قران کریم طریقہء نماز کیسے تعلیم فرماتا ہے

فاروق سرور خان نے 'اِسلامی تعلیمات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 13, 2007

  1. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    3,200
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    طریقہ نماز کا دھاگہ ۔ نماز سے متعلق سوالات یہاں کیجئے۔
     
  2. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    3,200
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر 125 ، کے ایک حصے کا ترجمہ مع مکمل عربی و انگریزی مارفالوجی

    وَاتَّخِذُواْ مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى

    وَاتَّخِذُواْ and (said), "Take - اور (کہا) لے لو
    الواو عاطفة
    فعل أمر والواو ضمير متصل في محل رفع فاعل
    CONJ – prefixed conjunction wa (and)
    V – 2nd person masculine plural (form VIII) imperative verb
    PRON – subject pronoun

    مِن [from] سے
    حرف جر
    P – preposition

    مَّقَامِ (the) standing place 0 کھڑے ہونے کی جگہ
    اسم مجرور
    genitive masculine noun

    إِبْرَاهِيمَ - (of) Ibrahim, ابراہیم کے
    اسم علم مجرور بالفتحة بدلاً من الكسرة لأنه ممنوع من الصرف
    genitive masculine proper noun → Ibrahim

    مُصَلًّى - (as) a place of prayer. - نماز پڑھنے کی جگہ یا اس جگہ کا نام ، جس جگہ پر نماز پڑھی جاتی ہو
    اسم منصوب
    accusative noun
    مقام ابراہیم پر نماز کی ادائیگی ، ابراہیم علیہ السلام کے وقت سے جاری ہے، نماز کے اوقات اور نماز کی رکعات اور ان رکعات کے اسلامی طریقہ ادائیگی کا مشاہدہ اس جگہ کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے۔ لہذا مسلمان کے لئے مزید کسی دوسرے طریقے یا ترکیب کی ضرورت ، اس ہدایت کے بعد باقی نہیں رہ جاتی۔

    اپنے حلف نامے کے ساتھ کہ آپ نے کن کن روایات کی مدد سے نماز سیکھی ہے۔، بہتر یہ ہے کہ آپ اپنا طریقہ نماز اپنی کتب کے حوالے سے فراہم فرمائیے کہ ہم کو پتہ چلے کہ آپ نماز کس طرح پڑھتے ہیں اور پھر اس کا موازانہ ، مقام ابراہیم پر ادا کی جانے والی نماز سے کیا جاسکے۔

    افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی حدیث کی کتاب میں نماز کا اتنا بہترین طریقہ نہیں پایا جاتا ، یہی وجہ ہے کہ حدیث پرست ، طرح طرح کے طریقوں سے نماز پڑھتے ہیں، ایک عام آدمی نا حدیث کے بارے میں جانتا ہے اور نا ہی اس نے کبھی پڑھی ہے۔

    والسلام
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 12, 2020
  3. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    15,811
    جھنڈا:
    Pakistan
    آپ کے اس ساری کاپی پیسٹ سے یہ ترجمہ سامنے آیا:
    ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ سے نماز پڑھنے کی جگہ لے لو۔۔۔
    اب نماز پڑھنے کی ترکیب کہاں سے لیں؟؟؟
    نیز پہلے بھی پوچھ چکے ہیں کہ مقام ابراہیم پر کون نماز پڑھتا ہے،اس کا جواب بھی ابھی تک نہیں ملا:
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 13, 2020
    • غمناک غمناک × 1
  4. سید عاطف علی

    سید عاطف علی لائبریرین

    مراسلے:
    12,729
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    نماز ایک متعین عبادت کی شکل ہے اور خدا اور بندے کے مسلسل تعلق کا اعادہ و اظہار ہے۔ سیکڑوں سالوں سے جو طریق ہائے کار معلوملات اور معمولات کے مطابق رہے ہیں ان میں چند انتہائی معمولی فرق ہیں وہ بھی ہیئیت کے اعتبار سے۔تمام طریقے ایک ہی مقصد کو حاصل کرتے ہیں کہ خدا سے بندے کا تعلق تجدید و اعادے سے مستقل رہے اور رہنمائی میں استحضار کی شکل قائم رہے۔ اس صورت میں نماز کو ری ڈیفائن کر نے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟
    اصل مقصد تو نماز کی روح سے زندگی کو منور کرنے کی فکر کا ہونا چاہیے۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  5. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    3,200
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    وہ کونسی نماز کی ترکیب ہے ، جس پر آپ عمل کرتے ہیں؟ ایک حلفیہ بیان دیجئے کہ آپ نے نماز پڑھنا ، اس ، اس حدیث سے سیکھا ہے اور وہی حدیث ، یہاں بھی درض کردیجئے تاکہ آپ کو پھر اس کے درست یا صحیح ہونے کا ثبوت قرآن کریم کی روشنی میں دیا جاسکے۔ اپنی کتب روایات سے فراہم کیجئے کہ آپ کا طریقہ نماز کیا ہے تو پھر بات کرتے ہیں۔

    آپ کو بڑا دھچکا لگے گا جب آپ کو پتہ چلے گا کہ کوئی متفقہ نماز ادا کرنے کا طریقہ کسی بھی "حادثاتی" کتاب میں موجود نہیں ہے۔

    جب کہ مقام ابراہیم پر ادا کی جانے والی نماز کے طریقے پر سب متفق ہیں۔ آپ کے یہ سوالات ایک قسم کی بھونڈی بذلہ سنجی سے زیادہ نہیں بھائی۔ پرہیز فرمائیے
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 13, 2020
  6. محمد فضل عمران

    محمد فضل عمران محفلین

    مراسلے:
    1
    السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ

    پہلے صفحہ سے لیکر اس صفحہ یعنی صفحہ 6 پڑہنے کے بعد رہا نہیں گیا، اور میں نے ابھی اس فارم پر رجسٹر کرلیا. فاروق سرور صاحب نے اس دھاگے کا عنوان جو لگایا ہئے وہ اسلئے کہ نماز کا مکمل طریقہ قرآن سے بتایا جاسکے سمجھاسکے اور صاحب نے آیات بھی پیش کیں. معترضین نے آیات کو احکام کہا اور اسکا سیاق و سباق بتایا جو کہ اندھے کو پڑہکر سنایا جائے تو بھی سمجھ آجائیگا. لیکن صاحب نے معترضین پر ایسے الزامات، تنز، بات کو گھمانے کی بات، ضد وغیرہ لگائے جو صفحہ اول سے ابتک یعنی صفحہ 6 تک کا مطلعہ کرنے پر انہں پر فٹ ہوتے ہیں.

    معقول بات ہئے کہ جو عنوان ہے اسی کے بارے میں سوال ہوگا اور جسنے عنوان لگایا ہئے اسی سے سوال ہوگا. مگر یہاں تو الٹی ندی بہ رہی ہئے عنوان پر سوال کرنے پر الٹا سوال کے آپ ثابت کریں حدیث سے کہ نماز کا مکمل طریقہ؟

    بار بار سوال کرنے پر وہی سیاق و سباق سے ہٹا کر آیتیں دہرائی جارہی ہیں اور پھر سوال کہ حدیث سے ثابت کرو. جب آپ مطمئین ہیں کے حدیث میں تضاد ہئے تو چھوڑیں. آپ کے قرآن کے دلائل پر اعتراض ہو رہا ہئے تو اسکا جواب دیں، الٹا سوال کرنا عجیب ہئے کہ آپ حدیث سےثابت کرو جبکہ احباب نے گذارش بھی کی کہ اسکا الگ سے دھگا لگایا جائے اور یہاں عنوان پر ہی بات کی جائے. تو اس میں کیا پریشانی ہئے. اور بار بار آپ کا کہنا کہ سنت جاریہ پھر ابرہیم علیہ السلام پھر اسماعیل علیہ السلام. جبکہ بیت المقدس کی طرف رخ کرکے بھی نماز ہوتی تھی اور جب اللہ کا حکم ہوا تو رخ کعبہ کی طرف کرلیا گیا.

    بہر ہال جناب فاروق سرور صاحب آپ خود ہی صفحہ اول سے لیکر صفحہ 6 تک دیانتداری سے پڑہلیں آپ کو آپ کا چہرا نظر آجائگا. اگر نا آیے تو اللہ سے دعا کریں اور پھر سے پڑہیں اور اس کو دہرائیں جب تک کہ آپکو نظر آجائے.

    واسلام عليكم و رحمۃاللہ و برکاتہ
     

اس صفحے کی تشہیر