1. اردو محفل سالگرہ پانزدہم

    اردو محفل کی یوم تاسیس کی پندرہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

لاہورہائیکورٹ،چائلڈ پورنوگرافی کے مجرم کی ضمانت منظور

جاسم محمد نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 15, 2020

  1. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    21,473
    لاہورہائیکورٹ،چائلڈ پورنوگرافی کے مجرم کی ضمانت منظور
    By ویب ڈیسک جمعہ 15 مئی 2020 7
    [​IMG]

    لاہور ہائیکورٹ نے چائلڈ پورنوگرافی کے الزام میں بین الاقوامی گروہ کے گرفتار کارندے کو سزا معطل کر کے ضمانت پر رہا کردیا۔


    وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم سیل نے 2017 میں نارویجین سفارتخانے کی شکایت پر سعادت امین کو گرفتار کیا تھا۔مجرم کے قبضے سے چائلڈ پورنوگرافی کی 6 لاکھ 50 ہزار سے زائد تصاویر اور ویڈیوز بھی برآمد کی گئی تھیں۔

    جوڈیشل مجسٹریٹ سرگودھا نے ملزم سعادت امین کو 26اپریل 2018 کو الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت 7سال کی سزا اور12 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔

    ایف آئی اے کے مطابق سعادت امین کے بین الاقوامی چائلڈ پورنوگرافر جس میں سویڈن میں جان لِنڈاسٹروم، اٹلی میں جیووانی بیٹوٹی، امریکا میں میکس ہنٹر، برطانیہ میں اینڈریو مووڈی اور مختار کے ساتھ رابطے میں تھے جبکہ ایجنسی کی جانب سے مجرم کے خلاف 11 گواہوں کو بھی پیش کیا گیا تھا۔

    ادھر لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مجرم کے وکیل رانا ندیم احمد نے اعتراض کیا کہ ایجنسی کی جانب سے کی گئی تحقیقات ناقص تھیں کیونکہ وہ ناروے میں مبینہ غیرملکی ایجنٹ کی گرفتاری یا اس سے تفتیش میں ناکام رہی۔
    وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سعادت امین کو غیر ملک سے بھیجی گئی رقم چائلڈ پورنوگرافی کے عوض نہیں تھی۔

    وکیل نے کہا کہ درخواست گزار 2017 میں گرفتاری کے بعد گرفتار تھا جبکہ اس کی سزا کے خلاف مرکزی اپیل پر بھی ہائیکورٹ نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا۔مجرم کے وکیل نےعدالت سے استدعا کی وہ درخواست گزار کی سزا کو معطل کرے اور ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرے۔جسٹس فاروق حیدر نے مجرم کی سزا کو معطل کرتے ہوئے 2 لاکھ روپے کے 2 ضمانتی مچکلوں کے عوض ضمانت منظور کرلی۔
     
    • غمناک غمناک × 3
  2. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    21,473
    ۵۰ روپے کے اسٹامپ پیپر پر قومی چور نواز شریف کو ملک سے فرار کروانے والی لوہار ہائی کورٹ کا فیصلہ بالکل درست ہے۔ ناروے کی حکومت نے مجرم سے سیاسی انتقام لیا تھا
     
  3. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    21,473
     
    • غمناک غمناک × 3
  4. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    21,473
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  5. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    21,473
    [​IMG]
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
    • غمناک غمناک × 2
  6. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    21,473
  7. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    21,473
    یہ ایک ہی عدالت کے فیصلے ہیں۔ آسیہ مسیح کو ۹ سال قید و بند میں رکھنے کے بعد سپریم کورٹ نے عدم ثبوت پر رہا کر دیا تھا۔ کوئی شرم و حیا ؟
    [​IMG]
     
    • غمناک غمناک × 1
  8. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    21,473
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. سید رافع

    سید رافع محفلین

    مراسلے:
    1,202
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    پنجاب ہے ہی کچھ عجیب
     
    آخری تدوین: ‏مئی 16, 2020
    • متفق متفق × 1
  10. محمد امین صدیق

    محمد امین صدیق محفلین

    مراسلے:
    1,568
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    غیر منصفانہ ۔ ایسے ناسور معاشرہ مجرمان کے لیے سزائے سخت ہی تقاضائے عدل وانصاف ہے ۔
     
    • متفق متفق × 2
  11. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    21,473
    یہ نظام اپنے آپ خراب نہیں ہوا۔ اسے خراب کیا گیا ہے۔ اور خراب کرنے والے اسی نظام کے تحت ملک سے فرار ہوئے ہیں۔ کسی مغربی ملک میں یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ کوئی سزا یافتہ مجرم جیل سے ضمانت پر رہا ہو جائے گا۔ لیکن پاکستان میں یہ معمول کی بات ہے اور اس کو حلال کروانے والے لفافے جرم میں برابر کے شریک ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  12. سید رافع

    سید رافع محفلین

    مراسلے:
    1,202
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    یہ بل تو منظور ہو گیا تھا؟

    قومی اسمبلی نے زینب الرٹ بل کی منظوری دے دی
    [​IMG]
     
    • متفق متفق × 1
  13. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    21,473
    زینب الرٹ بل مستقبل کے کیسز کیلئے ہے۔ اس کیس میں یہ ملعون شخص پہلے ہی نچلی عدالت سے سزا یافتہ مجرم قرار دیا جا چکا ہے۔ اس نے ہائی کورٹ میں فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کر رکھی تھی لیکن اسکا اصل کیس سنے بغیر ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
     
  14. سید رافع

    سید رافع محفلین

    مراسلے:
    1,202
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    سوال یہ ہے کہ پنجاب میں بچوں کے والدین نہیں رہتے اور کیا یہ جج مریخ پر رہتا ہے؟ اس سے جا کر بات کیوں نہیں کرتے؟ این جی اوز، صحافی تنظیمیں، وکلاء کی تنظیمیں کیا کوئی نہیں ہے؟
     
    • غمناک غمناک × 1
  15. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    9,323
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    بھائی آپ سمجھے نہیں، یہ ایک مجرم کی رہائی کامعاملہ نہیں ہے۔ مجرم تو رہا ہوتے رہتے ہیں، سزا پاتے رہتے ہیں۔ یہ کسی اور وجہ سے عدالتوں کی ٹرولنگ اور بیشنگ کی جارہی ہے۔

    آزاد پریس کو اشتہارات بند کرکے قابو کیا، اپوزیشن کو نیب نیازی گٹھ جوڑ گلے پڑگیا صرف عدالتیں حائل ہورہی ہیں ریاست نیو مدینہ کے ڈیزائینز کی راہ میں، سو اب ان سے نپٹنا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • غمناک غمناک × 1
  16. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    9,323
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    سیاسی ملزم کو بنا مقدمہ بھی سالہاسال بند رکھ سکتے ہیں۔ ایک اخلاقی مجرم عدالت سے ضمانت ملتے ہی بھاگ سکتا ہے۔ اسے کیوں نہیں مقدمے میں پھنساسکتے؟ اس لیے کی بین الاقوامی مجرم گروپ پشت پناہی کررہے ہوتے ہیں۔
     
    • متفق متفق × 1
  17. سید رافع

    سید رافع محفلین

    مراسلے:
    1,202
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    مجھے زینب کی موت کا سخت دکھ ہے۔ آج وہ غم پھر سے تازہ ہو گیا۔ اس لیے کسی اور پہلو پر توجہ ہی نہیں رہی۔

    مجھے سمجھ نہیں آتا کہ کیسے موجودہ دور میں کوئی بچوں کو نظر انداز کر کے ریاست مدینہ کے دجل کے لیے ٹرولنگ کر سکتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو وہ لوگ کس قدر بھیانک ہوں گے اور انکے لیے کام کرنے والے کس قدر بے غیرت!
     
    • متفق متفق × 1
  18. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    21,473
    بظاہر یہی تاثر جا رہا ہے کہ اس مجرم کو کہیں نہ کہیں سے مضبوط پشت پناہی حاصل تھی جو اتنی آسانی سے پہلی پیشی پر ہی چھوٹ گیا۔ اندازہ کریں مجرم کے وکیل نے دوران پیشی یہ کیسا بھونڈا نکتہ اٹھایا کہ چونکہ پاکستان کی ایف آئی اے ناروے کی تحویل میں اس نیٹورک کے مقامی مجرم سے تفتیش نہیں کر پائی تھی۔ اس لئے ایف آئی اے کی تفتیش میں سقم موجود ہیں۔ حالانکہ ایف آئی اے کے تفتیشی آفیسر نے خود سوشل میڈیا پر آکر بیان دیا ہے کہ یہ مضبوط کیس تھا اور تمام شواہد و گواہان کی موجودگی میں اس ملعون شخص کو سزا سنائی گئی تھی
     
  19. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    9,323
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    کیا صرف عدالتیں ہی مجرموں کو چھوڑ رہی ہیں۔ کیا نیازی حکومت مجرموں اور ملزموں کو گلے لگائے نہیں بیٹھی؟ کیا مجرموں کو اجرکیں نہیں پہنائی گئیں؟ کیا مجرموں کو وزارت انسانی حقوق میں عہدے نہیں دئیے گئے؟

    کیا اب تاخیری حربے استعمال کرکے ملزموں کو گود میں نہیں چھپایا جارہا؟
     
    • زبردست زبردست × 1
  20. سید رافع

    سید رافع محفلین

    مراسلے:
    1,202
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    ایسا لوگوں کے درمیان رہنا کس قدر گھٹن کا باعث ہے! جہاں حکومت وقت عدل نہ کر رہی ہو۔
     
    • متفق متفق × 1

اس صفحے کی تشہیر