لاہور میں وکلاء کا امراض قلب کے اسپتال پر حملہ، آپریشن تھیٹر میں توڑ پھوڑ

جاسم محمد

محفلین
اس سانحہ کا ن لیگ سے کوئی تعلق نہیں
BBA2656-C-77-A2-4-EFB-A043-C3-E9-DD2-AC18-C.jpg

یہ غنڈہ ن لیگی سوچ پاکستانی قبائلی معاشرہ کی عکاس ہے۔ اگر ینگ ڈاکٹر نے کسی وکیل کی پٹائی کر ہی دی تھی تو اس کے خلاف قانونی کاروائی کرتے۔ وکیلوں کا پورا جتھا لے کر اس کے ہسپتال پر حملہ کرنے کا جواز کہاں سے آگیا؟ کون ٹھیک کرے گا اس قبائلی معاشرہ کو؟ کب مختلف جتھوں سے نکل کر پاکستانی ایک قوم بنیں گے اور قانون پر چلیں گے؟ ایسے میں اسٹیبلشمنٹ اور ملک ریاضوں پر غمگین ہونے کا کیا فائدہ جب نچلی سطح پر ہی لوگ قانون کی بجائے جتھے بنا کر جنگل کے قانون پر چلتے ہیں :)
 
79104202_821277424999770_9027759559539687424_n.jpg

یہ کوئی ڈاکٹر نہیں جسے یہ وکیل بالوں سے پکڑ کر گھسیٹ رہا ہے بلکہ مریض ماں کے ساتھ آیا اس کا بیٹا ہے جس کا قصور صرف یہ ہے کہ اس نے ڈاکٹروں کو دھکے مارنے سے ان وکلاء کو روکنے کی کوشش کی​
 
فتح ادارہ ءامراض قلب لاھور 14 ربیع الثانی 1441 ھجری

لاھور کے مقام پر لڑی جانے والی اس شہرہ آفاق تاریخی جنگ میں صرف چند سو نہتّے مسلمان وکیل مجاھدین نے تن تنہا صرف اپنی تعلیم و تربیت اور ضمیر کی طاقت سے قلعہ نما اسپتال کو فتح کرلیا ۔۔۔۔

اس جنگ میں ھمارا کوئی بھی مسلمان وکیل زخمی یا شہید نہی ھوا البتہ کفار کا بہت جانی نقصان ھوا ۔۔۔۔

فتح امراضِ قلب انسٹیٹیوٹ لاھور کے بعد مجاھدین وکلاء کا اپنے اللہ کے حضور فاتحانہ جشن اور نعرہ بازی کے جذباتی مناظر دیکھیں اور باقی مسلمانوں کو بھی اس شاندار تاریخی معرکے سے روشناس کروائیں ۔۔۔۔
 

فرقان احمد

محفلین
بظاہر یہ دو گروہوں کا تصادم ہے مگر یہ ہمارے معاشرے میں موجود عدم برداشت کے رویوں کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ ہم کچھ اور کر پائیں یا نہ کر پائیں، ظلم کو ظلم کہنا سیکھ لیں تو یہ بھی ایک بڑی کامیابی ہے۔ اس غنڈہ گردی کی جس قدر بھی مذمت کی جائے، کم ہے۔ ویڈیوز میں تشدد کرنے والوں کے چہرے نمایاں ہیں۔ ان کی شناخت کر کے فی الفور حراست میں لیا جائے اور انہیں عبرت کا نشانہ بنا دیا جائے۔ زندہ قومیں ایسے سانحات سے سبق سیکھتی ہیں۔
 

سید عاطف علی

لائبریرین
کس چیز کا تنازع ہے؟
پوری خبر میں ایک لفظ بھی اس بارے میں نظر نہیں آیا کہ یہ واقعہ کیوں پیش آیا اور وکیلوں نے تشدد کیوں کیا وہ بھی ایسی نازک جگہ پر ۔ لاقانونیت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ۔مزید افسوسناک بات تو یہ ہو گی کوئی تنیجہ بھی نہیں نکلے گا ان تحقیقات کا ۔ اب دیکھنا ہے کہ کون ذمہ دار بنتا ہے اور کون اس کا بوجھ اٹھاتا ہے ۔ویسے یہ سب کچھ دیکھنے میں آتا بھی رہتا ہے اور کیا کہیں ۔صد افسوس!!!
 

سید عاطف علی

لائبریرین
اگر عمران خان حکومت میں رہ کر کچھ نہیں کر پا رہے اور نواز شریف ہسپتال میں رہ کر یہ سب کروا رہا ہے تو میں یہ ماننے پہ مجبور ہوں کہ نواز شریف عمران خان سے زیادہ قابل آدمی ہے!
قابل نہیں طاقتور کہہ سکتے ہیں ۔ دونوں انتہائی الگ باتیں ہیں ۔ (مشروط)
 
Top