتا ہے ۔ اس ترتیب کو آگے پیچھے کرنا درست نہیں ۔ جبکہ غالب کے مصرع میں کیوں کا لفظ مفرد ہے اور کسی روزمرہ کا حصہ نہیں سو اسے جملے میں کسی بھی مناسب جگہ پر رکھا جاسکتا ہے ۔

اگر آپ برا نہ مانیں تو میں آپ کو ایک مخلصانہ مشورہ دوں گا ۔ نہ صرف یہ کہ آپ شاعرہ اور ادیبہ ہیں بلکہ آپ اردو محفل کی مدیر بھی ہیں اس لئے دیگر اراکین کی نسبت آپ پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آپ لسانی اصولوں کی پاسداری بلکہ پاسبانی کریں ۔ اردو کا احترام کریں ۔
اردو کوئی زباں نہیں تہذیب ہے جناب
اردو کو زندگی کا حوالہ بنائیے
کوشش کیجئے کہ اپنی تحریر میں کم سےکم انگریزی الفاظ استعمال کریں ۔ لغت دیکھنے کی عادت ڈالیں ۔ شاعر اور ادیب کے لئے مطالعہ ناگزیر ہے ۔ ادب عالیہ کا مطالعہ کیجئے ۔ زبان سیکھے بغیر شعر و ادب تخلیق کرنا ایسا ہے جیسے کوئی مصور بغیر رنگوں کے تصویر بنانے کی کوشش کرے ۔ وہ تصویر کتنی کامیاب ہوگی آپ اندازہ کرسکتی ہیں ۔ اس تھوڑا لکھے کو بہت جانئے ۔
 
Top